انکے ایمان کی نقل کریں
۱ پولسؔ رسول نے ایمان کی تشریح ”اُمید کی ہوئی چیزوں کا اعتماد اور اندیکھی چیزوں کا ثبوت“ کے طور پر کی۔ اس نے اضافہ کیا کہ ”بغیر ایمان کے اس [خدا] کو پسند آنا ناممکن ہے۔“ (عبرانیوں ۱۱:۱، ۶) پولسؔ نے ہمیں ایمان پر چلنے، اس سے معمور رہنے، اور اسکی جستجو کرنے کی تاکید کی۔—۲کرنتھیوں ۴:۱۳؛ کلسیوں ۲:۷؛ ۲تیمتھیس ۲:۲۲۔
۲ بائبل میں ایمان کی بہتیری نمایاں مثالیں بیان کی گئی ہیں۔ عبرانیوں ۱۱ باب میں، پولسؔ گواہوں کی ایک طویل فہرست دیتا ہے جنہوں نے پُختہ ایمان کا مظاہرہ کیا تھا۔ اس فہرست میں ہابلؔ شامل ہے، جو اپنے ایمان کی خاطر شہید ہونے والا پہلا شخص ہے۔ نوؔح فہرست میں شامل ہے کیونکہ اس نے اپنے ایمان کے ذریعے خدائی خوف کا مظاہرہ کیا جو اس کے گھرانے کو بچانے کے لئے درکار تھا۔ اؔبرہام کی اسکے ایمان اور فرمانبرداری کیلئے تعریف کی گئی ہے۔ موسیٰؔ کی تعریف کی گئی ہے کیونکہ اپنے ایمان کے ذریعے وہ اندیکھے کو گویا دیکھ کر ثابت قدم رہا۔ مثالوں کی فہرست اتنی طویل تھی کہ پولسؔ نے کہا کہ اگر وہ ان سب کو بیان کرنے لگتا تو وقت اس بات کی اجازت نہ دیتا۔ ہم کتنے شکرگزار ہیں کہ ہم اُنکے ”پاک چالچلن اور دینداری [”خدائی عقیدت،“ اینڈبلیو]“ پر نظرثانی کرنے سے اپنے ایمان کو مضبوط کر سکتے ہیں!—۲-پطرس ۳:۱۱۔
۳ پہلی صدی میں، یسوؔع نے سوال کِیا: ”جب ابنِآدم آئے گا تو کیا زمین پر ایمان پائیگا؟“ (لوقا ۱۸:۸) اچھا، توپھر، کیا آج ہم اپنے درمیان ایمان کی زندہ مثالیں رکھتے ہیں۔ کیا ہم مردوں اور عورتوں، نوجوانوں اور بوڑھوں دونوں کو، یہوؔواہ پر غیرمتزلزل ایمان ظاہر کرتے دیکھتے ہیں جیساکہ بائبل وقتوں میں خدا کے لوگوں کے بارے میں سچ تھا؟
۴ ایمان کی جدید زمانے کی مثالیں: ہمارے چوگردایمان کی غیرمعمولی مثالیں پائی جاتی ہیں۔ نگہبانوں کا ایمان جو ہمارے درمیان پیشوائی کر رہے ہیں قابلِتقلید ہے۔ (عبرانیوں ۱۳:۷) لیکن صرف یہی لوگ ایمان میں مثالی نہیں ہیں۔ ہر کلیسیا کے ساتھ وفادار اشخاص رفاقت رکھتے ہیں جو اکثر یہوؔواہ کے لئے کٹھن حالات کے تحت دکھائی جانے والی وفادارانہ خدمت کا طویل ریکارڈ رکھتے ہیں۔
۵ ہمیں اپنی وفادار بہنوں کو سراہنا چاہئے جنہوں نے، سالوں سے، مخالفت کرنے والے شوہروں کی مخالفت کو برداشت کیا ہے۔ تنہا ماں یا باپ کو اکیلے ہی بچوں کی پرورش کرنے کے چیلنج کا سامنا رہا ہے۔ ہمارے درمیان عمررسیدہ بیوائیں موجود ہیں جو کبھی بھی کلیسیا کی سرگرمیوں سے غیرحاضر نہیں ہوتی ہیں اگرچہ مدد کرنے کیلئے اُنکے پاس خاندان کا کوئی فرد نہیں ہے۔ (مقابلہ کریں لوقا ۲:۳۷۔) ہم ان کے ایمان سے حیران ہیں جو صحت کے دائمی مسائل برداشت کرتے ہیں۔ بہتیرے وفاداری سے خدمت کرنا جاری رکھتے ہیں اگرچہ انکی کمزوریاں ہیں جو انہیں خدمت کے اضافی استحقاقات تفویض کئے جانے سے روکتی ہیں۔ ایسے نوجوان گواہ موجود ہیں جنہوں نے سکول میں مخالفت کے باوجود جرأتمندی سے ایمان کا مظاہرہ کیا ہے۔ جب ہم وفادار پائنیروں کو دیکھتے ہیں جو سالہا سال سے اَنگنت مسائل کے پیشِنظر ثابتقدم رہے ہیں تو ہماری خدائی عقیدت اَور زیادہ مضبوط ہوتی ہے۔ پولسؔ کی مانند، اگر ہم بادشاہتی خدمت میں تمام تجربات اور ان بھائیوں اور بہنوں کی ایمان کی عمل میں لائی جانے والی کارگزاریوں کو بیان کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو وقت ہمیں اجازت نہیں دیگا!
۶ وفادار لوگوں کی یہ مثالیں ہمیں تسلی اور حوصلہافزائی فراہم کرتی ہیں۔ (۱-تھسلنیکیوں ۳:۷، ۸) ہم انکے ایمان کی نقل کر کے اچھا کرتے ہیں کیونکہ ”راستکار اُسکی [یہوؔواہ] کی خوشنودی ہیں۔“—امثال ۱۲:۲۲۔