مسیح کو لوگوں سے بڑی محبت تھی
”[مَیں] اِنسان سے لطف اندوز ہوتی رہی۔“—امثا 8:31، اُردو جیو ورشن۔
1، 2. یسوع مسیح نے کیسے ثابت کِیا کہ وہ اِنسانوں سے بڑی محبت کرتے ہیں؟
یسوع مسیح، یہوواہ خدا کی بےمثال حکمت کا سب سے پہلا اور اعلیٰ ثبوت ہیں۔ اُنہوں نے ایک ”ماہر کاریگر“ کے طور پر خدا کے ساتھ مل کر تمام چیزیں بنائیں۔ ذرا تصور کریں کہ جب یہوواہ خدا نے ”آسمان کو قائم کِیا“ اور ”زمین کی بنیاد کے نشان لگائے“ تو اُس کے اِکلوتے بیٹے کو کتنی خوشی ہوئی ہوگی۔ (امثا 8:22-30) لیکن یسوع مسیح تمام مخلوقات میں سے سب سے زیادہ ’اِنسانوں سے لطفاندوز ہوتے رہے۔‘ (امثا 8:31، اُردو جیو ورشن) اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یسوع مسیح کو زمین پر آنے سے بھی پہلے اِنسانوں سے بڑا پیار تھا۔
2 بعد میں اُنہوں نے ”اپنے آپ کو خالی کر دیا“ اور اِنسان کے طور پر زمین پر آ گئے۔ یوں اُنہوں نے ثابت کِیا کہ وہ اپنے آسمانی باپ سے محبت کرتے ہیں اور اُس کے وفادار ہیں اور اُنہیں اِنسانوں سے بھی گہرا لگاؤ ہے۔ وہ زمین پر اِس لیے آئے تاکہ وہ ”اپنی جان بہتیروں کے بدلے فدیہ“ میں دیں۔ (فل 2:5-8؛ متی 20:28) واقعی وہ اِنسانوں سے بےپناہ محبت کرتے ہیں! جب وہ زمین پر تھے تو خدا نے اُنہیں معجزے کرنے کی طاقت بخشی۔ اُن کے معجزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اُنہیں اِنسانوں سے پیار ہے اور وہ مستقبل میں بھی اِنسانوں کی بھلائی کے لیے بڑے حیرتانگیز کام کریں گے۔
3. اِس مضمون میں ہم کس بات پر غور کریں گے؟
3 یسوع مسیح کے زمین پر آنے کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ وہ لوگوں کو ”خدا کی بادشاہی کی خوشخبری“ سنائیں۔ (لُو 4:43) وہ جانتے تھے کہ اِس بادشاہت کے ذریعے خدا کے نام کی بڑائی ہوگی اور اِنسانوں کے تمام مسائل ہمیشہ کے لیے ختم کیے جائیں گے۔ یسوع مسیح نے مُنادی کرنے کے ساتھ ساتھ بہت سے معجزے بھی کیے۔ اِن معجزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اُنہیں اِنسانوں کی فکر تھی۔ یہ معجزے ہمارے لیے کیا اہمیت رکھتے ہیں؟ اُن کے معجزوں پر غور کرنے سے ہمیں اچھے مستقبل کی اُمید ملتی ہے۔ آئیں، اُن کے چار معجزوں کا جائزہ لیں اور دیکھیں کہ ہم اِن سے کیا سیکھ سکتے ہیں۔
یہوواہ کی ”قدرت شفا بخشنے کو اُس کے ساتھ تھی“
4. جب یسوع مُنادی کے دوران ایک کوڑھی سے ملے تو کیا ہوا؟
4 ایک بار یسوع مسیح مُنادی کرتے ہوئے گلیل کے علاقے میں گئے۔ وہاں ایک شہر میں اُنہوں نے ایک آدمی کو دیکھا جو کوڑھ کی بھیانک بیماری میں مبتلا تھا۔ (مر 1:39، 40) لُوقا جو ایک ڈاکٹر تھے، اُنہوں نے اِس آدمی کے بارے میں کہا کہ وہ ”کوڑھ سے بھرا ہوا“ تھا۔ اِس سے ہم اُس کی بیماری کی شدت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ (لُو 5:12) وہ کوڑھی ”یسوؔع کو دیکھ کر مُنہ کے بل گِرا اور اُس کی مِنت کر کے کہنے لگا اَے خداوند! اگر تُو چاہے تو مجھے پاک صاف کر سکتا ہے۔“ اُس آدمی کو پورا یقین تھا کہ یسوع مسیح اُسے شفا دینے کی طاقت رکھتے ہیں مگر اُسے یہ معلوم نہیں تھا کہ آیا یسوع مسیح اُسے شفا دینا چاہتے بھی ہیں کہ نہیں۔ یسوع مسیح نے اُس کی اِلتجا کے لیے کیسا ردِعمل دِکھایا؟ کوڑھ کی وجہ سے اُس آدمی کی شکل شاید بگڑ گئی تھی۔ اِس لیے جب یسوع نے اُسے دیکھا تو اُنہوں نے کیا سوچا ہوگا؟ کیا یسوع نے اُس آدمی کے ساتھ فریسیوں جیسا سلوک کِیا جو کوڑھیوں کو حقیر سمجھتے تھے؟ اگر آپ یسوع کی جگہ ہوتے تو آپ کیا کرتے؟
5. یسوع نے ایک کوڑھی کو شفا کیوں دی؟
5 ایسا لگتا ہے کہ اُس کوڑھی نے چلّا کر ”ناپاک ناپاک“ نہیں کہا تھا حالانکہ شریعت میں حکم دیا گیا تھا کہ کوڑھی ایسا لازمی کریں۔ لیکن یسوع نے اِس بات پر کوئی اِعتراض نہیں کِیا۔ اِس کی بجائے اُنہوں نے اُس شخص کی حالت اور ضرورت پر توجہ دی۔ (احبا 13:43-46) ہم یہ تو نہیں جانتے کہ اُس وقت یسوع کے ذہن میں کیا تھا مگر ہم یہ ضرور جانتے ہیں کہ اُن کے دل میں کیا تھا۔ اُنہیں اُس آدمی پر ترس آیا اِس لیے اُنہوں نے وہ کام کِیا جس کا تصور بھی نہیں کِیا جا سکتا تھا۔ اُنہوں نے ہاتھ بڑھا کر اُسے چُھوا اور پھر پُراعتماد اور پُرمحبت لہجے میں کہا: ”مَیں چاہتا ہوں۔ تُو پاک صاف ہو جا۔“ تب اُس آدمی کا ”کوڑھ جاتا رہا۔“ (لُو 5:13) یہوواہ خدا نے یسوع کو طاقت بخشی تاکہ وہ یہ معجزہ کریں اور یہ ظاہر کریں کہ اُنہیں اِنسانوں سے بڑی محبت ہے۔—لُو 5:17۔
6. (الف) یسوع مسیح کے معجزوں کی خصوصیت کیا ہے؟ (ب) اُن کے معجزوں سے کیا ظاہر ہوتا ہے؟
6 یسوع مسیح نے خدا کی طاقت سے طرح طرح کے معجزے کیے۔ اُنہوں نے نہ صرف کوڑھیوں کو شفا دی بلکہ ہر طرح کے بیمار اور معذور لوگوں کو بھی ٹھیک کِیا۔ بائبل میں لکھا ہے: ”جب لوگوں نے دیکھا کہ گونگے بولتے۔ ٹنڈے تندرست ہوتے اور لنگڑے چلتے پھرتے اور اندھے دیکھتے ہیں تو تعجب کِیا۔“ (متی 15:31) آجکل تو ڈاکٹر بعض اوقات معذوروں کو شفا دینے کے لیے دوسرے لوگوں کے اعضا عطیے میں لیتے ہیں۔ لیکن یسوع مسیح نے بیمار اور معذور لوگوں کے اعضا کو ہی ٹھیک کِیا تھا۔ اِس کے علاوہ اُنہوں نے لوگوں کو فوراً شفا دی، بعض اوقات تو اُنہوں نے اُن لوگوں کو بھی شفا دی جو کسی اَور جگہ پر تھے۔ (یوح 4:46-54) اِن مثالوں سے کیا ظاہر ہوتا ہے؟ اِن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارے بادشاہ یسوع مسیح نہ صرف لوگوں کو شفا دینے کی طاقت رکھتے ہیں بلکہ وہ ہر طرح کی بیماری کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کی خواہش بھی رکھتے ہیں۔ جب ہم اِس بات پر غور کرتے ہیں کہ یسوع مسیح لوگوں کے ساتھ کیسے پیش آتے تھے تو ہمیں یقین ہو جاتا ہے کہ نئی دُنیا میں بائبل کی یہ پیشگوئی ضرور پوری ہوگی: ”وہ غریب اور محتاج پر ترس کھائے گا۔“ (زبور 72:13) تب یسوع مسیح تمام بیماروں کو تندرست کرنے کی اپنی دلی خواہش کو پورا کریں گے۔
”اُٹھ اور اپنی چارپائی اُٹھا کر چل پھر“
7، 8. بیتحسدا پر ایک بیمار آدمی کو ملنے سے پہلے یسوع مسیح نے کیا کِیا؟
7 گلیل میں ایک کوڑھی کو شفا دینے کے کچھ مہینے بعد یسوع مسیح خوشخبری کی مُنادی کرنے کے لیے یہودیہ کے علاقے میں گئے۔ اُن کے پیغام اور شفقت نے یقیناً ہزاروں لوگوں کے دلوں کو چُھو لیا تھا۔ اُن کی دلی خواہش تھی کہ وہ غریبوں کو خوشخبری سنائیں، قیدیوں کو رِہائی دِلائیں اور شکستہ دلوں کو تسلی دیں۔—یسع 61:1، 2؛ لُو 4:18-21۔
8 پھر نیسان کے مہینے میں یسوع مسیح شریعت میں درج حکم کے مطابق فسح منانے کے لیے یروشلیم گئے۔ یروشلیم میں بڑی گہماگہمی تھی کیونکہ بہت سے لوگ فسح منانے کے لیے یہاں آئے ہوئے تھے۔ ہیکل کے شمال میں ایک تالاب تھا جو بیتحسدا کہلاتا تھا۔ وہاں یسوع نے ایک بیمار آدمی کو دیکھا۔
9، 10. (الف) لوگ بیتحسدا پر کیوں آتے تھے؟ (ب) یسوع بیتحسدا پر کیوں گئے اور اُن کی مثال سے ہم کیا سیکھتے ہیں؟ (اِس مضمون کی پہلی تصویر کو دیکھیں۔)
9 بیتحسدا پر بیماروں اور معذوروں کا رش لگا رہتا تھا۔ ایسے لوگ وہاں کیوں آتے تھے؟ لوگوں کا ماننا تھا کہ پانی کے ہلنے پر جو بھی شخص پہلے تالاب میں اُترے گا، وہ شفا پائے گا۔ ذرا سوچیں کہ وہاں کیسا ماحول ہوگا۔ وہاں کا ماحول یقیناً مایوسی، پریشانی اور نااُمیدی سے بھرا ہوگا۔ لیکن آپ شاید سوچیں کہ یسوع مسیح تو بےعیب تھے اور اِس وجہ سے بالکل تندرست تھے، پھر وہ وہاں کیوں گئے؟ دراصل لوگوں کی محبت اُنہیں وہاں کھینچ لائی تھی۔ یسوع مسیح نے وہاں ایک ایسے آدمی کو دیکھا جو اُن کی عمر سے بھی زیادہ عرصے سے بیمار تھا۔—یوحنا 5:5-9 کو پڑھیں۔
