یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م12 1/‏4 ص.‏ 21-‏24
  • پورے دل سے یہوواہ خدا کی عبادت کرتے رہیں

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • پورے دل سے یہوواہ خدا کی عبادت کرتے رہیں
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—2012ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • بائبل میں لفظ دل سے کیا مراد ہے؟‏
  • اپنے دل کی حفاظت کرنا کیوں ضروری ہے؟‏
  • دل کی جانچ کرنے کا ایک طریقہ
  • ‏”‏نیکی سے لپٹے“‏ رہیں
  • ہوشیار رہیں
  • بِلاناغہ دُعا کریں
  • یہوواہ کو خوش کرنے والا دل پیدا کریں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2001ء
  • اپنے دل کی خوب حفاظت کریں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2001ء
  • کیا آپ کے دل میں خدا کو پہچاننے کی خواہش ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے—2013ء
  • آپ روحانی دل کے دورے سے بچ سکتے ہیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2001ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—2012ء
م12 1/‏4 ص.‏ 21-‏24

پورے دل سے یہوواہ خدا کی عبادت کرتے رہیں

‏”‏تُو اَے میرے بیٹے .‏ .‏ .‏ اپنے باپ کے خدا کو پہچان اور پورے دل .‏ .‏ .‏ سے اُس کی عبادت کر۔“‏—‏۱-‏توا ۲۸:‏۹‏۔‏

اِن سوالوں کے جواب ڈھونڈیں:‏

بائبل میں جب لفظ دل استعمال ہوتا ہے تو یہ اکثر کس کی طرف اشارہ کرتا ہے؟‏

اپنے دل کی جانچ کرنے کا ایک طریقہ کیا ہے؟‏

ہم کیا کر سکتے ہیں تاکہ ہم پورے دل سے یہوواہ خدا کی عبادت کرتے رہیں؟‏

۱، ۲.‏ (‏الف)‏ پاک کلام میں انسانی جسم کے کس عضو کا سب سے زیادہ ذکر کِیا گیا ہے؟ (‏ب)‏ یہ سمجھنا کیوں ضروری ہے کہ لفظ دل سے دراصل کیا مراد ہے؟‏

خدا کے کلام میں انسانی جسم کے اعضا کا ذکر اکثر علامتی معنوں میں کِیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر ایوب نے کہا:‏ ”‏میرے ہاتھوں میں ظلم نہیں۔“‏ بادشاہ سلیمان نے لکھا:‏ ”‏خوشخبری ہڈیوں میں فربہی پیدا کرتی ہے۔“‏ یہوواہ خدا نے حزقی‌ایل نبی سے کہا:‏ ”‏مَیں نے تیری پیشانی کو .‏ .‏ .‏ چقماق سے بھی زیادہ سخت کر دیا ہے۔“‏ اِس کے علاوہ ایک موقعے پر کچھ لوگوں نے پولس رسول سے کہا:‏ ”‏تُو ہمارے کانوں میں انوکھی باتیں پہنچاتا ہے۔“‏—‏ایو ۱۶:‏۱۷؛‏ امثا ۱۵:‏۳۰؛‏ حز ۳:‏۹؛‏ اعما ۱۷:‏۲۰‏، کیتھولک ترجمہ۔‏

۲ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ بائبل میں کس انسانی عضو کا علامتی معنوں میں سب سے زیادہ ذکر ہوا ہے؟ حنّہ نے اپنی دُعا میں اِس عضو کا ذکر کِیا۔ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏میرا دل [‏یہوواہ]‏ میں مگن ہے۔“‏ (‏۱-‏سمو ۲:‏۱‏)‏ بائبل میں لفظ دل تقریباً ایک ہزار مرتبہ آیا ہے۔ اور بائبل لکھنے والوں نے اِس لفظ کو زیادہ‌تر علامتی مفہوم میں استعمال کِیا۔ ہمارے لئے یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ لفظ دل سے دراصل کیا مراد ہے کیونکہ بائبل میں ہدایت دی گئی ہے کہ ہم اپنے دل کی خوب حفاظت کریں۔ ‏(‏امثال ۴:‏۲۳ کو پڑھیں۔)‏ آئیں، دیکھیں کہ جب پاک کلام میں لفظ دل استعمال ہوتا ہے تو یہ کس کی طرف اشارہ کرتا ہے۔‏

