نئے اور تجربہکار دونوں طرح کے خادموں کیلئے تقاضے
۱ زبورنویس داؤد نے پوچھا: ”اے خداوند تیرے خیمہ میں کون رہیگا؟ تیرے کوہمقدس پر کون سکونت کریگا؟“ چند اچھے منتخبشدہ الفاظ کے ساتھ داؤد نے جواب دیا: ”وہ جو راستی سے چلتا اور صداقت سے کام کرتا اور دل سے سچ بولتا ہے۔“ (زبور ۱۵:۱، ۲) وہ تقاضے بدلے نہیں ہیں۔ آجکل سب جو سچی پرستش کرنے کیلئے مسیحی کلیسیا میں آتے ہیں ضرور ہے کہ بداخلاقی کے کاموں اور شرابنوشی کو ترک کریں۔ یہوواہ کے لوگوں میں ان کے لئے کوئی جگہ نہیں جو جھگڑالو ہیں، تشددآمیز مزاج رکھتے ہیں، یا مکاری سے بولتے ہیں۔ خواہ نئے خادم ہیں یا تجربہکار، ہمیں خدا کے کلام میں پیشکردہ اعلی معیاروں کو قائم رکھنے میں وفادار رہنا چاہیے۔—گلتیوں ۵:۱۹-۲۱۔
۲ بہتیرے نئے لوگ یہوواہ کی تنظیم کے ساتھ رفاقت رکھ رہے ہیں۔ بوڑھوں اور جوانوں دونوں نے یکساں طور پر اپنی سوچ کو بدل لیا ہے تاکہ اپنی طرززندگی کو خدا کے تقاضوں کے مطابق بنائیں۔ جنوبی امریکہ میں ایک لڑکا والدین کی راہنمائی کے بغیر پروان چڑھا اور شدید شخصیتی مسائل پیدا کر لئے۔ ۱۸ برس کی عمر کو پہنچنے تک، وہ منشیات کا عادی ہو چکا تھا اور پہلے ہی اس عادت کو پورا کرنے کی خاطر چوری کرنے کی وجہ سے قید میں وقت گزار چکا تھا۔ بائبل مطالعے کے ذریعے، اس نے اپنے پہلے ساتھیوں کے ساتھ صحبت کو ختم کر لیا، یہوواہ کے گواہوں کے اندر نئے دوست تلاش کر لئے، اور بالآخر خدا کیلئے اپنی زندگی مخصوص کر لی۔
۳ اسی طرح سے، ہمیں ”سچائی کی راستبازی اور پاکیزگی میں“ اپنے سارے چالچلن میں خدا کو خوش کرنے کیلئے اٹل ہونا چاہیے۔ (افسیوں ۴:۲۴) اگر ہمیں خدا کی پہاڑنما تنظیم میں رہنا ہے تو ہماری ذمہداری ہے کہ ”پرانی انسانیت کو اسکے کاموں سمیت اتار [ڈالیں] اور نئی انسانیت کو پہن لیں جو معرفت حاصل کرنے کیلئے اپنے خالق کی صورت پر نئی بنتی جاتی ہے۔“—کلسیوں ۳:۹، ۱۰۔
۴ خدا کا کلام ایک پرزور اثر: یہوواہ کی شخصیت جس طرح سے ہم پر بائبل کے ذریعے آشکارا ہوئی ہے ایک مثبت طریقے سے ہمارے افعال اور سوچ پر زوردار طریقے سے اثرانداز ہو سکتی ہے۔ (رومیوں ۱۲:۲) اسکا کلام ذہنوں کو تبدیل کر دینے اور دلوں کو ٹٹولنے کی گہرائیوں کی قوت رکھتا ہے۔ (عبرانیوں ۴:۱۲) الہامی صحائف ہمیں سکھاتے ہیں کہ یہوواہ کی مرضی تقاضا کرتی ہے کہ ہم اخلاقی طور پر دیانتدارانہ زندگی گذاریں، اعلانیہ خدمتگزاری میں پوری طرح حصہ لیں، اور مسیحی اجلاسوں کو نظرانداز نہ کریں۔
۵ ان برے دنوں میں بڑھتے ہوئے دباؤ خدا کے قوانین کو توڑنے کیلئے مسیحیوں پر اثر ڈال سکتے ہیں۔ اگر ذاتی مطالعہ، خاندانی مطالعہ، کلیسیائی اجلاس، یا خدمتگزاری کو نظرانداز کیا جاتا ہے تو جو پہلے پختہ مسیحی تھا وہ بھی شاید غلط چال چلن میں پڑ کر آہستہ آہستہ ایمان سے بہہ کر دور جا سکتا ہے۔ اسی وجہ سے پولس نے تیمتھیس کو لکھا: ”اپنی اور اپنی تعلیم کی مسلسل خبرداری کر“ اور ”جو میں کہتا ہوں اس پر مسلسل غور کر۔“—۱-تیمتھیس ۴:۱۶، NW، ۲-تیمتھیس ۲:۷، NW۔
۶ اگر ہماری زندگی بچائی جانی ہے تو ہم نے خواہ حال ہی میں رفاقت رکھنی شروع کی ہے یا ہم سالوں کا تجربہ رکھنے والے پختہکار ہیں، ہمیں خدا کے تقاضوں کو واضح طور پر پوری توجہ دینی چاہیے، مکمل طور پر خدمتگزاری میں متوازن ہوں، اور اپنی امید کو مضبوط رکھیں۔ (۱-پطرس ۱:۱۳-۱۶) خدا کے راست تقاضوں کی روزانہ پابندی قطعی طور پر لازمی ہے۔
۷ ۱۹۹۴ کے خدمتی سال کے اس پہلے مہینے کے دوران میدانی خدمت میں جانے کو اپنا نصبالعین بنائیں۔ ایمان میں بڑھنے اور میدانی خدمتگزاری میں پھلدار کارگزاری میں اضافہ کرنے کیلئے دوسروں کی مدد کرنے کی خاطر اٹل رہیں۔ (رومیوں ۱:۱۲) ذاتی مطالعے، خاندانی مطالعے، اور اجلاسوں پر حاضری میں باقاعدگی کے ذریعے اپنے خیالات کو راست معاملات پر لگائے رکھیں۔ (فلپیوں ۴:۸) خدا کے تقاضوں پر پورا اترنے کے ذریعے اس کو خوش کرنے کیلئے آپکی کوششیں بےتوجہی کا شکار نہیں ہونگی۔—کلسیوں ۳:۲۳، ۲۴۔