دُنیا کی روح نہیں بلکہ خدا کی روح کے مطابق چلیں
”ہم نے نہ دُنیا کی رُوح بلکہ وہ رُوح پایا جو خدا کی طرف سے ہے تاکہ اُن باتوں کو جانیں جو خدا نے ہمیں عنایت کی ہیں۔“—۱-کر ۲:۱۲۔
۱، ۲. (الف) سچے مسیحی کس لحاظ سے ایک جنگ لڑ رہے ہیں؟ (ب) ہم کن سوالوں پر غور کریں گے؟
آجکل تمام سچے مسیحیوں کو ایک جنگ لڑنی پڑتی ہے۔ ہمارا دشمن بہت ہی طاقتور، چالاک اور جنگ لڑنے میں ماہر ہے۔ اُس کے پاس ایسا ہتھیار ہے جس سے اُس نے دُنیا کے زیادہتر لوگوں کو اپنے قبضے میں رکھا ہوا ہے۔ لیکن ہمیں یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ ہم اِس دشمن پر غالب نہیں آ سکتے۔ (یسع ۴۱:۱۰) ہمیں ایسا تحفظ حاصل ہے جس سے ہم اُس کے ہر حملے کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔
۲ ہماری جنگ روحانی ہے اور ہمارا دشمن شیطان ابلیس ہے۔ اُس کا ایک خاص ہتھیار ”دُنیا کی روح“ ہے۔ (۱-کر ۲:۱۲) شیطان کے حملوں کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمیں خدا کی روح کی ضرورت ہے۔ اِس جنگ میں کامیاب ہونے اور خدا کی قربت میں رہنے کے لئے ہمیں خدا سے پاک روح مانگنی چاہئے۔ اِس کے ساتھساتھ ہمیں روح کے پھل کو بھی اپنے اندر پیدا کرنا چاہئے۔ (گل ۵:۲۲، ۲۳) آئیں، دیکھیں کہ دُنیا کی روح کیا ہے؟ اور اِس سے اِتنے زیادہ لوگ کیوں متاثر ہوتے ہیں؟ ہم یہ کیسے جان سکتے ہیں کہ آیا دُنیا کی روح ہم پر اثرانداز ہو رہی ہے یا نہیں؟ ہم دُنیا کی روح کا مقابلہ کرنے اور خدا کی روح حاصل کرنے کے سلسلے میں یسوع مسیح سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
دُنیا کی روح سے اِتنے زیادہ لوگ کیوں متاثر ہوتے ہیں؟
۳. دُنیا کی روح کیا ہے؟
۳ بائبل میں بتایا گیا ہے کہ اِس ”دُنیا کا سردار“ شیطان ہے۔ اِس لئے دُنیا کی روح کے پیچھے شیطان کا ہاتھ ہے۔ یہ روح خدا کی روح کے مخالف ہے۔ (یوح ۱۲:۳۱؛ ۱۴:۳۰؛ ۱-یوح ۵:۱۹) دُنیا کی روح، دُنیا میں پائے جانے والے لوگوں کی سوچ اور مزاج کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ یہ ایک ایسی قوت ہے جو لوگوں کو خدا کی نافرمانی کرنے پر اُکساتی ہے۔
۴، ۵. دُنیا کی روح سے اِتنے زیادہ لوگ کیوں متاثر ہوتے ہیں؟
۴ دُنیا کی روح سے اِتنے زیادہ لوگ کیوں متاثر ہوتے ہیں؟ یہ جاننے کے لئے آئیں، باغِعدن میں ہونے والے واقعے پر غور کریں۔ شیطان نے حوا کو اِس بات پر قائل کِیا کہ اگر وہ خدا کے حکموں کو رد کرکے اپنی منمانی کرے تو یہ اُس کے لئے بہتر ہوگا۔ (پید ۳:۱۳) لیکن شیطان کی بات جھوٹی ثابت ہوئی۔ (یوح ۸:۴۴) شیطان نے حوا کے ذریعے آدم کو بھی خدا کی نافرمانی کرنے پر اُکسایا۔ آدم کے اِس فیصلے کی وجہ سے تمام انسانوں نے گُناہ کو ورثے میں پایا۔ اِسی لئے ہم سب شیطان کی سوچ سے متاثر ہونے اور خدا کی نافرمانی کرنے کی طرف مائل ہیں۔—افسیوں ۲:۱-۳ کو پڑھیں۔
۵ نوح کے زمانے میں آنے والے طوفان سے پہلے شیطان نے بہت سے فرشتوں کو گمراہ کِیا۔ اِن فرشتوں نے خدا کی نافرمانی کی اور یوں وہ شیاطین بن گئے۔ (مکا ۱۲:۳، ۴) وہ فرشتے سوچنے لگے کہ اگر وہ آسمان کو چھوڑ دیں گے اور زمین پر اپنی غیرفطری خواہشوں کو پورا کریں گے تو یہ اُن کے لئے بہتر ہوگا۔ (یہوداہ ۶) آجکل شیاطین جسمانی بدن تو اختیار نہیں کر سکتے پھر بھی وہ شیطان کے ساتھ مل کر ”سارے جہان کو گمراہ“ کر رہے ہیں۔ (مکا ۱۲:۹) افسوس کی بات ہے کہ زیادہتر لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ شیطان اُنہیں گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔—۲-کر ۴:۴۔
کیا دُنیا کی روح آپ پر اثرانداز ہو رہی ہے؟
۶. دُنیا کی روح کس صورت میں ہم پر اثرانداز ہو سکتی ہے؟
۶ آجکل لوگ اُن طریقوں سے واقف نہیں ہیں جن سے شیطان اُنہیں گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن بائبل سچے مسیحیوں کو شیطان کی چالوں سے آگاہ کرتی ہے۔ (۲-کر ۲:۱۱) لہٰذا یہ ہمارے اختیار میں ہے کہ ہم دُنیا کی روح کو خود پر حاوی ہونے دیں گے یا نہیں۔ لیکن ہمیں کیسے پتہ چل سکتا ہے کہ ہم پر خدا کی روح اثرانداز ہو رہی ہے یا دُنیا کی روح؟ آئیں، اِس سلسلے میں چار سوالوں پر غور کریں۔
۷. شیطان کی ایک چال کیا ہے جس میں پھنس کر ہم خدا سے دُور ہو سکتے ہیں؟
۷ مَیں جس تفریح کا انتخاب کرتا ہوں، اُس سے میرے بارے میں کیا ظاہر ہوتا ہے؟ (یعقوب ۳:۱۴-۱۸ کو پڑھیں۔) شیطان جانتا ہے کہ یہوواہ خدا اُن لوگوں سے نفرت کرتا ہے جو ظلموتشدد کو پسند کرتے ہیں۔ (زبور ۱۱:۵) اِس لئے وہ چاہتا ہے کہ ہم بھی ظلموتشدد کو پسند کرنے لگیں۔ وہ ایسی موسیقی، کتابیں، رسالے اور فلمیں استعمال کرتا ہے جن میں تشدد پایا جاتا ہے۔ وہ ایسی ویڈیوگیمز کو بھی استعمال کرتا ہے جن میں کھیلنے والا، گیم کے کرداروں سے گندے کام اور تشدد کراتا ہے۔ اگر ہم نیکی سے محبت رکھنے کے ساتھساتھ بدی سے بھی محبت رکھتے ہیں تو شیطان بہت خوش ہوتا ہے۔—زبور ۹۷:۱۰۔
۸، ۹. تفریح کا انتخاب کرنے کے سلسلے میں ہمیں خود سے کونسے سوال پوچھنے چاہئیں؟
۸ دُنیا کی روح کے برعکس خدا کی روح لوگوں میں یہ خواہش پیدا کرتی ہے کہ وہ اپنا چالچلن پاک رکھیں اور حلم اور رحم جیسی خوبیاں پیدا کریں۔ ہمیں خود سے پوچھنا چاہئے: ”مَیں جس تفریح کا انتخاب کرتا ہوں، کیا اِس سے مجھے اپنے اندر ایسی خوبیاں پیدا کرنے میں مدد ملتی ہے؟“ اُوپر سے آنے والی حکمت ”بےریا“ ہوتی ہے۔ خدا کی روح سے رہنمائی پانے والے لوگ جو کچھ کہتے ہیں، وہی کرتے ہیں۔ وہ دوسروں کو پاک رہنے اور سب کے ساتھ نرمی سے پیش آنے کی نہ صرف تعلیم دیتے ہیں بلکہ خود بھی اِس پر عمل کرتے ہیں۔ اِس لئے وہ تنہائی میں بھی تشدد والی اور گندی فلمیں نہیں دیکھتے۔
۹ یہوواہ خدا چاہتا ہے کہ ہم صرف اُسی کی عبادت کریں۔ اگر ہم صرف ایک مرتبہ ہی شیطان کی عبادت کریں تو شیطان بہت خوش ہوگا۔ آپ کو یاد ہوگا کہ شیطان نے یسوع مسیح سے کہا کہ وہ صرف ایک مرتبہ اُسے سجدہ کرے۔ (لو ۴:۷، ۸) لہٰذا ہمیں خود سے پوچھنا چاہئے کہ ”مَیں جس تفریح کا انتخاب کرتا ہوں، کیا اِس سے مَیں یہوواہ خدا سے دُور ہونے کے خطرے میں پڑ جاؤں گا؟ کیا اِس تفریح سے میرے لئے دُنیا کی روح کا مقابلہ کرنا آسان ہوگا یا مشکل؟ کیا مجھے تفریح کا انتخاب کرنے کے سلسلے میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے؟“
۱۰، ۱۱. (الف) مالودولت حاصل کرنے کے سلسلے میں دُنیا کی روح کس سوچ کو فروغ دیتی ہے؟ (ب) خدا کے کلام میں ہمیں مالودولت کے سلسلے میں کیا نصیحت دی گئی ہے؟
۱۰ مالودولت کے متعلق میرا نظریہ کیا ہے؟ (لوقا ۱۸:۲۴-۳۰ کو پڑھیں۔) دُنیا کی روح ”آنکھوں کی خواہش“ کو بڑھاتی ہے اور لوگوں کے دل میں لالچ پیدا کرتی ہے۔ (۱-یوح ۲:۱۶) اِس لئے آجکل بہت سے لوگ دولت کے پیچھے بھاگتے ہیں۔ (۱-تیم ۶:۹، ۱۰) دُنیا کی سوچ یہ ہے کہ اگر ہم بہت سی دولت اور چیزیں جمع کریں گے تو اِس سے ہمیں تحفظ ملے گا۔ (امثا ۱۸:۱۱) لیکن اگر ایک مسیحی خدا کی نسبت دولت سے زیادہ محبت کرتا ہے تو اِس کا مطلب ہے کہ شیطان اُس پر غالب آ گیا ہے۔ پس ہمیں خود سے پوچھنا چاہئے: ”کیا مَیں دولت کمانے اور پُرآسائش زندگی گزارنے کو حد سے زیادہ اہمیت دینے لگا ہوں؟“
۱۱ خدا کے کلام میں ہمیں یہ نصیحت دی گئی ہے کہ ہم پیسے کے بارے میں درست نظریہ رکھیں۔ اِس میں کہا گیا ہے کہ ہمیں اپنی اور اپنے گھروالوں کی ضروریات پوری کرنے کے لئے محنت کرنی چاہئے۔ (۱-تیم ۵:۸) پاک روح لوگوں کی مدد کرتی ہے کہ وہ یہوواہ خدا کی طرح فراخدل بنیں۔ ایسے لوگ دولت سے زیادہ انسانوں کی قدر کرتے ہیں۔ اگر اُن کے بس میں ہوتا ہے تو وہ خوشی سے دوسروں کی مدد کرتے ہیں۔ (امثا ۳:۲۷، ۲۸) وہ دولت کمانے کو خدا کی خدمت کرنے سے زیادہ اہم نہیں سمجھتے۔
۱۲، ۱۳. دُنیا کی روح کے برعکس خدا کی روح ہم پر کیسا اثر ڈالتی ہے؟
۱۲ میرے مزاج اور چالچلن سے کونسی روح ظاہر ہوتی ہے؟ (کلسیوں ۳:۸-۱۰، ۱۳ کو پڑھیں۔) دُنیا کی روح جسم کے کاموں کو فروغ دیتی ہے۔ (گل ۵:۱۹-۲۱) یہ دیکھنے کے لئے کہ ہم پر کونسی روح اثر انداز ہو رہی ہے، ہمیں خود سے پوچھنا چاہئے: ”جب مجھ پر کوئی دباؤ ہوتا ہے تو میرا چالچلن اور مزاج کیسا ہوتا ہے؟ کیا مَیں تب بھی خدا کی روح ظاہر کرتا ہوں جب کلیسیا میں کوئی بہن یا بھائی مجھے دُکھ پہنچاتا ہے؟ میرے گھر والوں کے ساتھ میرا برتاؤ کیسا ہے؟ کیا مَیں اُن کے ساتھ پیش آتے وقت خدا کی روح ظاہر کرتا ہوں یا دُنیا کی روح؟“ کیوں نہ اپنا جائزہ لیں کہ پچھلے چھ مہینوں کے دوران آپ نے مسیح جیسی خوبیاں پیدا کرنے میں ترقی کی ہے یا آپ دوبارہ سے ایسی باتوں اور چالچلن میں پڑ گئے ہیں جنہیں آپ نے چھوڑ دیا تھا۔
۱۳ خدا کی روح ’پُرانی انسانیت کو اُس کے کاموں سمیت اُتارنے‘ اور ’نئی انسانیت کو پہننے‘ میں ہماری مدد کرے گی۔ یوں ہم پہلے سے زیادہ محبت اور مہربانی ظاہر کرنے کے قابل ہوں گے۔ جب کوئی ہمارے خلاف گُناہ کرے گا تو ہم اُسے معاف کر دیں گے۔ جب کوئی ہمارے ساتھ ناانصافی کرے گا تو ہم بدلے میں ”تلخمزاجی اور قہر اور غصہ اور شوروغل“ نہیں کریں گے اور نہ ہی اُس شخص کی ”بدگوئی“ کریں گے۔ اِس کی بجائے ہم دوسروں کے ساتھ نرمی سے پیش آنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔—افس ۴:۳۱، ۳۲۔
۱۴. دُنیا کے لوگ خدا کے کلام کے متعلق کیسا نظریہ رکھتے ہیں؟
۱۴ کیا مَیں بائبل کے اصولوں سے محبت کرتا اور اُن کے مطابق چلتا ہوں؟ (امثال ۳:۵، ۶ کو پڑھیں۔) دُنیا کی روح لوگوں کو خدا کے اصولوں کی خلافورزی کرنے پر اُکساتی ہے۔ ایسے لوگ جو دُنیا کی روح سے متاثر ہیں، وہ بائبل کے اصولوں کی نسبت انسانوں کی روایات اور نظریات کو زیادہ مانتے ہیں۔ (۲-تیم ۴:۳، ۴) بعض لوگ بائبل کو بالکل رد کرتے ہیں۔ وہ اِس بات پر شک کرتے ہیں کہ بائبل خدا کے الہام سے ہے اور ہمارے لئے فائدہمند ہے۔ وہ اپنی ہی نظروں میں دانشمند ہیں۔ اُن کا خیال ہے کہ زناکاری، ہمجنسپرستی اور طلاق کے متعلق بائبل کے اصولوں کی پابندی کرنا اِتنا ضروری نہیں ہے۔ وہ ”بدی کو نیکی اور نیکی کو بدی کہتے ہیں۔“ (یسع ۵:۲۰) کیا دُنیا کی روح ہم پر بھی اثرانداز ہو رہی ہے؟ کیا ہم مشکلات کا سامنا کرتے وقت بائبل کی ہدایت پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں؟ یا پھر کیا ہم دُنیا سے رہنمائی حاصل کرتے اور اپنی حکمت پر بھروسا کرتے ہیں؟
۱۵. ہمیں اپنی حکمت پر بھروسا کرنے کی بجائے کیا کرنا چاہئے؟
۱۵ خدا کی روح ہمارے دل میں بائبل کے لئے قدر بڑھاتی ہے۔ زبور نویس کی طرح ہم بھی خدا کے کلام کو اپنے قدموں کے لئے چراغ اور راہ کے لئے روشنی سمجھتے ہیں۔ (زبور ۱۱۹:۱۰۵) ہم اپنی حکمت پر بھروسا نہیں کرتے بلکہ ہم صحیح اور غلط میں امتیاز کرنے کے لئے خدا کے کلام سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ ہم خدا کے کلام میں درج اصولوں پر نہ صرف عمل کرتے ہیں بلکہ اِن سے محبت بھی کرتے ہیں۔—زبور ۱۱۹:۹۷۔
یسوع مسیح کی مثال سے سیکھیں
۱۶. مسیح جیسا مزاج رکھنے میں کیا شامل ہے؟
۱۶ خدا کی روح حاصل کرنے کے لئے ہمیں ”مسیح کی عقل“ اپنانی چاہئے۔ (۱-کر ۲:۱۶) مسیح جیسا مزاج رکھنے کے لئے ہمیں یسوع مسیح کی سوچ اور چالچلن کے متعلق سیکھنا چاہئے۔ اور پھر ہمیں یسوع مسیح کی مثال پر عمل بھی کرنا چاہئے۔ (فل ۲:۵؛ ۱-پطر ۲:۲۱) آئیں، چند طریقوں پر غور کریں جن سے ہم ایسا کر سکتے ہیں۔
۱۷، ۱۸. (الف) ہم دُعا کے متعلق یسوع مسیح کی مثال سے کیا سیکھتے ہیں؟ (ب) ہمیں کیوں خدا سے پاک روح مانگتے رہنا چاہئے؟
۱۷ خدا کی روح کے لئے دُعا کریں۔ یسوع مسیح نے آزمائشوں کا سامنا کرنے سے پہلے خدا سے پاک روح مانگی۔ (لو ۲۲:۴۰، ۴۱) ہمیں بھی یہوواہ خدا سے اُس کی پاک روح مانگنی چاہئے۔ یہوواہ خدا خوشی اور فراخدلی سے اُن لوگوں کو اپنی پاک روح دیتا ہے جو پورے ایمان سے مانگتے ہیں۔ (لو ۱۱:۱۳) یسوع مسیح نے کہا تھا کہ ”مانگو تو تُم کو دیا جائے گا۔ ڈھونڈو تو پاؤ گے۔ دروازہ کھٹکھٹاؤ تو تمہارے واسطے کھولا جائے گا۔ کیونکہ جو کوئی مانگتا ہے اُسے ملتا ہے اور جو ڈھونڈتا ہے وہ پاتا ہے اور جو کھٹکھٹاتا ہے اُس کے واسطے کھولا جائے گا۔“—متی ۷:۷، ۸۔
۱۸ جب ہم کسی مشکل میں ہوں تو ہمیں باربار خدا سے پاک روح مانگنی چاہئے۔ ہو سکتا ہے کہ ہمیں دُعا میں زیادہ وقت بھی صرف کرنا پڑے۔ کبھی کبھار یہوواہ خدا ہماری دُعا کا فوراً جواب نہیں دیتا۔ وہ یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ ہمارا ایمان کتنا مضبوط ہے اور جس بات کی ہم درخواست کر رہے ہیں، وہ ہمارے لئے کتنی اہمیت رکھتی ہے۔a
۱۹. یسوع مسیح نے ہمیشہ کیا کِیا اور ہمیں اُن کی مثال پر عمل کیوں کرنا چاہئے؟
۱۹ ہر معاملے میں یہوواہ خدا کی فرمانبرداری کریں۔ یسوع مسیح ہمیشہ وہی کام کرتے تھے جو اُن کے باپ کو پسند تھے۔ ایک مرتبہ یسوع مسیح ایک مشکل صورتحال سے جس طریقے سے نپٹنا چاہتے تھے، وہ اُن کے باپ کی مرضی سے فرق تھا۔ پھر بھی یسوع مسیح نے اپنے باپ سے کہا: ”میری مرضی نہیں بلکہ تیری ہی مرضی پوری ہو۔“ (لو ۲۲:۴۲) لہٰذا ہمیں اپنے آپ سے پوچھنا چاہئے: ”کیا مَیں اُس وقت بھی خدا کا فرمانبردار رہتا ہوں جب ایسا کرنا مشکل ہوتا ہے؟“ یاد رکھیں کہ خدا کی فرمانبرداری کرنے سے ہی ہمیں زندگی مل سکتی ہے۔ ہمارے خالق یہوواہ خدا نے نہ صرف ہمیں زندگی دی ہے بلکہ وہ ہر روز ہماری دیکھبھال بھی کرتا ہے۔ (زبور ۹۵:۶، ۷) اِسی لئے وہ ہماری فرمانبرداری کا حقدار ہے۔ خدا کی فرمانبرداری کرنے سے ہی ہم اُس کی خوشنودی حاصل کر سکتے ہیں۔
۲۰. (الف) یسوع مسیح نے خدا کی شریعت کو کتنی اہمیت دی؟ (ب) ہم یسوع مسیح کی مثال پر کیسے عمل کر سکتے ہیں؟
۲۰ بائبل کا گہرا مطالعہ کریں۔ جب شیطان نے یسوع مسیح کو آزمایا تو یسوع مسیح نے پاک صحیفوں کا حوالہ دے کر اُسے جواب دیا۔ (لو ۴:۱-۱۳) یسوع مسیح نے مذہبی رہنماؤں کے اعتراضات کا جواب دیتے وقت بھی خدا کے کلام سے حوالے دئے۔ (متی ۱۵:۳-۶) یسوع مسیح خدا کی شریعت کو اچھی طرح جانتے تھے اور اِسے پورا کرنے کو بڑی اہمیت دیتے تھے۔ (متی ۵:۱۷) ہمیں بھی باقاعدگی سے پاک کلام کا مطالعہ کرنا چاہئے تاکہ ہم اپنے ایمان کو مضبوط رکھ سکیں۔ (فل ۴:۸، ۹) اگر ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے پاس ذاتی طور پر یا خاندان کے طور پر بائبل کا مطالعہ کرنے کے لئے وقت نہیں ہے تو ہمیں دوسرے کاموں میں سے وقت نکالنا چاہئے۔—افس ۵:۱۵-۱۷۔
۲۱. خدا کے کلام کو سمجھنے اور اِس پر عمل کرنے کے لئے ہم کس بندوبست سے فائدہ حاصل کر سکتے ہیں؟
۲۱ حال ہی میں ”دیانتدار اور عقلمند نوکر“ نے ہمیں یہ ہدایت دی کہ ہم ہر ہفتے ایک شام کو خاندانی عبادت کریں۔ اِس بندوبست سے ذاتی طور پر یا خاندان کے طور پر بائبل کا مطالعہ کرنے کے لئے وقت نکالنا زیادہ آسان ہو گیا ہے۔ (متی ۲۴:۴۵) کیا آپ اِس بندوبست سے بھرپور فائدہ حاصل کر رہے ہیں؟ آپ بائبل کا مطالعہ کرتے وقت ایسے موضوعات پر غور کر سکتے ہیں جن پر یسوع مسیح نے تعلیم دی۔ اِن موضوعات پر تحقیق کرنے کے لئے آپ کتاب عظیمترین انسان جو کبھی ہو گزرا میں درج معلومات کو استعمال کر سکتے ہیں۔ اِس طرح آپ یسوع مسیح کی سوچ اپنا سکیں گے۔ آپ بائبل کا مطالعہ کرتے وقت مضمون ”اپنے علم کو پرکھیں“ کو بھی استعمال کر سکتے ہیں جو ۲۰۰۶ء سے ۲۰۰۹ء تک جاگو! رسالے میں شائع ہوا ہے۔ ایسے مضامین کے ذریعے بائبل کے بارے میں ہمارا علم بڑھتا ہے۔
ہم دُنیا پر غالب آ سکتے ہیں
۲۲، ۲۳. دُنیا پر غالب آنے کے لئے ہمیں کیا کرنا چاہئے؟
۲۲ خدا کی روح کے مطابق چلنے کے لئے ہمیں دُنیا کی روح کا مقابلہ کرنا چاہئے۔ یہ جنگ لڑنے کیلئے ہمیں بڑی کوشش کرنی پڑتی ہے۔ (یہوداہ ۳) لیکن ہم یہ جنگ جیت سکتے ہیں۔ یسوع مسیح نے اپنے شاگردوں سے کہا تھا کہ ”[تُم] دُنیا میں مصیبت اُٹھاتے ہو لیکن خاطر جمع رکھو مَیں دُنیا پر غالب آیا ہوں۔“—یوح ۱۶:۳۳۔
۲۳ ہم بھی دُنیا پر غالب آ سکتے ہیں۔ لیکن ایسا کرنے کے لئے ہمیں دُنیا کی روح کا مقابلہ کرنا چاہئے اور خدا کی روح حاصل کرنے کی پوری کوشش کرنی چاہئے۔ واقعی، ”اگر خدا ہماری طرف ہے تو کون ہمارا مخالف ہے؟“ (روم ۸:۳۱) اگر ہم خدا کی پاک روح حاصل کریں گے اور اِس کی رہنمائی میں چلیں گے تو ہمیں خوشی اور اطمینان حاصل ہوگا اور ہمیں نئی دُنیا میں ہمیشہ کی زندگی بھی ملے گی۔
[فٹنوٹ]
a مزید معلومات کے لئے کتاب پاک صحائف کی تعلیم حاصل کریں کے صفحہ ۱۷۰-۱۷۳ کو دیکھیں۔
کیا آپ کو یاد ہے؟
• دُنیا کی روح سے اِتنے زیادہ لوگ کیوں متاثر ہوتے ہیں؟
• ہمیں خود سے کونسے چار سوال پوچھنے چاہئیں؟
• خدا کی روح حاصل کرنے کے سلسلے میں ہم یسوع مسیح سے کونسی تین باتیں سیکھتے ہیں؟
[صفحہ ۱۰ پر تصویر]
کچھ فرشتے شیاطین کیسے بن گئے؟
[صفحہ ۱۲ پر تصویر]
شیطان دُنیا کی روح کے ذریعے لوگوں کو اپنے قابو میں رکھتا ہے لیکن ہم اُس کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