یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م16 مارچ ص.‏ 26-‏28
  • نبیوں جیسا جذبہ پیدا کریں

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • نبیوں جیسا جذبہ پیدا کریں
  • مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—2016ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • اُنہوں نے جی جان سے خدا کی خدمت کی
  • وہ مایوسی پر غالب آئے
  • وہ منفی احساسات سے نپٹ پائے
  • ہوسیع کی نبوّت کی مدد سے خدا کیساتھ ساتھ چلیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2005ء
  • نبیوں کی مثال پر عمل کریں—‏ہوسیع
    ہماری بادشاہتی خدمتگزاری ۲۰۱۳
  • ہوسیع کی کتاب سے اہم نکات
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2007ء
  • خدا کیساتھ ساتھ چلیں اور اچھا انجام پائیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2005ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—2016ء
م16 مارچ ص.‏ 26-‏28
حِزقی‌ایل بائیں پہلو پر ایک اینٹ کے سامنے لیٹے ہیں جس پر یروشلیم کی تصویر نقش ہے۔‏

حِزقی‌ایل نبی نے شہر یروشلیم کے محاصرے کی تصویرکشی کی۔‏

نبیوں جیسا جذبہ پیدا کریں

کیا آپ میں اور نبیوں میں کوئی بات ملتی جلتی ہے؟ جی ہاں۔ نبی وہ ہوتا ہے جو نبوّت کرتا ہے۔ ترجمہ نئی دُنیا میں حصہ ”‏الفاظ کی وضاحت“‏ میں نبوّت کرنے کا مطلب یہ بتایا گیا ہے:‏ ”‏ایک اِلہامی پیغام لوگوں تک پہنچانا۔“‏ اور آپ بھی لوگوں تک خدا کا پیغام پہنچا رہے ہیں۔—‏متی 24:‏14‏۔‏

لوگوں کو یہوواہ خدا اور اُس کی مرضی کے بارے میں بتانا ایک بہت بڑا شرف ہے۔ ایسا کرتے وقت ہم اُس فرشتے کے ساتھ کام کر رہے ہوتے ہیں جس کے پاس ”‏ابدی خوش‌خبری“‏ ہے۔ (‏مکا 14:‏6‏)‏ لیکن ہو سکتا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اِس شرف کے لیے ہماری قدر کم ہو جائے۔ اِس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ شاید ہم تھکاوٹ سے چُور ہوں، مایوسی میں مبتلا ہوں یا پھر منفی احساسات کا شکار ہوں اور اِس لیے ہم اِس شرف کو بوجھ سمجھنے لگیں۔ بائبل میں کچھ نبیوں کا ذکر ہوا ہے جو ایسے ہی احساسات رکھتے تھے لیکن اُنہوں نے ہمت نہیں ہاری اور وہ یہوواہ کی مدد سے اُس کی خدمت جاری رکھ سکے۔ آئیں، اِس سلسلے میں کچھ نبیوں پر غور کریں اور دیکھیں کہ ہم اُن سے کیا سیکھ سکتے ہیں۔‏

اُنہوں نے جی جان سے خدا کی خدمت کی

شاید ہم اپنی روزمرہ مصروفیات کی وجہ سے اِتنی تھکاوٹ محسوس کریں کہ مُنادی کا کام کرنے کو ہمارا جی نہ کرے۔ یہ سچ ہے کہ ہم سب کو آرام کی ضرورت ہے۔ یسوع مسیح اور رسولوں نے بھی وقتاًفوقتاً آرام کِیا۔ (‏مر 6:‏31‏)‏ لیکن ذرا حِزقی‌ایل نبی پر غور کریں جو کچھ اِسرائیلیوں کے ساتھ شہر بابل میں اسیر تھے۔ حِزقی‌ایل نبی کو اِن اِسرائیلیوں کو خدا کا پیغام سنانے کی ذمے‌داری سونپی گئی تھی۔ ایک بار خدا نے حِزقی‌ایل سے کہا کہ وہ کھپرا یعنی کچی اینٹ لیں اور اِس پر شہر یروشلیم کی تصویر نقش کریں۔ پھر خدا نے اُنہیں حکم دیا کہ وہ اِس اینٹ کے سامنے 390 دن تک بائیں پہلو پر لیٹے رہیں اور پھر 40 دن تک دائیں پہلو پر لیٹے رہیں اور یوں یروشلیم کے محاصرے کی تصویرکشی کریں۔ اِس سلسلے میں یہوواہ خدا نے حِزقی‌ایل نبی سے کہا:‏ ”‏دیکھ مَیں تجھ پر بندھن ڈالوں گا کہ تُو کروٹ نہ لے سکے جب تک اپنے محاصرہ کے دنوں کو پورا نہ کر لے۔“‏ (‏حِز 4:‏1-‏8)‏ حِزقی‌ایل نبی کو اِس حالت میں دیکھ کر اِسرائیلی ضرور چونک گئے ہوں گے اور سوچنے پر مجبور ہو گئے ہوں گے۔ حِزقی‌ایل نے ایک سال سے زیادہ عرصے تک یہ تھکا دینے والا کام کِیا۔ وہ اِس ذمے‌داری کو کیسے پورا کر پائے؟‏

حِزقی‌ایل جانتے تھے کہ خدا نے اُنہیں کیوں نبوّت کرنے کو کہا تھا۔ خدا نے اُن سے کہا تھا کہ ”‏خواہ [‏بنی‌اِسرائیل]‏ سنیں یا نہ سنیں .‏ .‏ .‏ تو بھی اِتنا تو ہوگا کہ وہ جانیں گے کہ اُن میں ایک نبی برپا ہوا۔“‏ (‏حِز 2:‏5)‏ حِزقی‌ایل نے اِس بات کو ذہن میں رکھا کہ اُنہیں کس مقصد کے لیے یروشلیم کے محاصرے کی تصویرکشی کرنی تھی اِس لیے وہ اِس مشکل ذمے‌داری کو پورا کر پائے۔ اور وہ سچے نبی ثابت ہوئے کیونکہ ایک دن اُنہیں اور بابل میں رہنے والے باقی اِسرائیلیوں کو یہ خبر ملی کہ یروشلیم تباہ ہو گیا ہے۔ یوں اِسرائیلی جان گئے کہ اُن کے درمیان ایک سچا نبی تھا۔—‏حِز 33:‏21، 33۔‏

آج ہم لوگوں کو شیطان کی دُنیا پر آنے والی تباہی سے آگاہ کر رہے ہیں۔ تھکاوٹ کے باوجود ہم اپنی توانائی خدا کے پیغام سنانے، واپسی ملاقاتیں کرنے اور بائبل کورس کرانے میں صرف کرتے ہیں۔ جوں‌جوں اِس آخری زمانے کے بارے میں کی گئی پیش‌گوئیاں پوری ہو رہی ہیں، ہمیں خوشی ہوتی ہے کہ ہم بھی سچے نبی ثابت ہو رہے ہیں۔‏

وہ مایوسی پر غالب آئے

پاک روح کی مدد سے ہم جی جان سے لوگوں کو یہوواہ کے پیغام سناتے ہیں لیکن کبھی کبھار ہم اُن کا ردِعمل دیکھ کر مایوس ہو جاتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں ہمیں یرمیاہ نبی کی مثال سے حوصلہ ملتا ہے۔ جب اُنہوں نے بنی‌اِسرائیل کو خدا کے پیغام سنائے تو اُنہیں طعنے دیے گئے، اُن کا مذاق اُڑایا گیا اور اُنہیں بُرا بھلا کہا گیا۔ ایک بار تو یرمیاہ نبی نے تنگ آ کر کہا:‏ ”‏مَیں اُس کا ذکر نہ کروں گا نہ پھر کبھی اُس کے نام سے کلام کروں گا۔“‏ بے‌شک یرمیاہ نبی ہمارے جیسے احساسات رکھتے تھے۔ لیکن وہ خدا کے پیغام سناتے رہے۔ اُنہوں نے اِس کی وجہ یوں بتائی:‏ ”‏اُس کا کلام میرے دل میں جلتی آگ کی مانند ہے جو میری ہڈیوں میں پوشیدہ ہے اور مَیں ضبط کرتے کرتے تھک گیا اور مجھ سے رہا نہیں جاتا۔“‏—‏یرم 20:‏7-‏9‏۔‏

جب ہم لوگوں کے ردِعمل کی وجہ سے مایوس ہو جاتے ہیں تو یرمیاہ نبی کی طرح ہمیں بھی اپنے پیغام کی اہمیت پر سوچ بچار کرنی چاہیے۔ یہ پیغام ہمارے دل میں ”‏جلتی آگ کی مانند“‏ ہو سکتا ہے۔ اگر ہم بائبل کو روزانہ پڑھیں گے تو یہ آگ ہم میں بھڑکتی رہے گی۔‏

وہ منفی احساسات سے نپٹ پائے

کبھی کبھار مسیحیوں کو کوئی ایسی ذمے‌داری دی جاتی ہے جسے نبھانا اُنہیں بہت مشکل لگتا ہے۔ ہوسیع نبی نے بھی ایسی ہی صورتحال کا سامنا کِیا۔ یہوواہ خدا نے اُنہیں حکم دیا:‏ ”‏جا ایک بدکار بیوی اور بدکاری کی اولاد اپنے لئے لے۔“‏ (‏ہوس 1:‏2)‏ ذرا سوچیں کہ اگر خدا آپ کو ایک بدکار عورت سے شادی کرنے کو کہے تو آپ کو کیسا لگے گا؟ لیکن ہوسیع نے خدا کا حکم نہیں ٹالا بلکہ اِس پر عمل کِیا۔ اُنہوں نے جمر سے شادی کی اور بعد میں اُن کا ایک بیٹا بھی ہوا۔ اِس کے بعد جمر کے دو اَور بچے ہوئے لیکن لگتا ہے کہ ہوسیع اِن دونوں کے باپ نہیں تھے۔ یہوواہ نے ہوسیع سے کہا کہ اُن کی ہونے والی بیوی ”‏اپنے عاشقوں کا پیچھا کرتے کرتے تھک جائے گی۔“‏ غور کریں کہ جمر کا ایک نہیں بلکہ کئی عاشق تھے۔ کچھ عرصے کے بعد جمر، ہوسیع کے پاس لوٹنا چاہتی تھیں۔ اگر آپ ہوسیع کی جگہ ہوتے تو کیا آپ اپنی زِناکار بیوی کو لوٹنے دیتے؟ لیکن یہوواہ نے ہوسیع سے یہی کرنے کو کہا۔ ہوسیع کو تو جمر کو واپس لینے کے لیے بڑی بھاری رقم بھی ادا کرنی پڑی۔—‏ہوس 2:‏7، اُردو جیو ورشن؛‏ 3:‏1-‏5۔‏

شاید ہوسیع نبی نے سوچا ہو کہ ”‏خدا نے مجھے اِتنا مشکل کام کرنے کو کیوں کہا؟ اِس سے کس کو فائدہ ہوگا؟“‏ لیکن خدا کے حکم پر عمل کرنے سے ہوسیع نے اُس تکلیف کی تصویرکشی کی جو یہوواہ خدا نے بنی‌اِسرائیل کی بے‌وفائی کی وجہ سے سہی۔ اور اِس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کچھ اِسرائیلی خدا کی طرف لوٹ آئے۔‏

ہوسیع نبی نے مشکل کام کو قبول کرنے سے ہمارے لیے اچھی مثال قائم کی۔ آج خدا کسی سے یہ نہیں کہتا کہ وہ بدکار عورت سے شادی کرے۔ لیکن وہ ہمیں ’‏عوامی جگہوں پر اور گھر گھر جا کر‘‏ خوش‌خبری سنانے کو ضرور کہتا ہے۔ (‏اعما 20:‏20‏)‏ شاید ہمیں ایسا کرنا مشکل لگے۔ بہت سے لوگ جنہوں نے یہوواہ کے گواہوں سے بائبل کی تعلیم حاصل کی، اُنہوں نے شروع میں کہا کہ وہ کبھی گھر گھر جا کر خوش‌خبری نہیں سنائیں گے۔ لیکن بعد میں اُنہوں نے وہی کام کِیا جو اُنہیں شروع میں ناممکن لگتا تھا۔ بے‌شک ہم اِس سے سبق سیکھ سکتے ہیں۔‏

