سوالی بکس
کسی کے خود کو بپتسمہ کیلئے پیش کرتے وقت موزوں لباس کس کو سمجھا جائے گا؟
جبکہ دنیا کے مختلف حصوں میں لباس کے معیار فرق ہیں، ”حیادار لباس“ کیلئے بائبل کی فہمائش تمام مسیحیوں کیلئے ایک جیسی رہتی ہے اس سے قطعنظر کہ وہ کہاں رہتے ہیں۔ (۱-تیمتھیس ۲:۹) اس اصول کو بپتسمہ کیلئے موزوں لباس کی بابت غور کرتے وقت لاگو کرنا چاہیے۔
جون ۱، ۱۹۸۵ کا واچٹاور صفحہ ۳۰ پر بپتسمہ پانے والے شخص کو یہ مشورت دیتا ہے: ”یقینی طور پر استعمال میں آنے والے پیراکی لباس کی قسم میں حیا کو اغلب رہنا چاہیے۔ آجکل یہ بہت اہم ہے جبکہ یوں لگتا ہے کہ فیشن ڈیزائنرز جنسپرستی کی نمودونمائش کرنا اور عریاںپن کی انتہا تک پہنچنا چاہتے ہیں۔ ایک اور پہلو جسکو مدنظر رکھنا چاہیے وہ یہ ہے کہ بعض لباس جب خشک ہوں تو حیادار نظر آتے ہیں لیکن گیلے ہو جانے کی صورت میں اتنے حیادار نہیں لگتے۔ بپتسمہ پانے والا کوئی بھی شخص بپتسمہ جیسے سنجیدہ موقع پر انتشارخیال یا ٹھوکر کا باعث بننا نہیں چاہے گا۔—فلپیوں ۱:۱۰۔“
اس نصیحت کی مطابقت میں وہ جو بپتسمہ پا رہے ہیں موقع کی اہمیت کو ذہن میں رکھتے ہوئے حیادار لباس پہننا چاہینگے۔ پس، پیراکی لباس جو بہت چھوٹا ہو یا ایسا ہو جو گیلا ہونے پر بےحیا طور پر جسم سے چمٹ جائے ایک مسیحی کیلئے ناموزوں لباس ہوگا اور اسلئے اس سے گریز کیا جانا چاہیے۔ اسی طرح، کسی کیلئے وضعقطع میں گندا ہونا یا بےسلیقہ ہونا نامناسب ہوگا۔ مزیدبرآں، ایسی ٹی-شرٹس پہننا بھی موزوں نہ ہوگا جن پر دنیاوی مقولے یا تجارتی نعرے لکھے ہوئے ہوں۔
جب تفویضشدہ بزرگ بپتسمہ پانے کے امیدوار کے ساتھ بپتسمہ کیلئے سوالوں پر نظرثانی کرتے ہیں تو یہ موزوں لباس پہننے کی اہمیت پر باتچیت کرنے کا اچھا وقت ہوگا۔ اسطرح موقع کی عظمت برقرار رہے گی اور ہم دنیا سے مسلسل مختلف نظر آتے رہیں گے۔—مقابلہ کریں یوحنا ۱۵:۱۹۔