یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م12 1/‏10 ص.‏ 8-‏10
  • عورتیں خدا کے سائے میں

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • عورتیں خدا کے سائے میں
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—2012ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • یسوع مسیح کی نظر میں عورتوں کی حیثیت
  • بائبل کے اصول اور عورتوں کی خوشگوار زندگی
  • مسیحی عورتیں عزت‌واحترام کی مستحق ہیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1995ء
  • خواتین کیلئے مستقبل کیا تھامے ہوئے ہے؟‏
    جاگو!‏—‏1998ء
  • عورتیں خدا کی نظر میں کیا مقام رکھتی ہیں؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—2012ء
  • یہوواہ کے مقصد کی تکمیل میں عورتوں کا کردار
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے—2014ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—2012ء
م12 1/‏10 ص.‏ 8-‏10

عورتیں خدا کے سائے میں

جب یسوع مسیح زمین پر تھے تو اُنہوں نے اپنے باپ کی صفات کو ظاہر کِیا۔ اُنہوں نے جو کچھ بھی کِیا، اُس سے اُن کے باپ کا عکس نظر آیا۔ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏مَیں .‏ .‏ .‏ اپنی طرف سے کچھ نہیں کرتا بلکہ جس طرح باپ نے مجھے سکھایا اُسی طرح یہ باتیں کہتا ہوں اور .‏ .‏ .‏ مَیں ہمیشہ وہی کام کرتا ہوں جو اُسے پسند آتے ہیں۔“‏ (‏یوحنا ۸:‏۲۸، ۲۹؛‏ کلسیوں ۱:‏۱۵‏)‏ لہٰذا عورتوں کے ساتھ یسوع مسیح کے رویے اور برتاؤ کا جائزہ لینے سے ہم یہ سمجھنے کے قابل ہوتے ہیں کہ خدا کی نظر میں عورتوں کا مقام کیا ہے اور وہ اُن کے لئے کیا چاہتا ہے۔‏

انجیلوں پر غور کرنے کے بعد بعض مذہبی عالموں نے یہ تسلیم کِیا کہ جیسے یسوع مسیح عورتوں کے ساتھ پیش آتے تھے، اُس زمانے کے باقی مرد عورتوں سے ویسے پیش نہیں آتے تھے۔ عورتوں کے ساتھ یسوع مسیح کا سلوک کس لحاظ سے فرق تھا؟ کیا یسوع مسیح کی تعلیمات سے عورتوں کو آج بھی فائدہ ہوتا ہے؟‏

یسوع مسیح کی نظر میں عورتوں کی حیثیت

▪ یسوع مسیح کی نظر میں عورتیں محض جنسی تسکین کا ذریعہ نہیں تھیں۔‏ بعض یہودی مذہبی رہنماؤں کا خیال تھا کہ عورتوں کے ساتھ ذرا سا بھی میل‌جول شہوت کو اُبھار سکتا ہے۔ چونکہ عورت کو ایک فتنہ خیال کِیا جاتا تھا اِس لئے اُن پر پابندی لگائی گئی کہ وہ سرِعام مردوں سے بات نہ کریں اور جہاں بھی جائیں سر ڈھانپ کر جائیں۔ لیکن یسوع مسیح نے مردوں کو نصیحت کی کہ وہ اپنی خواہشات کو قابو میں رکھیں اور عورتوں سے میل‌جول بند نہ کریں بلکہ اُن کے ساتھ عزت سے پیش آئیں۔—‏متی ۵:‏۲۸‏۔‏

یسوع مسیح نے یہ بھی کہا کہ ”‏جو کوئی اپنی بیوی کو چھوڑ دے اور دوسری سے بیاہ کرے وہ اُس پہلی کے برخلاف زنا کرتا ہے۔“‏ (‏مرقس ۱۰:‏۱۱، ۱۲‏)‏ یوں اُنہوں نے یہودی مذہبی رہنماؤں کی اِس تعلیم کو رد کِیا کہ مرد ”‏ہر ایک سبب“‏ سے اپنی بیوی کو طلاق دے سکتا ہے۔ (‏متی ۱۹:‏۳،‏ ۹‏)‏ اپنی ’‏بیوی کے برخلاف زنا‘‏ کرنے کی بات بہت سے یہودیوں کے لئے عجیب تھی۔ اُن کے مذہبی اُستادوں نے اُنہیں یہی سکھایا تھا کہ شوہر کبھی اپنی بیوی کے خلاف زنا نہیں کرتا، صرف بیوی اپنے شوہر کے خلاف زنا کرتی ہے۔ بائبل کی ایک تفسیر میں بتایا گیا ہے کہ ”‏جیسے بیوی شوہر کی پابند ہے ویسے ہی شوہر کو بیوی کا پابند کرکے یسوع نے عورتوں کے رُتبے اور وقار کو بلند کِیا۔“‏

