یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م13 15/‏8 ص.‏ 8
  • قارئین کے سوال

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • قارئین کے سوال
  • مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے—2013ء
  • ملتا جلتا مواد
  • ہمیں ایک خارج شُدہ شخص سے کیسے پیش آنا چاہئے؟‏
    خدا کی محبت میں قائم رہیں
  • کسی رشتہ‌دار کے خارج ہونے کی صورت میں مسیحی وفاداری کا مظاہرہ کریں
    ہماری بادشاہتی خدمتگزاری ۲۰۰۲
  • اپنے گھر والوں سے زیادہ یہوواہ سے محبت کریں
    مسیحی زندگی اور خدمت—‏اِجلاس کا قاعدہ 2020ء
  • جب ہمارا کوئی عزیز یہوواہ کو چھوڑ دیتا ہے
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2021ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے—2013ء
م13 15/‏8 ص.‏ 8

قارئین کے سوال

اگر مسیحی والدین کا بچہ کلیسیا سے خارج ہو جاتا ہے تو کیا وہ اِجلاس میں اُس کے ساتھ بیٹھ سکتے ہیں؟‏

ہمیں غیرضروری طور پر اِس بات پر پابندی نہیں لگانی چاہئے کہ ایک خارج‌شُدہ شخص کو ہماری عبادت‌گاہ میں کہاں بیٹھنا چاہئے اور کہاں نہیں۔ مینارِنگہبانی میں کئی بار والدین کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ اگر اُن کا بچہ کلیسیا سے خارج ہو گیا ہے اور وہ اُن کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہتا ہے تو والدین اُس کی اِصلاح اور تربیت کرتے رہیں۔ مینارِنگہبانی یکم اکتوبر ۲۰۰۱ء، صفحہ ۱۶-‏۱۸ میں بتایا گیا ہے کہ جو بچہ ابھی بالغ نہیں اور کلیسیا سے خارج ہو گیا ہے، والدین اُس کے ساتھ بائبل کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔ یوں بچے کی حوصلہ‌افزائی ہوگی کہ وہ اپنی بُری روِش کو ترک کر دے۔‏

اِن باتوں کے پیشِ‌نظر کلیسیا سے خارج‌شُدہ بچہ اِجلاس کے دوران اپنے والدین کے ساتھ بیٹھ سکتا ہے۔ چونکہ ایک خارج‌شُدہ شخص ہماری عبادت‌گاہ میں سب سے پیچھے بیٹھنے کا پابند نہیں اِس لئے اگر ایک نابالغ بچہ جو کلیسیا سے خارج ہو گیا ہے، اپنے والدین کے ساتھ بیٹھتا ہے تو کسی کو اِس بات پر اِعتراض نہیں کرنا چاہئے۔ ہم دیکھ چکے ہیں کہ یہ والدین کی ذمے‌داری ہے کہ وہ پاک کلام کے مطابق اپنے خارج‌شُدہ بچے کی اِصلاح کرتے رہیں۔ اِس لئے یقیناً وہ اِس بات کا خیال رکھنا چاہیں گے کہ اُن کا بچہ اِجلاس کے دوران پیش کی جانے والی تمام معلومات کو دھیان سے سنے۔ لہٰذا یہ اچھا ہوگا کہ وہ بچے کو الگ بٹھانے کی بجائے اُسے اپنے ساتھ بٹھائیں۔‏

لیکن اگر کلیسیا سے خارج‌شُدہ بچہ اپنے والدین کے ساتھ نہیں رہتا تو کیا اِس کا مطلب یہ ہے کہ والدین کو اِجلاس میں اُس کے ساتھ نہیں بیٹھنا چاہئے؟ ہماری کتابوں اور رسالوں میں بتایا گیا ہے کہ مسیحیوں کو اپنے اُس رشتے‌دار کے ساتھ غیرضروری طور پر میل‌جول نہیں رکھنا چاہئے جو کلیسیا سے خارج ہو گیا ہے اور اُن کے ساتھ ایک گھر میں نہیں رہتا۔‏aلیکن اِجلاس کے دوران اپنے خارج‌شُدہ رشتے‌دار کے ساتھ بیٹھنے اور اُس کے ساتھ میل‌جول رکھنے میں فرق ہے۔ اگر خاندان کے افراد کلیسیا سے خارج‌شُدہ رشتے‌دار کے ساتھ میل‌جول کے سلسلے میں خدا کے اصولوں کی پابندی کرتے ہیں تو کسی کو بھی اُن کے اِجلاس کے دوران اِکٹھے بیٹھنے پر اِعتراض نہیں کرنا چاہئے۔—‏۱-‏کر ۵:‏۱۱،‏ ۱۳؛‏ ۲-‏یوح ۱۱‏۔‏

اگر ایک خارج‌شُدہ شخص اِجلاس میں ادب سے بیٹھتا ہے تو وہ اپنے رشتے‌دار یا کلیسیا کے کسی دوسرے رُکن کے ساتھ بیٹھ سکتا ہے۔ اِس سلسلے میں کسی طرح کی پابندی لگانے سے مسئلے پیدا ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا اگر کلیسیا کے تمام رُکن خارج‌شُدہ شخص کے ساتھ میل‌جول رکھنے کے بارے میں بائبل کے اصولوں پر عمل کرتے ہیں اور اگر والدین اور خارج‌شُدہ بچے کے اِکٹھے بیٹھنے سے بہن‌بھائیوں کو ٹھوکر نہیں لگتی تو کسی کو اِس بات پر اِعتراض نہیں کرنا چاہئے کہ وہ اِجلاس میں کہاں اور کس کے ساتھ بیٹھتا ہے۔‏

a اِس سلسلے میں کتاب خدا کی محبت صفحہ ۲۰۷-‏۲۰۹ کو دیکھیں۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں