آپ کی وفاداری یہوواہ خدا کے دل کو شاد کرتی ہے
”اَے میرے بیٹے! دانا بن اور میرے دل کو شاد کر تاکہ مَیں اپنے ملامت کرنے والے کو جواب دے سکوں۔“—امثا ۲۷:۱۱۔
۱، ۲. (ا) ایوب کی کتاب کے مطابق شیطان نے کونسا اعتراض اُٹھایا؟ (ب) اِس بات کی کیا شہادت ہے کہ ایوب کی موت کے بعد بھی شیطان نے یہوواہ خدا کو ملامت کرنا جاری رکھا؟
یہوواہ خدا نے شیطان کو ایوب کی وفاداری کو آزمانے کی اجازت دی۔ اِس آزمائش کی وجہ سے ایوب کو اپنے مویشیوں اور اپنے بچوں کو کھونا پڑا۔ یہاں تک کہ وہ خود بھی ایک دردناک بیماری میں مبتلا ہوگیا۔ تاہم، جب شیطان نے ایوب کی وفاداری پر شک کِیا تو اُس کے ذہن میں صرف ایوب ہی نہیں تھا۔ شیطان نے دعویٰ کِیا: ”کھال کے بدلے کھال بلکہ انسان اپنا سارا مال اپنی جان کے لئے دے ڈالے گا۔“ لہٰذا، شیطان نے نہ صرف ایوب بلکہ خدا کے دیگر خادموں کی وفاداری پر بھی اعتراض اُٹھایا۔ ایوب کی موت کے بعد بھی شیطان نے ایسا کرنا جاری رکھا۔—ایو ۲:۴۔
۲ ایوب کی آزمائشوں کے تقریباً ۶۰۰ سال بعد، بادشاہ سلیمان نے خدا کے الہام سے لکھا: ”اَے میرے بیٹے! دانا بن اور میرے دل کو شاد کر تاکہ مَیں اپنے ملامت کرنے والے کو جواب دے سکوں۔“ (امثا ۲۷:۱۱) اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اُس وقت بھی شیطان یہوواہ خدا پر الزام لگا رہا تھا۔ بعدازاں، یوحنا رسول کو دی گئی رویا سے پتہ چلتا ہے کہ جب ۱۹۱۴ میں خدا کی بادشاہت آسمان پر قائم ہوئی تو اِس کے کچھ عرصہ بعد شیطان کو آسمان سے نکال دیا گیا۔ اِس رویا میں یوحنا نے شیطان کو خدا کے خادموں پر الزام لگاتے ہوئے دیکھا تھا۔ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اِن آخری دنوں میں بھی شیطان خدا کے خادموں کی وفاداری پر اعتراض اُٹھاتا ہے۔—مکا ۱۲:۱۰۔
۳. ہم ایوب کی کتاب سے کون سی اہم باتیں سیکھتے ہیں؟
۳ ہم ایوب کی کتاب سے تین اہم باتیں سیکھتے ہیں۔ پہلی، ایوب کی آزمائشوں سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ انسانوں کا اصل دشمن شیطان ہے اور وہ خدا کے لوگوں کا مخالف ہے۔ دوسری، خواہ ہمیں کیسی ہی آزمائشوں کا سامنا ہو خدا کے ساتھ مضبوط رشتہ قائم رکھنے سے ہم راستی برقرار رکھنے کے قابل ہوں گے۔ تیسری، جب ہم پر آزمائشیں آتی ہیں تو خدا ایوب کی طرح ہماری بھی مدد کرتا ہے۔ آجکل یہوواہ خدا اپنے کلام، اپنی تنظیم اور اپنی پاک رُوح کے ذریعے ایسا کرتا ہے۔
اصل دشمن کو یاد رکھیں
۴. دُنیا کی حالتوں کا ذمہدار کون ہے؟
