یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م13 1/‏7 ص.‏ 3-‏4
  • تعصب—‏ایک عالمی مسئلہ

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • تعصب—‏ایک عالمی مسئلہ
  • مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے—2013ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • ایک ذاتی مسئلہ
  • تعصب سے پاک دُنیا—‏کیا یہ صرف ایک خواب ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے—2013ء
  • کیا آپ تعصب کا شکار ہیں؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1996ء
  • تعصب کیسے جڑ پکڑتا ہے؟‏
    جاگو!‏—‏2009ء
  • ایک ہوں جس طرح یہوواہ اور یسوع ایک ہیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—2018ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے—2013ء
م13 1/‏7 ص.‏ 3-‏4

سرِورق کا موضوع:‏ تعصب سے پاک دُنیا​—‏کیا یہ صرف ایک خواب ہے؟‏

تعصب—‏ایک عالمی مسئلہ

جوناتھن امریکہ میں پیدا ہوئے لیکن اُن کے ماں‌باپ کوریا سے تھے۔ جوناتھن کو اپنے نین‌نقش کی وجہ سے بچپن ہی سے نسلی تعصب کا سامنا کرنا پڑا۔ جب وہ بڑے ہوئے تو وہ کسی ایسی جگہ رہنا چاہتے تھے جہاں اُن کی شکل‌وصورت اور قوم کی وجہ سے اُن کو تعصب کا نشانہ نہ بنایا جائے۔ اِس لئے وہ شمالی الاسکا کے ایک ایسے علاقے میں چلے گئے جہاں کے زیادہ‌تر لوگ اُن جیسے دِکھتے تھے۔ وہاں وہ ایک ڈاکٹر کے طور پر کام کرنے لگے۔ وہ یہ اُمید لے کر اُس علاقے میں گئے تھے کہ شاید وہاں وہ تعصب کی تپش سے بچ جائیں۔‏

لیکن پھر ایک دن اُن کی یہ اُمید ٹوٹ گئی۔ وہ ایک ۲۵ سالہ عورت کا علاج کر رہے تھے جو کوما میں تھی۔ جب وہ عورت ہوش میں آئی تو جوناتھن کو گالیاں دینے لگی کیونکہ وہ کوریائی لوگوں سے بہت نفرت کرتی تھی۔ اِس واقعے سے جوناتھن کے دل پر بڑی چوٹ لگی۔ اُنہیں احساس ہو گیا کہ چاہے وہ کہیں بھی چلے جائیں، وہ تعصب کی تپش سے نہیں بچ پائیں گے۔‏

جوناتھن کی مثال سے یہ تلخ حقیقت ظاہر ہوتی ہے کہ تعصب کے گہرے بادل دُنیا کے ہر کونے میں چھائے ہوئے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ لوگوں اور تعصب کا چولی‌دامن کا ساتھ ہے۔‏

لیکن تعصب کے اِتنے عام ہونے کے باوجود زیادہ‌تر لوگ اِس کے خلاف ہیں۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ جس چیز کے لوگ اِتنے خلاف ہوں، وہ اِتنی پھیلی ہوئی ہو؟ دراصل تعصب کی مخالفت کرنے والے بہت سے لوگوں کو یہ احساس بھی نہیں ہوتا کہ اُن کے دل میں بھی تعصب موجود ہے۔ کیا آپ نے کبھی یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ آپ کے دل میں تعصب ہے یا نہیں؟‏

لوگ تعصب کیوں برتتے ہیں؟‏

اِس بارے میں ماہرین کی رائے فرق‌فرق ہے۔ کچھ کا خیال ہے کہ ایک شخص سے اِس لئے تعصب برتا جاتا ہے کیونکہ اُس کا تعلق کسی خاص قوم یا نسل سے ہوتا ہے۔ اور کچھ ماہرین کہتے ہیں کہ لوگ کسی قوم یا نسل سے اِس لئے تعصب برتتے ہیں کیونکہ وہ اُس کے بارے میں اچھی طرح جانے بغیر ہی رائے قائم کر لیتے ہیں۔ وجہ چاہے کوئی بھی ہو، ایک شخص کے دل میں دوسرے شخص کی نسل، وزن، جنس، زبان، مذہب یا کسی اَور فرق کی وجہ سے تعصب پیدا ہو سکتا ہے۔‏

ایک ذاتی مسئلہ

یہ اندازہ لگانا بہت مشکل ہے کہ آیا ہمارے دل میں تعصب ہے یا نہیں۔ اِس کی کیا وجہ ہے؟ پاک کلام میں بتایا گیا ہے کہ ”‏دل سب چیزوں سے زیادہ دھوکے‌باز ہے۔“‏ (‏یرمیاہ ۱۷:‏۹‏، ہولمن کرسچن سٹینڈرڈ بائبل‏)‏ اِس لئے شاید ہم یہ سوچ کر خود کو دھوکا دیں کہ ہم تو سب لوگوں کو ایک ہی نظر سے دیکھتے ہیں۔ یا شاید ہم کہیں کہ ہم کسی خاص وجہ سے فلاں قوم یا نسل کے لوگوں کے بارے میں منفی سوچ رکھتے ہیں۔‏

