”مضبوط اور نہایت دلیر ہو“
”مضبوط اور نہایت دلیر ہو جا . . . کیونکہ [یہوواہ] تیرا خدا جہاں جہاں تُو جائے تیرے ساتھ رہے گا۔“—یشو ۱:۷-۹۔
آپ کیا جواب دیں گے؟
حنوک اور نوح نے دلیری کے سلسلے میں کونسی مثال قائم کی؟
قدیم زمانے میں کچھ خداترس عورتوں نے کن صورتحال میں ایمان اور دلیری سے کام لیا؟
کچھ ایسے نوجوانوں کے بارے میں بتائیں جنہوں نے ایمان اور دلیری سے کام لیا؟
۱، ۲. (الف) ہر روز خدا کی مرضی پر چلنے کے لئے کس بات کی ضرورت ہوتی ہے؟ (ب) ہم اِس مضمون میں کن باتوں پر غور کریں گے؟
دلیری کی ضد بزدلی ہے۔ ایک دلیر شخص ہمت سے کام لیتا ہے۔ وہ جُرأتمند اور بہادر ہوتا ہے۔ وہ خطروں سے نہیں ڈرتا بلکہ اِن کا مقابلہ کرتا ہے۔ لیکن ہمیں صرف خطروں میں ہی نہیں بلکہ ہر روز خدا کی مرضی پر چلنے کے لئے بھی دلیری کی ضرورت ہوتی ہے۔
۲ کچھ صورتحال بہت ہی کٹھن ہوتی ہیں جبکہ کچھ صورتحال ایسی ہوتی ہیں جن کا خدا کے خادموں کو ہر روز سامنا ہوتا ہے۔ بائبل میں ایسے لوگوں کے بارے میں بتایا گیا ہے جنہوں نے ایسی تمام صورتحال میں دلیری سے کام لیا۔ ہم اِن سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟ ہم کیسے دلیر بن سکتے ہیں؟
کٹھن صورتحال میں دلیری کی مثال
۳. حنوک نے بےدین لوگوں کے سلسلے میں کونسی پیشینگوئی کی؟
۳ اِس سے پہلے کہ نوح کے زمانے میں طوفان آیا، لوگ بہت ہی بُرے تھے۔ لیکن حنوک جو ’آدم سے ساتویں پُشت میں تھے،‘ اُنہوں نے بڑی دلیری سے لوگوں کو خدا کی طرف سے یہ پیغام سنایا: ”دیکھو۔ [یہوواہ] اپنے لاکھوں مُقدسوں کے ساتھ آیا۔ تاکہ سب آدمیوں کا اِنصاف کرے اور سب بےدینوں کو اُن کی بےدینی کے اُن سب کاموں کے سبب سے جو اُنہوں نے بےدینی سے کئے ہیں اور اُن سب سخت باتوں کے سبب سے جو بےدین گنہگاروں نے اُس کی مخالفت میں کہی ہیں قصوروار ٹھہرائے۔“ (یہوداہ ۱۴، ۱۵) غور کریں کہ حنوک نے اِس واقعے کا ذکر ایسے کِیا جیسے کہ یہ ہو چُکا ہو کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ پیشینگوئی ضرور پوری ہوگی۔ اور واقعی، جب طوفان آیا تو تمام بےدین لوگ مر گئے۔
۴. نوح کن حالات میں ’خدا کے ساتھساتھ چلتے رہے‘؟
۴ حنوک کے زمانے کے تقریباً ۶۵۰ سال بعد یعنی ۲۳۷۰ قبلازمسیح میں طوفان آیا۔ اِس ۶۵۰ سال کے عرصے کے دوران نوح پیدا ہوئے، اُنہوں نے شادی کی، اُن کے بچے ہوئے اور اُنہوں نے اپنے بیٹوں کے ساتھ مل کر کشتی بنائی۔ اِسی عرصے میں بُرے فرشتوں نے انسانی جسم اپنائے اور خوبصورت عورتوں سے شادی کی۔ اُن کے ملاپ سے جو اولاد پیدا ہوئی، وہ بہت ہی قدآور اور طاقتور تھی۔ اِسی دوران انسانوں کی بدکاریاں بڑھتی گئیں اور زمین ظلم سے بھر گئی۔ (پید ۶:۱-۵، ۹، ۱۱) اِن کٹھن حالات کے باوجود ’نوح خدا کے ساتھساتھ چلتے رہے‘ اور بڑی دلیری سے ’راستبازی کی مُنادی‘ کرتے رہے۔ (۲-پطرس ۲:۴، ۵ کو پڑھیں۔) ہم اِس بُری دُنیا کے آخری زمانے میں رہ رہے ہیں اِس لئے ہمیں بھی دلیری سے کام لینا ہوگا۔
ایمان اور دلیری کی مثال
۵. موسیٰ کا ایمان اور دلیری مثالی کیوں تھی؟
۵ موسیٰ کا ایمان اور دلیری مثالی تھی۔ (عبر ۱۱:۲۴-۲۷) یہوواہ خدا نے موسیٰ کے ذریعے بنیاسرائیل کو مصر سے آزادی دِلائی اور بیابان میں اُن کی رہنمائی کی۔ (یہ ۱۵۱۳-۱۴۷۳ قبلازمسیح کی بات تھی۔) موسیٰ کو لگتا تھا کہ وہ اِتنی بڑی ذمہداری اُٹھانے کے قابل نہیں لیکن اُنہوں نے پھر بھی اِسے قبول کِیا۔ (خر ۶:۱۲) وہ اور اُن کے بھائی ہارون باربار ظالم فرعون کے پاس گئے۔ اُنہوں نے بڑی دلیری سے دس آفتوں کا اعلان کِیا۔ اِن آفتوں کے ذریعے یہوواہ خدا نے مصر کے دیوتاؤں کو ذلیل کِیا اور بنیاسرائیل کو غلامی سے نجات دِلائی۔ (خر ۷-۱۲ باب) موسیٰ اِس لئے ایمان اور دلیری کی اِتنی عمدہ مثال قائم کر پائے کیونکہ یہوواہ خدا نے قدمقدم پر اُن کا ساتھ دیا۔ اِسی طرح یہوواہ خدا آج بھی ہمارا ساتھ دینے کو تیار ہے۔—است ۳۳:۲۷۔
۶. اگر حکومت کے اہلکار ہم سے پوچھگچھ کریں گے تو ہم دلیری کے ساتھ گواہی دینے کے قابل کیوں ہوں گے؟
۶ ہمیں بھی موسیٰ کی طرح دلیر ہونا چاہئے کیونکہ یسوع مسیح نے کہا: ”تُم میرے سبب سے حاکموں اور بادشاہوں کے سامنے حاضر کئے جاؤ گے تاکہ اُن کے اور غیرقوموں کے لئے گواہی ہو۔ لیکن جب وہ تُم کو پکڑوائیں تو فکر نہ کرنا کہ ہم کس طرح کہیں یا کیا کہیں کیونکہ جو کچھ کہنا ہوگا اُسی گھڑی تُم کو بتایا جائے گا۔ کیونکہ بولنے والے تُم نہیں بلکہ تمہارے باپ کا روح ہے جو تُم میں بولتا ہے۔“ (متی ۱۰:۱۸-۲۰) ہو سکتا ہے کہ حکومت کے اہلکار ہم سے پوچھگچھ کریں۔ لیکن ایسی صورتحال میں ہم پاک روح کی مدد سے ایمان، دلیری اور احترام کے ساتھ گواہی دے سکیں گے۔—لوقا ۱۲:۱۱، ۱۲ کو پڑھیں۔
۷. یشوع کس وجہ سے ایمان اور دلیری کی مثال قائم کر پائے؟
۷ موسیٰ کے بعد یشوع بنیاسرائیل کے پیشوا بنے۔ وہ باقاعدگی سے خدا کی شریعت کا مطالعہ کرتے تھے اور اِس وجہ سے وہ بھی ایمان اور دلیری کی مثال قائم کر سکے۔ جب بنیاسرائیل ۱۴۷۳ قبلازمسیح میں کنعان کے ملک پر قبضہ کرنے کی تیاری کر رہے تھے تو خدا نے یشوع سے کہا: ”مضبوط اور نہایت دلیر ہو جا۔“ خدا نے اُن سے یہ بھی کہا کہ اگر وہ شریعت پر عمل کریں گے تو وہ دانشمندی سے کام لیں گے اور اُنہیں کامیابی نصیب ہوگی۔ پھر خدا نے اُن سے کہا کہ ”خوف نہ کھا اور بےدل نہ ہو کیونکہ [یہوواہ] تیرا خدا جہاں جہاں تُو جائے تیرے ساتھ رہے گا۔“ (یشو ۱:۷-۹) یہ سُن کر یشوع کا حوصلہ یقیناً بڑھا ہوگا! اور واقعی یہوواہ خدا نے یشوع کا ساتھ دیا کیونکہ اُنہوں نے چھ سال کے اندراندر یعنی ۱۴۶۷ قبلازمسیح تک کنعان کے زیادہتر علاقوں پر قبضہ جما لیا۔
خداترس عورتوں کی دلیری
۸. ہم کیوں کہہ سکتے ہیں کہ راحب نے ایمان اور دلیری کی مثال قائم کی؟
۸ قدیم زمانے میں بہت سی عورتوں نے بھی بڑی دلیری سے یہوواہ خدا کی خدمت کی۔ آئیں، کچھ ایسی عورتوں کی دلیری پر غور کریں۔ اِن میں سے ایک راحب تھیں جو یریحو میں رہتی تھیں اور پیشے کے لحاظ سے کسبی تھیں۔ راحب، یہوواہ خدا پر ایمان لائیں، اُنہوں نے دو اسرائیلی جاسوسوں کو چھپایا اور جب بادشاہ کے سپاہی جاسوسوں کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے راحب کے گھر پہنچے تو اُن کو غلط سمت بھیج دیا۔ پھر جب بنیاسرائیل نے یریحو پر چڑھائی کی تو راحب اور اُن کے گھر والوں کو بچا لیا گیا۔ راحب نے اپنا پیشہ چھوڑ دیا، وفاداری سے یہوواہ خدا کی خدمت کی اور اُنہیں یہ اعزاز ملا کہ مسیح اُن کی نسل سے آئے۔ (یشو ۲:۱-۶؛ ۶:۲۲، ۲۳؛ متی ۱:۱، ۵) اُنہیں ایمان اور دلیری کا کیا ہی شاندار انعام ملا!
۹. دبورہ، برق اور یاعیل نے کس صورتحال میں دلیری سے کام لیا؟
۹ یشوع ۱۴۵۰ قبلازمسیح کے لگبھگ فوت ہوئے۔ اِس کے بعد خدا نے اسرائیلیوں پر قاضی مقرر کئے۔ کنعان کے بادشاہ یابین نے بنیاسرائیل پر ۲۰ سال تک ظلم ڈھائے۔ پھر خدا نے دبورہ نبِیّہ کے دل میں ڈالا کہ وہ برق سے کہیں کہ ”یابین کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہو جاؤ۔“ برق نے ۱۰ ہزار آدمی اِکٹھے کئے اور یابین کی فوج کے سپہسالار سیسرا سے لڑنے کو نکلے۔ برق اور اُن کی فوج تبور کے پہاڑ پر جمع تھی جبکہ سیسرا اپنی فوج اور ۹۰۰ رتھ لئے نہرِقیسون کی وادی میں جمع تھے۔ جب اسرائیل کی فوج پہاڑ سے اُتر کر وادی کی طرف جا رہی تھی تو خدا نے خوب بارش برسائی، نہر کا پانی چڑھ گیا، میدانِجنگ دَلدل بن گیا اور کنعانیوں کے رتھ کیچڑ میں پھنس گئے۔ برق کی فوج نے ’سیسرا کے سارے لشکر کو تلوار سے نابود کِیا۔‘ اُن میں سے ”ایک بھی نہ بچا۔“ سیسرا خود وہاں سے بھاگ گئے اور یاعیل کے خیمے میں پناہ لی۔ لیکن جب وہ سو گئے تو یاعیل نے اُن کو مار ڈالا۔ یوں دبورہ نبِیّہ کے وہ الفاظ پورے ہوئے جو اُنہوں نے برق سے کہے تھے کہ ”[یہوواہ] سیسرؔا کو ایک عورت کے ہاتھ بیچ ڈالے گا۔“ دبورہ، برق اور یاعیل نے دلیری سے کام لیا اور اِس وجہ سے ”مُلک میں چالیس برس امن رہا۔“ (قضا ۴:۱-۹، ۱۴-۲۲؛ ۵:۲۰، ۲۱، ۳۱) اُن کی طرح خدا کے اَور بھی بہت سے خادموں نے ایمان اور دلیری سے کام لیا۔
اپنی باتوں سے دوسروں میں دلیری پیدا کریں
۱۰. ہم کیسے جانتے ہیں کہ ہماری باتوں سے ہمارے مسیحی بہنبھائیوں کے دل میں دلیری پیدا ہو سکتی ہے؟
۱۰ ہماری باتوں سے ہمارے مسیحی بہنبھائیوں کے دل میں دلیری پیدا ہو سکتی ہے۔ گیارھویں صدی قبلازمسیح میں بادشاہ داؤد نے اپنے بیٹے سلیمان سے کہا: ”ہمت باندھ اور حوصلہ سے کام کر۔ خوف نہ کر۔ ہراسان نہ ہو کیونکہ [یہوواہ] خدا جو میرا خدا ہے تیرے ساتھ ہے۔ وہ تجھ کو نہ چھوڑے گا اور نہ ترک کرے گا جب تک [یہوواہ] کے مسکن کی خدمت کا سارا کام تمام نہ ہو جائے۔“ (۱-توا ۲۸:۲۰) سلیمان نے ہمت سے کام لیا اور یروشلیم میں یہوواہ خدا کے لئے ایک شاندار ہیکل تعمیر کی۔
۱۱. ایک چھوٹی اسرائیلی لڑکی کی دلیری کا کیا نتیجہ نکلا؟
۱۱ دسویں صدی قبلازمسیح میں ایک اسرائیلی لڑکی نے دلیری سے گواہی دی جس کی وجہ سے ایک کوڑھی کو بڑا فائدہ ہوا۔ ہوا یوں کہ ارامی ایک چھوٹی اسرائیلی لڑکی کو اسیر کرکے اپنے ملک لے آئے جہاں وہ لڑکی ارامی فوج کے سپہسالار کی خدمت کرنے لگی۔ اِس سپہسالار کا نام نعمان تھا اور وہ کوڑھی تھے۔ اِس لڑکی نے اُن معجزوں کے بارے میں سنا تھا جو خدا کے نبی الیشع نے دکھائے تھے۔ سو اِس نے نعمان کی بیوی سے کہا کہ ”کاش میرا آقا اُس نبی کے ہاں ہوتا جو ساؔمریہ میں ہے تو وہ اُسے اُس کے کوڑھ سے شفا دے دیتا۔“ یہ سُن کر نعمان سامریہ گئے جہاں اُنہوں نے کوڑھ سے شفا پائی۔ اِس کے بعد وہ بھی یہوواہ خدا کی عبادت کرنے لگے۔ (۲-سلا ۵:۱-۳، ۱۰-۱۷) کیا آپ بھی ابھی چھوٹے ہیں؟ کیا آپ کو بھی یہوواہ خدا سے اِتنی ہی محبت ہے جتنی کہ اُس اسرائیلی لڑکی کو تھی؟ پھر یہوواہ خدا آپ کو دلیر بنائے گا تاکہ آپ اپنے اُستادوں، ہمجماعتوں اور دوسرے لوگوں کو اُس کے بارے میں بتا سکیں۔
۱۲. بادشاہ حزقیاہ کی باتوں کا اُن کی رعایا پر کیا اثر ہوا؟
۱۲ اگر ہم سوچسمجھ کر اپنی باتوں کا انتخاب کریں گے تو ہم دوسروں کی ہمت بڑھا سکیں گے اور یوں وہ دلیری سے خطرناک صورتحال کا سامنا کر سکیں گے۔ آٹھویں صدی قبلازمسیح میں جب اسوری فوج نے یروشلیم پر چڑھائی کی تو بادشاہ حزقیاہ نے اپنی رعایا سے کہا: ”ہمت باندھو اور حوصلہ رکھو اور اؔسور کے بادشاہ اور اُس کے ساتھ کے سارے انبوہ کے سبب سے نہ ڈرو نہ ہراسان ہو کیونکہ وہ جو ہمارے ساتھ ہے اُس سے بڑا ہے جو اُس کے ساتھ ہے۔ [اسور کے بادشاہ] کے ساتھ بشر کا ہاتھ ہے لیکن ہمارے ساتھ [یہوواہ] ہمارا خدا ہے کہ ہماری مدد کرے اور ہماری لڑائیاں لڑے۔“ لوگوں نے ”شاہِیہوؔداہ حزقیاؔہ کی باتوں پر تکیہ کِیا“ اور اُن کے دلوں میں دلیری پیدا ہو گئی۔ (۲-توا ۳۲:۷، ۸) کبھیکبھی ہمیں بھی اذیت کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ایسی صورتحال میں دوسروں کی تسلیبخش باتوں سے ہماری بھی ہمت بڑھتی ہے۔
۱۳. ہم عبدیاہ سے دلیری کے بارے میں کیا سیکھ سکتے ہیں؟
۱۳ بعض صورتحال میں دلیری سے کام لینے کا مطلب چپ رہنا بھی ہو سکتا ہے۔ دسویں صدی قبلازمسیح میں ملکہ اِیزبل نے حکم دیا کہ یہوواہ خدا کے تمام نبیوں کو مار ڈالا جائے۔ لیکن بادشاہ اخیاب کے خادم عبدیاہ نے ایک سو نبیوں کو لے کر ”پچاس پچاس کرکے“ ایک غار میں چھپا دیا۔ (۱-سلا ۱۸:۴) یوں عبدیاہ نے یہوواہ خدا کے خادموں کو دُشمن کے ہاتھ سے محفوظ رکھا۔ آج بھی یہوواہ کے بہت سے گواہ ایسا ہی کرتے ہیں، مثلاً جب دُشمن اُن سے دوسرے یہوواہ کے گواہوں کے بارے میں پوچھگچھ کرتے ہیں تو وہ اُن کو کچھ نہیں بتاتے۔
ایک دلیر ملکہ
۱۴، ۱۵. ملکہ آستر نے ایمان اور دلیری سے کیسے کام لیا اور اِس کا کیا نتیجہ نکلا؟
۱۴ ملکہ آستر نے بھی بڑے ایمان اور دلیری سے کام لیا۔ پانچویں صدی قبلازمسیح میں ہامان نے سازش کی کہ فارس کی سلطنت کے یہودیوں کو قتل کروائے۔ یہ سُن کر یہودیوں نے بڑا ماتم کِیا اور روزے رکھے۔ بِلاشُبہ اُنہوں نے یہوواہ خدا سے بڑی دُعائیں مانگی ہوں گی۔ (آستر ۴:۱-۳) جب یہ خبر ملکہ آستر کے کانوں پہنچی تو وہ بہت پریشان ہوئیں۔ اُن کے تایازاد بھائی مردکی نے اُن کو اُس فرمان کی ایک نقل بھیجی جو یہودیوں کو ہلاک کرنے کے لئے جاری کِیا گیا تھا۔ مردکی نے آستر سے کہا کہ ”بادشاہ کے حضور جا کر اُس سے مِنت کرو اور اپنی قوم کے لئے درخواست کرو۔“ لیکن فارسیوں کے قانون کے مطابق جو کوئی بِلااجازت بادشاہ کی بارگاہ میں جاتا، اُس کو مار ڈالا جاتا۔—آستر ۴:۴-۱۱۔
۱۵ اِس کے باوجود مردکی نے آستر سے کہا: ’اگر تُو اِس وقت خاموشی اختیار کرے تو یہودیوں کے لئے نجات کسی اَور جگہ سے آئے گی۔ کیا جانے کہ تُو ایسے ہی وقت کے لئے سلطنت کو پہنچی ہے؟‘ آستر نے مردکی سے کہا کہ ”شہر سوسن میں جتنے یہودی موجود ہیں، اُن کو اکٹھا کرکے میرے لئے روزہ رکھوائیں۔“ اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ ”مَیں بھی اور میری سہیلیاں اِسی طرح سے روزہ رکھیں گی اور ایسے ہی مَیں بادشاہ کے حضور جاؤں گی جو آئین کے خلاف ہے اور اگر مَیں ہلاک ہوئی تو ہلاک ہوئی۔“ (آستر ۴:۱۲-۱۷) ملکہ آستر نے دلیری سے کام لیا اور خدا نے یہودیوں کو نجات دِلائی۔ اِسی طرح آج بھی ممسوح مسیحی اور اُن کے ساتھی مشکلات کا سامنا کرتے وقت دلیری سے کام لیتے ہیں اور ’دُعا کا سننے والا‘ اُن کا ساتھ دیتا ہے۔—زبور ۶۵:۲؛ ۱۱۸:۶ کو پڑھیں۔
’خاطر جمع رکھیں‘
۱۶. چھوٹی عمر کے مسیحی ۱۲ سالہ یسوع سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
۱۶ پہلی صدی عیسوی میں، جب یسوع ۱۲ سال کے تھے تو اُن کے ماںباپ نے اُن کو ’ہیکل میں اُستادوں کے بیچ میں بیٹھے اُن کی سنتے اور اُن سے سوال کرتے ہوئے پایا۔ اور جتنے یسوع کی سُن رہے تھے اُن کی سمجھ اور اُن کے جوابوں سے دنگ تھے۔‘ (لو ۲:۴۱-۵۰) حالانکہ یسوع چھوٹے تھے لیکن اُن میں اِتنا ایمان اور دلیری تھی کہ وہ مذہبی اُستادوں سے سوال پوچھ رہے تھے۔ چھوٹی عمر کے مسیحی اِس واقعے سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ بارہ سالہ یسوع کی طرح وہ بھی بادشاہت کی گواہی دینے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ اور اگر کوئی اُن سے اُن کی اُمید کی وجہ دریافت کرتا ہے تو وہ اُس کو جواب دیتے ہیں مگر حلم اور احترام کے ساتھ۔—۱-پطر ۳:۱۵۔
۱۷. (الف) یسوع مسیح نے اپنے شاگردوں سے کیوں کہا کہ ”خاطر جمع رکھو“؟ (ب) ہمیں دلیری سے کام لینے کی ضرورت کیوں ہے؟
۱۷ یسوع مسیح نے دوسروں سے کہا کہ ’خاطر جمع رکھو‘ یعنی ہمت سے کام لو۔ (متی ۹:۲، ۲۲) اُنہوں نے اپنے شاگردوں سے کہا: ”دیکھو وہ گھڑی آتی ہے بلکہ آ پہنچی ہے کہ تُم سب پراگندہ ہو کر اپنےاپنے گھر کی راہ لوگے اور مجھے اکیلا چھوڑ دو گے تو بھی مَیں اکیلا نہیں ہوں کیونکہ باپ میرے ساتھ ہے۔ مَیں نے تُم سے یہ باتیں اِس لئے کہیں کہ تُم مجھ میں اِطمینان پاؤ۔ دُنیا میں مصیبت اُٹھاتے ہو لیکن خاطر جمع رکھو مَیں دُنیا پر غالب آیا ہوں۔“ (یوح ۱۶:۳۲، ۳۳) پہلی صدی میں دُنیا یسوع مسیح کے شاگردوں سے نفرت کرتی تھی اور آج وہ ہم سے بھی نفرت کرتی ہے۔ لیکن پہلی صدی کے مسیحیوں کی طرح ہم بھی دُنیا کے طورطریقے نہیں اپناتے۔ اِس کے لئے دلیری سے کام لینا پڑتا ہے۔ جب ہم یسوع مسیح کی دلیری پر غور کرتے ہیں تو ہمارے دل میں بھی دلیری پیدا ہوتی ہے اور ہم دُنیا سے بےداغ رہتے ہیں۔ یسوع مسیح دُنیا پر غالب آئے اور ہم بھی دُنیا پر غالب آ سکتے ہیں۔—یوح ۱۷:۱۶؛ یعقو ۱:۲۷۔
۱۸، ۱۹. پولس رسول نے کن صورتحال میں ایمان اور دلیری سے کام لیا؟
۱۸ پولس رسول نے بھی بہت سی مشکلات جھیلیں۔ ایک موقعے پر اگر رومی سپاہی پولس رسول کو نہ بچاتے تو یہودی اُن کی بوٹیبوٹی کر دیتے۔ بائبل میں لکھا ہے کہ ”اُسی رات خداوند [پولس] کے پاس آ کھڑا ہوا اور کہا خاطر جمع رکھ کہ جیسے تُو نے میری بابت یرؔوشلیم میں گواہی دی ہے ویسے ہی تجھے رؔومہ میں بھی گواہی دینا ہوگا۔“ (اعما ۲۳:۱۱) پولس رسول نے ویسا ہی کِیا جیسا یسوع مسیح نے کہا تھا اور رومہ میں بھی گواہی دی۔
۱۹ کرنتھس کی کلیسیا میں کچھ ایسے بھائی تھے جو جھوٹی تعلیمات پھیلانا چاہتے تھے۔ پولس رسول نے اِن کو طنزاً ”افضل رسولوں“ کا لقب دیا اور بڑی دلیری سے اُنہیں ملامت کی۔ (۲-کر ۱۱:۵؛ ۱۲:۱۱) دراصل یہ مسیحی جھوٹے رسول تھے جبکہ پولس کو یسوع مسیح ہی نے رسول کے طور پر مقرر کِیا تھا۔ اِس بات کو ثابت کرنے کے لئے پولس رسول نے بتایا کہ اُنہوں نے مسیح کی خاطر کیسیکیسی مشکلات جھیلیں، مثلاً اُنہیں قید کِیا گیا؛ اُنہیں کوڑے لگائے گئے؛ اُنہوں نے خطرناک سفر کئے؛ اُنہوں نے بھوک اور پیاس برداشت کی؛ اُن کی راتوں کی نیند حرام ہو گئی اور اُنہیں کلیسیاؤں کی فکر ستاتی تھی۔ (۲-کرنتھیوں ۱۱:۲۳-۲۸ کو پڑھیں۔) پولس رسول اِس لئے ایمان اور دلیری کی اِتنی شاندار مثال قائم کر پائے کیونکہ یہوواہ خدا نے اُن کو طاقت بخشی تھی۔
۲۰، ۲۱. (الف) ایسی مثال دیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہم سب کو کبھی نہ کبھی دلیری سے کام لینا پڑتا ہے۔ (ب) کچھ ایسی صورتحال بتائیں جن میں مسیحیوں کو دلیری سے کام لینا پڑتا ہے۔ (ج) ہم کس بات پر یقین رکھ سکتے ہیں؟
۲۰ سچ ہے کہ ہر مسیحی کو اذیت نہیں جھیلنی پڑے گی۔ لیکن ہم سب کو کبھی نہ کبھی ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس میں ہمیں دلیری سے کام لینا پڑتا ہے۔ اِس سلسلے میں ایک مثال پر غور کریں۔ برازیل میں رہنے والا ایک جوان شخص کسی گینگ سے تعلق رکھتا تھا۔ لیکن جب اُس نے بائبل کا مطالعہ کِیا تو اُسے احساس ہوا کہ اُسے اپنی گینگ سے تعلق توڑنا پڑے گا۔ ایسا کرنا خطرے سے خالی نہیں تھا کیونکہ جو کوئی گینگ کو چھوڑنے کی کوشش کرتا، عموماً اُسے مار ڈالا جاتا۔ اِس شخص نے یہوواہ خدا سے دُعا کی اور پھر جا کر گینگ کے سردار کو بائبل سے دِکھایا کہ وہ گینگ سے تعلق کیوں توڑنا چاہتا ہے۔ گینگ کے سردار نے اُسے جانے دیا اور یوں یہ شخص کلیسیا میں ایک مبشر کے طور پر خدمت کرنے لگا۔
۲۱ اَور بھی بہت سی صورتحال ہیں جن میں مسیحیوں کو دلیری سے کام لینا پڑتا ہے، مثلاً خوشخبری سنانے کے لئے دلیری کی ضرورت ہوتی ہے؛ جو یہوواہ کے گواہ سکول میں پڑھتے ہیں، اُنہیں دلیر بننے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنے ہمجماعتوں کے چالچلن کو نہ اپنائیں؛ جو یہوواہ کے گواہ ملازمت کرتے ہیں، اُنہیں دلیری کی ضرورت ہے تاکہ وہ اجتماع کے سارے پروگرام کو سننے کے لئے چھٹی لیں۔ چاہے ہمیں کسی بھی صورتحال کا سامنا ہو، اگر ہم ’ایمان کے ساتھ دُعا‘ کریں گے تو یہوواہ خدا ہماری سنے گا۔ (یعقو ۵:۱۵) اور وہ ہمیں اپنی پاک روح عطا کرے گا تاکہ ہم ”مضبوط اور نہایت دلیر“ بنیں۔
[صفحہ ۱۹ پر تصویر]
حنوک نے بڑی دلیری سے بےدین دُنیا کو خدا کا پیغام سنایا۔
[صفحہ ۲۰ پر تصویر]
یاعیل بڑی دلیر تھیں۔