یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م12 1/‏1 ص.‏ 21-‏27
  • دل‌وجان سے یہوواہ خدا کے لئے قربانیاں دیں

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • دل‌وجان سے یہوواہ خدا کے لئے قربانیاں دیں
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—2012ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • روزمرہ کاموں اور قربانیوں میں کیا تعلق ہے؟‏
  • روزمرہ زندگی میں قربانیاں
  • عبادت میں قربانیاں
  • ‏’‏دیا کرو تو تمہیں بھی دیا جائے گا‘‏
  • خدا کے شکرگزار ہوں
  • ‏’‏علم کے نمونے‘‏ سے سیکھیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—2012ء
  • یہوواہ کو خوش کرنے والی حمد کی قربانیاں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2000ء
  • کیا آپ بادشاہت کی خاطر قربانیاں دیں گے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے—2013ء
  • یہوواہ کی عبادت کرنے سے آپ کی خوشی بڑھے گی
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2022ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—2012ء
م12 1/‏1 ص.‏ 21-‏27

دل‌وجان سے یہوواہ خدا کے لئے قربانیاں دیں

‏”‏جو کام کرو جی سے کرو۔ یہ جان کر کہ [‏یہوواہ]‏ کے لئے کرتے ہو نہ کہ آدمیوں کے لئے۔“‏—‏کل ۳:‏۲۳‏۔‏

اِن سوالوں کے جواب تلاش کریں:‏

ہم روزمرہ زندگی میں خدا کے نام کی بڑائی کیسے کر سکتے ہیں؟‏

ہم خدا کی عبادت کے سلسلے میں کونسی قربانیاں دیتے ہیں؟‏

ہم یہوواہ خدا کے لئے مالی طور پر قربانیاں کیسے دے سکتے ہیں؟‏

۱-‏۳.‏ (‏الف)‏ کیا شریعت کے ختم ہونے کا یہ مطلب ہے کہ مسیحیوں کو کوئی قربانیاں نہیں دینی ہیں؟ وضاحت کریں۔ (‏ب)‏ ہم قربانیوں کے سلسلے میں خود سے کیا پوچھ سکتے ہیں؟‏

پہلی صدی میں یہوواہ خدا نے اپنے خادموں پر ظاہر کِیا کہ یسوع مسیح نے اپنی جان کی قربانی دے کر موسیٰ کی شریعت کو ختم کر دیا۔ (‏کل ۲:‏۱۳، ۱۴‏)‏ اب اُن قربانیوں کی کوئی ضرورت نہیں رہی تھی جو بنی‌اسرائیل سالہاسال سے گزران رہے تھے۔ شریعت کا مقصد خدا کے خادموں کو ’‏مسیح تک پہنچانا‘‏ تھا اور اب یہ مقصد پورا ہو گیا تھا۔—‏گل ۳:‏۲۴‏۔‏

۲ اِس کا مطلب یہ نہیں کہ مسیحیوں کو کوئی قربانیاں نہیں دینی ہیں۔ پطرس رسول نے مسیحیوں سے کہا:‏ ”‏روحانی قربانیاں چڑھاؤ جو یسوؔع مسیح کے وسیلہ سے خدا کے نزدیک مقبول ہوتی ہیں۔“‏ (‏۱-‏پطر ۲:‏۵‏)‏ اور پولس رسول نے بتایا کہ ایک مسیحی جس نے خود کو خدا کے لئے وقف کر دیا ہے، اُس کی زندگی ایک ”‏قربانی“‏ کی طرح ہے۔—‏روم ۱۲:‏۱‏۔‏

۳ لہٰذا مسیحی اِس لحاظ سے قربانیاں دیتے ہیں کہ وہ اپنا وقت، اپنی توانائی اور اپنے وسائل یہوواہ خدا کے لئے استعمال کرتے ہیں یا اُس کی خاطر کچھ کام چھوڑ دیتے ہیں۔ پچھلے مضمون میں ہم نے سیکھا تھا کہ خدا نے بنی‌اسرائیل سے قربانیوں کے سلسلے میں کیا توقع کی تھی۔ اِس کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہم خود سے پوچھ سکتے ہیں کہ کیا مَیں ایسی قربانیاں دیتا ہوں جو خدا کو پسند آتی ہیں؟‏

روزمرہ کاموں اور قربانیوں میں کیا تعلق ہے؟‏

۴.‏ ہمیں اپنے روزمرہ کاموں کے بارے میں کیا یاد رکھنا چاہئے؟‏

۴ شاید یہ سمجھنا آسان نہیں کہ ہمارے روزمرہ کاموں کا خدا کے لئے قربانیاں دینے سے کیا تعلق ہے۔ شاید ہمیں لگے کہ گھر کا کام‌کاج، ملازمت، خریداری یا پڑھائی خدا کی خدمت سے الگ ہیں۔ لیکن اگر آپ نے اپنی زندگی خدا کے لئے وقف کی ہے یا ایسا کرنے کا سوچ رہے ہیں تو آپ کے روزمرہ کام خدا کے ساتھ آپ کی دوستی پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ ہم ۲۴ گھنٹے یہوواہ کے گواہ ہیں اِس لئے ہمیں زندگی کے ہر کام میں بائبل کے اصولوں پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ اِس وجہ سے پولس رسول نے مسیحیوں کو یوں تاکید کی:‏ ”‏جو کام کرو جی سے کرو۔ یہ جان کر کہ [‏یہوواہ]‏ کے لئے کرتے ہو نہ کہ آدمیوں کے لئے۔“‏‏—‏کلسیوں ۳:‏۱۸-‏۲۴ کو پڑھیں۔‏

۵، ۶.‏ ہمیں چال‌چلن، بناؤسنگھار اور لباس کے سلسلے میں کن باتوں کو یاد رکھنا چاہئے؟‏

۵ ہمارے روزمرہ کام ہماری عبادت کا حصہ تو نہیں ہیں۔ لیکن پولس رسول نے کہا کہ ہمیں ہر کام یہ سوچ کر کرنا چاہئے کہ ہم اِسے یہوواہ خدا کے لئے کر رہے ہیں۔ لہٰذا ہمیں اِس بات پر غور کرنا چاہئے کہ ہم روزمرہ زندگی میں کیا کرتے ہیں۔ کیا ہمارا چال‌چلن، بناؤسنگھار اور لباس ہر وقت ایسا ہوتا ہے جو مسیحیوں کے لئے مناسب ہے؟ یا پھر کیا ہم کبھی‌کبھار لوگوں کو یہ بتانے سے شرماتے ہیں کہ ہم یہوواہ کے گواہ ہیں کیونکہ ہمارا لباس یا چال‌چلن خدا کے خادموں کے لائق نہیں ہے؟ خبردار رہیں کہ ایسا کبھی نہ ہو!‏ خدا کے خادم کبھی کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہیں گے جس سے یہوواہ کے نام کی بدنامی ہو۔—‏یسع ۴۳:‏۱۰؛‏ ۲-‏کر ۶:‏۳، ۴،‏ ۹‏۔‏

۶ آئیں، اِس سوال پر غور کریں کہ اگر ہم ہر کام یہوواہ خدا کے لئے کرتے ہیں تو اِس کا ہماری روزمرہ زندگی کے مختلف پہلوؤں پر کیا اثر ہوگا؟ اِس سلسلے میں یاد رکھیں کہ یہوواہ خدا بنی‌اسرائیل سے یہ توقع رکھتا تھا کہ وہ اُس کے لئے اپنی بہترین چیزیں قربان کریں۔—‏خر ۲۳:‏۱۹۔‏

روزمرہ زندگی میں قربانیاں

۷.‏ خدا کے لئے زندگی وقف کرنے کا کیا مطلب ہے؟‏

۷ جب آپ نے اپنی زندگی خدا کے لئے وقف کی تھی تو آپ نے اُس سے وعدہ کِیا تھا کہ آپ اُس کی خدمت کو زندگی میں سب سے زیادہ اہمیت دیں گے۔ اِس وعدے کا مطلب یہ تھا کہ آپ زندگی کے ہر پہلو میں اُس کی مرضی پر عمل کریں گے۔ ‏(‏عبرانیوں ۱۰:‏۷ کو پڑھیں۔)‏ بِلاشُبہ آپ نے دیکھا ہوگا کہ جب آپ کسی معاملے کے بارے میں یہوواہ خدا کی مرضی جاننے کی کوشش کرتے ہیں اور پھر اُس کے مطابق عمل کرتے ہیں تو اِس کے بہت اچھے نتائج نکلتے ہیں۔ (‏یسع ۴۸:‏۱۷، ۱۸‏)‏ یہوواہ خدا کی تعلیم پر عمل کرنے کی وجہ سے اُس کے خادم پاک ہیں اور خوش رہتے ہیں۔ وہ خدا کی طرح بننے کی کوشش کرتے ہیں جو خود بھی قدوس یعنی پاک ہے اور اپنے کاموں سے خوش ہوتا ہے۔—‏احبا ۱۱:‏۴۴؛‏ زبور ۱۰۴:‏۳۱‏۔‏

۸.‏ ہمیں یہ کیوں یاد رکھنا چاہئے کہ یہوواہ خدا بنی‌اسرائیل کی قربانیوں کو پاک خیال کرتا تھا؟‏

۸ یہوواہ خدا بنی‌اسرائیل کی قربانیوں کو پاک خیال کرتا تھا۔ (‏احبا ۶:‏۲۵؛ ۷:‏۱)‏ پاک کے لئے جو لفظ عبرانی زبان میں استعمال ہوتا ہے، یہ کسی ایسی چیز کی طرف اشارہ کرتا ہے جسے خدا کے لئے مخصوص یا الگ کِیا گیا ہو۔ خدا اُسی صورت میں ہماری قربانیوں کو قبول کرے گا اگر ہم دُنیا سے الگ رہیں گے اور اِس سے آلودہ نہیں ہوں گے۔ ہمیں کسی ایسی چیز سے محبت نہیں رکھنی چاہئے جس سے یہوواہ خدا نفرت کرتا ہے۔ ‏(‏۱-‏یوحنا ۲:‏۱۵-‏۱۷ کو پڑھیں۔)‏ اِس کا مطلب ہے کہ ہمیں ایسے لوگوں سے رفاقت نہیں رکھنی چاہئے اور ایسے کاموں میں نہیں پڑنا چاہئے جو ہمیں خدا کی نظر میں ناپاک کر سکتے ہیں۔ (‏یسع ۲:‏۴؛‏ مکا ۱۸:‏۴‏)‏ اِس کا یہ بھی مطلب ہے کہ ہمیں گندی اور ناپاک چیزوں کو نہ تو دیکھتے رہنا چاہئے اور نہ ہی اِن کے بارے میں سوچتے رہنا چاہئے۔—‏کل ۳:‏۵، ۶‏۔‏

۹.‏ مسیحیوں کو دوسروں کی بھلائی کے لئے کام کیوں کرنا چاہئے؟‏

۹ پولس رسول نے کہا:‏ ”‏بھلائی اور سخاوت کرنا نہ بھولو اِس لئے کہ خدا ایسی قربانیوں سے خوش ہوتا ہے۔“‏ (‏عبر ۱۳:‏۱۶‏)‏ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہم دوسروں کی بھلائی کے لئے جو کام کرتے ہیں، وہ یہوواہ خدا کے نزدیک قربانیاں ہیں اور وہ اِن سے خوش ہوتا ہے۔ سچے مسیحیوں کی پہچان یہ ہے کہ وہ آپس میں محبت رکھتے ہیں۔—‏یوح ۱۳:‏۳۴، ۳۵؛‏ کل ۱:‏۱۰‏۔‏

عبادت میں قربانیاں

۱۰، ۱۱.‏ (‏الف)‏ یہوواہ خدا ہمارے مُنادی کے کام کو اور ہماری عبادت کو کیسا خیال کرتا ہے؟ (‏ب)‏ اِس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہمیں کیا کرنا چاہئے؟‏

۱۰ دوسروں کے ساتھ بھلائی کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ہم اُن کے سامنے ’‏اپنی اُمید کا اقرار‘‏ کریں۔ کیا آپ ہر موقعے پر گواہی دینے کی کوشش کرتے ہیں؟ پولس رسول نے گواہی دینے کے کام کو ”‏حمد کی قربانی“‏ کہا ”‏یعنی اُن ہونٹوں کا پھل جو [‏خدا]‏ کے نام کا اقرار کرتے ہیں۔“‏ (‏عبر ۱۰:‏۲۳؛‏ ۱۳:‏۱۵؛‏ ہوس ۱۴:‏۲)‏ اِس بات پر غور کرنا بہت فائدہ‌مند ہے کہ ہم مُنادی کے کام میں کتنا وقت صرف کرتے ہیں اور ہم اِس میں بہتری کیسے لا سکتے ہیں۔ اِس سلسلے میں ہمیں خدمتی اجلاس سے بہت مدد ملتی ہے۔ لیکن سب سے اہم بات جو ہمیں یاد رکھنی چاہئے، یہ ہے کہ مُنادی کے کام میں حصہ لینا اور دوسرے موقعوں پر گواہی دینا ”‏حمد کی قربانی“‏ ہے اور ہماری عبادت کا حصہ ہے۔ اِس لئے ہماری حمد کی قربانی اعلیٰ معیار کی ہونی چاہئے۔ سچ ہے کہ ہر ایک کے حالات فرق ہوتے ہیں۔ لیکن ہم جتنا وقت مُنادی کے کام میں صرف کرتے ہیں، عموماً اُس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہم خدا کی خدمت کرنے کے شرف کی کتنی قدر کرتے ہیں۔‏

۱۱ مسیحی، گھر پر اور کلیسیا میں خدا کی عبادت کرنے کے لئے باقاعدگی سے وقت نکالتے ہیں۔ یہوواہ خدا نے ہمیں ایسا کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ سچ ہے کہ آج ہمیں سبت منانے اور یروشلیم جا کر عیدیں منانے کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن بنی‌اسرائیل کی طرح ہم بھی خدا کے کلام کا مطالعہ کرنے، دُعا کرنے اور اجلاسوں پر جانے کے لئے دوسرے کاموں سے وقت نکالتے ہیں۔ اور آج بھی گھر کے سربراہوں کی ذمہ‌داری ہے کہ وہ اپنے گھروالوں کے ساتھ مل کر خاندانی عبادت کریں۔ (‏۱-‏تھس ۵:‏۱۷؛‏ عبر ۱۰:‏۲۴، ۲۵‏)‏ لہٰذا ہمیں خود سے پوچھنا چاہئے کہ کیا مَیں عبادت کے اِن پہلوؤں میں بہتری لا سکتا ہوں؟‏

۱۲.‏ (‏الف)‏ بائبل میں بخور کو کس چیز سے تشبیہ دی گئی ہے؟ (‏ب)‏ بخور کے بارے میں دی گئی ہدایات سے ہم اپنی دُعاؤں کے سلسلے میں کیا سیکھتے ہیں؟‏

۱۲ داؤد بادشاہ نے ایک گیت میں کہا:‏ ”‏میری دُعا تیرے حضور بخور کی مانند ہو اور میرا ہاتھ اُٹھانا شام کی قربانی کی مانند۔“‏ (‏زبور ۱۴۱:‏۲‏)‏ ذرا سوچیں کہ آپ کتنی بار اور کن باتوں کے بارے میں خدا سے دُعا کرتے ہیں؟ مکاشفہ کی کتاب میں خدا کے خادموں کی دُعاؤں کو ”‏عود“‏ یعنی بخور سے تشبیہ دی گئی ہے کیونکہ وہ راحت‌انگیز خوشبو کی طرح خدا تک پہنچتی ہیں۔ (‏مکا ۵:‏۸‏)‏ پُرانے زمانے میں جو بخور خدا کے مذبح پر جلایا جاتا تھا، اُس کے بارے میں خاص ہدایات دی گئی تھیں۔ خدا اِسے اُسی صورت میں قبول کرتا تھا اگر یہ اُس کی ہدایات کے عین مطابق بنایا اور گزرانا جاتا تھا۔ (‏خر ۳۰:‏۳۴-‏۳۷؛ احبا ۱۰:‏۱، ۲)‏ اِسی طرح اگر ہم یہوواہ خدا کی ہدایات کے مطابق اُس سے دُعا کرتے ہیں تو وہ ہماری دُعاؤں کو ضرور قبول کرے گا۔‏

‏’‏دیا کرو تو تمہیں بھی دیا جائے گا‘‏

۱۳، ۱۴.‏ (‏الف)‏ فلپی کی کلیسیا اور اِپفردِتس نے کس طرح پولس رسول کی مدد کی؟ (‏ب)‏ پولس رسول نے فلپیوں کے تحفوں کو کیسا خیال کِیا؟ (‏ج)‏ ہم فلپیوں اور اِپفردِتس کی مثال پر کیسے عمل کر سکتے ہیں؟‏

۱۳ ہم پوری دُنیا میں مُنادی کے کام کو فروغ دینے کے لئے جو عطیات دیتے ہیں، وہ بھی ایک طرح کی قربانی ہیں، چاہے ہم تھوڑا دیں یا بہت۔ (‏مر ۱۲:‏۴۱-‏۴۴‏)‏ پہلی صدی میں فلپی کی کلیسیا نے اِپفردِتس کو کچھ چیزیں اور پیسے دے کر روم بھیجا تاکہ پولس رسول کی ضروریات پوری ہوں۔ فلپیوں نے پہلے بھی کئی موقعوں پر پولس رسول کی مالی طور پر مدد کی تھی تاکہ وہ روزی کمانے کی فکر کئے بغیر مُنادی کے کام میں زیادہ وقت صرف کر سکیں۔ پولس رسول نے اِن تحفوں کے بارے میں کہا کہ ”‏وہ خوشبو اور مقبول قربانی ہیں جو خدا کو پسندیدہ ہے۔“‏ ‏(‏فلپیوں ۴:‏۱۵-‏۱۹ کو پڑھیں۔)‏ پولس رسول نے فلپیوں کی مدد کی بڑی قدر کی اور یہوواہ خدا بھی اِس سے خوش ہوا۔‏

۱۴ آج بھی یہوواہ خدا اُن عطیات کی قدر کرتا ہے جو ہم مُنادی کے کام کے فروغ کے لئے دیتے ہیں۔ اُس نے وعدہ کِیا ہے کہ اگر ہم اُس کی بادشاہت کو اپنی زندگی میں سب سے زیادہ اہمیت دیں گے تو وہ ہماری روحانی اور جسمانی ضروریات پوری کرے گا۔—‏متی ۶:‏۳۳؛‏ لو ۶:‏۳۸‏۔‏

خدا کے شکرگزار ہوں

۱۵.‏ آپ یہوواہ خدا کی کن‌کن نعمتوں کے لئے شکرگزار ہیں؟‏

۱۵ یہوواہ خدا نے ہمیں بے‌شمار نعمتیں دی ہیں اور ہمیں اِن کی قدر کرنی چاہئے۔ ہمیں ہر روز اُس کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ اُس نے ہمیں زندگی کی نعمت دی ہے۔ وہ ہمیں خوراک، لباس اور سر چھپانے کی جگہ فراہم کرتا ہے۔ جس ہوا میں ہم سانس لیتے ہیں، یہ بھی خدا کی نعمت ہے۔ ہم اِس لئے بھی خدا کے شکرگزار ہیں کہ اُس نے ہمیں بائبل کی سچائیوں کا علم دیا ہے جس کی بِنا پر ہمارے دل میں ایمان اور اُمید پیدا ہوتی ہے۔ یہوواہ خدا ہمارا خالق ہے اور اُس نے ہمارے لئے بہت کچھ کِیا ہے اِس لئے ہمیں اُس کی عبادت کرنی چاہئے اور اُس کے حضور حمد کی قربانیاں پیش کرنی چاہئیں۔‏‏—‏مکاشفہ ۴:‏۱۱ کو پڑھیں۔‏

۱۶.‏ ہم کیسے ظاہر کر سکتے ہیں کہ ہم یسوع مسیح کی قربانی کی قدر کرتے ہیں؟‏

۱۶ پچھلے مضمون میں ہم نے دیکھا تھا کہ یہوواہ خدا کی سب سے بڑی نعمت یسوع مسیح کی قربانی ہے جس کے ذریعے ہمیں گُناہوں کی معافی ملتی ہے۔ یسوع مسیح کی قربانی سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہوواہ خدا انسانوں سے کتنی محبت رکھتا ہے۔ (‏۱-‏یوح ۴:‏۱۰‏)‏ ہم خدا کی اِس نعمت کی قدر کیسے کر سکتے ہیں؟ پولس رسول نے لکھا:‏ ”‏مسیح کی محبت ہم کو مجبور کر دیتی ہے اِس لئے کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ جب ایک سب کے واسطے مؤا تو سب مر گئے۔ اور وہ اِس لئے سب کے واسطے مؤا کہ جو جیتے ہیں وہ آگے کو اپنے لئے نہ جئیں بلکہ اُس کے لئے جو اُن کے واسطے مؤا اور پھر جی اُٹھا۔“‏ (‏۲-‏کر ۵:‏۱۴، ۱۵‏)‏ اِس کا مطلب ہے کہ اگر ہم واقعی خدا کی مہربانیوں کی قدر کرتے ہیں تو ہم اپنی زندگی اُس کی اور اُس کے بیٹے کی بڑائی کرنے کے لئے وقف کریں گے۔ خدا کے حکموں پر عمل کرنے اور مُنادی کے کام میں حصہ لینے سے ہم یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ہم یہوواہ خدا اور یسوع مسیح سے محبت رکھتے ہیں۔—‏۱-‏تیم ۲:‏۳، ۴؛‏ ۱-‏یوح ۵:‏۳‏۔‏

۱۷، ۱۸.‏ بعض مسیحیوں نے یہوواہ خدا کے لئے اپنی قربانیوں کو بہتر بنانے کے لئے کیا کِیا ہے؟ مثال دیں۔‏

۱۷ کیوں نہ خود سے پوچھیں کہ کیا مَیں اُن قربانیوں کو بہتر بنا سکتا ہوں جو مَیں خدا کو پیش کرتا ہوں؟ بہت سے مسیحیوں نے خدا کی تمام نعمتوں پر سوچ‌بچار کی ہے اور اِس سے اُن میں یہ خواہش پیدا ہوئی ہے کہ وہ اپنی زندگی میں تبدیلیاں لائیں تاکہ وہ مُنادی کے کام یا خدا کی خدمت سے تعلق رکھنے والے دوسرے کاموں میں زیادہ حصہ لے سکیں۔ اِن میں سے کچھ، سال میں ایک مہینے یا زیادہ مہینوں کے لئے مددگار پہل‌کاروں کے طور پر خدمت کرتے ہیں جبکہ کئی مسیحی پہل‌کاروں کے طور پر خدمت کر رہے ہیں۔ دوسرے مسیحی کنگڈم‌ہال اور اسمبلی‌ہال وغیرہ کی تعمیر میں حصہ لیتے ہیں۔ یہ خدا کی نعمتوں کے لئے قدر ظاہر کرنے کے عمدہ طریقے ہیں۔ اگر یہ کام صحیح نیت سے کئے جاتے ہیں یعنی یہوواہ خدا کی شکرگزاری کے لئے تو خدا اِن قربانیوں کو قبول کرے گا۔‏

۱۸ بہت سے مسیحیوں نے یہوواہ خدا کے شکرگزار ہونے کی وجہ سے یہ فیصلہ کِیا کہ وہ اُس کی خدمت میں زیادہ کریں گے۔ اِس سلسلے میں مورینا کی مثال پر غور کریں۔ اُنہوں نے کیتھولک گھرانے میں پرورش پائی۔ لیکن اُن کے دل میں زندگی کے مقصد اور خدا کے بارے میں بہت سے سوال تھے۔ اُنہوں نے کیتھولک مذہب اور کچھ ایشیائی مذاہب کے فلسفے پر غور کِیا لیکن اُنہیں اپنے سوالوں کے جواب نہیں ملے۔ پھر اُنہوں نے یہوواہ کے گواہوں کے ساتھ بائبل کا مطالعہ شروع کِیا اور تب اُنہیں اپنے سارے سوالوں کے جواب مل گئے۔ مورینا نے بائبل سے جو کچھ سیکھا، وہ اِس کے لئے خدا کی بہت شکرگزار تھیں کیونکہ اِس سے اُنہیں سچی خوشی حاصل ہوئی۔ اِس لئے وہ اپنی ساری طاقت خدا کی خدمت میں صرف کرنا چاہتی تھیں۔ وہ بپتسمے کے فوراً بعد مددگار پہل‌کار کے طور پر خدمت کرنے لگیں۔ اور پھر جیسے ہی اُن کے لئے ممکن ہوا، اُنہوں نے پہل‌کار کے طور پر خدمت شروع کر دی۔ یہ ۳۰ سال پہلے کی بات ہے اور مورینا اب بھی کُل‌وقتی طور پر خدا کی خدمت کر رہی ہیں۔‏

۱۹.‏ آپ یہوواہ خدا کی خدمت میں زیادہ قربانیاں دینے کے لئے کیا کر سکتے ہیں؟‏

۱۹ بہت سے مسیحیوں کے حالات ایسے نہیں ہیں کہ وہ پہل‌کاروں کے طور پر خدمت کر سکیں۔ لیکن ہم سب ایسی قربانیاں دے سکتے ہیں جن سے یہوواہ خدا خوش ہو۔ ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ ہم ہر وقت یہوواہ کے گواہ ہیں اِس لئے ہمیں روزمرہ زندگی میں بائبل کے اصولوں پر عمل کرنا چاہئے۔ ہمیں اِس بات پر ایمان رکھنا چاہئے کہ یہوواہ خدا اپنے ارادوں کو ضرور پورا کرے گا۔ اور ہمیں نیک کام کرنے چاہئیں جن میں مُنادی کا کام سب سے اہم ہے۔ اِن باتوں پر عمل کرنے سے ہم یہ ظاہر کریں گے کہ ہم دل کی گہرائیوں سے یہوواہ خدا اور یسوع مسیح کے شکرگزار ہیں۔ آئیں، دل‌وجان سے یہوواہ خدا کے لئے قربانیاں دیتے رہیں۔‏

‏[‏صفحہ ۲۵ پر تصویر]‏

کیا آپ ہر موقعے پر گواہی دینے کی کوشش کرتے ہیں؟‏

‏[‏صفحہ ۲۷ پر عبارت]‏

کیا یہوواہ خدا کی مہربانیوں پر غور کرنے سے آپ کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ آپ اُس کی خدمت میں زیادہ قربانیاں دیں؟‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں