ابرہام نبی—ایمان کی مثال
ابرہام نبی رات کے سناٹے میں کھڑے آسمان کو تک رہے تھے۔ آسمان پر جگمگاتے تاروں کو دیکھ کر اُنہیں خدا کا یہ وعدہ یاد آیا کہ اُن کی اولاد آسمان کے ستاروں کی طرح بےشمار ہوگی۔ (پیدایش ۱۵:۵) ابرہام کے لئے ستارے اِس بات کا جیتاجاگتا ثبوت تھے کہ یہوواہ خدا کے وعدے پورے ہوں گے۔ اُنہیں پورا یقین تھا کہ اگر خدا اِتنی وسیع کائنات کو بنا سکتا ہے تو وہ اُن کو اور سارہ کو اولاد بھی دے سکتا ہے۔ ابرہام نبی کا ایمان واقعی بہت مضبوط تھا۔
ایمان سے کیا مراد ہے؟ خدا کے کلام کے مطابق لفظ ایمان سے مراد اَندیکھی چیزوں کے وجود پر پکا یقین ہے۔ یہ اندھا یقین نہیں ہے بلکہ ثبوت پر مبنی ہے۔ ایمان رکھنے والا شخص خدا کے وعدوں کو ہمیشہ ذہن میں رکھتا ہے اور اُسے پورا بھروسا ہوتا ہے کہ خدا کے وعدے ضرور پورے ہوں گے۔
ابرہام نبی نے ایمان کیسے ظاہر کِیا؟ ابرہام نبی نے اپنے ایمان کے مطابق عمل کِیا۔ ایمان ہی سے اُنہوں نے اپنا دیس چھوڑ دیا کیونکہ اُنہیں یقین تھا کہ یہوواہ خدا اپنے وعدے کے مطابق اُنہیں ایک دوسرے ملک میں لے جائے گا۔ ایمان ہی سے اُنہوں نے کنعان میں خانہبدوشی کی زندگی گزاری کیونکہ اُنہیں یقین تھا کہ خدا اُن کی اولاد کو یہ ملک دے گا۔ اور ایمان ہی سے وہ اپنے بیٹے اِضحاق کو قربان کرنے کے لئے تیار ہو گئے کیونکہ اُنہیں یقین تھا کہ اگر ضرورت ہوئی تو خدا اِضحاق کو زندہ بھی کر دے گا۔—عبرانیوں ۱۱:۸، ۹، ۱۷-۱۹۔
ابرہام نبی کا دھیان ماضی پر نہیں بلکہ مستقبل پر تھا۔ کنعان میں ابرہام اور سارہ کی زندگی اِتنی آرامدہ نہیں تھی جتنی کہ اُور میں تھی۔ لیکن ”وہ اُس ملک کے خیال میں نہیں رہے جس سے وہ نکل آئے تھے۔“ (عبرانیوں ۱۱:۱۵، ٹوڈیز انگلش ورشن) اُن کا دھیان اِس بات پر تھا کہ خدا مستقبل میں اُنہیں اور اُن کی اولاد کو کونسی برکتیں دے گا۔—عبرانیوں ۱۱:۱۶۔
کیا وہ وعدے پورے ہوئے جن پر ابرہام نبی ایمان رکھتے تھے؟ جیہاں، یہوواہ خدا نے اپنے ہر ایک وعدے کو پورا کِیا۔ ابرہام کی نسل بڑھتی گئی اور ایک قوم بن گئی جسے اسرائیل کے نام سے جانا جاتا ہے۔ آخرکار بنیاسرائیل ملک کنعان میں آباد ہوئے، بالکل اُسی طرح جیسے یہوواہ خدا نے ابرہام سے وعدہ کِیا تھا۔—یشوع ۱۱:۲۳۔
ہم ابرہام نبی کی مثال سے کیا سیکھتے ہیں؟ ہم یقین رکھ سکتے ہیں کہ یہوواہ خدا اپنے سب وعدوں کو پورا کرے گا۔ شاید کچھ وعدوں کے بارے میں انسانوں کو لگے کہ وہ کبھی پورے نہیں ہوں گے لیکن ”خدا کے لیے سب کچھ ممکن ہے۔“—متی ۱۹:۲۶، نیو اُردو بائبل ورشن۔
ابرہام نبی کی مثال سے ہم یہ بھی سیکھتے ہیں کہ ہمیں اپنا دھیان ماضی پر نہیں بلکہ مستقبل پر رکھنا چاہئے۔ جےسن نامی ایک آدمی نے یہ سیکھ لیا ہے۔ جےسن ایک ایسی بیماری میں مبتلا ہیں جس کی وجہ سے وہ مفلوج ہو گئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ”کبھیکبھار تو مَیں ماضی کے بارے میں سوچنے لگتا ہوں۔ مجھے چھوٹی چھوٹی بہت سی باتیں یاد آتی ہیں جو مَیں اب نہیں کر سکتا ہوں، مثلاً اپنی بیوی امینڈا کو گلے لگانا۔“
لیکن جےسن کو پورا یقین ہے کہ یہوواہ خدا اپنے وعدوں کو ضرور پورا کرے گا۔ وہ جانتے ہیں کہ خدا نے وعدہ کِیا ہے کہ جلد ہی زمین فردوس بن جائے گی اور خدا کے وفادار لوگ اچھی صحت کے ساتھ ہمیشہ تک اِس پر زندہ رہیں گے۔a (زبور ۳۷:۱۰، ۱۱، ۲۹؛ یسعیاہ ۳۵:۵، ۶؛ مکاشفہ ۲۱:۳، ۴) جےسن کہتے ہیں: ”مَیں خود کو یاد دلاتا ہوں کہ وہ وقت دُور نہیں جب سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ ٹینشن، پریشانی، غم اور مایوسی ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائیں گے۔“ واقعی جےسن، ابرہام نبی جیسا مضبوط ایمان رکھتے ہیں!
[فٹنوٹ]
a فردوس کے بارے میں مزید سیکھنے کے لئے کتاب پاک صحائف کی تعلیم حاصل کریں کے باب نمبر ۳، ۷ اور ۸ کو دیکھیں۔ آپ اِس کتاب کو یہوواہ کے گواہوں سے حاصل کر سکتے ہیں۔