آپ کس قسم کی روح ظاہر کرتے ہیں؟
۱ پولسؔ نے فلپی کی کلیسیا کے نام اپنے خط کا اختتام اس نصیحت کے ساتھ کِیا: ”خداوند یسوؔع مسیح کا فضل تمہاری روح کے ساتھ رہے۔“ (فلپیوں ۴:۲۳) اس نے خوشخبری کی منادی کرنے میں ان کی حقیقی دلچسپی کیساتھ ساتھ ان کی ایک دوسرے کی بہبود کے لئے گرمجوش، پُرمحبت فکرمندی کی بھی تعریف کی۔—فلپیوں ۱:۳-۵؛ ۴:۱۵، ۱۶۔
۲ یہ ہماری خواہش ہونی چاہئے کہ اپنی کلیسیا میں اسی قسم کی روح ظاہر کریں۔ جب سب جوش، مہربانی اور مہماننوازی ظاہر کرتے ہیں تو یہ ایک ایسی روح پیدا کرتا ہے جو سب دیکھنے والوں پر ظاہر ہو جاتی ہے۔ مثبت اور پُرمحبت روح اتحاد اور روحانی ترقی کا باعث بنتی ہے۔ (۱-کرنتھیوں ۱:۱۰) منفی روح حوصلہشکنی اور بےدلی کا سبب بنتی ہے۔—مکاشفہ ۳:۱۵، ۱۶۔
۳ بزرگ پیشوائی کرتے ہیں: بزرگوں کی یہ ذمہداری ہے کہ اپنے درمیان اور کلیسیا کے اندر عمدہ، مثبت روح رکھیں۔ کیوں؟ کیونکہ کلیسیا انکے رویے اور چالچلن سے متاثر ہو سکتی ہے۔ ہم ایسے بزرگوں کی قدر کرتے ہیں جو میدانی خدمت میں سرگرم ہیں، جو ہمیں پُرتپاک مسکراہٹ اور مشفقانہ الفاظ میں خوشآمدید کہتے ہیں اور جو اپنی مشورت میں مثبت اور تعمیری ہوتے ہیں، خواہ وہ ذاتی طور پر یا پلیٹفارم سے دی جاتی ہے۔—عبرانیوں ۱۳:۷۔
۴ یقیناً، کلیسیا کو دوستانہ رویہ رکھنے والی، مہماننواز، سرگرم اور روحانی ذہنیت والی بنانے کیلئے ہم سب کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ انفرادی طور پر، ہم دوسروں کے ساتھ اپنی رفاقت میں گرمجوشی اور محبت ظاہر کر سکتے ہیں۔ (۱-کرنتھیوں ۱۶:۱۴) ہمارے درمیان عمر، نسل، تعلیم یا مالی حیثیت کی بنا پر کوئی امتیاز نہیں ہونا چاہئے۔ (مقابلہ کریں افسیوں ۲:۲۱۔) اپنی اُمید کی وجہ سے ہم خدمتگزاری میں خوشی، فیاضانہ مہماننوازی اور جوش کی روح کو منعکس کر سکتے ہیں۔—رومیوں ۱۲:۱۳؛ کلسیوں ۳:۲۲، ۲۳۔
۵ وہ سب جو ہمارے ساتھ رفاقت رکھتے ہیں، بشمول نئے اشخاص کے، انہیں محسوس ہونا چاہئے کہ انکا خیرمقدم کیا گیا ہے اور انہیں برادری کی محبت اور عقیدت کا احساس حاصل ہونا چاہئے۔ اپنی خدمتگزاری کے ذریعے اور عمدہ مسیحی خوبیوں کو ظاہر کرنے سے، ہم اس بات کی شہادت پیش کرتے ہیں کہ کلیسیا ”حق کا ستون اور بنیاد ہے۔“ (۱-تیمتھیس ۳:۱۵) ہم ”خدا کے اطمینان“ کے باعث روحانی سلامتی کا تجربہ بھی کرتے ہیں جو کہ ہمارے دلوں اور خیالوں کو محفوظ رکھتا ہے۔ (فلپیوں ۴:۶، ۷) دعا ہے کہ ہم سب مستعدی کیساتھ اس قسم کی روح کو ظاہر کرنے کی کوشش کرتے رہیں جو کہ ہمیں خداوند یسوؔع مسیح کے وسیلے یہوؔواہ کے غیرمستحق فضل کا لطف اٹھانے کا یقین دلاتی رہیگی۔—۲-تیمتھیس ۴:۲۲۔