▪ آج‌کل یسوع مسیح کی تعلیم کا اثر:‏یہوواہ کے گواہ جب عبادت کے لئے جمع ہوتے ہیں تو مرد اور عورتیں بِلاروک‌ٹوک ایک دوسرے سے بات کرتے ہیں۔ عورتوں کو اِس بات کا خطرہ نہیں ہوتا کہ مرد اُنہیں غلط نگاہ سے دیکھیں گے یا پھر اُن کے ساتھ حد سے زیادہ بے‌تکلف ہونے کی کوشش کریں گے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ یہوواہ کے گواہوں کی کلیسیا میں مرد پاک کلام کی ہدایت کے مطابق ”‏بڑی عمر والی عورتوں کو ماں جان کر اور جوان عورتوں کو کمال پاکیزگی سے بہن جان کر“‏ اُن کی عزت کرتے ہیں۔—‏۱-‏تیمتھیس ۵:‏۲‏۔‏

▪ یسوع مسیح نے عورتوں کو تعلیم کا حق‌دار سمجھا:‏یہودی مذہبی اُستادوں کا خیال تھا کہ عورتوں کو تعلیم نہیں دی جانی چاہئے۔ لیکن یسوع مسیح نے عورتوں کو تعلیم دی اور اُنہیں اپنے ایمان کا اِظہار کرنے کا موقع دیا۔ ایک موقعے پر یسوع مسیح ایک عورت کو تعلیم دے رہے تھے جن کا نام مریم تھا۔ لیکن مریم کی بہن مرتھا نے یسوع مسیح سے کہا کہ گھر میں ڈھیروں کام پڑے ہیں اِس لئے مریم کو اُن کی مدد کرنی چاہئے۔ یسوع مسیح نے مرتھا کو جو جواب دیا، اُس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گھریلو کام‌کاج کے علاوہ اَور بھی اہم کام ہیں جن پر عورتوں کو توجہ دینی چاہئے۔ (‏لوقا ۱۰:‏۳۸-‏۴۲‏)‏ جب مرتھا کے بھائی لعزر وفات پا گئے تو یسوع مسیح اور مرتھا کے درمیان جو بات‌چیت ہوئی، اُس سے پتہ چلتا ہے کہ مرتھا گہری باتوں کا علم رکھتی تھیں۔ اِس سے ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ مرتھا نے بھی یسوع مسیح سے تعلیم پائی تھی۔—‏یوحنا ۱۱:‏۲۱-‏۲۷‏۔‏

یسوع مسیح چاہتے تھے کہ عورتیں اُس زمانے کے عام نظریات سے متاثر نہ ہوں۔ اِس لئے وہ اُن کے نظریات کو سننے اور ضرورت کے مطابق اُن کی اصلاح کرنے کے لئے تیار رہتے تھے۔ اُس زمانے میں بہت سی یہودی عورتوں کی خواہش یہ ہوتی تھی کہ وہ ایک نبی کی ماں بنیں یا پھر اُن کا ایسا بیٹا ہو جس پر وہ فخر کر سکیں۔ جب ایک مرتبہ ایک عورت نے یسوع مسیح سے کہا کہ ”‏مبارک ہے وہ رحم جس میں تُو رہا“‏ تو یسوع مسیح نے اُس عورت کی توجہ اِس سے بھی زیادہ اہم بات پر دِلائی۔ (‏لوقا ۱۱:‏۲۷، ۲۸‏)‏ اُنہوں نے بتایا کہ خدا کی فرمانبرداری کرنا زیادہ فخر کی بات ہے۔ یوں اُنہوں نے واضح کِیا کہ معاشرے میں عورتوں کا کام صرف گھر سنبھالنا اور اولاد پیدا کرنا ہی نہیں ہے بلکہ اَور بھی ضروری کام ہیں جو اُنہیں کرنے چاہئیں۔—‏یوحنا ۸:‏۳۲‏۔‏

▪ آج‌کل یسوع مسیح کی تعلیم کا اثر:‏ یہوواہ کے گواہوں کی کلیسیاؤں میں عورتیں عبادت کے دوران اپنے ایمان کا اِظہار کرنے کے لئے تبصرے پیش کرتی ہیں۔ جو مرد کلیسیاؤں میں پیشوائی کرتے ہیں وہ عورتوں کے تبصروں کی بڑی قدر کرتے ہیں۔ وہ بڑی عمر والی عورتوں کی عزت کرتے ہیں کیونکہ وہ تنہائی میں اور دوسروں کے سامنے اپنا چال‌چلن نیک رکھنے سے اچھی مثال قائم کرتی ہیں۔ (‏ططس ۲:‏۳‏)‏ کلیسیا کے پیشوا اِس بات کی بھی قدر کرتے ہیں کہ عورتیں خدا کی بادشاہت کی خوشخبری سنانے میں بہت بڑا حصہ ادا کر رہی ہیں۔—‏زبور ۶۸:‏۱۱‏؛ بکس ”‏کیا پولس رسول نے مجمع میں عورتوں کے بولنے پر پابندی لگائی تھی؟“‏ کو دیکھیں۔‏

▪ یسوع مسیح کی نظر میں عورتوں کی زندگی بھی بہت اہم تھی۔‏ یسوع مسیح کے زمانے میں بیٹوں کے مقابلے میں بیٹیوں کو کم‌تر خیال کِیا جاتا تھا۔ یہودیوں کی مذہبی کتاب تالمود میں یہ بتایا گیا ہے کہ ”‏خوش‌نصیب ہے وہ شخص جس کے گھر میں بیٹے ہیں اور بدنصیب ہے وہ شخص جس کے گھر میں بیٹیاں ہیں۔“‏ بعض والدین بیٹیوں کو بوجھ سمجھتے تھے کیونکہ اُنہیں اُن کے لئے شوہر ڈھونڈنا پڑتا تھا اور اُنہیں جہیز دینا پڑتا تھا۔ اِس کے علاوہ بیٹیاں اُن کے بڑھاپے کا سہارا بھی نہیں بن سکتی تھیں۔‏

یسوع مسیح نے ظاہر کِیا کہ اُن کی نظر میں ایک لڑکی کی زندگی اور ایک لڑکے کی زندگی دونوں برابر ہیں۔ اِس بات کا ثبوت یہ ہے کہ اُنہوں نے نائین کے شہر میں رہنے والی ایک بیوہ کے بیٹے کو بھی زندہ کِیا اور یائیر نامی شخص کی بیٹی کو بھی زندہ کِیا۔ (‏مرقس ۵:‏۳۵،‏ ۴۱، ۴۲؛‏ لوقا ۷:‏۱۱-‏۱۵‏)‏ یسوع مسیح نے ایک ایسی عورت کو بھی شفا دی ”‏جس کو اٹھارہ برس سے کسی بدروح کے باعث کمزوری تھی۔“‏ اِس عورت کو شفا دینے کے بعد یسوع مسیح نے اُسے ”‏اؔبرہام کی بیٹی“‏ کہہ کر پکارا۔ یہودیوں کی کتابوں میں کسی عورت کو شاید ہی کبھی اِس طرح مخاطب کِیا گیا ہو۔ (‏لوقا ۱۳:‏۱۰-‏۱۶‏)‏ اُس عورت کو ”‏اؔبرہام کی بیٹی“‏ کہہ کر یسوع مسیح نے اُسے نہ صرف یہودی معاشرے کا ایک رُکن قرار دیا بلکہ اُس کے ایمان کی تعریف بھی کی۔—‏لوقا ۱۹:‏۹؛‏ گلتیوں ۳:‏۷‏۔‏

▪ آج‌کل یسوع مسیح کی تعلیم کا اثر:‏ ایک مشرقی کہاوت ہے کہ ”‏لڑکیاں پرایا دھن ہوتی ہیں۔“‏ لیکن یہوواہ خدا کی عبادت کرنے والے والد ایسی سوچ نہیں رکھتے۔ وہ اپنے بیٹے اور بیٹیوں کی ایک جیسی پرورش کرتے ہیں۔ وہ اِس بات کا خیال رکھتے ہیں کہ اُن کے بچوں کو اچھی تعلیم ملے اور اگر اُن کا بیٹا یا بیٹی بیمار ہو جائے تو اُس کا اچھا علاج ہو۔‏

◼ یسوع مسیح کی نظر میں عورتیں قابلِ‌اعتماد تھیں:‏یہودی عدالتوں میں عورتوں کی گواہی کو غلاموں کی گواہی کے برابر سمجھا جاتا تھا۔ پہلی صدی کے تاریخ‌دان یوسیفس نے کہا:‏ ”‏عورتوں کی گواہی کو قبول نہ کِیا جائے کیونکہ وہ جلدباز ہوتی ہیں اور کسی بات کو سنجیدگی سے نہیں لیتیں۔“‏

اِس کے برعکس یسوع مسیح نے عورتوں کو چنا کہ وہ اُن کے جی اُٹھنے کی گواہی دیں۔ (‏متی ۲۸:‏۱،‏ ۸-‏۱۰‏)‏ اِن عورتوں کی آنکھوں کے سامنے یسوع مسیح کو موت کے گھاٹ اُتارا گیا تھا اور دفنایا بھی گیا تھا۔ پھر بھی یسوع مسیح کے شاگردوں نے اِن عورتوں کی بات کا یقین نہ کِیا۔ (‏متی ۲۷:‏۵۵، ۵۶،‏ ۶۱؛‏ لوقا ۲۴:‏۱۰، ۱۱‏)‏ لیکن یسوع مسیح مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے بعد سب سے پہلے عورتوں کو دِکھائی دئے۔ یوں اُنہوں نے ظاہر کِیا کہ عورتوں کی گواہی بھی اُتنی ہی قابلِ‌اعتماد ہے جتنی کہ اُن کے دوسرے شاگردوں کی۔—‏اعمال ۱:‏۸،‏ ۱۴‏۔‏

▪ آج‌کل یسوع مسیح کی تعلیم کا اثر:‏یہوواہ کے گواہوں کی کلیسیا میں پیشوائی کرنے والے مرد، عورتوں کی رائے کی قدر کرتے ہیں۔ یوں وہ اُن کے لئے عزت ظاہر کرتے ہیں۔ یہوواہ خدا کی عبادت کرنے والے شوہر بھی اپنی بیویوں کی بات دھیان سے سنتے ہیں۔ اِس طرح وہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ دل سے اپنی بیویوں کی ”‏عزت“‏ کرتے ہیں۔—‏۱-‏پطرس ۳:‏۷؛‏ پیدایش ۲۱:‏۱۲‏۔‏

بائبل کے اصول اور عورتوں کی خوشگوار زندگی

یسوع مسیح کی مثال پر عمل کرنے والے مردوں کی نظر میں عورتوں کا وہی مقام ہے جو یہوواہ خدا نے شروع میں عورت کو بخشا تھا۔ (‏پیدایش ۱:‏۲۷، ۲۸‏)‏ مسیحی شوہر یہ نظریہ نہیں رکھتے کہ عورتیں مردوں سے کم‌تر ہیں۔ اِس کی بجائے وہ بائبل کے اصولوں پر عمل کرتے ہیں جس سے اُن کی بیویوں کو خوشی اور اطمینان حاصل ہوتا ہے۔—‏افسیوں ۵:‏۲۸، ۲۹‏۔‏

اِس سلسلے میں یلینہ کی مثال پر غور کریں۔ اُن کا شوہر اُن کے ساتھ بہت بُرا سلوک کرتا تھا جسے وہ خاموشی سے سہہ رہی تھیں۔ اُن کے شوہر نے ایک ایسے معاشرے میں پرورش پائی تھی جس میں بیوی پر ظلم کرنا عام بات تھی۔ اِس معاشرے میں یہ دستور بھی تھا کہ اگر کسی مرد کا دل کسی عورت پر آ جاتا تو وہ اُسے شادی کرنے کے لئے اُٹھا کر لے جاتا۔ پھر یلینہ نے یہوواہ کے گواہوں کے ساتھ بائبل کا مطالعہ کرنا شروع کِیا۔ اُنہوں نے کہا کہ ”‏بائبل کی تعلیم حاصل کرکے مجھے بڑا حوصلہ ملا۔ مَیں یہ سمجھ گئی کہ کوئی ایک ہستی موجود ہے جو مجھ سے پیار کرتی ہے اور جسے میری بڑی فکر ہے۔ مَیں یہ بھی سمجھ گئی کہ اگر میرا شوہر بائبل کا مطالعہ کرنے لگے تو شاید میرے ساتھ اُس کا سلوک بدل جائے۔“‏ اُن کا یہ خواب بالآخر پورا ہو گیا۔ اُن کے شوہر نے یہوواہ کے گواہوں کے ساتھ بائبل کا مطالعہ شروع کر دیا اور پھر بپتسمہ لے لیا۔ یلینہ نے کہا:‏ ”‏میرے شوہر نے غصے کو قابو میں رکھنا سیکھ لیا ہے۔ ہم دونوں نے ایک دوسرے کو معاف کرنے کی اہمیت کو پہچان لیا ہے۔“‏ یلینہ کہتی ہیں:‏ ”‏جب ہم دونوں بائبل کے اصولوں پر عمل کرنے لگے تو مجھے محبت اور تحفظ کا احساس ہوا۔“‏—‏کلسیوں ۳:‏۱۳،‏ ۱۸، ۱۹‏۔‏

یلینہ کی طرح لاکھوں مسیحی بیویوں نے یہ دیکھا ہے کہ جب اُنہوں نے اور اُن کے شوہروں نے اپنی ازدواجی زندگی بائبل کے اصولوں کے مطابق گزارنے کی کوشش کی تو اُنہیں خوشی اور اطمینان حاصل ہوا۔ ایسی بیویوں کو یہوواہ کے گواہوں کی کلیسیا میں عزت، تسلی اور آزادی ملی ہے۔—‏یوحنا ۱۳:‏۳۴، ۳۵‏۔‏

یہوواہ خدا کی عبادت کرنے والے مرد اور عورتیں دونوں اِس حقیقت سے واقف ہیں کہ وہ گنہگار ہیں اور وہ اپنے بل‌بوتے پر گُناہ کے قبضے سے چھوٹ نہیں سکتے۔ لیکن اپنے آسمانی باپ یہوواہ خدا کی قربت میں آنے سے اُنہیں یہ اُمید ملی ہے کہ وہ ”‏فنا کے قبضہ سے چھوٹ کر خدا کے فرزندوں کے جلال کی آزادی میں داخل“‏ ہوں گے۔ خدا کی طرف سے مردوں اور عورتوں دونوں کے لئے کیا ہی شاندار اُمید!‏—‏رومیوں ۸:‏۲۰، ۲۱‏۔‏

‏[‏صفحہ ۹ پر بکس]‏

کیا پولس رسول نے مجمع میں عورتوں کے بولنے پر پابندی لگائی تھی؟‏

پولس رسول نے نصیحت کی کہ ”‏عورتیں کلیسیا کے مجمع میں خاموش رہیں۔“‏ (‏۱-‏کرنتھیوں ۱۴:‏۳۴‏)‏ اُن کی اِس نصیحت کا کیا مطلب تھا؟ کیا وہ یہ تاثر دے رہے تھے کہ عورتوں میں عقل کی کمی ہوتی ہے؟ جی‌نہیں۔ پولس رسول نے ایسی کئی عورتوں کا ذکر کِیا جنہوں نے دوسروں کو تعلیم دی تھی۔ (‏۲-‏تیمتھیس ۱:‏۵؛‏ ططس ۲:‏۳-‏۵‏)‏ کرنتھس کی کلیسیا کے نام خط میں پولس رسول نے صرف عورتوں کو ہی خاموش رہنے کی نصیحت نہیں کی تھی۔ اُنہوں نے نبوّت کرنے اور غیرزبان بولنے والے مسیحیوں کو بھی یہ نصیحت کی تھی کہ جب مجمع میں کوئی اَور مسیحی تعلیم دے رہا ہو تو وہ خاموش رہیں۔ (‏۱-‏کرنتھیوں ۱۴:‏۲۶-‏۳۰،‏ ۳۳‏)‏ ایسا لگتا ہے کہ جو عورتیں نئی نئی مسیحی بنی تھیں، اُنہیں مزید باتیں سیکھنے کا اِتنا شوق تھا کہ وہ مجمع کے دوران مقرر کی بات کاٹ کر اُس سے سوال پوچھتی تھیں جیسا کہ اُس وقت یونانیوں میں عام رواج تھا۔ مجمع میں اِس طرح کے خلل سے بچنے کے لئے پولس رسول نے عورتوں کو نصیحت کی کہ اگر اُن کا کوئی سوال ہو تو ”‏گھر میں اپنے‌اپنے شوہر سے پوچھیں۔“‏—‏۱-‏کرنتھیوں ۱۴:‏۳۵‏۔‏

‏[‏صفحہ ۱۰ پر تصویر]‏

یسوع مسیح نے مریم مگدلینی کو یہ اعزاز بخشا کہ وہ شاگردوں کو یسوع مسیح کے جی اُٹھنے کی خبر دیں۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں