یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م13 15/‏8 ص.‏ 18-‏22
  • ایک دوسرے کی حوصلہ‌افزائی کریں

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • ایک دوسرے کی حوصلہ‌افزائی کریں
  • مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے—2013ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • ‏”‏ایک دوسرے کا لحاظ رکھیں“‏
  • ‏”‏محبت اور نیک کاموں کی ترغیب“‏ دیں
  • ایک دوسرے کی حوصلہ‌افزائی کریں
  • زندگی کی راہ پر چلتے رہنے کے لئے ایک دوسرے کی حوصلہ‌افزائی کریں
  • محبت اور نیک کاموں کی ترغیب دیں—‏کیسے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1995ء
  • ایک دوسرے کی ”‏اَور بھی زیادہ“‏ حوصلہ‌افزائی کریں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—2018ء
  • سرگرمی سے دوسروں کو نیک کاموں کی ترغیب دیں
    ہماری بادشاہتی خدمتگزاری 2015
  • ‏”‏ہر دن ایک دوسرے کی حوصلہ‌افزائی کرتے رہیں“‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—2016ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے—2013ء
م13 15/‏8 ص.‏ 18-‏22

ایک دوسرے کی حوصلہ‌افزائی کریں

‏”‏محبت اور نیک کاموں کی ترغیب دینے کے لئے ایک دوسرے کا لحاظ رکھیں۔“‏ —‏عبر ۱۰:‏۲۴‏۔‏

آپ اِن سوالوں کے کیا جواب دیں گے؟‏

  • ‏”‏ایک دوسرے کا لحاظ“‏ رکھنے کا کیا مطلب ہے؟‏

  • ہم ایک دوسرے کو ”‏محبت اور نیک کاموں کی ترغیب“‏ کیسے دے سکتے ہیں؟‏

  • ہم ایک دوسرے کی حوصلہ‌افزائی کیسے کر سکتے ہیں؟‏

۱، ۲.‏ دوسری عالمی جنگ کے آخر پر ۲۳۰ یہوواہ کے گواہ ایک ہول‌ناک سفر کے دوران کیسے زندہ رہے؟‏

دوسری عالمی جنگ کے آخر پر نازی حکومت دم توڑ رہی تھی۔ قیدی کیمپوں میں ابھی بھی ہزاروں قیدی تھے جنہیں ٹھکانے لگانے کا حکم جاری کِیا گیا۔ نازیوں نے زاکسن‌ہاؤزن کیمپ کے قیدیوں کے بارے میں منصوبہ بنایا کہ وہ اُنہیں بحری جہازوں میں بٹھا کر گہرے سمندر میں لے جائیں گے اور جہازوں کو غرق کر دیں گے۔‏

۲ زاکسن‌ہاؤزن کے قیدی کیمپ سے ۳۳ ہزار قیدیوں کو جرمنی کی ایک بندرگاہ لیوبک روانہ کِیا گیا جو ۲۵۰ کلومیٹر (‏۱۵۵ میل)‏ دُور تھی۔ اِن قیدیوں میں ۲۳۰ یہوواہ کے گواہ تھے جن کا تعلق چھ مختلف ملکوں سے تھا۔ سپاہیوں نے اِن گواہوں کو اِکٹھے چلنے کا حکم دیا۔ سارے قیدی بھوک اور بیماری سے نڈھال تھے۔ ہمارے بھائی اِس ہول‌ناک سفر کے دوران کیسے زندہ رہے؟ اِن میں سے ایک بھائی نے بتایا:‏ ”‏ہم آگے بڑھنے کے لئے ایک دوسرے کی حوصلہ‌افزائی کرتے رہے۔“‏ آپسی محبت اور یہوواہ خدا کی ”‏حد سے زیادہ قدرت“‏ کی بدولت وہ اِس مصیبت سے بچ نکلے۔—‏۲-‏کر ۴:‏۷‏۔‏

۳.‏ ہمیں ایک دوسرے کی حوصلہ‌افزائی کیوں کرنی چاہئے؟‏

۳ آج‌کل ہمیں کوئی ہول‌ناک سفر تو نہیں کرنا پڑتا لیکن ہمیں اَور بہت سی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔ جب ۱۹۱۴ء میں خدا کی بادشاہت قائم ہوئی تو شیطان کو آسمان سے نکال دیا گیا اور زمین پر پھینک دیا گیا۔ اُس وقت سے وہ بڑے غصے میں ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اُس کا ”‏تھوڑا ہی سا وقت باقی ہے۔“‏ (‏مکا ۱۲:‏۷-‏۹،‏ ۱۲‏)‏ جیسے جیسے ہرمجِدّون نزدیک آ رہی ہے، شیطان ہم پر طرح‌طرح کی مصیبتیں اور آزمائشیں لاتا ہے تاکہ ہم خدا سے دُور ہو جائیں۔ اِس کے علاوہ ہمیں روزمرہ کی پریشانیوں سے بھی نپٹنا پڑتا ہے۔ (‏ایو ۱۴:‏۱؛‏ واعظ ۲:‏۲۳‏)‏ ایسی صورت میں ہم بعض اوقات اِتنے کمزور ہو جاتے ہیں کہ ہم اپنے آپ مایوسی کی دَلدل سے نکل نہیں پاتے۔ اِس سلسلے میں ایک بھائی کی مثال پر غور کریں جس نے کئی سال کے دوران بہت سے بہن‌بھائیوں کی حوصلہ‌افزائی کی تاکہ وہ وفاداری سے خدا کی خدمت کر سکیں۔ لیکن بڑھاپے میں وہ بھائی اور اُس کی بیوی بیمار رہنے لگے۔ اِس وجہ سے وہ بہت مایوس اور بے‌حوصلہ ہو گیا۔ اِس بھائی کی طرح ہم سب کو بھی یہوواہ خدا کی طرف سے ”‏حد سے زیادہ قدرت“‏ اور اپنے بہن‌بھائیوں کی طرف سے حوصلہ‌افزائی کی ضرورت ہے۔‏

۴.‏ اگر ہم دوسروں کے لئے حوصلہ‌افزائی کا باعث بننا چاہتے ہیں تو ہمیں پولس رسول کی کس نصیحت پر عمل کرنا چاہئے؟‏

۴ اگر ہم دوسروں کے لئے حوصلہ‌افزائی کا باعث بننا چاہتے ہیں تو ہمیں پولس رسول کی اِس نصیحت پر عمل کرنا چاہئے:‏ ”‏محبت اور نیک کاموں کی ترغیب دینے کے لئے ایک دوسرے کا لحاظ رکھیں۔ اور ایک دوسرے کے ساتھ جمع ہونے سے باز نہ آئیں جیسا بعض لوگوں کا دستور ہے بلکہ ایک دوسرے کو نصیحت کریں اور جس قدر اُس دن کو نزدیک ہوتے ہوئے دیکھتے ہو اُسی قدر زیادہ کِیا کرو۔“‏ (‏عبر ۱۰:‏۲۴، ۲۵‏)‏ ہم ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟‏

‏”‏ایک دوسرے کا لحاظ رکھیں“‏

۵.‏ (‏الف)‏ ’‏ایک دوسرے کا لحاظ رکھنے‘‏ کا کیا مطلب ہے؟ (‏ب)‏ ایک دوسرے کی ضروریات کا خیال رکھنے کے لئے ہمیں کیا کرنا چاہئے؟‏

۵ ’‏ایک دوسرے کا لحاظ رکھنے‘‏ کا مطلب یہ ہے کہ ہم دوسروں کی ضروریات کا خیال رکھیں۔ اگر ہم اِجلاس پر اپنے بہن‌بھائیوں سے صرف سلام دُعا کرتے ہیں یا تھوڑی دیر کے لئے اِدھر اُدھر کی باتیں کرتے ہیں تو ہم اُن کی ضروریات کے بارے میں نہیں جان پائیں گے۔ یہ سچ ہے کہ ہم ”‏اَوروں کے کام میں دخل“‏ نہیں دینا چاہتے۔ (‏۱-‏تیم ۵:‏۱۳‏)‏ لیکن اگر ہم اپنے بہن‌بھائیوں کی حوصلہ‌افزائی کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اُنہیں اچھی طرح جاننے کی ضرورت ہے۔ ہمیں پتہ ہونا چاہئے کہ وہ کن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں؛ وہ کن خوبیوں کے مالک ہیں؛ اُن میں کون‌سی کمزوریاں ہیں؛ اُن میں کون‌سی صلاحیتیں ہیں اور خدا کی خدمت کے بارے میں اُن کا رویہ کیسا ہے۔ ہمیں اُنہیں یقین دِلانا چاہئے کہ ہم اُن کے دوست ہیں اور اُن سے پیار کرتے ہیں۔ اِس کے لئے ضروری ہے کہ ہم اُن کے ساتھ وقت گزاریں لیکن صرف مشکلات میں ہی نہیں بلکہ دوسرے موقعوں پر بھی۔—‏روم ۱۲:‏۱۳‏۔‏

۶.‏ بزرگ، بہن‌بھائیوں کی اچھی طرح مدد کرنے کے قابل کیسے ہوں گے؟‏

۶ کلیسیا کے بزرگوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ خوشی سے اور دلی شوق سے ’‏خدا کے گلّہ کی گلّہ‌بانی کریں۔‘‏ (‏۱-‏پطر ۵:‏۱-‏۳‏)‏ لیکن اگر وہ اپنی بھیڑوں سے واقف ہی نہیں تو وہ اُن کی دیکھ‌بھال کیسے کر سکتے ہیں؟ ‏(‏امثال ۲۷:‏۲۳ کو پڑھیں۔)‏ اگر بزرگ اپنے بہن‌بھائیوں کی مدد کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں اور یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اُن کے ساتھ وقت گزارنا پسند کرتے ہیں تو بہن‌بھائی مشکلات میں بِلاجھجک اُن سے رہنمائی حاصل کرنے آئیں گے۔ وہ بزرگوں کو کُھل کر اپنے دل کی بات بتا سکیں گے اور بزرگ اُن کی اچھی طرح مدد کر سکیں گے۔‏

۷.‏ جب افسردہ لوگ بِلاسوچے سمجھے کوئی بات کہتے ہیں تو ہمیں کیا یاد رکھنا چاہئے؟‏

۷ پولس رسول نے تھسلنیکے کی کلیسیا کو ہدایت کی کہ ”‏کمزوروں کو سنبھالو۔“‏ ‏(‏۱-‏تھسلنیکیوں ۵:‏۱۴ کو پڑھیں۔)‏ افسردہ یا بے‌حوصلہ بہن‌بھائی ایک طرح سے کمزور ہوتے ہیں۔ امثال ۲۴:‏۱۰ میں بتایا گیا ہے:‏ ”‏اگر تُو مصیبت کے دن بے‌دل ہو جائے تو تیری طاقت بہت کم ہے۔“‏ جو شخص بے‌حوصلہ ہو جاتا ہے، وہ کبھی‌کبھار ”‏بے‌تاملی“‏ سے یعنی بِلا سوچے سمجھے بات کرتا ہے۔ (‏ایو ۶:‏۲، ۳‏)‏ ہم ایسے بہن‌بھائیوں کا ”‏لحاظ“‏ کیسے رکھ سکتے ہیں؟ ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ وہ جو کہہ رہے ہیں، دل سے نہیں کہہ رہے۔ اِس سلسلے میں راشل کی مثال پر غور کریں جن کی امی افسردگی کا شکار ہو گئی تھیں۔ راشل نے بتایا:‏ ”‏اکثر میری امی ایسی باتیں کہتی تھیں جن سے میرا دل بہت دُکھتا تھا۔ لیکن مَیں جانتی تھی کہ میری امی افسردہ ہونے کی وجہ سے ایسی باتیں کرتی ہیں۔ اصل میں وہ ایک رحم‌دل اور پیار کرنے والی عورت ہیں۔ اِس سے مَیں نے یہ سیکھا ہے کہ مایوسی اور افسردگی کا سامنا کرنے والے لوگ اکثر جو کہتے ہیں، وہ دل سے نہیں کہتے۔ اگر ہم ایسے لوگوں کے ساتھ بُری طرح پیش آتے ہیں تو صورتحال اَور بگڑ سکتی ہے۔“‏ امثال ۱۹:‏۱۱ میں لکھا ہے:‏ ”‏آدمی کی تمیز اُس کو قہر کرنے میں دھیما بناتی ہے۔ اور خطا سے درگذر کرنے میں اُس کی شان ہے۔“‏

