فدیے کیلئے قدردانی ظاہر کرنا
۱ ایک دوست یا ایک رشتہدار کیلئے جو کہ مر چکا ہے قدردانی ظاہر کرنے کی خواہش تمام ثقافتوں میں عام ہے۔ یہ خواہش خاص طور پر اس وقت شدید ہو سکتی ہے جب کوئی عزیز دوسروں کی زندگیاں بچانے کی خاطر مر گیا ہو۔ وہ تمام جو ابدی زندگی کی امید میں شریک ہوتے ہیں انکے پاس اپریل ۶ کو مسیح کی موت کی یادگاری پر حاضر ہو کر فدیے کیلئے قدردانی ظاہر کرنے کی عظیمترین وجوہات ہیں۔—۲-کرنتھیوں ۵:۱۴، ۱-یوحنا ۲:۲۔
۲ یہوواہ کی محبت کی قدر کریں: یہ کتنا موزوں ہے کہ ہم اپنے عظیمترین محسن، یہوواہ خدا کیلئے اپنی انتہائی قدردانی دکھائیں جس نے فدیہ فراہم کیا! (۱-یوحنا ۴:۹، ۱۰) یہوواہ کی محبت کی گہرائی اس لاثانی تحفے سے واضح ہے جسے اس نے بطور ہمارے فدیے کے مہیا کیا، محض لاکھوں راستباز فرشتوں میں سے ایک نہیں، بلکہ اپنا اکلوتا، سب سے عزیز بیٹا۔ (امثال ۸:۲۲، ۳۰) اس بیٹے، یسوع مسیح نے جو یہوواہ کو سب سے بہتر جانتا ہے، ہمیں یاد دلایا: ”کیونکہ خدا نے دنیا سے ایسی محبت رکھی کہ اس نے اپنا اکلوتا بیٹا بخشدیا تاکہ جو کوئی اس پر ایمان لائے ہلاک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زندگی پائے۔“—یوحنا ۳:۱۶۔
۳ یسوع مسیح کی محبت کی قدر کریں: اسی طرح، یہ موزوں ہے کہ ہم یسوع مسیح کیلئے گہری قدردانی دکھائیں جس نے بہتیروں کے بدلے اپنی جان فدیے کے طور پر دے دی۔ (متی ۲۰:۲۸) اسکی محبت فدیہ کے سلسلے میں اپنے لئے یہوواہ کی مرضی کی خوشی سے اطاعت کرنے میں ظاہر ہوتی ہے۔ غور کریں کہ کیسے اس نے ہمارا فدیہ ہونے کی غرض سے اپنے باپ اور بےشمار راستباز فرشتوں کی رفاقت میں اپنے سازگار حالات کو چھوڑ دیا۔ نہ تو گنہگار انسانوں کے درمیان رہنے اور انکے تابع ہونے کا چیلنج اور نہ ہی اس بات کے علم نے اسے روکا کہ فدیہ فراہم کرنا اسکی موت کا تقاضا کرے گا۔ بلکہ اس نے ”خادم کی صورت اختیار کی اور انسانوں کے مشابہ ہو گیا۔ ... اور یہاں تک فرمانبردار رہا کہ موت بلکہ صلیبی موت گوارا کی۔“—فلپیوں ۲:۵-۸۔
۴ کسطرح ہم فدیے کیلئے قدردانی ظاہر کرتے ہیں؟: فدیے کیلئے ہماری قدردانی کو محض شکریے سے آگے بڑھنا چاہیے۔ ہمیں یسوع مسیح کے وسیلے سے نجات کیلئے خدا کے بندوبست کی بابت سیکھنے کی ضرورت ہے۔ (یوحنا ۱۷:۳) پس ہمیں ضرور فدیے پر ایمان ظاہر کرنا چاہیے۔ (اعمال ۳:۱۹) اسطرح، ہمیں مخصوصیت کے ذریعے خود کو یہوواہ خدا کو دے دینے اور بپتسمہ پانے کی تحریک ملنی چاہیے۔ (متی ۱۶:۲۴) جب ہم اپنی مخصوصیت کے مطابق زندگی بسر کرتے ہیں تو ہمیں نجات کیلئے فدیے کے شاندار بندوبست کی بابت دوسروں کو بتانے کیلئے ہر موقع کو غنیمت جاننا چاہیے۔—رومیوں ۱۰:۱۰۔
۵ ان تقاضوں کو پورا کرنا ہم میں سے کسی کی بھی لیاقت سے باہر نہیں ہے۔ میکاہ ۶:۸ ہمیں یقیندہانی کراتی ہے: ”خداوند تجھ سے اسکے سوا کیا چاہتا ہے کہ تو انصاف کرے اور رحمدلی کو عزیز رکھے اور اپنے خدا کے حضور فروتنی سے چلے؟“ اسی طرح، داؤد نے یہوواہ سے کہا: ”سب چیزیں تیری طرف سے ملتی ہیں اور تیری ہی چیزوں میں سے ہم نے تجھے دیا ہے۔“—۱-تواریخ ۲۹:۱۴
۶ یہوواہ کے عظیمالشان بندوبست کیلئے اپنی قدردانی کو گہرا کرنے کیلئے، کیوں نہ ہم میموریل کی تاریخ سے پہلے خاندان کے طور پر گریٹسٹ مین بک کے ۱۱۲ تا ۱۲۶ ابواب پڑھیں اور ان پر گفتگو کریں؟ اس طرح، ہم سب میموریل کی تقریب پر فدیے کی قدردانی ظاہر کرنے کیلئے خود کو ذہنی طور پر تیار کر سکتے ہیں جو اپریل ۶، ۱۹۹۳ کو منعقد ہوگی۔