”تمہاری مخلصی نزدیک“ ہے!
”سیدھے ہو کر سر اُوپر اُٹھانا اِس لئے کہ تمہاری مخلصی نزدیک ہوگی۔“—لُو 21:28۔
گیت: 49، 43
1. سن 66ء میں کیا کچھ ہوا؟ (اِس مضمون کی پہلی تصویر کو دیکھیں۔)
تصور کریں کہ یہ 66ء کا سال ہے اور آپ یروشلیم میں رہ رہے ہیں۔ آپ ایک مسیحی ہیں اور شہر میں بہت کچھ ہوتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔ آپ کو معلوم پڑتا ہے کہ رومی افسر فلورس نے ہیکل کے خزانے سے 1 لاکھ 2 ہزار سکے چرا لیے ہیں۔ یہودیوں نے فوراً ہی بغاوت کر دی ہے؛ اُنہوں نے وہاں موجود رومی فوجیوں کو قتل کرنا شروع کر دیا ہے اور رومی سلطنت سے آزادی کا اِعلان کر دیا ہے۔ اِس پر رومی حکومت نے بھی فوراً جوابی کارروائی کی ہے۔ تین مہینے کے اندر اندر 30 ہزار رومی فوجی گورنر سیسٹیئس گیلس کی کمان میں یروشلیم پہنچ گئے ہیں اور اِسے گھیر لیا ہے۔ یہودی باغیوں نے اُن سے بچنے کے لیے ہیکل کے احاطے میں پناہ لی ہے۔ فوجی اِس احاطے کی دیوار تک پہنچ گئے ہیں اور اِسے گِرانے کی کوشش کرنے لگے ہیں۔ سارے شہر میں افراتفری مچ گئی ہے۔ اِن سب واقعات کو دیکھ کر آپ کو کیسا محسوس ہو رہا ہے؟
2. (الف) سن 66ء میں رہنے والے مسیحیوں کو کون سا قدم اُٹھانا تھا؟ (ب) وفادار مسیحیوں کو یسوع کی ہدایت پر عمل کرنے کا موقع کیسے ملا؟
2 اِن واقعات کو دیکھ کر آپ کے ذہن میں یسوع مسیح کی یہ بات آتی ہے: ”جب تُم یرؔوشلیم کو فوجوں سے گِھرا ہوا دیکھو تو جان لینا کہ اُس کا اُجڑ جانا نزدیک ہے۔“ (لُو 21:20) لیکن آپ کو اُن کی یہ ہدایت بھی یاد آتی ہے: ”اُس وقت جو یہوؔدیہ میں ہوں پہاڑوں پر بھاگ جائیں اور جو یرؔوشلیم کے اندر ہوں باہر نکل جائیں اور جو دیہات میں ہوں شہر میں نہ جائیں۔“ (لُو 21:21) شاید آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ ”مَیں اِس ہدایت پر عمل کیسے کر سکتا ہوں کیونکہ یروشلیم کو تو فوج نے گھیرا ہوا ہے؟“ لیکن پھر ایک بہت ہی حیرانکُن بات واقع ہوتی ہے۔ آپ دیکھتے ہیں کہ رومی فوج واپس جا رہی ہے۔ یسوع مسیح کی پیشگوئی کے مطابق اِس حملے کے دن گھٹا دیے گئے ہیں۔ (متی 24:22) اب آپ کو یسوع مسیح کی ہدایت پر عمل کرنے کا موقع مل گیا ہے۔ آپ ایک لمحے کی بھی دیر کیے بغیر دریائےیردن کے پار پہاڑوں پر چلے جاتے ہیں۔ آپ کے ساتھ اَور بھی مسیحی ہیں جو یروشلیم اور اُس کے قریبی علاقوں سے آئے ہیں۔a پھر 70ء میں رومی فوج دوبارہ یروشلیم آئی ہے اور اِسے تہسنہس کر دیا ہے۔ لیکن آپ زندہ بچ گئے ہیں کیونکہ آپ نے یسوع مسیح کی بات مانی تھی۔
3. (الف) جلد ہی مسیحیوں کو کس صورتحال کا سامنا ہوگا؟ (ب) اِس مضمون میں ہم کس بات پر غور کریں گے؟
3 جلد، بہت ہی جلد ہمیں بھی ایسی ہی صورتحال کا سامنا ہونے والا ہے۔ یسوع مسیح نے پیشگوئی میں نہ صرف یہ بتایا تھا کہ یروشلیم کے ساتھ کیا کیا ہوگا بلکہ اُنہوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ جب بڑی مصیبت اچانک شروع ہوگی تو اُس وقت کیا کچھ ہوگا۔ (متی 24:3، 21، 29) اور جس طرح وفادار مسیحی یروشلیم کی تباہی سے بچ گئے تھے اُسی طرح بڑی مصیبت سے بھی لوگوں کی ایک ”بڑی بِھیڑ“ بچ نکلے گی۔ (مکاشفہ 7:9، 13، 14 کو پڑھیں۔) بائبل مستقبل میں ہونے والے اِن واقعات کے متعلق کیا بتاتی ہے؟ اِس سوال کا جواب جاننا نجات پانے کے لیے بےحد ضروری ہے۔ تو پھر آئیں، اِس بات پر غور کریں کہ اِن واقعات کا ہم پر اِنفرادی طور پر کیا اثر ہوگا۔
بڑی مصیبت کا آغاز
4. بڑی مصیبت کا آغاز کیسے ہوگا اور اِس میں یہوواہ کا کیا کردار ہوگا؟
4 بڑی مصیبت کا آغاز کیسے ہوگا؟ تمام جھوٹے مذاہب کی تباہی سے۔ بائبل میں جھوٹے مذاہب کو ”بڑا شہر بابلؔ۔ کسبیوں . . . کی ماں“ کہا گیا ہے۔ (مکا 17:5-7) جھوٹے مذاہب کو کسبی سے تشبیہ کیوں دی گئی ہے؟ کیونکہ مذہبی رہنماؤں نے خدا سے بےوفائی کی ہے۔ اِنہوں نے یسوع اور اُن کی بادشاہت کی حمایت کرنے کی بجائے اِنسانی حکومتوں کی حمایت کی ہے اور خدا کے معیاروں کو رد کِیا ہے تاکہ وہ زیادہ سیاسی اِختیار حاصل کر سکیں۔ وہ ممسوح مسیحیوں سے بالکل فرق ہیں جو ایک پاک دامن کنواری کی طرح ہیں۔ (2-کُر 11:2؛ یعقو 1:27؛ مکا 14:4) لیکن کسبی یعنی جھوٹے مذاہب کو کون ختم کرے گا؟ یہوواہ خدا ”قرمزی رنگ کے حیوان“ کے دس سینگوں کے دل میں یہ ڈالے گا کہ وہ ”اُسی کی رائ پر چلیں“ یعنی کسبی کو تباہ کریں۔ ”قرمزی رنگ کے حیوان“ سے مُراد اقوامِمتحدہ ہے اور ”دس سینگ“ وہ حکومتیں ہیں جو اقوامِمتحدہ کی حمایت کرتی ہیں۔—مکاشفہ 17:3، 16-18 کو پڑھیں۔
5، 6. کیا جھوٹے مذاہب کے ساتھ ساتھ اُن کے تمام پیروکار بھی ختم ہو جائیں گے؟
5 کیا جھوٹے مذاہب کے ساتھ ساتھ اُن کے تمام پیروکار بھی ختم ہو جائیں گے؟ ایسا نہیں لگتا۔ زکریاہ نبی نے اُس وقت کے بارے میں لکھا جب جھوٹے مذاہب کا خاتمہ ہوگا۔ اُنہوں نے ایک ایسے شخص کا ذکر کِیا جو پہلے ایک جھوٹے مذہب سے تعلق رکھتا تھا۔ زکریاہ نبی کی کتاب میں اُس شخص کے یہ الفاظ درج ہیں: ”مَیں نبی نہیں کسان ہوں کیونکہ مَیں لڑکپن ہی سے غلام رہا ہوں۔ اور جب کوئی اُس سے پوچھے گا کہ تیری چھاتی پر یہ زخم کیسے ہیں؟ تو وہ جواب دے گا یہ وہ زخم ہیں جو میرے دوستوں کے گھر میں لگے۔“ (زک 13:4-6) اِس سے لگتا ہے کہ کچھ مذہبی رہنما یہ بات چھپائیں گے کہ وہ کسی مذہب کا حصہ تھے۔ وہ تو شاید یہ دعویٰ بھی کریں گے کہ اُن کا کبھی کسی مذہب سے کوئی سروکار ہی نہیں تھا۔
6 اُس وقت خدا کے بندوں کے ساتھ کیا ہوگا؟ یسوع مسیح نے بتایا تھا کہ ”اگر وہ دن گھٹائے نہ جاتے تو کوئی بشر نہ بچتا۔ مگر برگزیدوں کی خاطر وہ دن گھٹائے جائیں گے۔“ (متی 24:22) ہم نے دیکھا ہے کہ 66ء میں رومی فوج کے حملے کے ”دن گھٹائے“ گئے تھے۔ یوں یروشلیم اور اِس کے قریبی علاقوں میں رہنے والے ”برگزیدوں“ یعنی ممسوح مسیحیوں کو وہاں سے بھاگ جانے کا موقع ملا۔ اِسی طرح ”برگزیدوں“ کی خاطر بڑی مصیبت کے پہلے مرحلے کو بھی گھٹایا جائے گا۔ ’دس سینگوں‘ کو خدا کے بندوں پر حملہ کرنے سے روکا جائے گا اور تھوڑے عرصے تک خدا کے بندوں کو کوئی نہیں ستائے گا۔
اِمتحان اور عدالت کا وقت
7، 8. (الف) جھوٹے مذاہب کے خاتمے کے بعد ہمیں کیا موقع ملے گا؟ (ب) اُس وقت خدا کے بندے دوسروں سے کس لحاظ سے فرق ہوں گے؟
7 جھوٹے مذاہب کی تباہی کے بعد کیا ہوگا؟ اُس وقت ہمارے پاس یہ ظاہر کرنے کا موقع ہوگا کہ ہمارے دل میں کیا ہے۔ زیادہتر اِنسان پناہ حاصل کرنے کے لیے بڑی بڑی تنظیموں کے پاس جائیں گے جنہیں بائبل میں ’پہاڑوں کی چٹانوں‘ سے تشبیہ دی گئی ہے۔ (مکا 6:15-17) لیکن خدا کے بندے اُس کی پناہ میں جائیں گے۔ پہلی صدی میں دن گھٹانے سے جو وقت ملا، وہ یہودیوں کو مسیحی بننے کے لیے نہیں بلکہ مسیحیوں کو شہر سے بھاگ جانے کے لیے دیا گیا تھا۔ اِسی طرح ہمیں یہ توقع نہیں کرنی چاہیے کہ بڑی مصیبت کے پہلے مرحلے کو گھٹانے سے جو وقت ملے گا، اُس میں بہت سے لوگ سچائی قبول کریں گے۔ اِس کی بجائے اِس وقت میں مسیحیوں کو یہ ثابت کرنے کا موقع ملے گا کہ وہ یہوواہ سے دلوجان سے محبت کرتے ہیں اور مسیح کے بھائیوں کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔—متی 25:34-40۔
8 اگرچہ ہم یہ پوری طرح نہیں جانتے کہ اُس اِمتحان کے وقت میں کیا کچھ ہوگا مگر ہم یہ توقع ضرور کر سکتے ہیں کہ وہ مشکل وقت ہوگا جس میں ہمیں قربانیاں دینی پڑیں گی۔ پہلی صدی کے مسیحیوں کو اپنا گھربار چھوڑنا پڑا تھا اور اپنی جان بچانے کے لیے بڑی مشکلیں سہنی پڑی تھیں۔ (مر 13:15-18) ہمیں بھی خود سے پوچھنا چاہیے کہ ”جب وہ اِمتحان کا وقت آئے گا تو کیا مَیں اپنا سب کچھ چھوڑنے کے لیے تیار ہوں گا؟ کیا مَیں ہر حال میں یہوواہ کا وفادار رہوں گا؟“ ذرا سوچیں کہ اُس وقت صرف ہم ہی ایک گروہ کے طور پر اپنے خدا کی عبادت کرنا جاری رکھیں گے۔ یوں ہم دانیایل نبی کی مثال پر عمل کر رہے ہوں گے جو اِمتحان کی گھڑی میں بھی خدا کی عبادت کرتے رہے۔—دان 6:10، 11۔
9، 10. (الف) بڑی مصیبت کے دوران خدا کے بندے کیا پیغام سنائیں گے؟ (ب) اِس پیغام کی وجہ سے اُن کے دُشمن کیا کریں گے؟
9 بڑی مصیبت کے دوران ہم ’بادشاہی کی خوشخبری‘ کی مُنادی نہیں کریں گے۔ اُس وقت ہمارا پیغام بدل جائے گا۔ ’خاتمے‘ کا وقت آ چُکا ہوگا۔ (متی 24:14) تب ہم لوگوں کو صاف صاف یہ بتائیں گے کہ خدا کی عدالت کا وقت آ گیا ہے۔ شاید ہم لوگوں سے یہ کہیں گے کہ شیطان کی دُنیا اب بالکل ختم ہونے والی ہے۔ بائبل میں اِس پیغام کو بڑے بڑے اَولوں سے تشبیہ دی گئی ہے۔ اِس میں لکھا ہے: ”آسمان سے آدمیوں پر منمن بھر کے بڑے بڑے اَولے گِرے اور چُونکہ یہ آفت نہایت سخت تھی اِس لئے لوگوں نے اَولوں کی آفت کے باعث خدا کی نسبت کفر بکا۔“—مکا 16:21۔
10 یہ پیغام ہمارے دُشمنوں کے کانوں میں بھی پڑے گا۔ حِزقیایل نبی نے بتایا کہ اِس پیغام کی وجہ سے ماجوج کا جوج یعنی تمام قومیں متحد ہو کر کیا کریں گی۔ اُنہوں نے لکھا: ”[یہوواہ] خدا یوں فرماتا ہے کہ اُس وقت یوں ہوگا کہ بہت سے مضمون تیرے دل میں آئیں گے اور تُو ایک بُرا منصوبہ باندھے گا۔ اور تُو کہے گا کہ مَیں دیہات کی سرزمین پر حملہ کروں گا مَیں اُن پر حملہ کروں گا جو راحتوآرام سے بستے ہیں۔ جن کی نہ فصیل ہے نہ اڑبنگے اور نہ پھاٹک ہیں۔ تاکہ تُو لُوٹے اور مال کو چھین لے اور اُن ویرانوں پر جو اب آباد ہیں اور اُن لوگوں پر جو تمام قوموں میں سے فراہم ہوئے ہیں جو مویشی اور مال کے مالک ہیں اور زمین کی ناف پر بستے ہیں اپنا ہاتھ چلائے۔“ (حِز 38:10-12) خدا کے لوگ دوسروں سے اِتنے فرق نظر آئیں گے گویا کہ وہ ”زمین کی ناف“ پر رہتے ہوں۔ یہ بات قوموں کو ایک آنکھ بھی نہ بھائے گی۔ وہ خود کو ممسوح مسیحیوں اور اُن کے ساتھیوں پر حملہ کرنے سے روک نہیں پائیں گی۔
11. (الف) بڑی مصیبت کے دوران ہونے والے واقعات کی ترتیب کے بارے میں ہمیں کیا یاد رکھنا چاہیے؟ (ب) آسمان میں ظاہر ہونے والے نشانوں کو دیکھ کر لوگ کیسا ردِعمل دِکھائیں گے؟
11 اِس کے بعد کیا ہوگا؟ بائبل میں ہمیں اِس کے بعد ہونے والے واقعات کی ترتیب نہیں بتائی گئی۔ لیکن لگتا ہے کہ کچھ واقعات ایک ساتھ پیش آئیں گے۔ یسوع مسیح نے دُنیا کے خاتمے کے بارے میں پیشگوئی میں کہا: ”سورج اور چاند اور ستاروں میں نشان ظاہر ہوں گے اور زمین پر قوموں کو تکلیف ہوگی کیونکہ وہ سمندر اور اُس کی لہروں کے شور سے گھبرا جائیں گی۔ اور ڈر کے مارے اور زمین پر آنے والی بلاؤں کی راہ دیکھتےدیکھتے لوگوں کی جان میں جان نہ رہے گی۔ اِس لئے کہ آسمان کی قوتیں ہلائی جائیں گی۔ اُس وقت لوگ اِبنِآدم کو قدرت اور بڑے جلال کے ساتھ بادل میں آتے دیکھیں گے۔“ (لُو 21:25-27؛ مرقس 13:24-26 کو پڑھیں۔) اِس پیشگوئی کے مطابق کیا آسمان میں واقعی عجیبوغریب نشان دِکھائی دیں گے؟ یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ لیکن چاہے ایسا ہو یا نہ ہو، اِن نشانوں کی وجہ سے خدا کے دُشمنوں پر خوف طاری ہو جائے گا۔
ہمیں اِس بات کی بےپناہ خوشی ہوگی کہ ہماری نجات نزدیک ہے! (پیراگراف 12 اور 13 کو دیکھیں۔)
12، 13. (الف) جب یسوع مسیح ”قدرت اور بڑے جلال کے ساتھ“ آئیں گے تو کیا ہوگا؟ (ب) اُس وقت خدا کے بندے کیا کریں گے؟
12 جب یسوع مسیح ”قدرت اور بڑے جلال کے ساتھ“ آئیں گے تو کیا ہوگا؟ وہ وفادار مسیحیوں کو اِنعام دیں گے اور شریروں کو سزا دیں گے۔ (متی 24:46، 47، 50، 51؛ 25:19، 28-30) متی کی اِنجیل کے مطابق آخری زمانے کا نشان دینے کے بعد یسوع نے بھیڑوں اور بکریوں کی تمثیل دی اور کہا: ”جب اِبنِآدم اپنے جلال میں آئے گا اور سب فرشتے اُس کے ساتھ آئیں گے تب وہ اپنے جلال کے تخت پر بیٹھے گا۔ اور سب قومیں اُس کے سامنے جمع کی جائیں گی اور وہ ایک کو دوسرے سے جُدا کرے گا جیسے چرواہا بھیڑوں کو بکریوں سے جُدا کرتا ہے۔ اور بھیڑوں کو اپنے دہنے اور بکریوں کو بائیں کھڑا کرے گا۔“ (متی 25:31-33) بھیڑوں اور بکریوں کو کیا فیصلہ سنایا جائے گا؟ اِس تمثیل کے آخر میں بتایا گیا ہے: ”یہ [یعنی بکریاں] ہمیشہ کی سزا پائیں گے مگر راستباز ہمیشہ کی زندگی۔“—متی 25:46۔
13 جب بکریوں کو پتہ چلے گا کہ اُنہیں ”ہمیشہ کی سزا“ دی جائے گی تو وہ کیا کریں گی؟ وہ اپنی ”چھاتی پیٹیں گی۔“ (متی 24:30) لیکن اُس وقت ممسوح مسیحی اور اُن کے ساتھی کیا کریں گے؟ وہ یہوواہ خدا اور اُس کے بیٹے پر پورا بھروسا ظاہر کریں گے اور یسوع کے اِس حکم پر عمل کریں گے: ”جب یہ باتیں ہونے لگیں تو سیدھے ہو کر سر اُوپر اُٹھانا اِس لئے کہ تمہاری مخلصی نزدیک ہوگی۔“ (لُو 21:28) ہمیں اِس بات کی بےپناہ خوشی ہوگی کہ ہماری نجات نزدیک ہے!
’راستباز بادشاہی میں آفتاب کی مانند چمکیں گے‘
14، 15. جب ماجوج کا جوج حملہ کرے گا تو اِس کے بعد کیا ہوگا اور کیسے ہوگا؟
14 جب ماجوج کا جوج خدا کے بندوں کے خلاف حملہ شروع کرے گا تو پھر کیا ہوگا؟ متی اور مرقس دونوں اِنجیلوں میں لکھا ہے: ”اُس وقت [اِبنِآدم] فرشتوں کو بھیج کر اپنے برگزیدوں کو زمین کی اِنتہا سے آسمان کی اِنتہا تک چاروں طرف سے جمع کرے گا۔“ (مر 13:27؛ متی 24:31) برگزیدوں کو جمع کرنا اُس وقت کی طرف اِشارہ نہیں کرتا جب کسی مسیحی کو مسح کِیا جاتا ہے۔ یہ بڑی مصیبت کے دوران موجود ممسوح مسیحیوں پر آخری مُہر لگانے کی طرف بھی اِشارہ نہیں کرتا۔ (متی 13:37، 38) اُن پر آخری مُہر تو بڑی مصیبت شروع ہونے سے پہلے کی جائے گی۔ (مکا 7:1-4) تو پھر برگزیدوں کو جمع کرنا کس کی طرف اِشارہ کرتا ہے؟ یہ اُن ممسوح مسیحیوں کو آسمان پر جمع کرنے کی طرف اِشارہ کرتا ہے جو بڑی مصیبت کے دوران زمین پر ہوں گے۔ (1-تھس 4:15-17؛ مکا 14:1) یہ ماجوج کے جوج کے حملے کے بعد کسی وقت ہوگا۔ (حِز 38:11) تب یسوع مسیح کی یہ بات پوری ہوگی: ”اُس وقت راستباز اپنے باپ کی بادشاہی میں آفتاب کی مانند چمکیں گے۔“—متی 13:43۔b
15 ممسوح مسیحیوں کو کس حالت میں آسمان پر اُٹھایا جائے گا؟ مسیحی فرقوں کے بہت سے لوگ مانتے ہیں کہ سب مسیحی جسمانی حالت میں آسمان پر اُٹھا لیے جائیں گے اور اِس کے بعد یسوع مسیح حکمرانی کرنے کے لیے جسمانی حالت میں دوبارہ زمین پر آئیں گے۔ لیکن بائبل میں بتایا گیا ہے کہ ”اِبنِآدم کا نشان آسمان پر دِکھائی دے گا“ اور وہ ”آسمان کے بادلوں“ پر آئے گا۔ (متی 24:30) لفظ آسمان اور بادل دونوں ہی کسی چیز کے نظروں سے اوجھل ہونے کی طرف اِشارہ کرتے ہیں۔ اِس کے علاوہ ”گوشت اور خون خدا کی بادشاہی کے وارث نہیں ہو سکتے۔“ لہٰذا زمین پر موجود ممسوح مسیحی آسمان پر اُٹھائے جانے سے پہلے ”بدل جائیں گے۔ اور یہ ایک دم میں۔ ایک پَل میں۔ پچھلا نرسنگا پھونکتے ہی ہوگا۔“c (1-کُرنتھیوں 15:50-53 کو پڑھیں۔) اِس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ بڑی مصیبت کے دوران موجود ممسوح مسیحیوں کو آسمان پر ایک دم تو اُٹھا لیا جائے گا مگر جسمانی حالت میں نہیں۔
16، 17. برّے کی شادی سے پہلے کیا ہوگا؟
16 جب تمام 1 لاکھ 44 ہزار ممسوح مسیح آسمان پر جمع ہو جائیں گے تو پھر برّے کی شادی کی حتمی تیاریاں شروع ہوں گی۔ (مکا 19:9) لیکن اِس خوشی کے موقعے سے پہلے کچھ اَور بھی ہوگا۔ ہم نے سیکھا ہے کہ ماجوج کا جوج ممسوح مسیحیوں اور اُن کے ساتھیوں پر حملہ کرے گا۔ (حِز 38:16) پھر ممسوح مسیحی آسمان پر اُٹھا لیے جائیں گے۔ جوج کے حملے کے نتیجے میں زمین پر خدا کے بندے کیسا ردِعمل ظاہر کریں گے؟ وہ اُس ہدایت پر عمل کریں گے جو بادشاہ یہوسفط کے زمانے میں دی گئی تھی۔ اُس وقت خدا نے اپنے بندوں سے کہا تھا: ”تُم کو اِس جگہ میں لڑنا نہیں پڑے گا۔ اَے یہوؔداہ اور یرؔوشلیم! تُم قطار باندھ کر چپچاپ کھڑے رہنا اور [یہوواہ] کی نجات جو تمہارے ساتھ ہے دیکھنا۔ خوف نہ کرو اور ہراسان نہ ہو۔“ (2-توا 20:17) لیکن آسمان میں رہنے والوں کا ردِعمل بالکل فرق ہوگا۔ یسوع مسیح اور تمام 1 لاکھ 44 ہزار ممسوح مسیحی دُشمنوں کے خلاف کارروائی کریں گے۔ اِس کے بارے میں مکاشفہ 17:14 بتاتی ہے: ”وہ [یعنی دُشمن] برّہ سے لڑیں گے اور برّہ اُن پر غالب آئے گا کیونکہ وہ خداوندوں کا خداوند اور بادشاہوں کا بادشاہ ہے اور جو بلائے ہوئے اور برگزیدہ اور وفادار اُس کے ساتھ ہیں وہ بھی غالب آئیں گے۔“ یسوع مسیح اپنے 1 لاکھ 44 ہزار ممسوح ساتھیوں کے ساتھ مل کر خدا کے بندوں کو جوج کے حملے سے بچانے کے لیے لڑیں گے۔
17 اِس طرح ہرمجِدّون کی جنگ شروع ہوگی جس کے نتیجے میں خدا کے نام کی بڑائی ہوگی۔ (مکا 16:16) اُس وقت ساری بکریاں ”ہمیشہ کی سزا پائیں“ گی۔ زمین ہر طرح کی بدی سے پاک ہو جائے گی اور بڑی بِھیڑ، بڑی مصیبت کے آخری مرحلے سے زندہ بچ کر نکل جائے گی۔ جب یہ سب کچھ ہو جائے گا تو پھر برّے کی شادی ہوگی۔ (مکا 21:1-4)d تب زمین پر آباد سب اِنسانوں کو یہوواہ کی طرف سے بےشمار برکتیں ملیں گی اور یوں وہ اُس کی محبت اور فیاضی سے لطف اُٹھائیں گے۔ برّے کی شادی واقعی بڑی خوشی کا موقع ہوگا! یقیناً ہم سب اُس وقت کا بڑی بےصبری سے اِنتظار کر رہے ہیں۔—2-پطرس 3:13 کو پڑھیں۔
18. مستقبل میں ہونے والے حیرتانگیز واقعات کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہمیں اب کیا کرنا چاہیے؟
18 اگر ہم مستقبل میں ہونے والے اِن حیرتانگیز واقعات کو دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اب کیا کرنا چاہیے؟ پطرس رسول نے لکھا: ”جب یہ سب چیزیں اِس طرح پگھلنے والی ہیں تو تمہیں پاک چالچلن اور دینداری میں کیسا کچھ ہونا چاہئے۔ اور [یہوواہ] خدا کے اُس دن کے آنے کا کیسا کچھ منتظر اور مشتاق رہنا چاہئے۔ . . . پس اَے عزیزو! چُونکہ تُم اِن باتوں کے منتظر ہو اِس لئے اُس کے سامنے اِطمینان کی حالت میں بےداغ اور بےعیب نکلنے کی کوشش کرو۔“ (2-پطر 3:11، 12، 14) تو پھر آئیں، ہم روحانی طور پر بےداغ رہیں اور امن کے بادشاہ یسوع مسیح کی حمایت کرتے رہیں۔
a مینارِنگہبانی 1 اپریل 2012ء، صفحہ 27، 28 کو دیکھیں۔
b مینارِنگہبانی 15 جولائی 2013ء، صفحہ 13، 14 کو دیکھیں۔
c بڑی مصیبت کے دوران موجود ممسوح مسیحی جسمانی حالت میں آسمان پر نہیں جائیں گے۔ (1-کُر 15:48، 49) غالباً اُن کے جسم بالکل ویسے ہی غائب ہو جائیں گے جیسے یسوع مسیح کا جسم غائب ہو گیا تھا۔