۸.‏ ہمیں خاص طور پر کن کو اپنی محبت کا یقین دِلانا چاہئے؟ اور کیوں؟‏

۸ بعض بہن‌بھائی اپنے ماضی کے کسی گُناہ کی وجہ سے مایوسی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اگرچہ اُنہوں نے اپنی غلطی کو سدھارنے کے لئے کچھ قدم اُٹھائے ہیں پھر بھی وہ شرمندگی کے بوجھ تلے دبا ہوا محسوس کرتے ہیں۔ ہم ایسے بہن‌بھائیوں کا ”‏لحاظ“‏ کیسے رکھ سکتے ہیں؟ پہلی صدی میں کُرنتھس کی کلیسیا کے ایک رُکن نے سنگین گُناہ کِیا مگر بعد میں اُس نے توبہ کر لی۔ پولس رسول نے اُس شخص کے بارے میں کلیسیا کو ہدایت کی:‏ ”‏بہتر یہی ہے کہ اب تُم اُس کا قصور معاف کر دو اور اُسے تسلی دو۔ ایسا نہ ہو کہ وہ غم کی شدت سے تباہ‌وبرباد ہو جائے۔ لہٰذا میں تمہاری منت کرتا ہوں کہ اُسے اپنی محبت کا یقین دِلاؤ۔“‏ (‏۲-‏کر ۲:‏۷، ۸‏، نیو اُردو بائبل ورشن‏)‏ ہمیں خود سے یہ اندازہ نہیں لگا لینا چاہئے کہ جو بہن یا بھائی اپنے ماضی کے گُناہ کی وجہ سے مایوسی کا شکار ہے، وہ جانتا ہے کہ ہم اُس سے پیار کرتے ہیں۔ اِس کی بجائے ہمارے رویے اور کاموں سے ظاہر ہونا چاہئے کہ ہم اُس سے پیار کرتے ہیں۔‏

‏”‏محبت اور نیک کاموں کی ترغیب“‏ دیں

۹.‏ ”‏محبت اور نیک کاموں کی ترغیب دینے“‏ کا مطلب کیا ہے؟‏

۹ پولس رسول نے لکھا:‏ ”‏محبت اور نیک کاموں کی ترغیب دینے کے لئے ایک دوسرے کا لحاظ رکھیں۔“‏ جب آگ بُجھنے والی ہوتی ہے تو ہم کوئلوں کو ہوا دیتے ہیں۔ اِسی طرح ہمیں اپنے بہن‌بھائیوں میں یہ خواہش پیدا کرنی چاہئے کہ وہ خدا سے اور پڑوسی سے محبت ظاہر کریں۔ ہم اُنہیں ”‏نیک کاموں کی ترغیب“‏ کیسے دے سکتے ہیں؟ اِس کا ایک عمدہ طریقہ یہ ہے کہ ہم اُنہیں اُن کے اچھے کاموں کے لئے داد دیتے رہیں۔‏

دوسروں کی ہمت بڑھانے کے لئے اُن کے ساتھ مُنادی کے کام میں حصہ لیں۔‏

۱۰، ۱۱.‏ (‏الف)‏ داد کی ضرورت کس کس کو ہوتی ہے؟ (‏ب)‏ مثال سے واضح کریں کہ اُس شخص کو داد دینے سے کیا فائدہ ہو سکتا ہے جس نے کوئی غلط قدم اُٹھایا ہے۔‏

۱۰ اصل میں ہم سب چاہتے ہیں کہ ہمارے اچھے کاموں کے لئے ہمیں داد دی جائے۔ ایک بزرگ نے لکھا:‏ ”‏مجھے میرے ابو سے کبھی داد نہیں ملی۔ اِس لئے مَیں بچپن سے احساسِ‌کمتری کا شکار رہا ہوں۔ .‏ .‏ .‏ حالانکہ اب مَیں ۵۰ سال کا ہوں پھر بھی جب میرے دوست مجھ سے کہتے ہیں کہ مَیں کلیسیا میں اپنی ذمے‌داری اچھی طرح نبھا رہا ہوں تو مجھے حوصلہ ملتا ہے۔ .‏ .‏ .‏ مَیں نے یہ سیکھ لیا ہے کہ دوسروں کی حوصلہ‌افزائی کرنا بہت ضروری ہے۔ اِس لئے مَیں بہن‌بھائیوں کی حوصلہ‌افزائی کرنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔“‏ چاہے ہم پہل‌کار ہیں، عمررسیدہ ہیں یا کسی وجہ سے بے‌حوصلہ ہو گئے ہیں، داد ملنے پر ہم سب کی ہمت بڑھتی ہے۔—‏روم ۱۲:‏۱۰‏۔‏

۱۱ جب کوئی بھائی یا بہن غلط قدم اُٹھاتا ہے تو بزرگ اُس کی اِصلاح کرتے وقت اُسے اُن اچھے کاموں کے لئے داد دے سکتے ہیں جو وہ پہلے کرتا تھا۔ یوں شاید اُس بھائی یا بہن کو ترغیب ملے کہ وہ سیدھی راہ پر لوٹ آئے۔ (‏گل ۶:‏۱‏)‏ اِس سلسلے میں ایک بہن کی مثال پر غور کریں جس کا نام مریم ہے۔ اُنہوں نے لکھا:‏ ”‏میری زندگی میں ایک بہت کٹھن دَور آیا۔ میرے کچھ دوستوں نے سچائی کو چھوڑ دیا اور اِسی عرصے کے دوران میرے ابو کے دماغ کی نس پھٹ گئی۔ اِس وجہ سے مَیں بہت افسردہ ہو گئی۔“‏ مریم نے ایک لڑکے سے دوستی کر لی جو یہوواہ کا گواہ نہیں تھا۔ اُنہیں لگا کہ اِس طرح وہ اپنی افسردگی سے چھٹکارا پا لیں گی۔ مگر اُنہیں محسوس ہوا کہ وہ یہوواہ خدا کی دوستی کے لائق نہیں رہیں اِس لئے وہ سچائی کو چھوڑ دینے کے بارے میں سوچنے لگیں۔ ایک بزرگ اُن سے ملا اور اُنہیں داد دی کہ وہ پہلے کتنی وفاداری سے خدا کے ساتھ‌ساتھ چل رہی تھیں۔ اِس سے اُن کے اندر خدا کے قریب جانے کا جذبہ اُمڈ آیا۔ اِس کے علاوہ بزرگ نے اُنہیں یقین دِلایا کہ یہوواہ خدا اُن سے بہت محبت کرتا ہے۔ یوں مریم کے دل میں خدا کی محبت دوبارہ جاگ اُٹھی۔ اُنہوں نے اُس لڑکے سے ملنا جلنا چھوڑ دیا اور خدا کی خدمت کرنے لگیں۔‏

محبت اور نیک کاموں کی ترغیب دیں۔‏

۱۲.‏ اگر ہم نیک کاموں کی ترغیب دینے کے لئے دوسروں پر نکتہ‌چینی کرتے ہیں یا اُنہیں شرمندہ کرتے ہیں تو اِس کا کیا نتیجہ نکل سکتا ہے؟‏

۱۲ ہمیں دوسروں کو ”‏نیک کاموں کی ترغیب دینے“‏ کے سلسلے میں احتیاط سے کام لینا چاہئے۔ ہمیں اُن کے کام کا موازنہ کسی اَور کے کام سے نہیں کرنا چاہئے۔ ہمیں اُن پر اِس لئے نکتہ‌چینی نہیں کرنی چاہئے کہ وہ ہمارے بنائے ہوئے معیاروں پر نہیں چلتے اور نہ ہی ہمیں اُنہیں اِس بات پر شرمندہ کرنا چاہئے کہ وہ خدا کی خدمت میں زیادہ حصہ کیوں نہیں لے رہے۔ اگر ہم ایسا کریں گے تو شاید وہ وقتی طور پر تو جوش سے خدا کی خدمت کرنے لگیں مگر یہ زیادہ دیر تک نہیں چلے گا۔ اِس کی بجائے ہمیں اُنہیں اُن کاموں کے لئے داد دینی چاہئے جو وہ کر رہے ہیں۔ ہمیں اُن کی حوصلہ‌افزائی کرنی چاہئے کہ وہ یہوواہ خدا سے محبت کی بِنا پر دل‌وجان سے اُس کی خدمت کریں۔ اِس صورت میں اُنہیں مستقل طور پر فائدہ ہوگا۔‏‏—‏فلپیوں ۲:‏۱-‏۴ کو پڑھیں۔‏

ایک دوسرے کی حوصلہ‌افزائی کریں

۱۳.‏ دوسروں کی حوصلہ‌افزائی کرنے میں کیا کچھ شامل ہے؟ (‏اِس مضمون کی پہلی تصویر کو دیکھیں۔)‏

۱۳ پولس رسول نے کہا:‏ ”‏ایک دوسرے کو نصیحت کریں اور جس قدر اُس دن کو نزدیک ہوتے ہوئے دیکھتے ہو اُسی قدر زیادہ کِیا کرو۔“‏ اِس آیت میں جس یونانی لفظ کا ترجمہ ”‏نصیحت“‏ کِیا گیا ہے، اُس کا مطلب حوصلہ‌افزائی کرنا بھی ہے۔ دوسروں کی حوصلہ‌افزائی کرنے میں یہ بات شامل ہے کہ ہم اُن میں خدا کی خدمت جاری رکھنے کی خواہش پیدا کریں۔ ”‏محبت اور نیک کاموں کی ترغیب“‏ دینا بجھتی ہوئی آگ کو جلانے کے برابر ہے اور دوسروں کی حوصلہ‌افزائی کرنا اُس میں اَور کوئلے ڈالنے کے برابر ہے تاکہ آگ جلتی رہے۔ افسردہ لوگوں کی حوصلہ‌افزائی کرنے میں یہ شامل ہے کہ ہم اُن کو تسلی دیں اور اُن کی ہمت بڑھائیں۔ ہمیں ایسے لوگوں کے ساتھ بڑے پیار اور نرمی سے بات کرنی چاہئے۔ (‏امثا ۱۲:‏۱۸‏)‏ اِس کے علاوہ ہمیں ”‏سننے میں تیز“‏ اور ”‏بولنے میں دھیرا“‏ ہونے کی ضرورت ہے۔ (‏یعقو ۱:‏۱۹‏)‏ اگر ہم اُن کی بات دھیان سے سنیں گے تو شاید ہم یہ جان پائیں کہ وہ کس وجہ سے بے‌حوصلہ ہو گئے ہیں۔ یوں ہم اُن سے کوئی ایسی بات کہہ سکیں گے جس سے اُنہیں حوصلہ ملے گا۔‏

بہن‌بھائیوں کو اچھی طرح جاننے کے لئے اُن کے ساتھ وقت گزاریں۔‏

۱۴.‏ ایک بزرگ نے ایک بھائی کی مدد کیسے کی جو مایوسی کا شکار ہو گیا تھا؟‏

۱۴ ایک بزرگ کی مثال پر غور کریں۔ اُس نے ایک بھائی کی مدد کی جو کئی سال سے مُنادی کے کام میں حصہ نہیں لے رہا تھا۔ اُس بھائی کی بات سننے کے بعد بزرگ کو پتہ چلا کہ وہ بھائی ابھی بھی خدا سے بڑی محبت کرتا ہے۔ وہ مینارِنگہبانی کے ہر شمارے کو پڑھتا ہے اور باقاعدگی سے اِجلاسوں میں آنے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر اُسے کلیسیا کے کچھ بہن‌بھائیوں کے کاموں کی وجہ سے ٹھوکر لگی ہے۔ بزرگ نے اُس بھائی کی بات بڑے دھیان سے سنی اور اُس کے احساسات کو سمجھنے کی کوشش کی۔ اُس نے بھائی پر کوئی نکتہ‌چینی نہیں کی اور اُسے یقین دِلایا کہ کلیسیا کے بہن‌بھائی اُس سے اور اُس کے گھر والوں سے بہت پیار کرتے ہیں۔ آہستہ‌آہستہ اُس بھائی کو احساس ہوا کہ وہ دوسروں کی غلطیوں سے اِتنا مایوس ہو گیا کہ اُس نے خدا کی خدمت کرنا ہی چھوڑ دیا۔ بزرگ نے اُس بھائی کو اپنے ساتھ مُنادی کے کام میں چلنے کو کہا۔ بزرگ کی مدد سے یہ بھائی مُنادی کے کام میں حصہ لینے لگا اور آخرکار پھر سے کلیسیا میں بزرگ کے طور پر خدمت کرنے لگا۔‏

جس شخص کو حوصلہ‌افزائی کی ضرورت ہے، اُس کی بات تحمل سے سنیں۔ (‏پیراگراف ۱۴ اور ۱۵ کو دیکھیں۔)‏

۱۵.‏ افسردہ لوگوں کی ہمت بڑھانے کے سلسلے میں ہم یہوواہ خدا کی مثال پر کیسے عمل کر سکتے ہیں؟‏

۱۵ جب ہم ایک بے‌حوصلہ شخص کی مدد کرتے ہیں تو شاید وہ فوراً مایوسی کی دَلدل سے باہر نہ آئے۔ اِس صورت میں ہمیں اُس کی حوصلہ‌افزائی کرتے رہنے کی ضرورت ہے۔ پولس رسول نے کہا:‏ ”‏کمزوروں کو سنبھالو۔ سب کے ساتھ تحمل سے پیش آؤ۔“‏ (‏۱-‏تھس ۵:‏۱۴‏)‏ لہٰذا ہمیں کمزوروں کو سنبھالنے کے سلسلے میں تحمل سے کام لینا چاہئے یعنی ہمیں اُن کی مدد کرتے رہنا چاہئے۔ ماضی میں یہوواہ خدا بھی اپنے اُن خادموں کے ساتھ تحمل سے پیش آیا جو بے‌حوصلہ ہو گئے تھے۔ مثال کے طور پر خدا نے ایلیاہ نبی کے احساسات کا لحاظ رکھا۔ اُس نے ہر طرح سے اُن کا خیال رکھا تاکہ وہ اُس کی خدمت کرنا جاری رکھیں۔ (‏۱-‏سلا ۱۹:‏۱-‏۱۸‏)‏ یہوواہ خدا نے داؤد کو بھی معاف کر دیا کیونکہ اُنہوں نے دل سے توبہ کر لی تھی۔ (‏زبور ۵۱:‏۷،‏ ۱۷‏)‏ خدا نے زبور ۷۳ لکھنے والے کی بھی مدد کی جو اُس کی خدمت چھوڑنے والا تھا۔ (‏زبور ۷۳:‏۱۳،‏ ۱۶، ۱۷‏)‏ یہوواہ خدا ہمارے ساتھ بھی رحم اور تحمل سے پیش آتا ہے، خاص طور پر جب ہم مایوسی اور افسردگی کا سامنا کرتے ہیں۔ (‏خر ۳۴:‏۶)‏ ’‏یہوواہ کی شفقت اور رحمت لازوال ہے۔ وہ ہر صبح تازہ ہے۔‘‏ (‏نوحہ ۳:‏۲۲، ۲۳‏)‏ یہوواہ خدا چاہتا ہے کہ ہم اُس کی مثال پر عمل کریں اور اُن لوگوں کے ساتھ نرمی سے پیش آئیں جو کسی وجہ سے بے‌حوصلہ ہو گئے ہیں۔‏

زندگی کی راہ پر چلتے رہنے کے لئے ایک دوسرے کی حوصلہ‌افزائی کریں

۱۶، ۱۷.‏ جوں‌جوں خاتمہ نزدیک آ رہا ہے، ہمیں کیا کرنا چاہئے؟ اور کیوں؟‏

۱۶ زاکسن‌ہاؤزن کیمپ کے ۳۳ ہزار قیدیوں میں سے کئی ہزار قیدی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ لیکن اُن قیدیوں میں جو ۲۳۰ یہوواہ کے گواہ تھے، اُن میں سے ایک بھی ہلاک نہ ہوا۔ موت کے مُنہ سے زندہ بچ نکلنے کی ایک خاص وجہ یہ تھی کہ وہ ایک دوسرے کی حوصلہ‌افزائی کرتے رہے۔‏

۱۷ آج ہم اُس راستے پر چل رہے ہیں جو ”‏زندگی کو پہنچاتا ہے۔“‏ (‏متی ۷:‏۱۴‏)‏ جلد ہی یہوواہ کے وفادار خادم اُس نئی دُنیا میں داخل ہوں گے جس میں ”‏راست‌بازی بسے رہے گی۔“‏ (‏۲-‏پطر ۳:‏۱۳‏)‏ آئیں، ہم زندگی کی راہ پر چلتے رہنے کے لئے ایک دوسرے کی حوصلہ‌افزائی کرتے رہیں۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں