سوالی بکس
◼ ایسے اصحابِخانہ کو خط لکھتے وقت جن سے ہم گھروں پر ملنے کے قابل نہیں ہوتے ہمیں کونسی بات ذہن میں رکھنی چاہئے؟
مختلف وجوہات کی بِنا پر، جب ہم گھروں پر ملاقات کیلئے جاتے ہیں تو ہم لوگوں سے رابطہ کرنا روزبروز مشکل پا رہے ہیں۔ بعض پبلشروں نے خطوط لکھنے کو اُن تک پہنچنے کا ایک عملی طریقہ پایا ہے۔ اگرچہ اس سے بعض اچھے نتائج پیدا ہو سکتے ہیں توبھی اس بات کی ضرورت ہے کہ چند ایک ضروری یاددہانیوں پر غور کِیا جائے جو ہمیں بعض مشکلات سے بچنے میں مدد دے سکتی ہیں:
واپس جواب کیلئے سوسائٹی کا ایڈریس استعمال نہ کریں۔ اسلئےکہ یہ نامناسب طور پر اس بات کو ظاہر کریگا کہ خطوکتابت ہمارے دفاتر سے کی گئی تھی جوکہ غیرضروری مشکلات اور بعضاوقات اضافی اخراجات کا باعث بن سکتا ہے۔
یقین کر لیں کہ آپ نے دُرست ایڈریس اور کافی ٹکٹ لگائے ہیں۔
خطوط کی ابتدا ”عزیز صاحبِخانہ“ سے نہ کریں؛ بلکہ بنام مخاطب کریں۔
جب کوئی گھر پر موجود نہیں ہے تو خطوط کو دروازے پر نہ چھوڑیں۔
مختصر خط اچھے ہوتے ہیں۔ طویل پیغام لکھنے کی کوشش کرنے کی بجائے رسالہ یا اشتہار ساتھ ڈالیں۔
ٹائپشُدہ خط پڑھنا کافی آسان ہوتے ہیں اور زیادہ مناسب تاثر چھوڑتے ہیں۔
خطوط کو واپسی ملاقات کے طور پر شمار نہیں کِیا جاتا تاوقتیکہ آپ نے پہلے ذاتی طور پر اُس شخص کو گواہی نہ دی ہو۔
اگر آپ کسی ایسے شخص کو لکھ رہے ہیں جس نے پہلے دلچسپی ظاہر کی تھی تو آپکو ایڈریس یا فون نمبر دینا چاہئے تاکہ آپ سے رابطہ کِیا جا سکے۔ اپنے بائبل مطالعے کے پروگرام کی وضاحت کریں۔
مقامی کلیسیا کے اجلاس پر حاضر ہونے کی دعوت دیں۔ اجلاس کا ایڈریس اور اوقات بتائیں۔
علاقے میں دوبارہ جانے کے بعد جو گھروں پر نہیں ملتے اُنہیں خطوط نہ بھیجتے رہیں؛ جس پبلشر کے پاس اس وقت علاقہ ہے اس میں کام کرنے کیلئے ذمہدار ہے۔