سوالی بکس
معاملات کو اس وقت کیسے نپٹانا چاہئے جب ایک صاحبخانہ اصرار کرتا ہے کہ یہوواہ کے گواہ اس گھر پر مزید ملاقاتیں نہ کریں؟
جب ہم کو دروازے پر ایسے نشان کا سامنا ہو جو مذہبی نوعیت کی ملاقاتوں کو سختی سے منع کرتا ہے اور خاصکر یہوواہ کے گواہوں کا ذکر کرتا ہے تو بہترین بات یہ ہو سکتی ہے کہ صاحبخانہ کی خواہشات کا احترام کیا جائے اور دستک دینے سے گریز کیا جائے۔
بعضاوقات ہم ایسے نشان پر آتے ہیں جو سیلزمینوں یا چندہ مانگنے والوں کو منع کرتا ہے۔ چونکہ ہم خیراتی مذہبی کام کر رہے ہیں، اسلئے اس کا ہم پر درحقیقت اطلاق نہیں ہوتا۔ یہ موزوں ہوگا کہ آگے بڑھا جائے اور ایسے دروازوں پر دستک دی جائے۔ اگر صاحبخانہ اعتراض کرتا ہے تو ہم موقعشناسی سے وضاحت کر سکتے ہیں کہ ہم کیوں محسوس کرتے ہیں کہ ہمارے معاملے میں ایسے نشانوں کا اطلاق نہیں ہوتا۔ اگر صاحبخانہ اس وقت واضح کرتا ہے کہ ممانعت میں یہوواہ کے گواہ شامل ہیں تو ہم اس کی خواہشات کا احترام کریں گے۔
جب ہم علاقے میں کام کر رہے ہوں تو کوئی صاحبخانہ ظاہری طور پر پریشان ہو سکتا اور پرزور طریقے سے اصرار کر سکتا ہے کہ ہم دوبارہ ملاقات کیلئے نہ آئیں۔ اگر وہ معاملے پر استدلال کرنے سے انکار کرتا ہے تو ہم کو اس درخواست کے مطابق عمل کرنا چاہئے۔ علاقے کے لفافے میں تاریخ درج کرکے نوٹ ڈال دینا چاہئے تاکہ اس علاقے میں کام کرنے والے پبلشر مستقبل میں اس پتے پر ملاقات کرنے سے گریز کریں گے۔
ایسے گھروں سے ہمیشہ ہی گریز نہیں کرنا چاہئے۔ شاید موجودہ مکین چلے گئے ہوں۔ ہمارا رابطہ کسی دوسرے خاندانی ممبر سے ہو سکتا ہے جو سازگار جواب دیگا۔ اس بات کا بھی امکان ہے کہ جس صاحبخانہ سے ہم نے بات کی تھی اس کے دل کی حالت بدل جائے گی اور وہ اس بات پر زیادہ متفق ہو جائے گا کہ ہم اس سے ملاقات کرنے کیلئے جائیں۔ اسلئے کچھ وقت کے بعد مکینوں کے حالیہ احساسات کا تعین کرنے کیلئے انکی بابت موقعشناسانہ تفتیش کی جانی چاہئے۔
ان گھروں کی فہرست بناتے ہوئے جہاں پر ہمیں نہ جانے کا مشورہ دیا گیا تھا علاقے کی فائل پر سال میں ایک بار نظرثانی کی جانی چاہئے۔ خدمتی نگہبان کی ہدایت کے تحت بعض موقعشناس، تجربہکار پبلشروں کو ان گھروں میں ملاقات کرنے کیلئے تفویض کیا جا سکتا ہے۔ یہ واضح کیا جا سکتا ہے کہ ہم یہ معلوم کرنے کیلئے ملاقات کر رہے ہیں کہ آیا وہی صاحبخانہ ابھی تک وہاں رہتا ہے۔ پبلشر کو دلیل دینا کتاب (انگریزی) کے صفحات ۱۵-۲۴ کے اس مواد سے واقف ہو نا چاہئے جسکا عنوان ہے ”آپ امکانی قاطعگفتگو کا جواب دے سکتے ہیں۔“ اگر معقول جوابیعمل موجود ہے تو معمول کے مطابق آئندہ ملاقاتیں کی جا سکتی ہیں۔ اگر صاحبخانہ مخالفانہ رویہ جاری رکھتا ہے تو اگلے سال تک مزید کوئی ملاقات نہیں کی جانی چاہئے۔ اگر کسی خاص بات میں معاملات کو مختلف طرح سے نپٹانا قرینمصلحت ہو تو بزرگوں کی مقامی جماعت فیصلہ کر سکتی ہے۔