۴ بہت سے لوگ شیطان کے وجود کو تسلیم نہیں کرتے ہیں۔ اگرچہ وہ دُنیا کے حالتوں سے پریشان ہیں لیکن وہ یہ نہیں سمجھتے کہ اِس سب کا ذمہدار شیطان ہے۔ سچ ہے کہ بہت سے مسائل انسان نے خود پیدا کئے ہیں۔ ہمارے پہلے والدین آدم اور حوا نے اپنے خالق کی راہنمائی کو ترک کر دیا تھا۔ اُس وقت سے زیادہتر لوگ خدا کی مرضی کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ تاہم، یہ شیطان ہی تھا جس نے حوا کو خدا کے خلاف بغاوت کرنے پر اُکسایا۔ اُس نے دُنیا میں ایک نظام قائم کر رکھا ہے جس پر اُس کا اختیار ہے۔ اِس لئے بائبل میں اُسے ’اِس جہان کا خدا‘ کہا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسانوں میں اُس جیسی خصلتیں پائی جاتی ہیں جیسا کہ تکبّر، حسد، لالچ، دھوکادہی اور بغاوت۔ (۲-کر ۴:۴؛ ۱-تیم ۲:۱۴؛ ۳:۶؛ یعقوب ۳:۱۴، ۱۵ کو پڑھیں۔) اِنہی خصلتوں کی وجہ سے سیاسی اور مذہبی اختلافات، نفرت اور بدعنوانی کو فروغ ملا ہے اور انسانوں کی تکلیفیں مزید بڑھ گئی ہیں۔
۵. ہمارے پاس جو بیشقیمت علم ہے اِس سے ہمارے اندر کیا کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے؟
۵ یہوواہ کے گواہوں کے طور پر ہمارے پاس بیشقیمت علم ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ دُنیا کی خراب حالتوں کا ذمہدار کون ہے۔ اِس لئے ہمارے اندر یہ جذبہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم مُنادی کریں اور لوگوں کو بتائیں کہ اُن کی مشکلات کا اصل ذمہدار شیطان ہے۔ کیا ہم اِس بات سے خوش نہیں کہ ہم سچے خدا یہوواہ کے نام سے چلتے ہیں اور لوگوں کو یہ بتاتے ہیں کہ خدا کیسے شیطان کو ختم کرے گا اور انسانوں کے مسائل حل کرے گا؟
۶، ۷. (ا) خدا کے سچے پرستاروں کی مشکلات کا ذمہدار کون ہے؟ (ب) ہم الیہو کی مثال کی نقل کیسے کر سکتے ہیں؟
۶ شیطان نہ صرف دُنیا کی بیشتر تکلیفوں کا ذمہدار ہے بلکہ جب خدا کے لوگوں کی مخالفت کی جاتی ہے تو اِس کے پیچھے بھی اُسی کا ہاتھ ہوتا ہے۔ اُس نے خدا کے خادموں پر آزمائشیں لانے کا قصد کر رکھا ہے۔ یسوع مسیح نے پطرس رسول کو بتایا: ”شمعوؔن! شمعوؔن! دیکھ شیطان نے تُم لوگوں کو مانگ لیا تاکہ گیہوں کی طرح پھٹکے۔“ (لو ۲۲:۳۱) پس یسوع کے نقشِقدم پر چلنے والے تمام لوگوں کو آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پطرس رسول نے شیطان کے بارے میں کہا کہ وہ ”گرجنے والے شیر ببر کی طرح ڈھونڈتا پھرتا ہے کہ کس کو پھاڑ کھائے۔“ اِس کے علاوہ، پولس رسول نے بیان کِیا: ”جتنے مسیح یسوؔع میں دینداری کے ساتھ زندگی گذارنا چاہتے ہیں وہ سب ستائے جائیں گے۔“—۱-پطر ۵:۸؛ ۲-تیم ۳:۱۲۔
۷ چونکہ ہم جانتے ہیں کہ شیطان خدا کے خادموں کا اصل دشمن ہے اِس لئے جب کلیسیا کے کسی بہنبھائی پر کوئی مصیبت آن پڑتی ہے تو ہم کیا کر سکتے ہیں؟ اُس بہن یا بھائی سے دُور ہونے کی بجائے ہم الیہو کی طرح اُس کی مدد کریں گے جو ایوب کا سچا دوست ثابت ہوا۔ ہم اپنے مخالف شیطان کا مقابلہ کرنے میں اُس کی مدد کریں گے۔ (امثا ۳:۲۷؛ ۱-تھس ۵:۲۵) خواہ ہمیں کچھ بھی کرنا پڑے ہمارا مقصد اپنے بہنبھائیوں کو راستی برقرار رکھنے میں مدد دینا اور یوں یہوواہ خدا کے دل کو شاد کرنا ہے۔
