آپ اپنے جیونساتھی کی موت کا غم کیسے برداشت کر سکتے ہیں؟
بائبل میں بتایا گیا ہے کہ شوہر ”اپنی بیوی کو اپنی مانند پیار کرے۔“ اِس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بیوی ”اپنے شوہر کا ادب کرے۔“ وہ دونوں ”ایک تن“ ہیں اِس لئے وہ مل کر اپنی ذمےداریوں کو نبھاتے ہیں۔ (افس ۵:۳۳، کیتھولک ترجمہ؛ پید ۲:۲۳، ۲۴) وقت کے ساتھساتھ میاںبیوی کا رشتہ گہرا اور مضبوط ہوتا جاتا ہے اور ایک دوسرے کے لئے اُن کی محبت بڑھتی جاتی ہے۔ جس طرح ساتھساتھ بڑھنے والے دو درختوں کی جڑیں آپس میں مل کر ایک ہو جاتی ہیں اُسی طرح میاںبیوی کی زندگیاں ایک ہو جاتی ہیں۔
لیکن جب اُن میں سے کوئی ایک فوت ہوتا ہے تو اُن کا بندھن جو کبھی اٹوٹ معلوم ہوتا تھا، اب ٹوٹ جاتا ہے۔ جو ساتھی رہ جاتا ہے، وہ اکثر دُکھ اور تنہائی میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ یہاں تک کہ کبھیکبھار اُسے تلخی یا پچھتاوا محسوس ہوتا ہے۔ ایک بہن جن کا نام ڈینیایلا ہے،a اُن کا ازدواجی بندھن ۵۸ سال تک قائم رہا۔ اِس عرصے کے دوران اُن کے بہت سے واقفکاروں کے جیونساتھی وفات پا گئے مگر وہ اُن کے درد کو پوری طرح محسوس نہ کر پائیں۔ لیکن جب اُن کا شوہر فوت ہوا تو اُنہوں نے کہا: ”مجھے اِس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ اپنے جیونساتھی سے بچھڑنے کا غم اِس قدر شدید ہوتا ہے۔ واقعی اِس کا اندازہ آپ کو تبھی ہوتا ہے جب آپ خود اِس صورتحال سے گزرتے ہیں۔“
غم جو جانے کا نام نہیں لیتا
بعض تحقیقدانوں کا کہنا ہے کہ جیونساتھی کی موت سے بڑا دُکھ کوئی اَور نہیں ہوتا۔ اِس بات سے ایسے بہت سے لوگ متفق ہیں جو اپنا جیونساتھی کھو چکے ہیں۔ ایک بہن جن کا نام ملی ہے، اُنہوں نے ۲۵ سال تک اپنے شوہر کے ساتھ زندگی گزاری۔ لیکن اب اُن کے شوہر کو گزرے ہوئے کئی سال ہو گئے ہیں۔ اُنہوں نے اپنی غمناک حالت کو بیان کرتے ہوئے کہا: ”مَیں اپنے شوہر کے گزر جانے کے بعد بہت لاچار محسوس کرتی ہوں۔“
سوزن کا خیال تھا کہ جو بیویاں اپنے شوہر کی وفات کے بعد کئی سال تک سوگ مناتی رہتی ہیں، وہ حد سے زیادہ جذباتی ہوتی ہیں۔ لیکن پھر سوزن کے شوہر کی وفات ہو گئی اور اُن کا ۳۸ سالہ ازدواجی بندھن ٹوٹ گیا۔ اب اُنہیں اپنے شوہر سے بچھڑے ہوئے ۲۰ سال ہو گئے ہیں۔ پھر بھی سوزن کہتی ہیں: ”مجھے ہر روز اپنے شوہر کی یاد ستاتی ہے۔“ اکثر وہ اِتنی اُداس ہو جاتی ہیں کہ اُن کے آنسو بہنے لگتے ہیں۔
