”زیادہ کوشش کرو“
۱ جب ہم نے خود کو یہوواہ کیلئے مخصوص کِیا تھا تو ہم نے اُسے اپنی بہترین چیز دینے کا وعدہ کِیا تھا۔ موزوں طور پر، پطرس رسول نے پہلی صدی کے مسیحیوں کی حوصلہافزائی کی تھی کہ یہوواہ کی نظر میں اپنی حیثیت کو بہتر بنانے کیلئے اپنی پوری کوشش کریں۔ (۲-پطرس ۱:۱۰) آج بھی ہم یہوواہ کی خدمت کرنے میں اُسکی خوشی کیلئے یقیناً اپنی پوری کوشش کرنا چاہتے ہیں۔ اس میں کیا کچھ شامل ہے؟ جُوںجُوں یہوواہ کیساتھ ہمارا رشتہ گہرا ہوتا جاتا ہے اور جوکچھ اس نے ہمارے لئے کِیا ہے ہم اُس سب پر غوروخوض کرتے ہیں تو ہمارا دل ہمیں اُس کی خدمت میں ہمیشہ تندہی سے کام کرنے کی تحریک دیتا ہے۔ ہم اپنی خدمتگزاری کے معیار کو بہتر بنانا اور جہاں ممکن ہو اُسکی مقدار کو بھی بڑھانا چاہتے ہیں۔—زبور ۳۴:۸؛ ۲-تیمتھیس ۲:۱۵۔
۲ خدمتگزاری میں اَور زیادہ حصہ لینے کے خواہشمند ایک نوجوان بھائی نے محسوس کِیا کہ خدا کے کلام کے باقاعدہ مطالعے نے یہوواہ کیلئے اُسکی قدردانی کو گہرا کر دیا ہے اور اُس میں بہت زیادہ جوشوجذبہ پیدا کر دیا ہے۔ اِس بات نے اُسے پائنیر خدمت کیلئے درخواست دینے کی تحریک دی۔ ایک بہن جسے اجنبیوں سے باتچیت کرنا مشکل لگتا تھا اُس نے ریزننگ بُک سے کچھ پیشکشوں کی مشق کی اور جلد ہی اپنی خدمتگزاری میں نمایاں کامیابی سے لطف اُٹھانے لگی۔ وہ ایک ایسے جوڑے کو بائبل مطالعہ کرانے کے لائق ہوئی جس نے سچائی کو قبول کِیا۔
۳ آپ جوکچھ کر سکتے ہیں اُس سے خوشی حاصل کریں: ہم میں سے بعض خراب صحت، خاندانی مخالفت، غربت یا علاقے میں بےحسی جیسے مشکل حالات کا تجربہ کرتے ہیں۔ بہتیرے دیگر مسائل جو اِن آخری ایّام میں عام ہیں ہماری خدمت میں حائل ہو سکتے ہیں۔ (لوقا ۲۱:۳۴؛ ۲-تیمتھیس ۳:ا) کیا اسکا یہ مطلب ہے کہ ہم یہوواہ کیلئے اپنی مخصوصیت کو پورا کرنے میں ناکام ہو گئے ہیں؟ اگر ہم اُس کی خدمت میں اپنی پوری کوشش کرتے ہیں تو ایسا نہیں ہے۔
۴ دوسرے جوکچھ کرنے کے قابل ہیں اس کی بِنا پر اپنے متعلق رائے قائم کرنا دانشمندی کی بات نہیں ہے۔ اس کی بجائے، صحائف ہماری حوصلہافزائی کرتے ہیں کہ ”ہر شخص اپنے ہی کام کو آزما لے۔“ ہم ذاتی طور پر جتنا کام کرنے کے لائق ہیں اُس کیلئے خود کو پیش کرنے سے یہوواہ خوش ہوتا ہے اور ہمیں ”فخر کرنے کا موقع“ ملتا ہے۔—گلتیوں ۶:۴؛ کلسیوں ۳:۲۳، ۲۴۔
۵ دُعا ہے کہ ہم ’بالآخر خدا کے حضور اطمینان کی حالت میں بیداغ اور بےعیب ثابت ہونے کی پوری کوشش‘ کرنے کیلئے پطرس کے الفاظ پر دھیان دیں۔ (۲-پطرس ۳:۱۴) یہ جذبہ ہمیں محفوظ محسوس کرنے میں مدد دیگا اور ہمارے لئے ایسے ذہنی سکون پر منتج ہوگا جو یہوواہ ہی بخش سکتا ہے۔—زبور ۴:۸۔