کیا یہوؔواہ کی یاددہانیاں ہمیں روحانی طور پر بیدار رکھ رہی ہیں؟
۱ زبورنویس نے یہ کہتے ہوئے یہوؔواہ کی تعریف کی: ”تیری شہادتوں [”یاددہانیوں،“ اینڈبلیو] پر میرا دھیان رہتا ہے۔“ (زبور ۱۱۹:۹۹) ”یاددہانیوں“ کے لئے عبرانی لفظ یہ خیال پیش کرتا ہے کہ یہوؔواہ ہمیں وہ سب کچھ یاد دِلاتا ہے جو اس کے قوانین، اس کے احکامات، اس کے قواعد، اس کے فرمانوں، اور اس کی شریعت میں بیان کِیا گیا ہے۔ اگر ہم اثرپذیر ہوں گے تو یہ ہمیں روحانی طور پر بیدار اور خوش رکھیں گے۔—زبور ۱۱۹:۲۔
۲ یہوؔواہ کے لوگوں کے طور پر، ہم باقاعدگی سے نصیحت اور مشورت حاصل کرتے ہیں۔ اس میں سے زیادہتر ہم نے پہلے ہی سنی ہوتی ہے۔ اگرچہ ہم اس حوصلہافزائی کی قدر کرتے ہیں تو بھی ہم بھولنے کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ (یعقوب ۱:۲۵) یہوؔواہ صبر کے ساتھ پُرمحبت یاددہانیاں فراہم کرتا ہے۔ پطرؔس رسول نے ’واضح طور پر سوچنے کی ہماری صلاحیتوں کو اُبھارنے کے لئے بعض ایسی یاددہانیوں کو تحریر کِیا ’تاکہ ہم خداوند کے فرمانوں کو یاد رکھ سکیں۔‘—۲-پطرس ۳:۱، ۲۔
۳ بارہا ہمیں ذاتی مطالعے اور اجلاسوں پر حاضری کی اہمیت کی بابت یاد کرایا جاتا ہے۔ یہ اس لئے کِیا جاتا ہے کیونکہ یہ کارگزاریاں ہماری روحانی بہبود کے لئے نہایت اہم ہیں۔—۱-تیمتھیس ۴:۱۵؛ عبرانیوں ۱۰:۲۴، ۲۵۔
۴ بعض کیلئے منادی کرنے کی مسیحی ذمہداری کو پورا کرنا ایک عظیمترین چیلنج ہے۔ اس کے لئے جدوجہد، عزم اور استقلال درکار ہیں۔ اگرچہ یہ ہم سے کافی تقاضا کرتا ہے، ہمیں اپنے ”پاؤں میں صلح کی خوشخبری کی تیاری کے جوتے پہن کر“ ”قائم رہنے“ میں مدد دی جاتی ہے۔—افسیوں ۶:۱۴، ۱۶۔
۵ ہماری خدمت کو یہوؔواہ کے تقاضوں کی بابت محض روحانی بیداری سے زیادہ کچھ سے تحریک پانے کی ضرورت ہے۔ پولسؔ رسول ہمیں یاد کراتا ہے کہ دل وہ اُکساہٹ فراہم کرتا ہے جس کی ہمیں ضرورت ہوتی ہے تاکہ ہم ”نجات کے لئے اقرار مُنہ سے“ کر سکیں۔ (رومیوں ۱۰:۱۰) اگر ہم مضبوط ایمان رکھتے ہیں اور اگر ہمارا دل یہوؔواہ کی یاددہانیوں کی طرف مائل ہے تو ہم اس کے نام کو جلال دینے کے لئے بولنے پر مجبور ہوں گے۔—زبور ۱۱۹:۳۶؛ متی ۱۲:۳۴۔
۶ جب ہم نیک کام کرنے کے لئے سخت محنت کرتے ہیں تو ہم موزوں طور پر یہ توقع کرتے ہیں کہ یہ ہمارے لئے خوشی کا باعث ہوگا۔ (واعظ ۲:۱۰) پولسؔ خوشی کی شناخت یہوؔواہ کی روح کے ایک پھل کے طور پر کراتا ہے، اور ہمیں اس کا بھرپور مظاہرہ کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ (گلتیوں ۵:۲۲) پطرؔس نے اضافہ کِیا کہ ”کمال کوشش“ پھلدار خدمتگزاری پر منتج ہوگی جو کہ خوشی پیدا کرتی ہے۔—۲-پطرس ۱:۵-۸۔
۷ جب ہمیں کسی چیلنج کا سامنا ہوتا ہے تو ہمیں رسولوں کے اس مضبوط مؤقف کو یاد رکھنا چاہئے جب انہوں نے کہا: ”ممکن نہیں کہ جو ہم نے سنا اور دیکھا ہے وہ نہ کہیں۔“ (اعمال ۴:۲۰) جب ہم یہ یاد رکھتے ہیں کہ ’ایسا کرنے سے ہم اپنی اور اپنے سننے والوں کی نجات کا باعث ہوں گے‘ تو ہم جاری رکھنے کے لئے مضبوط ہو جاتے ہیں۔—۱-تیمتھیس ۴:۱۶۔
۸ متواتر یاددہانیاں حاصل کرنے کی وجہ سے ہم برہم نہیں ہوتے یا آزردگی محسوس نہیں کرتے۔ بلکہ، ہم ان کی اعلیٰ قدروقیمت کی انتہائی قدر کرتے ہیں۔ (زبور ۱۱۹:۱۲۹) ان تشویشناک ایام میں، ہم شکرگزار ہیں کہ یہوؔواہ ہمیں روحانی طور پر بیدار رکھنے کے لئے اور ہمیں نیک کاموں میں سرگرم ہونے کی تحریک دینے کیلئے یاددہانیاں فراہم کرتا رہتا ہے!—۲-پطرس ۱:۱۲، ۱۳۔