بائبل سے بھی یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ جیونساتھی کی موت شدید دُکھ کا باعث ہوتی ہے اور یہ دُکھ ایک لمبے عرصے تک ستاتا رہتا ہے۔ مثال کے طور پر جب ابرہام کی بیوی سارہ نے وفات پائی تو ابرہام نے اُن کے لئے ”ماتم اور نوحہ“ کِیا۔ (پید ۲۳:۱، ۲) حالانکہ ابرہام مُردوں کے جی اُٹھنے پر یقین رکھتے تھے پھر بھی وہ سارہ کی وفات پر بےحد غمگین ہوئے۔ (عبر ۱۱:۱۷-۱۹) یعقوب اپنی پیاری بیوی راخل کی وفات کے بعد اکثر اُنہیں یاد کرتے تھے۔ وہ اپنے بیٹوں کے ساتھ باتچیت کے دوران راخل کا ذکر کِیا کرتے تھے۔—پید ۴۴:۲۷؛ ۴۸:۷۔
ہم بائبل کی اِن مثالوں سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟ جن لوگوں کا جیونساتھی وفات پا جاتا ہے، وہ اکثر کئی سالوں تک غمگین رہتے ہیں۔ ہمیں اُن کے آنسوؤں اور دُکھ کو کمزوری خیال نہیں کرنا چاہئے۔ اِس کی بجائے ہمیں سمجھنا چاہئے کہ اُن کا غم ایک فطری بات ہے۔ شاید اُنہیں کافی عرصے تک تسلی اور ہمارے ساتھ کی ضرورت رہے۔
اپنے آج کی فکر کریں، کل کی نہیں
جب ایک شخص کا جیونساتھی وفات پا جاتا ہے تو اُس کی زندگی دوبارہ ویسی نہیں ہوتی جیسی شادی سے پہلے تھی۔ اپنی بیوی کے ساتھ کئی سال گزارنے کے بعد ایک شوہر عموماً یہ سمجھ جاتا ہے کہ جب اُس کی بیوی کسی وجہ سے پریشان ہو تو وہ اُسے تسلی کیسے دے سکتا ہے۔ لیکن اگر شوہر فوت ہو جائے تو بیوی محبت اور تسلی کے اِس ذریعے سے محروم ہو جاتی ہے۔ اِسی طرح وقت کے ساتھساتھ ایک بیوی یہ سیکھ جاتی ہے کہ اگر شوہر کسی وجہ سے پریشان ہے تو وہ اُس کی ہمت کیسے بڑھا سکتی ہے اور اُسے خوش کیسے رکھ سکتی ہے۔ بیوی کی توجہ اور اُس کے پیار بھرے الفاظ شوہر کو تازگی بخشتے ہیں۔ اگر بیوی فوت ہو جائے تو شوہر کی زندگی سونی ہو جاتی ہے۔ لہٰذا بعض لوگ جو اپنا جیونساتھی کھو چکے ہیں، وہ مستقبل کے بارے میں سوچ کر پریشان ہوتے ہیں۔ لیکن بائبل کے کس اصول پر عمل کرنے سے وہ دلی سکون پا سکتے ہیں؟
اپنا دھیان کل پر نہیں بلکہ آج پر رکھیں اور ایسا کرنے کے لئے خدا سے مدد مانگیں۔
بائبل میں لکھا ہے: ”کل کے لئے فکر نہ کرو کیونکہ کل کا دن اپنے لئے آپ فکر کر لے گا۔ آج کے لئے آج ہی کا دُکھ کافی ہے۔“ (متی ۶:۳۴) یسوع مسیح کی یہ بات خاص طور پر ہماری روزمرہ کی ضروریات پر لاگو ہوتی ہے۔ لیکن اِس پر عمل کرنے سے ہمارے بہت سے بہنبھائیوں کو اپنے جیونساتھی کی موت کا صدمہ برداشت کرنے میں بھی مدد ملی ہے۔ ایک بھائی جن کا نام چارلس ہے، اُنہوں نے اپنی بیوی کی موت کے کچھ مہینے بعد کہا: ”مجھے آج بھی اپنی بیوی مونیک کی یاد بےحد ستاتی ہے۔ کبھیکبھی مجھے لگتا ہے کہ میرا غم شدت اِختیار کر رہا ہے۔ مگر مَیں سمجھتا ہوں کہ وقت کے ساتھساتھ اِس شدت میں کمی آ جائے گی۔“