اگر آپ کو ایسی صورتحال کا سامنا ہو تو آپ کیا سوچیں گے؟‏

آئیں، دیکھیں کہ یہ پتہ لگانا کتنا مشکل ہے کہ ہمارے دل میں تعصب کا بیج ہے یا نہیں۔ ذرا تصور کریں کہ آپ اندھیری رات میں ایک سڑک پر اکیلے چل رہے ہیں۔ آپ دیکھتے ہیں کہ سامنے سے دو جوان آدمی آپ کی طرف آ رہے ہیں۔ وہ دیکھنے میں بہت تگڑے ہیں اور لگتا ہے کہ ایک آدمی کے ہاتھ میں کوئی چیز ہے۔‏

کیا آپ سوچنے لگتے ہیں کہ یہ آدمی آپ کو نقصان پہنچائیں گے؟ ہو سکتا ہے کہ ماضی میں آپ کے ساتھ کوئی ایسا واقعہ پیش آیا ہو جس کی وجہ سے آپ اِن آدمیوں سے ہوشیار ہو جائیں۔ مگر ذرا سوچیں کہ کیا یہ وہی آدمی ہیں جنہوں نے آپ کو پہلے نقصان پہنچایا تھا؟ اگر نہیں تو کیا آپ کو اِن آدمیوں کے بارے میں پہلے سے کوئی غلط رائے قائم کرنی چاہئے؟ اب ذرا اِس سوال پر غور کریں:‏ جب یہ آدمی آپ کی طرف آ رہے تھے تو آپ کے ذہن میں کس نسل یا قوم کے لوگوں کا خیال آیا تھا؟ اِس سوال کے جواب سے شاید آپ کو اندازہ ہو کہ آپ کے دل میں بھی کسی حد تک تعصب موجود ہے۔‏

ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہمارے اندر کسی نہ کسی لحاظ سے تعصب ضرور موجود ہے۔ خدا کے کلام میں تعصب کی ایک ایسی قسم کا ذکر کِیا گیا ہے جو بہت عام ہے۔ اِس میں لکھا ہے:‏ ”‏لوگ دوسروں کی شکل‌وصورت دیکھ کر اُن کے بارے میں رائے قائم کرتے ہیں۔“‏ (‏۱-‏سموئیل ۱۶:‏۷‏، کونٹیمپرری انگلش ورشن‏)‏ سچ ہے کہ سب انسانوں میں تعصب موجود ہے لیکن کیا یہ ممکن ہے کہ ایک شخص اپنے دل سے تعصب کو نکال سکے؟ اور کیا کبھی ایسا وقت آئے گا جب پوری دُنیا سے تعصب کے بادل چھٹ جائیں گے؟‏

دُنیا پر تعصب کے گہرے بادل

کینیڈا:‏ ”‏حالانکہ زیادہ‌تر لوگوں نے یہاں رہنے والی مختلف قوموں اور نسلوں کے لوگوں کو خوشی سے قبول کر لیا ہے اور اُن کے حقوق کے تحفظ کے لئے کئی پالیسیاں اور قانون بھی بنائے گئے ہیں لیکن نسلی اِمتیاز ابھی بھی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔“‏—‏سن ۲۰۱۲ء میں کینیڈا کے متعلق ایمنسٹی انٹرنیشنل کا بیان۔‏

یورپ:‏ ”‏یورپ کے ۴۸ فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ اُن کے ملک سے نسلی اور قومی فرق کو مٹانے کے لئے کوئی خاص کوششیں نہیں کی جا رہیں۔“‏—‏تنگ‌نظری، تعصب اور امتیازی سلوک کے متعلق ۲۰۱۱ء کی ایک یورپی رپورٹ۔‏

افریقہ:‏ ”‏افریقہ کے بہت سے ملکوں میں ابھی بھی عورتوں پر تشدد کِیا جاتا ہے اور اُنہیں کم‌تر سمجھا جاتا ہے۔“‏‏—‏ایمنسٹی انٹرنیشنل رپورٹ ۲۰۱۲ء۔‏

نیپال:‏ ”‏دلت ذات (‏جس کو اچھوت سمجھا جاتا ہے)‏ کے لوگوں کو اکثر مالی، معاشرتی اور ثقافتی لحاظ سے پیچھے رکھا جاتا ہے۔“‏‏—‏ہیومن رائٹس واچ ورلڈ رپورٹ ۲۰۱۲ء۔‏

مشرقی یورپ:‏ ”‏اگر خانہ‌بدوش اپنے ملک میں رہتے ہیں تو وہاں اُن کو تعصب کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور اگر وہ کسی دوسرے ملک میں جاتے ہیں تو وہاں دوسروں کی غلطیاں اُن کے سر ڈال دی جاتی ہیں۔ کسی بھی ملک کی حکومت اِس ناانصافی کے خلاف کوئی قدم نہیں اُٹھا رہی۔“‏—‏رسالہ دی اِکانمسٹ،‏ ۴ ستمبر ۲۰۱۰ء۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں