ایمان پر چلیں
۱ لاکھوں لوگ احمقانہ طور پر مالودولت کی پُرفریب طاقت پر بھروسہ کرتے ہوئے، اپنی زندگیاں مادی اثاثوں کے گِرد تعمیر کرتے ہیں۔ (متی ۱۳:۲۲) جب اُنکا مالودولت ہاتھ سے نکل جاتا ہے یا چوری ہو جاتا ہے یا کم فائدے والا ثابت ہوتا ہے تو وہ ایک ناقابلِبرداشت سبق سیکھتے ہیں۔ ہمیں روحانی خزانوں کیلئے جدوجہد کرتے ہوئے، دانشمندانہ روش کی جستجو کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ (متی ۶:۱۹، ۲۰) اس میں ”ایمان پر چلتے“ رہنا شامل ہے۔—۲-کرنتھیوں ۵:۷۔
۲ لفظ ”ایمان“ ایک یونانی لفظ سے ترجمہ کِیا گیا ہے جو اعتماد، توکل، پُختہ یقین کا خیال پیش کرتا ہے۔ ایمان پر چلنے کا مطلب ہمارے قدموں کی راہنمائی کرنے کی اُسکی لیاقت اور ہمارے افعال کی نگرانی کرنے کیلئے اُسکی رضامندی پر توکل کرتے ہوئے، خدا پر اعتماد کیساتھ مشکل حالات کا سامنا کرنا ہے۔ یسوع نے کامل نمونہ قائم کِیا؛ اُس نے اپنی توجہ واقعی اہم چیزوں پر مرکوز رکھی۔ (عبرانیوں ۱۲:۲) اسی طرح، ہمیں اپنے دلوں کو نادیدہ، روحانی چیزوں پر مرکوز رکھنے کی ضرورت ہے۔ (۲-کرنتھیوں ۴:۱۸) ہمیں ہمیشہ اپنی موجودہ زندگی کی بےثباتی کو یاد رکھنا چاہیے اور یہوواہ پر اپنے مکمل انحصار کا اعتراف کرنا چاہیے۔
۳ ہمیں اس بات سے بھی پوری طرح قائل ہونا چاہیے کہ یہوواہ ”دیانتدار اور عقلمند نوکر“ کے زیرِہدایت اپنی دیدنی تنظیم کے وسیلے سے ہماری راہنمائی کر رہا ہے۔ (متی ۲۴:۴۵-۴۷) جب ہم کلیسیا میں ”پیشواؤں کے فرمانبردار“ ہوتے ہیں تو ہم اپنے ایمان کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ (عبرانیوں ۱۳:۱۷) تھیوکریٹک انتظام کے ساتھ فروتنی سے تعاون کرنا یہوواہ پر ہمارے ایمان کو ظاہر کرتا ہے۔ (۱-پطرس ۵:۶) ہمیں پورے دل سے اُس کام کی حمایت کرنے کی تحریک ملنی چاہیے جسے انجام دینے کیلئے تنظیم کے سپرد کِیا گیا ہے۔ یہ ہمیں محبت اور اتحاد کے مضبوط بندھن میں اپنے بھائیوں کی قربت میں لے آئے گا۔—۱-کرنتھیوں ۱:۱۰۔
۴ ایمان کو کیسے مضبوط کریں: ہمیں اپنے ایمان کو ساکن ہو جانے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔ ہمیں اسے بڑھانے کیلئے سخت جدوجہد کرنی چاہیے۔ مطالعے، دُعا اور اجلاسوں پر حاضری میں باقاعدگی اپنے ایمان کو مضبوط کرنے میں ہماری مدد کریگی تاکہ، یہوواہ کی مدد کیساتھ، یہ ہر قسم کی آزمائش کا مقابلہ کر سکے۔ (افسیوں ۶:۱۶) کیا آپ نے روزانہ بائبل پڑھائی اور اجلاسوں کی تیاری کیلئے اچھا معمول بنایا ہے؟ جوکچھ آپ سیکھتے ہیں کیا آپ اکثر اُس پر غوروخوض کرتے ہیں اور کیا آپ دُعا میں خدا کے نزدیک جاتے ہیں؟ کیا تمام اجلاسوں پر حاضر ہونا اور موقع ملنے پر اُن میں شرکت کرنا آپکی عادت میں شامل ہے؟—عبرانیوں ۱۰:۲۳-۲۵۔
۵ مضبوط ایمان کا ثبوت نیک اعمال سے ملتا ہے۔ (یعقوب ۲:۲۶) اپنے ایمان کا مظاہرہ کرنے کے بہترین طریقوں میں سے ایک دوسروں کے سامنے اپنی اُمید کا اقرار کرنا ہے۔ کیا آپ خوشخبری سنانے کے مواقع کی تلاش میں رہتے ہیں؟ کیا آپ کو اس لائق بنانے کیلئے کہ آپ خدمتگزاری میں اَور زیادہ کام کر سکیں آپ کے حالات میں ردوبدل کِیا جا سکتا ہے؟ کیا آپ اُن تجاویز کا اطلاق کرتے ہیں جو ہم اپنی خدمتگزاری کے معیار اور اثرآفرینی کو بہتر بنانے کیلئے حاصل کرتے ہیں؟ کیا آپ ذاتی روحانی نشانے قائم کرتے ہیں اور اُنہیں حاصل کرنے کیلئے جانفشانی کرتے ہیں؟
۶ یسوع نے زندگی کے روزمرّہ کاموں میں حد سے زیادہ اُلجھنے اور مادہپرستانہ یا خودغرضانہ مفادات کو اپنی روحانی سوچ کو ماند کرنے کی اجازت دینے کی بابت آگاہ کِیا۔ (لوقا ۲۱:۳۴-۳۶) اپنے ایمان کے جہاز کو تباہی سے بچانے کیلئے، ہمیں اس بات پر بہت زیادہ دھیان دینا چاہیے کہ ہم کسطرح چلتے ہیں۔ (افسیوں ۵:۱۵؛ ۱-تیمتھیس ۱:۱۹) ہم سب یہ اُمید رکھتے ہیں کہ آخرکار ہم یہ کہنے کے لائق ہونگے کہ ہم نے ’اچھی کشتی لڑی، دوڑ کو ختم کر لیا، اور ایمان کو محفوظ رکھا ہے۔‘—۲-تیمتھیس ۴:۷۔