ہم ہوسیع نبی سے ایک اَور سبق بھی سیکھ سکتے ہیں۔ اگر وہ چاہتے تو وہ بدکار عورت سے شادی کرنے سے اِنکار کر سکتے تھے اور کسی اِنسان کو اِس کا پتہ بھی نہ چلتا۔ ہمیں تو اِس واقعے کے بارے میں صرف اِس لیے علم ہے کیونکہ ہوسیع نبی نے خود اِس کے بارے میں لکھا تھا۔ ہمیں بھی اِس طرح کی صورتحال کا سامنا ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر شاید ہمیں کسی کو یہوواہ کے بارے میں بتانے کا موقع ملے اور ہمارے سوا کوئی اَور یہ نہ جانے کہ ہم نے اِس موقعے کا فائدہ اُٹھایا ہے یا نہیں۔ یہی بات بہن اینا کے ساتھ ہوئی جو امریکہ کے ایک ہائی سکول میں پڑھتی ہیں۔ ایک دن اُن کی ٹیچر نے کلاس سے کہا کہ وہ کسی ایسے نظریے پر مضمون لکھیں جس پر وہ پکا یقین رکھتے ہیں اور پھر اپنے ہم‌جماعتوں کو اِس پر قائل کرنے کی کوشش کریں۔ اگر بہن اینا چاہتیں تو وہ گواہی دینے کے اِس موقعے کو نظرانداز کر سکتی تھیں۔ لیکن اُنہیں لگا کہ خدا ہی اُنہیں یہ موقع دے رہا ہے۔ اُنہیں پتہ تھا کہ اگر وہ گواہی دیں گی تو ہو سکتا ہے کہ اُن کا مذاق اُڑایا جائے۔ اِس لیے اُنہوں نے یہوواہ خدا سے دُعا کی جس کے نتیجے میں اُن کے دل میں اِس موقعے سے بھرپور فائدہ اُٹھانے کی خواہش پیدا ہوئی۔ لہٰذا اُنہوں نے ایک مضمون لکھا جس کا عنوان تھا:‏ ”‏اِرتقا کا نظریہ—‏ذرا حقائق پر غور کریں۔“‏

ایک نوجوان بہن اپنی کلاس کو اپنے ایمان کے بارے میں بتا رہی ہے۔‏

نبیوں کی طرح ہمارے نوجوان بھی بڑی دلیری سے یہوواہ خدا کے بارے میں گواہی دیتے ہیں۔‏

جب بہن اینا نے کلاس کے سامنے اپنا مضمون پڑھ کر سنایا تو ایک لڑکی نے اُن پر سوالوں کی بوچھاڑ کر دی کیونکہ وہ اِرتقا کے نظریے پر پکا یقین رکھتی تھی۔ اینا نے اُس کے ہر سوال کا اچھا جواب دیا۔ یہ دیکھ کر اُن کی ٹیچر بہت متاثر ہوئی اور اُس نے اینا کو سب سے اچھے دلائل پیش کرنے کے لیے اِنعام دیا۔ اِس کے بعد بھی اینا اور اُس لڑکی میں اِرتقا اور تخلیق کے موضوع پر بات‌چیت ہوتی رہی۔ اینا کہتی ہیں:‏ ”‏چونکہ مَیں نے یہوواہ کے دیے ہوئے اِس موقعے کو ہاتھ سے نکلنے نہیں دیا اِس لیے اب مَیں بڑے اِعتماد سے گواہی دیتی ہوں اور بالکل نہیں ڈرتی۔“‏

حِزقی‌ایل، یرمیاہ اور ہوسیع نبی جیسا جذبہ پیدا کرنے سے ہم بھی کامیابی سے یہوواہ کی خدمت کر سکیں گے۔ کیوں نہ خاندانی عبادت یا ذاتی مطالعے کے دوران اَور بھی ایسے نبیوں کے بارے میں پڑھیں جن کا بائبل میں ذکر ہوا ہے اور سوچیں کہ آپ اُن کی مثال پر کیسے عمل کر سکتے ہیں۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں