نوعمروں کو اچھے نمونے کی ضرورت ہے
۱ نوجوان لوگوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو اپنے ساتھ دیکھ کر ہم خوش ہیں جو ”یہوواہ کے نام کی حمد کر رہے“ ہیں۔ (زبور ۱۴۸:۱۲، ۱۳) ان میں سے بہتیرے عمر میں کافی چھوٹے ہیں۔ انکی ترقی کا تعین بڑی حد تک انکے والدین اور کلیسیا میں دیگر عمر میں بڑے لوگوں کے ذریعے فراہمکردہ تربیت اور نمونے سے ہوتا ہے۔ تاہم، دیگر نوجوان لوگوں خاص طور پر نسبتاً بڑے عنفوان شباب والوں اور جوان بالغوں کے ذریعے عمل میں لائے گئے اثر کو بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہئے۔ اگر آپ اس عمر کے گروپ میں ہیں تو یہ تبصرے آپکو فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔
۲ عنفوانشباب کی عمر سے پہلے والے نوجوان لوگ نسبتاً بڑے عنفوانشباب والوں کی نقل کرنے کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ وہ انکی مانند بننے کی فطرتی خواہش رکھتے ہیں جن کی وہ تعریف کرتے ہیں۔ وہ دیگر نوجوانوں کی تعریف کرنے کی طرف مائل ہوتے ہیں جو کسی حد تک عمر میں بڑے ہیں اور جو علیم ہونے اور زیادہ ترقییافتہ جدید ہونے کا اشارہ دیتے ہیں۔ نتیجتاً، وہ آپ کے بولچال اور طرزعمل نیز روحانی اقدار کیلئے آپکی قدردانی اور کلیسیا کی کارگزاریوں میں آپ کی شرکت کی نقل کر سکتے ہیں۔
۳ نسبتاً بڑے عنفوانشباب والے کے طور پر، آپ ایک شرف کیساتھ ساتھ بھاری ذمہداری رکھتے ہیں۔ عین اس وقت، آپ کے نمونہ سے غالباً آپ کے نسبتاً بڑی عمر والے نوجوان ساتھی اثرانداز ہو رہے ہیں۔ خود سے پوچھیں، ”میں نوعمر اشخاص پر کس قسم کا اثر مرتب کرتا ہوں؟ کیا میں بیوقوفی اور ”جوانی کی“ غلط ”خواہشوں“ سے گریز کرتے ہوئے سنجیدہ ذہن والا ہوں؟ کیا میں اپنے والدین، بزرگوں، اور دیگر نسبتاً بڑی عمر والے اشخاص کی جانب فرمانبرداری اور احترام کا مظاہرہ کرتا ہوں؟“ (۲-تیمتھیس ۲:۲۲، کلسیوں ۳:۲۰) آپ جو کچھ کہتے اور کرتے ہیں وہ ان دیگر نسبتاً کم عمر اشخاص کی روحانی ترقی میں بڑا پہلو ہو سکتا ہے جو آپ کے کاموں کا مشاہدہ کرتے ہیں۔
۴ بادشاہتی پیغام کی منادی کرنا کلیسیا کا اولین کام ہے۔ خوشی اور باقاعدگی سے آپ کی شرکت آپ کے ساتھیوں کو اور زیادہ سرگرم ہونے کیلئے حوصلہبخش سکتی ہے۔ اگر آپ پائنیر خدمت کو اختیار کرنے کے قابل ہیں تو آپ کے دوست ضرور اسی طریقے سے تحریک پائیں گے۔ اجلاس پر تبصرہ کرنا اور کنگڈم ہال میں ضروری کاموں کو کرنے میں آپ کی مدد بھی اچھا نمونہ قائم کر سکتی ہے۔
۵ اگرچہ پولس نے جب تیمتھیس کو درجذیل مشورہ دیا تو وہ اپنے عنفوانشباب میں نہیں تھا تو بھی آپ عنفوانشباب والے اس کا اطلاق کر سکتے ہیں: ”تو ایمانداروں کیلئے کلام کرنے اور چالچلن اور محبت اور ایمان اور پاکیزگی میں نمونہ بن۔“ (۱-تیمتھیس ۴:۱۲) یہوواہ کی خدمت میں آپ کی پرجوش اور سارے دل سے شرکت آپ کے ساتھیوں اور نسبتاً کمعمر مشاہدین کو روحانی طور پر پورے جوان آدمی بننے کی جانب ترقی کرنے کیلئے مثبت طریقے سے تحریک دے گی۔ (افسیوں ۴:۱۳) ایسے عنفوانشباب والے جو خاندانوں کا حصہ ہیں جنہوں نے محض مطالعہ کرنا شروع ہی کیا ہے ہو سکتا ہے جو کچھ وہ آپ میں دیکھیں اس سے سچائی کی طرف کھینچ آئیں۔
۶ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ خدائی خوبیاں ظاہر کرنے میں آپ کی مستعدی یہوواہ اور اس کی تنظیم کیلئے عزت لا سکتی ہے۔ (امثال ۲۷:۱۱) خلوصدل مشاہدین آپکے اور دنیا کے نوجوانوں کے درمیان نمایاں فرق پر ضرور حیران ہونگے۔ پس جب آپ یہوواہ کی حمد کیلئے قابلقدر معاونت کر رہے ہیں تو آپ کے پاس نوعمر اشخاص کی مدد کرنے کا منفرد موقع ہے۔—زبور ۷۱:۱۷۔