۸. شیطان ایوب کو یہوواہ خدا کی بڑائی کرنے سے کیوں نہ روک سکا؟
۸ شیطان کی طرف سے پہلی آزمائش میں ایوب کو اپنے مویشیوں کا نقصان اُٹھانا پڑا۔ یہ جانور ایوب کے لئے بہت اہم تھے۔ غالباً یہ ایوب کی آمدنی کا ذریعہ تھے اور سب سے بڑھ کر وہ اِنہیں یہوواہ کی پرستش کے لئے استعمال کرتا تھا۔ بائبل بیان کرتی ہے کہ اپنے بچوں کو پاک کرنے کے بعد ”اؔیوب . . . صبح کو سویرے اٹھکر اُن سبھوں کے شمار کے موافق سوختنی قربانیاں چڑھاتا تھا کیونکہ اؔیوب کہتا تھا کہ شاید میرے بیٹوں نے کچھ خطا کی ہو اور اپنے دل میں خدا کی تکفیر کی ہو۔ اؔیوب ہمیشہ اَیسا ہی کِیا کرتا تھا۔“ (ایو ۱:۴، ۵) اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایوب باقاعدگی سے یہوواہ خدا کے حضور قربانیاں گزرانتا تھا۔ مگر اِس آزمائش کے بعد ایسا کرنا ممکن نہ تھا۔ کیونکہ ایوب کے پاس اب کوئی ”مال“ باقی نہیں رہا تھا۔ (امثا ۳:۹) تاہم، ایوب نے ہونٹوں سے قربانی دینا یعنی یہوواہ خدا کی بڑائی کرنا جاری رکھا۔
یہوواہ خدا کے ساتھ قریبی رشتہ قائم کریں
۹. ہماری زندگی میں سب سے بیشقیمت چیز کیا ہے؟
۹ خواہ ہم امیر ہوں یا غریب، نوجوان ہو ں یا بوڑھے، تندرست ہوں یا بیمار، ہم یہوواہ خدا کے ساتھ قریبی رشتہ قائم کر سکتے ہیں۔ چاہے ہمیں جیسی بھی مشکلات کا سامنا ہو یہوواہ خدا کے ساتھ قریبی رشتہ ہمیں راستی برقرار رکھنے اور اُس کے دل کو شاد کرنے کے قابل بنائے گا۔ آجکل ہمارے پاس بعض ایسے لوگوں کی مثالیں موجود ہیں جنہوں نے ابھی سچائی سیکھنا شروع ہی کی تھی مگر پھربھی اُنہوں نے دلیری دکھائی اور یہوواہ خدا کے وفادار رہے۔
۱۰، ۱۱. (ا) ویلنٹینا آزمائشوں کے باوجود کیسے یہوواہ خدا کی وفادار رہیں؟ (ب) ویلنٹینا نے شیطان کے دعویٰ کو کیسے جھوٹا ثابت کِیا؟
۱۰ بہن ویلنٹینا گرنوسکیا کی مثال پر غور کریں۔ وہ روس میں رہنے والے اُن گواہوں میں سے ایک تھیں جو ایوب کی طرح مشکلات کے باوجود یہوواہ کے وفادار رہے۔ سن ۱۹۴۵ میں، جب وہ ۲۰ سال کی تھیں تو ایک یہوواہ کے گواہ نے اُنہیں بادشاہت کا پیغام دیا۔ اُس گواہ نے بائبل میں سے باتچیت کرنے کے لئے دو مرتبہ اُن سے دوبارہ ملاقات کی۔ لیکن اِس کے بعد ویلنٹینا نے اُسے دوبارہ نہیں دیکھا۔ اِس کے باوجود، ویلنٹینا نے اپنے ہمسایوں کو مُنادی کرنا شروع کر دیا۔ اِس کے نتیجے میں اُنہیں گرفتار کر لیا گیا اور آٹھ سال کے لئے قید میں ڈال دیا گیا۔ سن ۱۹۵۳ میں رِہا ہونے کے بعد، اُنہوں نے دوبارہ مُنادی شروع کر دی۔ ایک مرتبہ پھر اُنہیں گرفتار کر لیا گیا اور اِس بار دس سال کے لئے قید میں ڈال دیا گیا۔ کئی سال تک اُنہیں ایک کیمپ میں قید رکھا گیا اور پھر دوسری جگہ منتقل کر دیا گیا۔ وہاں کچھ بہنیں تھیں جن کے پاس ایک بائبل تھی۔ ایک دن ایک بہن نے ویلنٹینا کو یہ بائبل دکھائی۔ تصور کریں کہ ویلنٹینا کتنی خوش ہوئی ہوں گی! اِس سے پہلے اُنہوں نے صرف اُس بھائی کے پاس بائبل دیکھی تھی جس نے اُنہیں ۱۹۴۵ میں بادشاہت کا پیغام دیا تھا۔
۱۱ سن ۱۹۶۷ میں ویلنٹینا رِہا ہوگئیں اور بالآخر خدا کے لئے اپنی زندگی وقف کرنے کے اظہار میں بپتسمہ لیا۔ سن ۱۹۶۹ تک اُنہوں نے بڑی سر گرمی سے مُنادی کے کام میں حصہ لیا۔ تاہم، ایک مرتبہ پھر اُنہیں گرفتار کر لیا گیا اور تین سال کے لئے قید میں ڈال دیا گیا۔ اِس کے باوجود ویلنٹینا نے مُنادی کرنا جاری رکھا۔ اُنہوں نے ۲۰۰۱ میں وفات پائی۔ ویلنٹینا نے ۴۴ لوگوں کو سچائی سیکھنے میں مدد دی۔ اُنہوں نے مجموعی طور پر ۲۱ سال قید میں گزارے۔ خدا کی وفادار رہنے کے لئے وہ اپنا سب کچھ یہاں تک کہ اپنی آزادی بھی قربان کرنے کے لئے تیار تھیں۔ اپنی موت سے پہلے ویلنٹینا نے کہا: ”میرے پاس کبھی اپنا گھر نہیں تھا۔ میرا سارا سازوسامان صرف ایک سوٹ کیس میں تھا۔ اِس کے باوجود مَیں یہوواہ کی خدمت میں خوش اور مطمئن تھی۔“ ویلنٹینا نے اپنی وفاداری سے شیطان کے اِس دعویٰ کو جھوٹا ثابت کِیا کہ انسان آزمائشوں میں یہوواہ خدا کے وفادار نہیں رہیں گے۔ (ایو ۱:۹-۱۱) ہم یقین رکھ سکتے ہیں کہ ویلنٹینا نے یہوواہ خدا کے دل کو شاد کِیا اِس لئے یہوواہ اُنہیں اور موت کی نیند سو جانے والے دیگر وفادار لوگوں کو دوبارہ زندہ کرے گا۔—ایو ۱۴:۱۵۔
۱۲. یہوواہ خدا کے ساتھ قریبی رشتہ قائم کرنے کے سلسلے میں محبت کیا کردار ادا کرتی ہے؟
۱۲ یہوواہ خدا کے ساتھ قریبی رشتہ قائم کرنے کا انحصار اُس سے محبت رکھنے پر ہے۔ ہم یہوواہ خدا کی خوبیوں کی قدر کرتے اور اُس کی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ شیطان کے دعویٰ کے برعکس، ہم یہوواہ خدا سے بےغرض محبت رکھتے ہیں۔ یہ محبت ہمیں آزمائشوں کے باوجود خدا کا وفادار رہنے میں مدد دیتی ہے۔ یہوواہ خدا وعدہ کرتا ہے کہ وہ ”اپنے مُقدسوں [”وفاداروں،“ نیو اُردو بائبل ورشن] کی راہ کو محفوظ“ رکھے گا۔—امثا ۲:۸؛ زبور ۹۷:۱۰۔
۱۳. یہوواہ خدا کی خدمت میں ہم جوکچھ کرتے ہیں وہ اُسے کیسا خیال کرتا ہے؟
۱۳ محبت ہمارے اندر یہوواہ خدا کے نام کو جلال دینے کی خواہش پیدا کرتی ہے۔ اگر ہم یہوواہ خدا کی خدمت میں اُتنا نہیں کر پاتے جتنا ہم کرنا چاہتے ہیں توبھی وہ ہمارے حالات کو سمجھتا اور ہماری کوششوں کی قدر کرتا ہے۔ اگرچہ یہوواہ خدا کی نظر میں یہ اہم ہے کہ ہم اُس کی خدمت میں کیا کچھ کرتے ہیں مگر زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ہم کس جذبے سے اُس کی خدمت کرتے ہیں۔ اگرچہ ایوب نے بہت سی مشکلات برداشت کیں اور وہ بہت غمزدہ تھا توبھی اُس نے اپنے تین دوستوں کو بتایا کہ وہ یہوواہ خدا کی راہوں سے کتنی محبت رکھتا ہے۔ (ایوب ۱۰:۱۲؛ ۲۸:۲۸ کو پڑھیں۔) ایوب کی کتاب کے آخری باب کے مطابق، خدا کا قہر الیفز، بلدد اور ضوفر پر نازل ہوا کیونکہ اُنہوں نے جھوٹ بولا تھا۔ پھر یہوواہ خدا نے ایوب کے لئے پسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے اُسے چار مرتبہ ”میرے بندہ“ کہا۔ اِس کے علاوہ، یہوواہ خدا نے ایوب کو ہدایت دی کہ اپنے دوستوں کی خاطر دُعا کرے۔ (ایو ۴۲:۷-۹) دُعا ہے کہ ایوب کی طرح ہم بھی یہوواہ خدا کی پسندیدگی حاصل کریں۔
یہوواہ خدا اپنے وفادار خادموں کی مدد کرتا ہے
۱۴. یہوواہ خدا نے ایوب کو اپنی سوچ کو درست کرنے میں کیسے مدد دی؟
۱۴ اگرچہ ایوب ایک گنہگار انسان تھا توبھی اُس نے راستی برقرار رکھی۔ بعضاوقات شدید دباؤ کے تحت وہ غلط سوچ میں پڑ گیا۔ مثال کے طور پر، اُس نے یہوواہ خدا سے کہا: ”مَیں تجھ سے فریاد کرتا ہوں اور تُو مجھے جواب نہیں دیتا . . . اپنے بازو کے زور سے تُو مجھے ستاتا ہے۔“ اِس کے علاوہ، ایوب نے خود کو راست ثابت کرنے کو بہت زیادہ اہمیت دی اور کہا: ”مَیں شریر نہیں ہوں“ اور ”میرے ہاتھوں میں ظلم نہیں اور میری دُعا بےریا ہے۔“ (ایو ۱۰:۷؛ ۱۶:۱۷؛ ۳۰:۲۰، ۲۱) تاہم، یہوواہ خدا نے ایوب کی مدد کی۔ خدا نے ایوب سے مختلف سوالات پوچھے۔ یوں اُس کی توجہ خود پر سے ہٹ گئی اور وہ یہوواہ خدا کے اعلیٰ اور انسان کے ادنیٰ ہونے کو بہتر طور پر سمجھنے کے قابل ہوا۔ ایوب نے اصلاح قبول کی اور اپنی سوچ کو درست کِیا۔—ایوب ۴۰:۸؛ ۴۲:۲، ۶ کو پڑھیں۔
۱۵، ۱۶. آجکل یہوواہ خدا اپنے خادموں کو کن طریقوں سے مدد فراہم کرتا ہے؟
۱۵ آجکل بھی یہوواہ خدا اپنے خادموں کے ساتھ مہربانی سے پیش آتا اور اُنہیں مفید مشورت فراہم کرتا ہے۔ واقعی، خدا کے خادموں کے طور پر ہمیں بہت سی برکات سے نوازا گیا ہے۔ مثال کے طور پر، یسوع مسیح نے اپنی جان قربان کی تاکہ ہم گناہوں کی معافی حاصل کر سکیں۔ اِس قربانی کی بِنا پر ہم گنہگار ہونے کے باوجود خدا کے ساتھ مضبوط رشتہ قائم کر سکتے ہیں۔ (یعقو ۴:۸؛ ۱-یوح ۲:۱) آزمائشوں کا سامنا کرتے وقت ہم یہوواہ خدا سے دُعا کر سکتے اور اُس کی پاک رُوح کی مدد حاصل کر سکتے ہیں۔ اِس کے علاوہ، ہم خدا کے کلام کو پڑھنے اور اِس پر غوروخوض کرنے سے خود کو ایمان کی آزمائشوں کا سامنا کرنے کے لئے تیار کر سکتے ہیں۔ بائبل کا مطالعہ کرنے سے ہم یہ سمجھنے کے قابل ہوتے ہیں کہ کیسے شیطان نے خدا کی حکمرانی پر اعتراض اُٹھایا اور انسان کی وفاداری پر شک کِیا۔
۱۶ مزیدبرآں، ہم ایک عالمگیر برادری کا حصہ ہیں جسے یہوواہ خدا ”دیانتدار اور عقلمند نوکر“ کے ذریعے روحانی خوراک فراہم کرتا ہے۔ (متی ۲۴:۴۵-۴۷) پوری دُنیا میں یہوواہ کے گواہوں کی تقریباً ایک لاکھ کلیسیائیں ہیں۔ اِن کلیسیاؤں میں منعقد ہونے والے اجلاسوں کے ذریعے نہ صرف ہمیں مختلف ہدایات ملتی ہیں بلکہ ہم ایمان کی آزمائشوں کا مقابلہ کرنے کے لئے تقویت بھی حاصل کرتے ہیں۔ آئیں اِس سلسلے میں جرمنی میں رہنے والی ایک نوجوان گواہ شیلا کی مثال پر غور کریں۔
۱۷. اجلاسوں پر خدا کی تنظیم کی طرف سے دی جانے والی ہدایات کیسے ہماری مدد کرتی ہیں؟ مثال کے ذریعے واضح کریں۔
۱۷ ایک دن شیلا کی ٹیچر کچھ دیر کے لئے کلاس سے باہر گئی۔ اِس دوران اُس کے ہمجماعت ویجا بورڈ کے ذریعے مستقبل کے بارے میں جاننے کی کوشش کرنے لگے۔a یہ دیکھ کر شیلا فوراً کلاس سے چلی گئی۔ بعد میں جب اُس نے سنا کہ ویجا بورڈ استعمال کرتے ہوئے اُس کے کچھ ہمجماعتوں نے بدروحوں کی موجودگی کو محسوس کِیا اور خوفزدہ ہو کر بھاگ گئے تو اُسے اپنے فیصلے پر بہت خوشی ہوئی۔ کس چیز نے شیلا کو فوراً کلاس سے باہر جانے کا فیصلہ کرنے میں مدد دی؟ وہ بیان کرتی ہے: ”اِس واقعے سے کچھ دن پہلے ہم نے کنگڈمہال میں اجلاس پر ویجا بورڈ کے استعمال کے خطرات کے متعلق سیکھا تھا۔ اِس لئے مَیں جانتی تھی کہ مجھے کیا کرنا ہے۔ امثال ۲۷:۱۱ میں درج الفاظ کے مطابق مَیں یہوواہ خدا کے دل کو شاد کرنا چاہتی تھی۔“ کتنی اچھی بات ہے کہ شیلا اجلاس پر حاضر ہوئی اور پروگرام کو توجہ سے سنا!
۱۸. آپ نے کیا کرنے کا عزم کِیا ہے؟
۱۸ پس آئیں خدا کی تنظیم کی طرف سے ملنے والی ہدایات پر عمل کرتے رہیں۔ باقاعدگی سے اجلاسوں پر حاضر ہونے، بائبل کو پڑھنے، بائبل پر مبنی مطبوعات کا مطالعہ کرنے، دُعا کرنے اور پُختہ مسیحیوں کی رفاقت میں رہنے سے ہم ضروری مدد اور راہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ یہوواہ خدا چاہتا ہے کہ ہم اُس کے وفادار رہیں اور اُسے یقین ہے کہ ہم ایسا کرتے رہیں گے۔ واقعی، ہمیں یہوواہ کے نام کی بڑائی کرنے، اُس کے وفادار رہنے اور اُس کے دل کو شاد کرنے کا شاندار شرف حاصل ہے!
[فٹنوٹ]
a ویجا بورڈ ایک ایسی چیز ہے جس کے ذریعے بدرُوحوں کے ساتھ رابطہ کرکے مستقبل کے بارے میں معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔
کیا آپ کو یاد ہے؟
• شیطان کن مشکلات اور آزمائشوں کا ذمہدار ہے؟
• ہمارے پاس سب سے بیشقیمت چیز کونسی ہے؟
• یہوواہ خدا کے ساتھ ہمارے رشتے کا انحصار کس بات پر ہے؟
• آجکل یہوواہ خدا کن طریقوں سے ہماری مدد کرتا ہے؟
[صفحہ ۱۴ پر تصویر]
کیا آپ اُس بیشقیمت علم کو دوسروں تک پہنچانا چاہتے ہیں جو آپ کو حاصل ہے؟
[صفحہ ۱۵ پر تصویر]
ہم ساتھی مسیحیوں کو راستی برقرار رکھنے میں مدد دے سکتے ہیں
[صفحہ ۱۶ پر تصویر]
ویلنٹینا خدا کی وفادار رہنے کے لئے اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لئے تیار تھیں