10 اُنہوں نے اُس آدمی سے پوچھا کہ کیا وہ تندرست ہونا چاہتا ہے؟ ذرا سوچیں کہ یسوع کی بات سن کر اُس آدمی کی آنکھوں میں کتنی مایوسی اُتر آئی ہوگی۔ وہ ٹھیک تو ہونا چاہتا تھا مگر تالاب میں اُترنے کے لیے اُس کی مدد کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ پھر یسوع نے اُس سے وہ کام کرنے کے لیے کہا جو ناممکن دِکھائی دے رہا تھا۔ یسوع نے کہا: ”اپنی چارپائی اُٹھا کر چل پھر۔“ یسوع کی بات کا یقین کرتے ہوئے وہ اپنی چارپائی اُٹھا کر چلنے لگا۔ یہ معجزہ اُن حیرتانگیز کاموں کی ایک جھلک ہے جو یسوع مسیح نئی دُنیا میں کریں گے۔ اِس معجزے سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ یسوع مسیح کو اِنسانوں سے کتنی محبت ہے۔ وہ اُن لوگوں کو تلاش کرتے تھے جن کو مدد کی ضرورت تھی۔ یسوع مسیح کی مثال سے ہم یہ سیکھتے ہیں کہ ہمیں بھی اپنے علاقے میں اُن لوگوں کو تلاش کرنا چاہیے جو دُنیا کے خراب حالات کی وجہ سے پریشان اور مایوس ہیں۔
”کس نے میری پوشاک چُھوئی؟“
11. مرقس 5:25-34 سے یہ بات کیسے ظاہر ہوتی ہے کہ یسوع مسیح کو بیماروں پر ترس آتا تھا؟
11 مرقس 5:25-34 کو پڑھیں۔ وہ عورت 12 سال سے شرمندگی میں جی رہی تھی۔ اِس بیماری کی وجہ سے اُس کی زندگی دوبھر ہو چکی تھی یہاں تک کہ وہ خدا کی عبادت میں بھی حصہ نہیں لے سکتی تھی۔ وہ ”کئی طبیبوں سے بڑی تکلیف اُٹھا چکی تھی اور اپنا سب مال خرچ“ کرنے کے باوجود اُس کی حالت اَور بگڑ گئی تھی۔ لیکن ایک دن اُس نے شفا پانے کا ایک فرق طریقہ سوچا۔ اُس نے سوچا کہ جب یسوع مسیح شہر سے گزریں گے تو وہ بِھیڑ میں جا کر اُن کی پوشاک کو چُھوئے گی۔ اور اُس نے ایسا ہی کِیا۔ (احبا 15:19، 25) یسوع کو فوراً پتہ چل گیا کہ اُن میں سے طاقت نکلی ہے۔ اِس لیے اُنہوں نے پوچھا کہ اُنہیں کس نے چُھوا ہے؟ وہ عورت ”ڈرتی اور کانپتی ہوئی آئی اور اُس کے آگے گِر پڑی اور سارا حال سچ سچ اُس سے کہہ دیا۔“ یسوع جانتے تھے کہ اُن کے آسمانی باپ یہوواہ نے اِس عورت کو شفا بخشی ہے۔ اِس لیے اُنہوں نے بڑے پیار سے کہا: ”بیٹی تیرے ایمان سے تجھے شفا ملی۔ سلامت جا اور اپنی اِس بیماری سے بچی رہ۔“
یسوع نے معجزے کرنے سے ثابت کِیا کہ اُنہیں ہماری کتنی فکر ہے اور وہ مشکل میں ہماری مدد کرنا چاہتے ہیں۔ (پیراگراف 11 اور 12 کو دیکھیں۔)
12. (الف) ابھی تک ہم نے جو کچھ سیکھا ہے، اُس کے پیشِنظر آپ یسوع مسیح کی ذات کو کیسے بیان کریں گے؟ (ب) ہم اُن کی مثال سے کیا سیکھتے ہیں؟