لیکن بھائی چارلس اپنے غم اور دُکھ کو برداشت کرنے کے قابل کیسے ہوئے؟ اُنہوں نے کہا: ”مَیں نے اپنا دھیان کل پر نہیں بلکہ آج پر رکھا اور ایسا کرنے کے لئے مَیں نے یہوواہ خدا سے مدد مانگی۔“ بھائی چارلس کا دُکھ راتوں رات ختم نہیں ہوا تھا مگر وہ اِس سے نڈھال بھی نہیں ہوئے تھے۔ اگر آپ کا جیونساتھی وفات پا گیا ہے تو اپنے کل کی نہیں بلکہ اپنے آج کی فکر کریں کیونکہ آپ نہیں جانتے کہ کل کا دن آپ کے لئے کونسی خوشی لائے گا۔
یاد رکھیں کہ یہوواہ خدا کبھی بھی یہ نہیں چاہتا تھا کہ اِنسان مریں۔ دراصل موت کا ذمےدار شیطان اِبلیس ہے۔ (۱-یوح ۳:۸؛ روم ۶:۲۳) شیطان لوگوں کے دل میں موت کا ڈر پیدا کرتا ہے تاکہ وہ اُنہیں نااُمیدی کی حالت اور اپنی غلامی میں رکھ سکے۔ (عبر ۲:۱۴، ۱۵) شیطان کو اُس وقت بڑی خوشی ہوتی ہے جب کوئی اِنسان یہ محسوس کرتا ہے کہ وہ کبھی بھی خوش نہیں رہ سکتا، یہاں تک کہ خدا کی نئی دُنیا میں بھی نہیں۔ لہٰذا اگر آپ اپنے جیونساتھی کی موت کی وجہ سے غمگین ہیں تو یہ صورتحال آدم کے گُناہ اور شیطان کی بغاوت کا نتیجہ ہے۔ (روم ۵:۱۲) یہوواہ خدا، شیطان کے ہتھیار یعنی موت کو تباہ کر دے گا اور اُن تمام مسائل کو حل کر دے گا جو شیطان کی بغاوت کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں۔ اُس وقت جو لوگ موت کے ڈر سے آزاد ہوں گے، اُن میں بہت سے ایسے لوگ بھی ہوں گے جو اپنا جیونساتھی کھو چکے ہیں۔
جب نئی دُنیا میں مُردوں کو زندہ کِیا جائے گا تو اِنسانی رشتوں کے حوالے سے کچھ تبدیلیاں ہوں گی۔ اُس وقت کسی کے ماںباپ زندہ ہوں گے تو کسی کے دادا دادی یا نانا نانی۔ وہ اپنے بچوں، پوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں سمیت وقت کے ساتھساتھ گُناہ سے پاک ہو جائیں گے۔ بڑھاپے کے اثرات مٹ جائیں گے۔ اُس وقت شاید ہم اپنے باپدادا کو ایک فرق نظر سے دیکھیں گے۔ اِنسانی رشتوں کے حوالے سے جو تبدیلیاں ہوں گی، وہ اِنسانوں کے فائدے کے لئے ہوں گی۔