بائبل میں لفظ دل سے کیا مراد ہے؟‏

۳‏.‏ لفظ دل کے علامتی معنی جاننے کے لئے ہم کیا کر سکتے ہیں؟‏

۳ خدا کے کلام میں لفظ دل کی تشریح نہیں کی گئی۔ تو پھر ہم کیسے جان سکتے ہیں کہ اِس لفظ کے علامتی معنی کیا ہیں؟ اِس سلسلے میں ایک مثال پر غور کریں۔ تصور کریں کہ ایک دیوار پر ایک ہزار چھوٹے‌چھوٹے پتھروں سے ایک نہایت خوبصورت تصویر بنی ہے۔ اگر آپ اِس تصویر کو بہت قریب سے دیکھیں گے تو آپ کو صرف چند پتھر دِکھائی دیں گے۔ لیکن جب آپ تھوڑا پیچھے ہٹ کر اِس پر نظر کریں گے تو آپ کو پوری تصویر دِکھائی دے گی جو اِن پتھروں کو بڑی مہارت سے جوڑ کر بنائی گئی ہے۔ اِسی طرح اگر ہم پاک کلام میں اُن تمام آیتوں پر غور کریں گے جن میں لفظ دل استعمال ہوا ہے تو ہم یہ سمجھ جائیں گے کہ اِس لفظ کے علامتی معنی کیا ہیں۔‏

۴‏.‏ (‏الف)‏ بائبل میں جب لفظ دل استعمال ہوتا ہے تو یہ اکثر کس کی طرف اشارہ کرتا ہے؟ (‏ب)‏ متی ۲۲:‏۳۷ میں یسوع مسیح نے جو بات کہی، اُس کا مطلب کیا ہے؟‏

۴ بائبل لکھنے والوں نے جب لفظ دل استعمال کِیا تو اکثر وہ انسان کی ذات اور فطرت کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔انسان کی ذات اور فطرت میں اُس کی خواہشیں، جذبات، خیال، رویے، مزاج، صلاحیتیں اور ارادے شامل ہیں۔ ‏(‏استثنا ۱۵:‏۷؛‏ امثال ۱۶:‏۹؛‏ اعمال ۲:‏۲۶ کو پڑھیں۔)‏ لیکن بعض آیتوں میں لفظ دل اِن میں سے چند ایک معنوں میں استعمال کِیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر یسوع مسیح نے کہا تھا:‏ ”‏[‏یہوواہ]‏ اپنے خدا سے اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری عقل سے محبت رکھ۔“‏ (‏متی ۲۲:‏۳۷‏)‏ اِس آیت میں لفظ دل ایک شخص کے جذبات اور احساسات کی طرف اشارہ کرتا ہے جبکہ لفظ جان اُس کے طرزِزندگی اور لفظ عقل اُس کی سوچ اور فیصلوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یسوع مسیح نے اِن تینوں کا الگ الگ ذکر کرنے سے اِس بات پر زور دیا کہ ہمیں نہ صرف اپنے طرزِزندگی اور فیصلوں سے بلکہ اپنے جذبات سے بھی ظاہر کرنا چاہئے کہ ہم خدا سے محبت کرتے ہیں۔ (‏یوح ۱۷:‏۳؛‏ افس ۶:‏۶‏)‏ لیکن بائبل میں جب صرف دل کا ذکر آتا ہے تو یہ انسان کی ذات اور فطرت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔‏

اپنے دل کی حفاظت کرنا کیوں ضروری ہے؟‏

۵‏.‏ ہمیں پورے دل سے یہوواہ خدا کی عبادت کیوں کرنی چاہئے؟‏

۵ بادشاہ داؤد نے اپنے بیٹے سلیمان کی توجہ اِس بات پر دِلائی کہ ”‏اپنے باپ کے خدا کو پہچان اور پورے دل اور رُوح کی مستعدی سے اُس کی عبادت کر کیونکہ [‏یہوواہ]‏ سب دلوں کو جانچتا ہے اور جو کچھ خیال میں آتا ہے اُسے پہچانتا ہے۔“‏ (‏۱-‏توا ۲۸:‏۹‏)‏ واقعی یہوواہ خدا تمام انسانوں کے دلوں کو جانچتا ہے۔ وہ آپ کے دل کو بھی جانچتا ہے۔ (‏امثا ۱۷:‏۳؛‏ ۲۱:‏۲‏)‏ اگر یہوواہ خدا کو ہمارے دل میں اچھائی دِکھائی دے گی تو ہم اُس کے دوست بن سکیں گے اور ہمارا مستقبل روشن ہوگا۔ لہٰذا ہمیں داؤد بادشاہ کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے پورے دل سے یہوواہ خدا کی عبادت کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔‏

۶‏.‏ اگر ہم ابھی پورے دل سے یہوواہ خدا کی خدمت کر رہے ہیں تو بھی ہمیں کون‌سی بات یاد رکھنی چاہئے؟‏

۶ جب ہم جوش سے یہوواہ خدا کی خدمت کرتے ہیں تو ظاہر ہوتا ہے کہ ہم پورے دل سے اُس کی عبادت کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ اِس بدکار دُنیا کے اثر کی وجہ سے ہمارا جوش ٹھنڈا پڑ سکتا ہے۔ اِس کے علاوہ ہم سب گُناہ کی طرف مائل ہیں اِس لئے پورے دل سے یہوواہ خدا کی عبادت کرنے کا ہمارا عزم کمزور پڑ سکتا ہے۔ (‏یرم ۱۷:‏۹؛‏ افس ۲:‏۲‏)‏ لیکن اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے ساتھ ایسا نہ ہو تو ہمیں باقاعدگی سے اپنے دل کی جانچ کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟‏

۷‏.‏ یہ کیسے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارے دل میں کیا ہے؟‏

۷ جس طرح ہم یہ نہیں دیکھ سکتے کہ ایک درخت اندر سے کیسا ہے اُسی طرح ہم یہ بھی نہیں دیکھ سکتے کہ ایک شخص اندر سے کیسا ہے۔ لیکن یسوع مسیح نے پہاڑی وعظ میں بتایا کہ جیسے ایک درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے ویسے ہی ہمارے کاموں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارے دل میں کیا ہے۔ (‏متی ۷:‏۱۷-‏۲۰‏)‏ آئیں، ہم ایک ایسے طریقے پر غور کریں جس سے ہم اپنے دل کی جانچ کر سکتے ہیں۔‏

دل کی جانچ کرنے کا ایک طریقہ

۸‏.‏ متی ۶:‏۳۳ کے مطابق یہ کیسے ظاہر ہوگا کہ ہمارے دل میں کیا ہے؟‏

۸ پہاڑی وعظ میں یسوع مسیح نے بتایا کہ یہ کیسے ظاہر ہوگا کہ ایک شخص پورے دل سے یہوواہ خدا کی عبادت کرنا چاہتا ہے۔ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏تُم پہلے اُس کی بادشاہی اور اُس کی راست‌بازی کی تلاش کرو تو یہ سب چیزیں بھی تُم کو مل جائیں گی۔“‏ (‏متی ۶:‏۳۳‏)‏ ہم اپنی زندگی میں جن کاموں یا چیزوں کو اہمیت دیتے ہیں، اُن سے پتہ چلتا ہے کہ ہمارے دل میں کیا ہے یعنی ہماری خواہشات، ہمارے خیالات اور ہمارے ارادے کیا ہیں۔ لہٰذا اپنے دل کی جانچ کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ہم اِس بات کا جائزہ لیں کہ ہم کن چیزوں یا کاموں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ اِس طرح ہم جان سکتے ہیں کہ آیا ہم پورے دل سے خدا کی عبادت کر رہے ہیں یا نہیں۔‏

۹‏.‏ یسوع مسیح نے کچھ آدمیوں سے کیا کرنے کو کہا اور اُن آدمیوں کے ردِعمل سے کیا ظاہر ہوتا ہے؟‏

۹ اپنے شاگردوں کو ’‏پہلے بادشاہی کی تلاش کرنے‘‏ کی نصیحت کرنے کے تھوڑی دیر بعد یسوع مسیح نے یروشلیم جانے کا اِرادہ کِیا۔ لوقا کی اِنجیل کے مطابق اُنہوں نے ”‏یرؔوشلیم جانے کو کمر باندھی“‏ حالانکہ وہ جانتے تھے کہ وہاں اُنہیں ستایا جائے گا۔ جب یسوع مسیح اپنے رسولوں کے ساتھ ’‏راہ میں چلے جا رہے تھے‘‏ تو اُن کی ملاقات ایک آدمی سے ہوئی۔ اُنہوں نے اُس آدمی سے کہا:‏ ”‏میرے پیچھے چل۔“‏ اُس آدمی نے جواب دیا:‏ ”‏مجھے اجازت دے کہ پہلے جا کر اپنے باپ کو دفن کروں۔“‏ اِس کے بعد یسوع مسیح ایک اَور شخص سے ملے، اُس سے بھی اُنہوں نے کہا کہ ”‏میرے پیچھے چل۔“‏ مگر اُس نے جواب دیا:‏ ”‏اَے خداوند مَیں تیرے پیچھے چلوں گا لیکن پہلے مجھے اجازت دے کہ اپنے گھر کے لوگوں سے رخصت ہو آؤں۔“‏ (‏لو ۹:‏۵۱،‏ ۵۷-‏۶۱‏)‏ یہ دو آدمی یسوع مسیح کے شاگرد بننے کو تیار تھے لیکن وہ بہانے بنا رہے تھے۔ اُنہوں نے بادشاہت کی نسبت اپنے ذاتی کاموں کو زیادہ اہمیت دی۔ وہ پورے دل سے خدا کی خدمت نہیں کر رہے تھے۔ لیکن یسوع مسیح کی زندگی میں خدا کی بادشاہت سب سے اہم تھی۔ اُنہوں نے پورے دل سے خدا کی خدمت کرنے کا عزم کر رکھا تھا۔‏

۱۰.‏ (‏الف)‏ بہت سے لوگوں نے یسوع مسیح کے شاگرد بننے کی دعوت کے لئے کیسا ردِعمل دِکھایا ہے؟ (‏ب)‏ یسوع مسیح نے کون‌سی تمثیل دی؟‏

۱۰ یہ آدمی تو یسوع مسیح کے شاگرد نہ بننے کے بہانے بنا رہے تھے مگر ہم نے یسوع مسیح کے شاگرد بننے کی دعوت کو قبول کِیا ہے اور اب ہر روز یہوواہ خدا کی خدمت کر رہے ہیں۔ یوں ہم ظاہر کرتے ہیں کہ ہمارا دل یہوواہ خدا کی محبت سے بھرا ہے۔ اگرچہ ہم کلیسیا میں خدمت کرنے میں مصروف ہیں پھر بھی ہمیں ایک خطرے سے خبردار رہنا چاہئے۔ یہ کون‌سا خطرہ ہے؟ اِس سلسلے میں غور کریں کہ یسوع مسیح نے اُن آدمیوں سے کیا کہا جو اُن کے شاگرد نہ بننے کے لئے ٹال‌مٹول کر رہے تھے۔ یسوع مسیح نے اُنہیں یہ تمثیل دی:‏ ”‏جو کوئی اپنا ہاتھ ہل پر رکھ کر پیچھے دیکھتا ہے وہ خدا کی بادشاہی کے لائق نہیں۔“‏ (‏لو ۹:‏۶۲‏)‏ ہم اِس تمثیل سے کیا سیکھتے ہیں؟‏

‏”‏نیکی سے لپٹے“‏ رہیں

۱۱.‏ یسوع مسیح کی تمثیل میں جس کسان کا ذکر کِیا گیا، وہ اچھی طرح کام کیوں نہیں کر پایا؟‏

۱۱ یسوع مسیح کی اِس تمثیل سے ہم بہت اہم سبق سیکھتے ہیں۔ اِس کے بارے میں جاننے کے لئے ذرا اُس منظر کا تصور کریں جو اِس تمثیل میں پیش کِیا گیا ہے۔ ایک کسان اپنے کھیت میں ہل چلا رہا ہے۔ لیکن وہ ہل چلاتے وقت اپنے بیوی‌بچوں، دوستوں، لذیذ کھانوں، موسیقی، گھر کی چھاؤں اور آرام کے بارے میں سوچ رہا ہے۔ وہ کچھ دیر تک ہل چلاتا رہتا ہے لیکن گھر جانے کی اُس کی خواہش اِس قدر بڑھ جاتی ہے کہ وہ مڑ کر ”‏پیچھے دیکھتا ہے۔“‏ اگرچہ ابھی بہت سارا کام باقی ہے لیکن اُس کا دھیان اپنے کام سے ہٹ جاتا ہے۔ اِسی وجہ سے وہ اچھی طرح کام نہیں کر پاتا۔ بِلاشُبہ اُس کسان کا مالک اِس سے خوش نہیں ہوگا۔‏

۱۲.‏ آج‌کل بعض مسیحی اُس کسان جیسی صورتحال میں کیسے ہو سکتے ہیں جس کا یسوع مسیح کی تمثیل میں ذکر کِیا گیا ہے؟‏

۱۲ آج‌کل بعض مسیحی اِس کسان جیسی صورتحال میں ہو سکتے ہیں۔ وہ روحانی طور پر مضبوط دِکھائی دیتے ہیں لیکن شاید اُن کا دل کہیں اَور ہے۔ فرض کریں کہ ایک مسیحی اجلاسوں پر جاتا ہے اور مُنادی کے کام میں حصہ بھی لیتا ہے۔ لیکن اُسے دُنیا کے لوگوں کے کچھ کام اور دُنیا کی کچھ چیزیں بہت دلکش لگتی ہیں۔ اور وہ دل ہی دل میں سوچتا ہے کہ کاش اُس کے پاس بھی یہ چیزیں ہوتیں۔ کچھ سال تک خدا کی خدمت کرنے کے بعد اُس مسیحی میں یہ چیزیں حاصل کرنے کی خواہش اِس قدر بڑھ جاتی ہے کہ وہ مڑ کر ”‏پیچھے دیکھتا ہے۔“‏ اگرچہ ابھی خوشخبری سنانے کا کام ختم نہیں ہوا ہے لیکن اِس مسیحی کا دھیان اِس کام سے ہٹ جاتا ہے۔ یقیناً’‏فصل کا مالک‘‏ یہوواہ خدا اِس سے خوش نہیں ہوگا۔—‏لو ۱۰:‏۲‏۔‏

۱۳.‏ پورے دل سے خدا کی عبادت کرنے میں کیا شامل ہے؟‏

۱۳ یسوع مسیح کی تمثیل ہم پر کیسے لاگو ہوتی ہے؟ پورے دل سے خدا کی عبادت کرنے میں صرف اجلاسوں پر جانا اور مُنادی کے کام میں حصہ لینا ہی شامل نہیں ہے۔ (‏۲-‏توا ۲۵:‏۱، ۲،‏ ۲۷‏)‏ اگر ایک مسیحی دل ہی دل میں اُن چیزوں کو حاصل کرنے کی خواہش کرتا ہے جو وہ پیچھے چھوڑ آیا ہے تو وہ یہوواہ خدا کی خوشنودی کھو دینے کے خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ (‏لو ۱۷:‏۳۲‏)‏ اگر ہم ”‏بدی سے نفرت“‏ کریں گے اور ”‏نیکی سے لپٹے“‏ رہیں گے تو ہی ہم ”‏خدا کی بادشاہی کے لائق“‏ ٹھہریں گے۔ (‏روم ۱۲:‏۹؛‏ لو ۹:‏۶۲‏)‏ ہو سکتا ہے کہ شیطان کی دُنیا کی بعض چیزیں اچھی اور فائدہ‌مند معلوم ہوں۔ لیکن آئیں، یہ عزم کریں کہ ہم اِن چیزوں کے پیچھے نہیں بھاگیں گے بلکہ پورے دل سے خدا کی عبادت کرتے رہیں گے۔—‏۲-‏کر ۱۱:‏۱۴؛‏ فلپیوں ۳:‏۱۳،‏ ۱۴ کو پڑھیں۔‏

ہوشیار رہیں

۱۴، ۱۵.‏ (‏الف)‏ شیطان ہمارے جوش کو ٹھنڈا کرنے کے لئے کون‌سا حربہ استعمال کرتا ہے؟ (‏ب)‏ مثال سے واضح کریں کہ شیطان کا یہ حربہ کامیاب کیوں رہتا ہے۔‏

۱۴ ہم نے یہوواہ خدا کی محبت کی وجہ سے اپنی زندگی اُس کے لئے وقف کی تھی۔ تب سے ہم نے اپنے کاموں سے یہ ثابت کِیا ہے کہ ہم پورے دل سے یہوواہ خدا کی عبادت کر رہے ہیں۔ لیکن شیطان نے ابھی تک ہمارا پیچھا نہیں چھوڑا۔ وہ آج بھی ہمارے دل پر حملہ کرنا چاہتا ہے۔ (‏افس ۶:‏۱۲‏)‏ شیطان جانتا ہے کہ ہم ایک دم تو یہوواہ خدا کی خدمت کرنا نہیں چھوڑیں گے۔ اِس لئے وہ اِس بدکار دُنیا کے ذریعے آہستہ‌آہستہ ہمارے جوش کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ‏(‏مرقس ۴:‏۱۸،‏ ۱۹ کو پڑھیں۔)‏ شیطان کا یہ حربہ اکثر کامیاب کیوں ہوتا ہے؟‏

۱۵ اِس سلسلے میں ایک مثال پر غور کریں۔ فرض کریں کہ آپ سو واٹ کے بلب کی روشنی میں ایک کتاب پڑھ رہے ہیں۔ لیکن بلب فیوز ہو جاتا ہے اور کمرے میں ایک دم اندھیرا چھا جاتا ہے۔ آپ فوراً سمجھ جاتے ہیں کہ آپ کو کیا کرنے کی ضرورت ہے۔ آپ اُٹھ کر بلب تبدیل کرتے ہیں اور کمرے میں پھر سے روشنی ہو جاتی ہے۔ اگلی شام آپ پھر اُسی کمرے میں بیٹھے کتاب پڑھ رہے ہیں۔ لیکن آپ کو یہ معلوم نہیں کہ کسی نے سو واٹ کے بلب کی جگہ ۹۵ واٹ کا بلب لگا دیا ہے۔ کیا آپ کو پتہ چلے گا کہ روشنی پہلے سے کم ہے؟ غالباً نہیں۔ اور اگر اگلے دن کوئی ۹۵ واٹ کی جگہ ۹۰ واٹ کا بلب لگا دے تو شاید تب بھی آپ کو پتہ نہ چلے کہ روشنی کم ہو گئی ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ بلب کی روشنی بہت آہستہ‌آہستہ کم ہو رہی ہے۔ اِسی طرح اِس بدکار دُنیا کے اثرات کی وجہ سے ہمارا جوش آہستہ‌آہستہ ٹھنڈا پڑ سکتا ہے۔ اگر ایک مسیحی ہوشیار نہیں رہتا تو اُسے پتہ بھی نہیں چلے گا کہ اُس کا جوش ٹھنڈا پڑ گیا ہے۔ اِس صورت میں شیطان کا حربہ کامیاب ہو جائے گا۔—‏متی ۲۴:‏۴۲؛‏ ۱-‏پطر ۵:‏۸‏۔‏

بِلاناغہ دُعا کریں

۱۶.‏ ہم شیطان کی چالوں سے بچنے کے لئے کیا کر سکتے ہیں؟‏

۱۶ ہم شیطان کی چالوں سے بچنے اور پورے دل سے یہوواہ خدا کی عبادت کرنے کے لئے کیا کر سکتے ہیں؟ (‏۲-‏کر ۲:‏۱۱‏)‏ اِس کے لئے ضروری ہے کہ ہم بِلاناغہ دُعا کریں۔ پولس رسول نے مسیحیوں کی حوصلہ‌افزائی کی کہ وہ ”‏اِبلیس کے منصوبوں کے مقابلہ میں قائم“‏ رہیں۔ پھر اُنہوں نے مسیحیوں کو ہدایت کی کہ اِبلیس کا مقابلہ کرنے کے لئے وہ ’‏ہر وقت اور ہر طرح سے دُعا اور مِنت کرتے رہیں۔‘‏—‏افس ۶:‏۱۱،‏ ۱۸؛‏ ۱-‏پطر ۴:‏۷‏۔‏

۱۷.‏ ہم دُعا کے سلسلے میں یسوع مسیح سے کیا سیکھتے ہیں؟‏

۱۷ یسوع مسیح کی دُعاؤں سے ظاہر ہوا کہ وہ پورے دل سے خدا کی عبادت کرنے کی خواہش رکھتے تھے۔ ہم اُن کی دُعاؤں سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ غور کریں کہ یسوع مسیح نے اپنی موت سے پہلے کی رات جو دُعا کی، اُس کے بارے میں لوقا نے لکھا:‏ ”‏وہ سخت پریشانی میں مبتلا ہو کر اَور بھی دِلسوزی سے دُعا کرنے لگا۔“‏ (‏لو ۲۲:‏۴۴‏)‏ یسوع مسیح جب بھی دُعا کرتے تھے، دل کی گہرائی سے دُعا کرتے تھے۔ لیکن اِس موقعے پر اُنہوں نے ”‏اَور بھی دِلسوزی سے دُعا“‏ کی کیونکہ وہ ایک بہت ہی کٹھن اِمتحان سے گزرنے والے تھے۔یہوواہ خدا نے اُن کی اِس دُعا کو قبول کِیا۔ یسوع مسیح کی مثال سے ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ صورتیں ایسی ہوتی ہیں جن میں ہمیں شدت سے دُعا کرنی پڑتی ہے۔ لہٰذا جب ہمیں بڑی مشکلات کا سامنا ہو اور شیطان ہمارے خلاف انتہائی خطرناک چالیں چلے تو ہمیں ”‏اَور بھی دِلسوزی سے دُعا“‏ کرنی چاہئے تاکہ یہوواہ خدا ہماری حفاظت کرے۔‏

۱۸.‏ (‏الف)‏ ہمیں خود سے کیا سوال پوچھنا چاہئے اور کیوں؟ (‏ب)‏ ہمارے دل پر کون‌سے عناصر اثرانداز ہوتے ہیں؟ (‏صفحہ ۲۳ پر بکس کو دیکھیں۔)‏

۱۸ جب ہم دل کی گہرائی سے دُعا کرتے ہیں تو ہمیں کیا فائدہ ہوتا ہے؟ اِس سلسلے میں پولس رسول نے کہا:‏ ”‏ہر ایک بات میں تمہاری درخواستیں دُعا اور مِنت کے وسیلہ سے شکرگذاری کے ساتھ خدا کے سامنے پیش کی جائیں۔ تو خدا کا اِطمینان جو سمجھ سے بالکل باہر ہے تمہارے دلوں [‏کو]‏ محفوظ رکھے گا۔“‏ (‏فل ۴:‏۶، ۷‏)‏ یہ آیت ظاہر کرتی ہے کہ اگر ہم پورے دل سے خدا کی عبادت کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں دل کی گہرائیوں سے اور باقاعدگی سے دُعا کرنی چاہئے۔(‏لو ۶:‏۱۲‏)‏ لہٰذا خود سے پوچھیں:‏ ”‏کیا مَیں دل کی گہرائی سے اور باقاعدگی سے دُعا کرتا ہوں؟“‏ (‏متی ۷:‏۷؛‏ روم ۱۲:‏۱۲‏)‏ اِس سوال کے جواب سے پتہ چلے گا کہ آیا آپ دل سے خدا کی خدمت کرنا چاہتے ہیں یا نہیں۔‏

۱۹.‏ آپ کیا کریں گے تاکہ آپ پورے دل سے یہوواہ خدا کی عبادت کرتے رہیں؟‏

۱۹ ہم نے یہ سیکھ لیا ہے کہ ہم اپنی زندگی میں جن چیزوں کو اہمیت دیتے ہیں، اُن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارے دل میں کیا ہے۔ ہمارا عزم یہ ہونا چاہئے کہ ہم جن چیزوں کو پیچھے چھوڑ آئے ہیں، اُنہیں حاصل کرنے کی خواہش نہیں کریں گے تاکہ ہمارا جوش ٹھنڈا نہ پڑ جائے۔ اِس کے علاوہ ہم شیطان کے حملوں کا مقابلہ کریں گے اور پورے دل سے خدا کی عبادت کرتے رہیں گے۔ ‏(‏لوقا ۲۱:‏۱۹،‏ ۳۴-‏۳۶ کو پڑھیں۔)‏ تو پھر آئیں، داؤد بادشاہ کی طرح یہوواہ خدا سے مِنت کرتے رہیں کہ ”‏میرے دل کو یکسوئی بخش۔“‏—‏زبور ۸۶:‏۱۱‏۔‏

‏[‏صفحہ ۲۳ پر بکس]‏

دل کو صحت‌مند رکھنے کے لئے تین تجاویز

جس طرح ہم اپنے حقیقی دل کو صحت‌مند رکھنے کے لئے کئی جتن کرتے ہیں اُسی طرح ہمیں اپنے علامتی دل کو توانا رکھنے کی بھی پوری کوشش کرنی چاہئے۔ آئیں، تین ایسے عناصر پر غور کریں جو ہمارے دل کو صحت‌مند رکھنے کے لئے نہایت ضروری ہیں۔‏

۱ خوراک:‏ حقیقی د ل کو صحت‌مند رکھنے کے لئے اچھی خوراک کھانا ضروری ہے۔ علامتی دل کو صحت‌مند رکھنے کے لئے بھی باقاعدگی سے روحانی خوراک کھائیں۔ روحانی خوراک حاصل کرنے کے لئے ہمیں باقاعدگی سے اجلاسوں پر جانا چاہئے۔ اِس کے علاوہ ہمیں بائبل کا مطالعہ کرنا چاہئے اور جو کچھ ہم پڑھتے ہیں، اُس پر سوچ‌بچار کرنا چاہئے۔—‏زبور ۱:‏۱، ۲؛‏ امثا ۱۵:‏۲۸؛‏ عبر ۱۰:‏۲۴، ۲۵‏۔‏

۲ ورزش:‏ ورزش کے دوران دل کی دھڑکن زیادہ ہو جاتی ہے جس سے دل صحت‌مند رہتا ہے۔ علامتی دل کو توانا رکھنے کے لئے بھی جوش کے ساتھ مُنادی کا کام کریں اور جس حد تک ممکن ہو، اِس کام میں زیادہ حصہ لینے کی کوشش کریں۔—‏لو ۱۳:‏۲۴؛‏ فل ۳:‏۱۲‏۔‏

۳ ماحول:‏ آج‌کل جس ماحول میں ہم رہتے ہیں، اُس میں ہمیں بہت سی پریشانیوں کا سامنا ہوتا ہے۔ یہ پریشانیاں ہمارے حقیقی دل اور علامتی دل کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ اِن پریشانیوں کو کم کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ہم کلیسیا کے بہن بھائیوں کے ساتھ زیادہ وقت گزاریں کیونکہ وہ ہم سے محبت کرتے ہیں اور پورے دل سے خدا کی عبادت کرنا چاہتے ہیں۔—‏زبور ۱۱۹:‏۶۳؛‏ امثا ۱۳:‏۲۰‏۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں