”یہوواہ میرا مددگار ہے“
۱ جب یسوع نے اپنے پہلے شاگردوں کو ذمہداری سونپی تو اُس نے اُنہیں بتایا: ”دیکھو مَیں تمکو کو بھیجتا ہوں گویا بھیڑوں کو بھیڑیوں کے بیچ میں۔“ (متی ۱۰:۱۶) کیا یہ اُن کیلئے خوفزدہ ہونے اور منادی بند کرنے کا باعث بنا؟ نہیں۔ اُنہوں نے وہی رویہ اختیار کِیا جسے بعد میں پولس رسول نے بیان کِیا جب اُس نے ساتھی مسیحیوں کو بتایا: ”اس واسطے ہم دلیری کے ساتھ کہتے ہیں کہ خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] میرا مددگار ہے۔ مَیں خوف نہ کرونگا۔ انسان میرا کیا کریگا؟“ (عبر ۱۳:۶) وہ یسوع کے نام کی وجہ سے بےعزت کئے جانے کے لائق ٹھہرنے سے خوش ہوئے اور اُنہوں نے باز آئے بغیر تعلیم دینا اور خوشخبری کا اعلان کرنا جاری رکھا۔—اعما ۵:۴۱، ۴۲۔
۲ آجکل عالمگیر منادی کا کام اپنے آخری مراحل میں ہے۔ یسوع کی پیشگوئی کے مطابق، ہم تمام قوموں کی نفرت کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ (متی ۲۴:۹) ہمارے منادی کے کام کی مخالفت کی گئی ہے اور اُسکا تمسخر اُڑایا گیا ہے اور دُنیا کے بعض حصوں میں تو اس پر پابندی بھی عائد کر دی گئی ہے۔ اگر ہم میں ایمان کی کمی ہوتی تو شاید ہم ڈر جاتے۔ تاہم، یہ جاننا کہ یہوواہ ہمارا مددگار ہے ہمیں تازگی بخشتا اور ثابتقدم رہنے کے لئے تقویت دیتا ہے۔
۳ دلیری، مضبوط، بہادر، شجاع ہونے کی خوبی ہے۔ یہ خوف، بزدلی، بےہمتی کے متضاد ہے۔ یسوع کے شاگردوں کو برداشت کرنے کیلئے ہمیشہ حوصلے کی ضرورت ہوتی تھی۔ اگر ہمیں خدا کی دُشمن دُنیا کے رُجحانات اور اعمال کی وجہ سے بےحوصلہ ہونے سے بچنا ہے تو یہ بہت ضروری ہے۔ ہمارے لئے دُنیا پر غالب آنے والے، یسوع کے شاندار نمونے پر غور کرنا کتنا حوصلہافزا ہے! (یوح ۱۶:۳۳) اُن شاگردوں کو بھی یاد رکھیں جنہوں نے شدید آزمائشوں کے مقابلے میں دلیری کے ساتھ اعلان کِیا: ”ہمیں آدمیوں کے حکم کی نسبت خدا کا حکم ماننا زیادہ فرض ہے۔“—اعما ۵:۲۹۔
۴ ہم ہٹنے والے نہیں: ہمیں اپنے کام کے سلسلے میں مثبت رجحان برقرار رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ (عبر ۱۰:۳۹) اس بات کو ہمیشہ ذہن میں رکھیں کہ یہوواہ نے ہمیں تمام نوعِانسان کے لئے اپنی محبت اور رحم کے اظہار میں بھیجا ہے۔ وہ اپنے خادموں سے ایسا کوئی بھی کام کرنے کے لئے نہیں کہتا جو مفید مقصد سرانجام نہ دے۔ ہمیں جو بھی کام کرنے کے لئے تفویض کِیا گیا ہے وہ انجامکار خدا سے محبت رکھنے والوں کی بھلائی کے لئے ہوگا۔—روم ۸:۲۸۔
۵ ایک رجائیتپسندانہ نظریہ اپنے علاقے میں بھیڑخصلت لوگوں کو تلاش کرتے رہنے کے لئے ہماری مدد کرے گا۔ ہم لوگوں کی طرف سے ظاہرکردہ بےحسی کو اُن کی مایوسی اور نااُمیدی کا اظہار خیال کر سکتے ہیں۔ آئیے اپنی محبت کو موقع دیں کہ ہمیں ہمدرد اور صابر بننے کی تحریک دے۔ جب کبھی بھی ہم لٹریچر تقسیم کرتے یا دوسرے طریقوں سے دلچسپی کی کِرن دیکھ لیتے ہیں تو ہمارا نصبالعین بِلاتاخیر واپسی ملاقات کرنا اور مزید دلچسپی کو اُبھارنا ہونا چاہئے۔ ہمیں بائبل مطالعہ شروع کرنے یا اُسے اثرآفریں طور پر جاری رکھنے کے لئے اپنی لیاقت پر کبھی بھی شک نہیں کرنا چاہئے۔ اس کی بجائے، ہمیں مسلسل دُعائیہ طور پر یہوواہ کی اعانت اور راہنمائی حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے، اس اعتماد کیساتھ کہ وہ ہماری مدد کرے گا۔
۶ ہم پُختہ ایمان رکھتے ہیں کہ یہوواہ کام کو پایۂتکمیل تک پہنچائیگا۔ (مقابلہ کریں فلپیوں ۱:۶۔) ہمارے مددگار کے طور پر اُس پر ہمارا پُختہ اعتماد ہمیں تقویت دیتا ہے کہ ہم ”نیک کام کرنے میں ہمت نہ ہاریں۔“—گل ۶:۹۔