سوالی بکس
◼ اپنی خدمتگزاری کے دوران جب ہم مخالف جنس کے کسی شخص کی رفاقت میں ہوتے ہیں تو ہمیں کیا احتیاط برتنی چاہئے؟
ہم یہ توقع رکھ سکتے ہیں کہ ہمارے بہن بھائی اپنے ذاتی چالچلن میں بلند اخلاقی معیاروں پر سختی سے کاربند رہنا چاہتے ہیں۔ تاہم، ہم ایک ناپاک اور اباحتی دُنیا میں رہتے ہیں جوکہ محدود اخلاقی معیار رکھتی ہے۔ ہمارے ارادے خواہ کتنے ہی اچھے کیوں نہ ہوں، ہمیں نامناسب یا شرمندگی کا باعث بننے والے کسی کام میں ملوث ہونے سے بچنے کیلئے ہمیشہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ اِس میں خدمتگزاری کے دوران محتاط رہنا بھی شامل ہے۔
میدانی خدمت میں ہم اکثر مخالف جنس کے ایسے لوگوں سے ملتے ہیں جو سچائی میں حقیقی دلچسپی دکھاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اگر ملاقات کرتے وقت ہم تنہا ہیں اور (صاحبِخانہ کے) گھر میں بھی کوئی اَور موجود نہیں تو بہتر ہوگا کہ دروازے پر ہی گواہی دیں۔ اگر دلچسپی دکھائی جاتی ہے تو یہ بندوبست بنایا جا سکتا ہے کہ ہم کسی دوسرے پبلشر کے ہمراہ دوبارہ آئیں یا اُس وقت آئیں جبگھر میں دیگر افراد موجود ہونگے۔ اگر ایسا ممکن نہیں ہے تو دانشمندی کی بات یہ ہوگی کہ صاحبِخانہ کی صنف کے ہی کسی دوسرے پبلشر سے ملاقات کرنے کیلئے کہیں۔ اِس کا اطلاق مخالف جنس کے کسی شخص کے ساتھ بائبل مطالعہ کروانے کے سلسلے میں بھی ہوتا ہے۔—متی ۱۰:۱۶
خدمتگزاری میں اپنے ساتھ کام کرنے کیلئے کسی کا انتخاب کرتے ہوئے بھی ہمیں محتاط ہونے کی ضرورت ہے۔ اگرچہ مخالف جنس کے پبلشر بعضاوقات اکھٹے کام کر سکتے ہیں مگر گروپ کی صورت میں ایسا کرنا زیادہ مناسب ہے۔ عموماً، خدمتگزاری کے دوران بھی اپنے بیاہتا ساتھی کے علاوہ مخالف جنس کے کسی دوسرے شخص کے ساتھ وقت صرف کرنا ہمارے لئے دانشمندی کی بات نہ ہوگی۔ لہٰذا، خدمتی گروپ کے نگران بھائی کو پبلشروں، نوعمروں کو اکھٹے کام کرنے کیلئے تفویض کرتے وقت اچھی بصیرت کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔
ہمیشہ اچھی بصیرت کو کام میں لانے سے، ہم خود کو اور دوسروں کو ”ٹھوکر کھانے کا کوئی موقع“ دینے سے بچ جائیں گے۔—۲-کرنتھیوں ۶:۳۔