آپبیتی
شمالی فنلینڈ میں کُلوقتی خدمت کے پچاس سنہرے سال
”تمہارے لئے تو پہلکار کے طور پر خدمت کرنا مشکل نہیں۔ تمہارے امیابو یہوواہ کے گواہ ہیں اور وہ ہر طرح سے تمہاری مدد کرتے ہیں۔“ یہ بات ہم نے اپنی ایک سہیلی سے کہی جو کُلوقتی خدمت کر رہی تھی۔ ہماری سہیلی نے ہم سے کہا کہ ”ہاں، مگر ہم سب کا آسمانی باپ تو ایک ہی ہے ناں۔“ دراصل وہ ہمیں یہ سمجھا رہی تھی کہ ہمارا آسمانی باپ اپنے تمام خادموں کو سنبھالتا ہے اور اُنہیں مشکلات برداشت کرنے کی ہمت دیتا ہے۔ یہ بات واقعی سچ ہے کیونکہ ہم نے خود اپنی زندگی میں اِسے آزما کر دیکھا ہے۔
ہم مغربی فنلینڈ کے ایک علاقے میں پیدا ہوئیں۔ ہمارے امیابو کسان تھے اور ہم دس بہنبھائی تھے۔ ہم اُس وقت بہت چھوٹے تھے جب دوسری عالمی جنگ شروع ہوئی۔ حالانکہ فوجیں ہمارے گھر سے سینکڑوں میل دُور لڑ رہی تھیں پھر بھی جنگ کی تباہکاریوں نے ہمارے ذہنوں پر گہرے نقش چھوڑے۔ جب ہمارے قریبی شہروں اوؤلو اور کالاجوکی میں رات کے وقت بمباری ہوئی تو آگ کے شعلے آسمان تک بلند ہوتے ہوئے نظر آئے۔ ہمارے امیابو نے ہمیں ہدایت کی تھی کہ ”جب بھی جنگی جہازوں کو آتے ہوئے دیکھو تو فوراً کہیں چھپ جانا۔“ ہم جانتے تھے کہ لوگ بڑی مصیبت میں ہیں۔ اِس لئے جب ہمارے سب سے بڑے بھائی تاؤنو نے ہمیں بتایا کہ یہ زمین فردوس بن جائے گی اور ساری مشکلیں ختم ہو جائیں گی تو ہمیں بڑی خوشی ہوئی۔
ہمارے بھائی تاؤنو اُس وقت ۱۴ سال کے تھے جب اُنہوں نے بائبل سٹوڈنٹس کی کتابوں کے ذریعے بائبل کی تعلیم حاصل کی۔ جب دوسری عالمی جنگ شروع ہوئی تو ہمارے بھائی کو فوج میں بھرتی ہونے کے لئے کہا گیا۔ مگر اُنہوں نے انکار کر دیا کیونکہ اُنہوں نے بائبل سے سیکھا تھا کہ مسیحیوں کو جنگ میں حصہ نہیں لینا چاہئے۔ اِس کی وجہ سے اُنہیں جیل میں ڈال دیا گیا اور اُن پر بڑے ظلم ڈھائے گئے۔ لیکن اُن کا یہ عزم اَور بھی پکا ہو گیا کہ وہ خدا کی خدمت کرنا کبھی نہیں چھوڑیں گے۔ جیل سے رِہا ہونے کے بعد وہ مُنادی کا کام اَور بھی جوش سے کرنے لگے۔ ہم اپنے بھائی کی مثال سے بہت متاثر ہوئیں۔ ہم نے بھی یہوواہ کے گواہوں کے اجلاسوں میں جانا شروع کر دیا جو ایک قریبی گاؤں میں منعقد ہوتے تھے۔ ہم یہوواہ کے گواہوں کے اجتماعوں پر بھی جاتی تھیں حالانکہ وہاں جانے کے لئے ہمیں بڑی محنت کرکے پیسے اِکٹھے کرنے پڑتے تھے۔ ہم پیاز اُگاتی تھیں، جنگل سے پھل توڑ کر بیچتی تھیں اور اپنے پڑوسیوں کے کپڑے سیتی تھیں۔ ہمارے کھیتوں پر ہمیشہ کوئی نہ کوئی کام ہوتا تھا۔ اِس لئے ہم اکثر اِکٹھے اجتماعوں پر نہیں جا سکتی تھیں بلکہ باریباری جاتی تھیں۔
سن ۱۹۳۵ء، بائیں طرف سے: ماٹی (باپ)، تاؤنو، سائمی، ماریا امیلیا (ماں)، وائنو (گود میں)، ایلی اور انیکی
جیسےجیسے ہم یہوواہ خدا اور انسانوں کے لئے اُس کے مقصد کے بارے میں سیکھتی گئیں، خدا کے لئے ہماری محبت بڑھتی گئی۔ ہم نے اپنی زندگی خدا کے لئے وقف کرنے کا فیصلہ کر لیا اور ۱۹۴۷ء میں بپتسمہ لے لیا (بپتسمے کے وقت انیکی کی عمر ۱۵ سال اور ایلی کی عمر ۱۷ سال تھی)۔ ہماری بہن سائمی نے بھی اِسی سال میں بپتسمہ لیا۔ ہم نے اپنی بڑی بہن لینیا کے ساتھ بھی بائبل کا مطالعہ کِیا جن کی شادی ہو چکی تھی۔ لینیا، اُن کا شوہر اور اُن کے بچے یہوواہ کے گواہ بن گئے۔ ہم نے بپتسمہ لینے کے بعد یہ ارادہ کِیا کہ ہم پہلکاروں کے طور پر خدمت کریں گی۔ اِس لئے ہم وقتاًفوقتاً مددگار پہلکاروں کے طور پر خدمت کرتی تھیں۔
کُلوقتی خدمت کا آغاز
سن ۱۹۴۹ء، بائیں طرف سے: ایوا کالیو، سائمی ماٹیلا سرجالا، ایلی، انیکی اور سارہ نوپونن
سن ۱۹۵۵ء میں ہم اپنا علاقہ چھوڑ کر دوسرے شہر چلی گئیں جس کا نام کےمی ہے۔ اگرچہ ہم دونوں ملازمت کرتی تھیں لیکن ہماری خواہش یہی تھی کہ ہم پہلکاروں کے طور پر خدمت کریں۔ لیکن ہمیں ڈر تھا کہ ہم اپنے خرچے پورے نہیں کر پائیں گی۔ اِس لئے ہم نے سوچا کہ ہمیں پہلے کچھ پیسے جمع کرنے چاہئیں۔ یہی وہ موقع تھا جب ہم نے اپنی سہیلی سے بات کی تھی جس کا ہم نے شروع میں ذکر کِیا ہے۔ اپنی سہیلی کی بات سُن کر ہمیں احساس ہوا کہ یہ ضروری نہیں کہ ہمارے پاس کافی سارے پیسے ہوں یا ہمارے گھر والے ہماری مدد کریں تو تب ہی ہم پہلکاروں کے طور پر خدمت کر سکیں گی۔ ہم یہ سمجھ گئیں کہ پہلکار بننے کے لئے سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم اپنی ساری فکریں اور بوجھ یہوواہ خدا پر ڈال دیں۔
سن ۱۹۵۲ء میں کوپیو میں منعقد ہونے والے اجتماع پر بائیں طرف سے: انیکی، ایلی اور ایوا کالیو
ہم نے اِتنے پیسے جمع کر لئے تھے کہ دو مہینے تک ہمارا گزارہ آسانی سے ہو سکتا تھا۔ لہٰذا ہم نے ہمت باندھ کر مئی ۱۹۵۷ء میں دو مہینے تک پہلکاروں کے طور پر خدمت کرنے کے لئے درخواست دے دی۔ ہم پیلو کے علاقے میں خدمت کرنے گئیں جو دائرہِقطبشمالی میں واقع ہے۔ جتنی رقم ہم اپنے ساتھ لے کر گئی تھیں، دو مہینے کے بعد بھی اُتنی رقم ہمارے پاس تھی۔ اِس لئے ہم نے مزید دو مہینے تک خدمت کرنے کی درخواست دے دی۔ جب وہ دو مہینے بھی گزر گئے تو تب بھی ہماری رقم خرچ نہیں ہوئی تھی۔ اُس وقت ہمیں یقین ہو گیا کہ یہوواہ خدا ہماری دیکھبھال کرتا رہے گا۔ ہمیں پہلکاروں کے طور پر خدمت کرتے ہوئے ۵۰ سال ہو گئے ہیں۔ مگر ہماری رقم آج بھی ختم نہیں ہوئی۔ جب ہم اُس وقت کے بارے میں سوچتی ہیں جب ہم نے یہ خدمت شروع کی تھی تو ہمیں لگتا ہے کہ یہوواہ خدا ہمارا ہاتھ پکڑ کر ہم سے کہہ رہا تھا: ’مت ڈرو۔ مَیں تمہاری مدد کروں گا۔‘—یسع ۴۱:۱۳۔
ہمیں پہلکاروں کے طور پر خدمت کرتے ہوئے ۵۰ سال ہو گئے ہیں۔ مگر ہماری رقم آج بھی ختم نہیں ہوئی۔
کائسو ریکو اور ایلی مُنادی کے کام کے دوران
سن ۱۹۵۸ء میں ہمیں سودانکایلا کے قصبے میں جا کر خاص پہلکاروں کے طور پر خدمت کرنے کا اعزاز ملا۔ اُس وقت اِس علاقے میں صرف ایک ہی یہوواہ کی گواہ تھی۔ اُسے ایک دلچسپ طریقے سے بادشاہت کا پیغام ملا تھا۔ ایک دن اُس کا بیٹا اپنی کلاس کے ساتھ شہر ہیلسنکی گیا جو فنلینڈ کا دارالحکومت ہے۔ سب بچے ایک قطار بنا کر چل رہے تھے اور وہ لڑکا قطار میں سب سے پیچھے تھا۔ ایک عمررسیدہ بہن نے اُسے رسالہ مینارِنگہبانی دیا اور کہا: ”گھر جا کر یہ رسالہ اپنی امی کو دینا۔“ اُس لڑکے نے ایسا ہی کِیا۔ اُس کی ماں رسالہ پڑھتے ہی سمجھ گئی کہ اِس رسالے میں جو کچھ بتایا گیا ہے، وہ سب سچ ہے۔
پھر ہم نے ایک کمرہ کرائے پر لے لیا۔ یہ کمرہ ایک ایسے کارخانے کے اُوپر تھا جہاں لکڑیاں کاٹی جاتی تھیں۔ ہم وہاں اجلاس منعقد کرتی تھیں۔ پہلے تو اِن اجلاسوں میں صرف ہم دونوں، اِس قصبے میں رہنے والی بہن اور اُس کی بیٹی آتی تھیں۔ ہم اجلاسوں کے شیڈول کے مطابق بائبل اور کتابیں اور رسالے پڑھتی تھیں۔ بعد میں ایک آدمی اُس کارخانے میں کام کرنے کے لئے آیا۔ وہ پہلے یہوواہ کے گواہوں کے ساتھ بائبل کا مطالعہ کرتا تھا۔ وہ بھی اپنے گھر والوں کے ساتھ اجلاسوں میں آنے لگا۔ پھر اُن دونوں میاںبیوی نے بپتسمہ لے لیا۔ اب یہ بھائی اجلاسوں میں حصے پیش کرتا تھا۔ اِس کے علاوہ اُسی کارخانے میں کام کرنے والے اَور مرد بھی ہمارے اجلاسوں میں آنے لگے اور یہوواہ کے گواہ بن گئے۔ کچھ سالوں بعد ہمارا چھوٹا سا گروپ بڑھتےبڑھتے ایک کلیسیا بن گیا۔
شمالی فنلینڈ میں پیش آنے والی مشکلات
اپنی خدمت کے دوران ہمیں کچھ مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ ایک مشکل تو یہ تھی کہ ہمیں لوگوں تک خوشخبری پہنچانے کے لئے لمبا سفر کرنا پڑتا تھا۔ گرمیوں میں ہم پیدل یا سائیکل پر سفر کرتی تھیں۔ کبھیکبھی تو ہم کشتی چلا کر علاقے تک پہنچتی تھیں۔ ہماری سائیکلوں نے ہمارا بڑا ساتھ دیا۔ اجتماعوں پر جانے کے لئے بھی ہم سائیکلوں پر سفر کرتی تھیں۔ اِس کے علاوہ ہم اپنے امیابو سے ملنے بھی سائیکلوں پر ہی جاتی تھیں حالانکہ وہ ہم سے سینکڑوں میل دُور رہتے تھے۔ سردیوں میں ہم صبح سویرے بس کے ذریعے کسی گاؤں تک جاتیں اور پھر گھرگھر جا کر بادشاہت کا پیغام سناتیں۔ جب ہم ایک گاؤں کے سارے گھروں میں پیغام سنا لیتیں تو پھر ہم اگلے گاؤں کی طرف چل پڑتیں۔ سردیوں میں بہت زیادہ برف پڑتی تھی جس کی وجہ سے سفر کرنا مشکل ہو جاتا تھا۔ ہم اکثر اُن نشانوں پر چلتی تھیں جو ہم سے پہلے گزرنے والوں نے چھوڑے ہوتے تھے۔ لیکن بعض اوقات دوبارہ برف گِرنے سے یہ نشان بھی مٹ جاتے تھے۔ اِس کے علاوہ موسمِبہار کے شروع میں پڑنے والی برف بہت نرم ہوتی تھی جس میں اکثر پاؤں دھنس جاتے تھے۔ اِس لئے اِس برف پر چلنے میں بڑی دقت ہوتی تھی۔
سرد موسم میں مُنادی کا کام کرتے ہوئے
اِس علاقے کی سخت سردی اور برفباری میں آکر ہمیں گرم کپڑوں کی اہمیت کا اندازہ ہوا۔ ہم اُون کے پاجامے اور دو تین جوڑی موزے اور لمبے بوٹ پہنتی تھیں۔ لیکن برف پھر بھی ہمارے بوٹوں میں گھس جاتی تھی۔ جب ہم کسی گھر کے باہر والی سیڑھیوں تک پہنچتیں تو پہلے ہم اپنے بوٹ اُتار کر برف جھاڑتی تھیں۔ برف پر چلنے کی وجہ سے ہمارے لمبے کوٹ نیچے سے گیلے ہو جاتے تھے اور پھر ٹھنڈ کی وجہ سے جم کر سخت اور بھاری ہو جاتے تھے۔ ایک مرتبہ ایک عورت نے ہم سے کہا: ”آپ کا ایمان واقعی بڑا مضبوط ہے۔ ورنہ اِتنے خراب موسم میں بھلا کون اپنے گھر سے نکلتا ہے۔“ ہم ۱۱ کلو میٹر (۷ میل) چل کر اُس عورت کے گھر گئی تھیں۔
چونکہ ہم بہت دُوردُور علاقوں میں مُنادی کا کام کرنے جاتی تھیں اِس لئے ہم رات کو اکثر مقامی لوگوں کے گھروں میں ٹھہرتی تھیں۔ جب ہمیں کسی علاقے میں شام ہو جاتی تو ہم لوگوں سے پوچھتیں کہ ”کیا ہم رات کو آپ کے گھر پر ٹھہر سکتی ہیں؟“ لوگوں کے گھر تو بہت ہی سادہ اور چھوٹے تھے مگر اُن کے دل بہت بڑے تھے۔ وہ ہمیں نہ صرف ٹھہرنے کی جگہ دیتے تھے بلکہ کھانا بھی کھلاتے تھے۔ اکثر ہم فرش پر ہرن کی یا کبھیکبھار ریچھ کی کھال بچھا کر سوتی تھیں۔ لیکن کبھیکبھی ہمیں سونے کے لئے آرامدہ بستر مل جاتا تھا۔ ایک بار ہم ایک عورت کے ہاں ٹھہریں جس کا گھر بہت بڑا تھا۔ وہ ہمیں ایک الگ کمرے میں لے گئی جہاں پر بہت ہی خوبصورت پلنگ اور آرامدہ بستر بچھا ہوا تھا۔ اکثر جن لوگوں کے پاس ہم ٹھہرتیں، اُن کے ساتھ رات گئے تک بائبل سے مختلف موضوعات پر بات کرتی رہتیں۔ ایک مرتبہ ہم ایک میاںبیوی سے ملیں اور اُنہوں نے ہمیں اپنے چھوٹے سے گھر میں ٹھہرنے کی دعوت دی۔ اُنہوں نے کمرے کے ایک کونے میں اپنا بستر لگایا اور دوسرے کونے میں ہمارا۔ وہ دونوں ہم سے اِتنے سوال پوچھ رہے تھے کہ ہمیں بات کرتےکرتے صبح ہو گئی۔
ہماری محنت رنگ لائی
شمالی فنلینڈ بہت ہی خوبصورت ہے۔ ہر نیا موسم اِس کی خوبصورتی میں ایک نیا رنگ بھرتا ہے۔ لیکن ہماری نظر میں تو وہ لوگ زیادہ خوبصورت تھے جو شوق سے یہوواہ خدا کے بارے میں سیکھنا چاہتے تھے۔ یہاں ہم نے کچھ لکڑہاروں کو بھی بادشاہت کا پیغام سنایا جو نوکری کی غرض سے آئے تھے۔ بعض اوقات ہم کسی گھر میں جاتیں تو ہمیں درجنوں لمبےتڑنگے آدمی ملتے۔ یہ آدمی بھی پاک کلام کے پیغام کو بڑی خوشی سے سنتے اور کتابیں اور رسالے لیتے۔
اپنی خدمت کے دوران ہمیں بہت سے دلچسپ تجربے بھی ہوئے۔ ایک مرتبہ بس اڈے کی گھڑی پانچ منٹ آگے تھی اِس لئے ہماری بس چھوٹ گئی۔ پھر ہم کوئی دوسری بس لے کر ایک ایسے گاؤں میں گئیں جہاں ہم نے پہلے مُنادی کا کام نہیں کِیا تھا۔ پہلے ہی گھر میں ہماری ملاقات ایک جوان عورت سے ہوئی۔ اُس نے ہم سے کہا: ”مَیں آپ ہی کا انتظار کر رہی تھی۔“ ہم دراصل اُس کی بہن کے ساتھ بائبل کا مطالعہ کرتی تھیں۔ اِس عورت نے اپنی بہن سے کہا تھا کہ ”تُم جن عورتوں کے ساتھ بائبل کا مطالعہ کر رہی ہو، اُنہیں میرے پاس بھی بھیجو۔“ ہمیں یہ پیغام نہیں ملا تھا۔ لیکن یہ عجیب اتفاق تھا کہ اِس عورت نے جس دن پر آنے کے لئے کہا تھا، ہم اُسی دن اُس کے پاس پہنچیں۔ ہم نے اِس عورت کے ساتھ اور اُس کے پڑوس میں رہنے والے اُس کے رشتہداروں کے ساتھ بائبل کا مطالعہ شروع کر دیا۔ اِس کے کچھ دیر بعد ہم اِن سب کو ایک ساتھ بائبل سے تعلیم دینے لگیں۔ اِس طرح ۱۲ لوگ بائبل کا مطالعہ کرنے کے لئے جمع ہوتے تھے۔ اِس خاندان کے کئی افراد یہوواہ کے گواہ بن چکے ہیں۔
سن ۱۹۶۵ء میں ہمیں خدمت کرنے کے لئے ایک قصبے میں بھیجا گیا جس کا نام کوسامو ہے۔ ہم ابھی بھی اِسی قصبے میں خدمت کر رہی ہیں۔ یہ قصبہ دائرہقطبشمالی کے تھوڑا نیچے واقع ہے۔ اُس وقت اِس قصبے میں صرف ایک کلیسیا تھی جس میں تھوڑے سے مبشر تھے۔ شروعشروع میں ہمیں اِس علاقے میں مُنادی کا کام کرنا بہت مشکل لگا۔ یہاں کے لوگ اپنے مذہب کے بڑے پکے تھے اور یہوواہ کے گواہوں کو پسند نہیں کرتے تھے۔ لیکن بہت سے لوگوں کو بائبل کا پیغام ٹھکرانا اچھا نہیں لگتا تھا۔ اِس لئے ہمیں اُن کے ساتھ بات کرنے کا موقع مل جاتا تھا۔ آہستہآہستہ ہم نے لوگوں سے واقفیت پیدا کرنے کی کوشش کی۔ ہماری محنت رنگ لائی اور دو سال کے بعد کچھ لوگ ہمارے ساتھ بائبل کا مطالعہ کرنے کے لئے تیار ہو گئے۔
ہمارا جوش آج بھی برقرار ہے
اُن لوگوں کے ساتھ جنہیں ہم نے بائبل سے تعلیم دی
یہ سچ ہے کہ اب ہمارے جسم میں ساراسارا دن مُنادی کا کام کرنے کی طاقت نہیں رہی پھر بھی ہم تقریباً ہر روز اِس کام میں حصہ لیتی ہیں۔ سن ۱۹۸۷ء میں ہمارے بھتیجے کے کہنے پر ایلی نے ۵۶ سال کی عمر میں گاڑی چلانا سیکھ لی اور لائسنس بھی لے لیا۔ اب ہمارے لئے اپنے وسیع علاقے میں لوگوں کو بادشاہت کی خوشخبری سنانا کسی حد تک آسان ہو گیا ہے۔ اِس کے تھوڑی دیر بعد ہمارے علاقے میں نیا کنگڈمہال بنا جس کے ساتھ ایک چھوٹا سا فلیٹ بنایا گیا۔ اب ہم اِسی فلیٹ میں رہتی ہیں۔
ہمیں اِس بات کی بڑی خوشی ہے کہ شمالی فنلینڈ میں بہت سے لوگوں نے بادشاہت کا پیغام قبول کِیا ہے۔ جب ہم نے یہاں مُنادی کا کام شروع کِیا تھا تو اِتنے بڑے علاقے میں صرف اِکادُکا گواہ تھے۔ لیکن اب یہاں پر کئی کلیسیائیں ہیں۔ اکثر اجتماعوں پر ہمیں کوئی انجان شخص ملتا ہے اور ہم سے پوچھتا ہے: ”کیا آپ نے مجھے پہچانا؟“ پھر ہمیں پتہ چلتا ہے کہ جب وہ بہت چھوٹا تھا تو ہم اُس کے گھر والوں کے ساتھ بائبل کا مطالعہ کرتی تھیں۔ جو بیج ہم نے کئی سال پہلے بویا تھا، وہ واقعی پھل لایا ہے۔—۱-کر ۳:۶۔
ہم بارش میں بھی مُنادی کا کام کرتی ہیں۔
سن ۲۰۰۸ء میں ہمیں خاص پہلکاروں کے طور پر خدمت کرتے ہوئے ۵۰ سال ہو گئے۔ اِس عرصے کے دوران ہم ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھاتی رہیں۔ اور اِس کے لئے ہم یہوواہ خدا کی شکرگزار ہیں۔ ہم نے ایک سادہ زندگی بسر کی مگر ہمیں کبھی کسی چیز کی کمی نہیں ہوئی۔ (زبور ۲۳:۱) شروع میں ہم پہلکاروں کے طور پر خدمت کرنے سے ہچکچاتی تھیں۔ لیکن اب ہم یہ جان گئی ہیں کہ ہماری ہچکچاہٹ بالکل بےبنیاد تھی۔ اِن تمام سالوں کے دوران یہوواہ خدا نے ہمیں سنبھالا ہے اور اپنا یہ وعدہ نبھایا ہے: ”مَیں تجھے زور بخشوں گا۔ مَیں یقیناً تیری مدد کروں گا اور مَیں اپنی صداقت کے دہنے ہاتھ سے تجھے سنبھالوں گا۔“—یسع ۴۱:۱۰۔