12 یسوع مسیح واقعی بڑے رحمدل تھے۔ اُن کے معجزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیمار لوگوں کے لیے اُن کے دل میں بڑا نرم گوشہ تھا۔ لیکن شیطان ہمیں یقین دِلانا چاہتا ہے کہ خدا ہم سے پیار نہیں کرتا اور اُس کی نظر میں ہماری کوئی اہمیت نہیں ہے۔ مگر یسوع نے ثابت کِیا کہ اُنہیں واقعی ہماری فکر ہے اور وہ مشکل وقت میں ہماری مدد کرنا چاہتے ہیں۔ کتنی خوشی کی بات ہے کہ ہمارا بادشاہ اور سردار کاہن نہایت ہمدرد ہے! (عبر 4:15) کسی ایسے شخص کے جذبات کو سمجھنا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا جو لمبے عرصے سے بیمار ہے، خاص طور پر تب جب ہم خود کسی ایسی بیماری میں مبتلا نہیں ہوئے۔ حالانکہ یسوع مسیح کبھی بیمار نہیں ہوئے تھے پھر بھی اُنہیں بیماروں سے بڑی ہمدردی تھی۔ آئیں، ہم بھی یسوع کی طرح دوسروں کے لیے ہمدردی اور محبت ظاہر کرنے کی پوری کوشش کریں۔—1-پطر 3:8۔
”یسوؔع کے آنسو بہنے لگے“
13. لعزر کو زندہ کرنے کے واقعے سے ہم یسوع مسیح کے بارے میں کیا سیکھتے ہیں؟
13 لوگوں کو غمزدہ دیکھ کر یسوع کو بہت دُکھ ہوتا تھا۔ جب اُنہوں نے اپنے دوست لعزر کی موت پر لوگوں کو روتے پیٹتے دیکھا تو وہ ”دل میں نہایت رنجیدہ“ ہوئے۔ حالانکہ وہ جانتے تھے کہ وہ لعزر کو جلد ہی زندہ کر دیں گے پھر بھی اُن کے آنسو بہہ نکلے۔ (یوحنا 11:33-36 کو پڑھیں۔) وہ دوسروں کے سامنے اپنے دُکھ اور رنج کو ظاہر کرنے سے نہ شرمائے۔ اُن کے آسپاس کھڑے لوگ دیکھ سکتے تھے کہ یسوع مسیح کو لعزر اور اُن کے گھر والوں سے کتنی محبت تھی۔ یسوع مسیح نے خدا کی دی ہوئی طاقت کو اِستعمال کرتے ہوئے لعزر کو زندہ کر دیا۔ یوں اُنہوں نے ظاہر کِیا کہ وہ اپنے دوست سے کتنا پیار کرتے تھے۔—یوح 11:43، 44۔
14، 15. (الف) کس بات سے ثابت ہوتا ہے کہ یہوواہ خدا بیماری اور موت کو ختم کرنے کی خواہش رکھتا ہے؟ (ب) اِصطلاح ”یادگاری قبروں“ سے کیا پتہ چلتا ہے؟
14 بائبل میں بتایا گیا ہے کہ یسوع مسیح ”[خالق] کی ذات کا نقش“ ہیں۔ (عبر 1:3) لہٰذا یسوع کے معجزوں سے ثابت ہوتا ہے کہ نہ صرف خود یسوع بلکہ اُن کا آسمانی باپ بھی بیماری اور موت کو ختم کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔ یہ خواہش صرف اُن چند لوگوں کو زندہ کرنے سے پوری نہیں ہوئی تھی جن کے بارے میں ہم بائبل میں پڑھتے ہیں۔ یسوع نے کہا تھا: ”وہ وقت آتا ہے کہ جتنے قبروں میں ہیں . . . نکلیں گے۔“—یوح 5:28، 29۔
15 اِن آیتوں میں جس یونانی اِصطلاح کا ترجمہ ”قبروں“ کِیا گیا ہے، اُس کا مطلب دراصل ”یادگاری قبریں“ ہے۔ اِس اِصطلاح سے اِشارہ ملتا ہے کہ مرے ہوئے لوگ یہوواہ خدا کی یادداشت میں ہیں۔ قادرِمطلق خدا جس نے ساری کائنات کو خلق کِیا ہے، اُس میں ہمارے مرے ہوئے عزیزوں کی شکلوصورت اور شخصیت کے بارے میں چھوٹی چھوٹی تفصیلات کو بھی یاد رکھنے کی صلاحیت ہے۔ (یسع 40:26) اِس کے علاوہ یہوواہ اور اُس کے بیٹے کی دلی خواہش ہے کہ وہ مُردوں کو اپنی یادداشت میں محفوظ رکھیں۔ بائبل میں لعزر اور دوسرے لوگوں کو زندہ کرنے کے جو معجزے درج ہیں اُن سے ہمیں یقین ہوتا ہے کہ نئی دُنیا میں مُردوں کو زندگی بخشی جائے گی۔
یسوع کے معجزوں کی اہمیت
16. خدا کے بہت سے وفادار بندوں کو کیا اجر ملے گا؟
16 اگر ہم یہوواہ خدا کے وفادار رہیں گے تو ہم ایک ایسا معجزہ دیکھیں گے جو آج تک نہیں ہوا۔ ہم اُن بےشمار لوگوں میں شامل ہوں گے جو بڑی مصیبت سے بچ جائیں گے۔ ہرمجِدّون کی جنگ کے بعد ہم اَور بھی بہت سے معجزے دیکھیں گے، مثلاً، ہر طرح کی بیماری اور کمزوری کو ختم کر دیا جائے گا اور اِنسان ہمیشہ تک تندرستوتوانا رہیں گے۔ (یسع 33:24؛ 35:5، 6؛ مکا 21:4) ذرا اُس وقت کا تصور کریں جب لوگوں کو ویلچیئر، نظر کے چشموں، بیساکھیوں اور سماعت کے آلات وغیرہ سے چھٹکارا مل جائے گا۔ یہوواہ خدا جانتا ہے کہ ہرمجِدّون کی جنگ کے بعد زمین کو صاف کرنے کا بہت سا کام ہوگا۔ اِس لیے وہ اِس جنگ سے بچنے والوں کو اچھی صحت دے گا۔ یوں وہ لوگ زمین کو جو خدا کی طرف سے ایک تحفہ ہے، فردوس بنانے کے لیے بڑے جوش سے کام کر سکیں گے۔—زبور 115:16۔
17، 18. (الف) یسوع مسیح نے معجزے کیوں کیے تھے؟ (ب) آپ کو نئی دُنیا میں جانے کی پوری کوشش کیوں کرنی چاہیے؟
17 یسوع مسیح کے معجزوں پر غور کرنے سے ”بڑی بِھیڑ“ کو یہ حوصلہ ملتا ہے کہ یسوع مسیح مستقبل میں اُنہیں مکمل طور پر تندرست کر دیں گے۔ (مکا 7:9) اُن کے معجزوں سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اِنسانوں سے بڑی محبت کرتے ہیں اور اُن کی فکر رکھتے ہیں۔ (یوح 10:11؛ 15:12، 13) یسوع مسیح نے لوگوں کے لیے جو محبت ظاہر کی، اُس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ یہوواہ خدا اپنے ہر بندے کو کتنا پیار کرتا ہے۔—یوح 5:19۔
18 اِنسان دُکھ تکلیف اور موت کی وجہ سے کراہ رہے ہیں۔ (روم 8:22) ہم نئی دُنیا کے منتظر ہیں جہاں خدا اپنے وعدے کے مطابق ہر طرح کی بیماری کا نامونشان مٹا دے گا۔ ملاکی 4:2 سے پتہ چلتا ہے کہ اُس وقت اِنسان ’گاوخانے کے بچھڑوں کی طرح کودیں پھاندیں‘ گے یعنی گُناہ سے پاک ہو جانے کی وجہ سے خوشی منائیں گے۔ آئیں، خدا سے محبت کرتے رہیں اور اُس کے وعدوں پر اپنا ایمان مضبوط رکھیں۔ ایسا کرنے سے ہمیں ہر وہ کام کرنے کی ترغیب ملے گی جو نئی دُنیا میں جانے کے لیے ضروری ہے۔ یہ جان کر ہمیں بےحد خوشی اور تسلی ملتی ہے کہ یسوع مسیح کے معجزے ایک نئی دُنیا کی جھلک تھے جو جلد ہی آنے والی ہے۔ تب اِنسانوں کی زندگی دُکھوں اور تکلیفوں سے ہمیشہ کے لیے پاک ہو جائے گی۔