مُردوں میں سے زندہ ہونے والے لوگوں کے متعلق شاید ہمارے ذہن میں بہت سے سوال پیدا ہوں۔ مثال کے طور پر اُن لوگوں کے ساتھ کیا ہوگا جن کے دو یا اِس سے زیادہ جیون ساتھی فوت ہو گئے ہیں؟ صدوقیوں نے یسوع مسیح سے اِسی قسم کا سوال پوچھا۔ اُنہوں نے یسوع مسیح کو بتایا کہ ایک عورت تھی جس کا پہلا شوہر فوت ہو گیا۔ اُس نے دوبارہ شادی کی مگر اُس کا دوسرا شوہر بھی فوت ہو گیا۔ ایسا کُل سات بار ہوا۔ اُنہوں نے پوچھا کہ ”قیامت میں وہ عورت اُن میں سے کس کی بیوی ہوگی؟“ (لو ۲۰:۲۷-۳۳) جب مُردے زندہ ہوں گے تو ایسے لوگوں کا کیا ہوگا، ہم نہیں جانتے۔ ایسے سوالوں کے بارے میں پریشان ہونے کا یا اندازے لگانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ ہمیں بس یہوواہ خدا پر بھروسا رکھنا چاہئے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہوواہ خدا مستقبل میں جو بھی کرے گا، اُس میں اِنسانوں کی بھلائی ہی ہوگی۔ اِس لئے ہم اُس وقت سے خوفزدہ نہیں بلکہ اُس کے منتظر ہیں۔
مُردوں کے جی اُٹھنے کی اُمید تسلی کا باعث ہے
بائبل میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ مُردوں کو زندہ کِیا جائے گا۔ اِس میں بہت سے ایسے لوگوں کا ذکر ہے جنہیں زندہ کِیا گیا تھا۔ ایسے واقعات اِس بات کی ضمانت ہیں کہ یسوع مسیح کی یہ پیشگوئی پوری ہوگی کہ ”جتنے قبروں میں ہیں [میری] آواز سُن کر نکلیں گے۔“ (یوح ۵:۲۸، ۲۹) اُس وقت لوگ اپنے اُن عزیزوں کو دیکھ کر خوشی کے مارے جھوم اُٹھیں گے جو موت کے قبضے سے آزاد ہوں گے۔ اِس کے علاوہ جو لوگ زندہ ہوں گے، اُن کی خوشی کا بھی کوئی ٹھکانا نہیں ہوگا۔
جب کروڑوں مُردے زندہ ہوں گے تو زمین پر خوشی کا ایسا سماں ہوگا جو پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آیا ہوگا۔ (مکا ۲۰:۱۳) واقعی وہ وقت حیرتانگیز ہوگا! اُس وقت کا تصور کرنے سے اُن لوگوں کو تسلی ملتی ہے جن کے عزیز فوت ہو چکے ہیں۔
جب مُردے جی اُٹھیں گے تو کیا کسی کے پاس غمگین رہنے کی کوئی وجہ ہوگی؟ جینہیں۔ یسعیاہ ۲۵:۸ میں بتایا گیا ہے کہ یہوواہ خدا ”موت کو ہمیشہ کے لئے نابود کرے گا۔“ اِس پیشگوئی کے مطابق موت کے اثرات یعنی غم اور دُکھ کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔ یسعیاہ نبی نے مزید بیان کِیا: ”[یہوواہ] خدا سب کے چہروں سے آنسو پونچھ ڈالے گا۔“ شاید ابھی آپ اپنے جیونساتھی کی موت کی وجہ سے شدید دُکھ سے گزر رہے ہیں۔ لیکن جب مُردوں کو زندہ کِیا جائے گا تو آپ کا غم خوشی میں بدل جائے گا۔
کوئی بھی اِنسان یہ بات پوری طرح نہیں سمجھتا کہ خدا نئی دُنیا میں کیا کچھ کرے گا۔ یہوواہ خدا نے کہا: ”جس قدر آسمان زمین سے بلند ہے اُسی قدر میری راہیں تمہاری راہوں سے اور میرے خیال تمہارے خیالوں سے بلند ہیں۔“ (یسع ۵۵:۹) مُردوں کے جی اُٹھنے کے متعلق یسوع مسیح کی پیشگوئی پر ایمان رکھنے سے ہم یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ہم یہوواہ خدا پر بالکل ویسے ہی مضبوط بھروسا رکھتے ہیں جیسے ابرہام رکھتے تھے۔ ہم سب کے لئے اہم بات یہ ہے کہ ہم خدا کی مرضی کے مطابق زندگی گزاریں۔ یوں ہم اُن لوگوں کے ساتھ خدا کی نئی دُنیا میں رہنے کے ’لائق ٹھہریں گے‘ جنہیں مُردوں میں سے زندہ کِیا جائے گا۔—لو ۲۰:۳۵۔
خدا کے وعدے ضرور پورے ہوں گے
اگر آپ اِس بات پر پکی اُمید رکھتے ہیں کہ مُردے جی اُٹھیں گے تو آپ اپنے مستقبل کے بارے میں پریشان نہیں ہوں گے۔ بہت سے لوگوں کو لگتا ہے کہ اُن کا مستقبل تاریک ہے لیکن یہوواہ خدا ایک روشن مستقبل کا وعدہ کرتا ہے۔ ہم یہ تو نہیں جانتے کہ یہوواہ خدا ہماری تمام خواہشوں اور ضرورتوں کو کیسے پورا کرے گا لیکن ہمیں یقین رکھنا چاہئے کہ وہ ہمیں کسی چیز کی کمی نہیں ہونے دے گا۔ پولُس رسول نے لکھا: ”جس چیز کی اُمید ہے جب وہ نظر آ جائے تو پھر اُمید کیسی؟ کیونکہ جو چیز کوئی دیکھ رہا ہے اُس کی اُمید کیا کرے گا؟ لیکن جس چیز کو نہیں دیکھتے اگر ہم اُس کی اُمید کریں تو صبر سے اُس کی راہ دیکھتے ہیں۔“ (روم ۸:۲۴، ۲۵) اگر آپ پکی اُمید رکھتے ہیں کہ یہوواہ خدا کے وعدے ضرور پورے ہوں گے تو آپ اپنے جیونساتھی کی موت کا غم برداشت کرنے کے قابل ہوں گے۔ اگر آپ اِس اُمید کو تھامے رہیں گے تو آپ اُس شاندار مستقبل کو دیکھیں گے جب یہوواہ خدا آپ کے ”دل کی مُرادیں پوری کرے گا۔“ وہ ”ہر جاندار کی خواہش پوری“ کرے گا۔—زبور ۳۷:۴؛ ۱۴۵:۱۶؛ لو ۲۱:۱۹۔
یہوواہ خدا کے اِس وعدے پر بھروسا رکھیں کہ مستقبل خوشیوں سے بھرا ہوگا۔
جب یسوع مسیح کی موت قریب تھی تو اُن کے رسول غمزدہ ہو گئے۔ یسوع مسیح نے اُنہیں تسلی دینے کے لئے کہا: ”تمہارا دل نہ گھبرائے۔ تُم خدا پر ایمان رکھتے ہو مجھ پر بھی ایمان رکھو۔“ اُنہوں نے یہ وعدہ بھی کِیا کہ وہ اپنے پیروکاروں کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔ (یوح ۱۴:۱-۴، ۱۸، ۲۷) یسوع مسیح کے اِس وعدے سے صدیوں کے دوران اُن کے ممسوح پیروکاروں کو اُمید اور حوصلہ ملا ہے۔ یہ وعدہ اُن لوگوں کے لئے بھی تسلی اور حوصلے کا باعث ہے جو موت کی وجہ سے اپنا جیونساتھی کھو چکے ہیں۔ اِس بات پر پورا یقین رکھیں کہ یہوواہ خدا اور یسوع مسیح آپ کو ہمیشہ تک غم میں مبتلا نہیں رہنے دیں گے۔
a فرضی نام اِستعمال کئے گئے ہیں۔