یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م08 1/‏10 ص.‏ 12-‏16
  • یہوواہ خدا ہماری بھلائی کیلئے ہم پر نگاہ رکھتا ہے

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • یہوواہ خدا ہماری بھلائی کیلئے ہم پر نگاہ رکھتا ہے
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2008ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • خدا کے ساتھ‌ساتھ چلیں
  • ایک رحیم باپ
  • بیٹا باپ کی محبت کی عکاسی کرتا ہے
  • یہوواہ خدا ہماری مدد کو آتا ہے
  • مستقبل میں بھی خدا پر بھروسہ رکھیں
  • خاتمہ آنے سے پہلے گہرے دوست بنائیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—2019ء
  • یہوواہ فرمانبرداروں کو برکت اور تحفظ بخشتا ہے
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2002ء
  • نوجوانو، اپنے خالق کو یاد کریں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2008ء
  • یرمیاہ کی طرح دلیر بنیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2004ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2008ء
م08 1/‏10 ص.‏ 12-‏16

یہوواہ خدا ہماری بھلائی کیلئے ہم پر نگاہ رکھتا ہے

‏”‏[‏یہوواہ]‏ کی آنکھیں ساری زمین پر پھرتی ہیں تاکہ وہ اُن کی امداد میں جن کا دل اُس کی طرف کامل ہے اپنے تیئں قوی دکھائے۔“‏—‏۲-‏توا ۱۶:‏۹‏۔‏

۱.‏ یہوواہ خدا ہم پر کیوں نگاہ رکھتا ہے؟‏

یہوواہ خدا ایک شفیق باپ سے کہیں افضل ہے۔ وہ ہمیں اتنی اچھی طرح سے جانتا ہے کہ ”‏جو کچھ [‏ہمارے]‏ خیال میں آتا ہے اُسے پہچانتا ہے۔“‏ (‏۱-‏توا ۲۸:‏۹‏)‏ یہوواہ خدا ہم پر اسلئے نگاہ نہیں رکھتا تاکہ وہ ہماری غلطیاں نکال سکے۔ (‏زبور ۱۱:‏۴؛‏ ۱۳۰:‏۳‏)‏ اسکی بجائے وہ ہم پر اسلئے نگاہ رکھتا ہے تاکہ اُسکے ساتھ ہماری دوستی برقرار رہے اور ہم ہمیشہ کی زندگی پا سکیں۔—‏زبور ۲۵:‏۸-‏۱۰،‏ ۱۲، ۱۳‏۔‏

۲.‏ یہوواہ خدا کن کی خاطر اپنی قدرت کو کام میں لاتا ہے؟‏

۲ یہوواہ خدا کی قدرت لامحدود ہے اور وہ سب کچھ جانتا ہے۔ لہٰذا جب بھی اُس کے خادم اُس سے فریاد کرتے ہیں تو وہ اُن کی مدد کو آتا ہے اور آزمائشوں میں اُن کا سہارا بنتا ہے۔ دوسرا تواریخ ۱۶:‏۹ میں لکھا ہے:‏ ”‏[‏یہوواہ]‏ کی آنکھیں ساری زمین پر پھرتی ہیں تاکہ وہ اُن کی امداد میں جن کا دل اُس کی طرف کامل ہے اپنے تیئں قوی دکھائے۔“‏ غور کریں کہ اِس صحیفے میں کہا گیا ہے کہ یہوواہ خدا اُن لوگوں کی خاطر اپنی قدرت کو کام میں لاتا ہے جو کامل دل ہیں یعنی جو سچے دل اور خلوص سے اُس کی عبادت کرتے ہیں۔ لیکن وہ ایسے لوگوں کی مدد نہیں کرتا جو مکار اور ریاکار ہیں۔—‏یشو ۷:‏۱، ۲۰، ۲۱، ۲۵؛‏ امثا ۱:‏۲۳-‏۳۳‏۔‏

خدا کے ساتھ‌ساتھ چلیں

۳، ۴.‏ ’‏خدا کیساتھ‌ساتھ چلنے‘‏ کا کیا مطلب ہے؟بائبل میں سے چند لوگوں کی مثال دے کر اِس بات کی وضاحت کریں۔‏

۳ بعض لوگوں کو اِس بات پر یقین کرنا مشکل لگتا ہے کہ کائنات کا خالق انسانوں کو اپنے ساتھ‌ساتھ چلنے کو کہتا ہے۔ دراصل یہوواہ خدا چاہتا ہے کہ ہم روحانی طور پر اُس کے ساتھ چلیں۔ بائبل میں بتایا جاتا ہے کہ حنوک اور نوح ’‏خدا کیساتھ‌ساتھ چلتے رہے۔‘‏ (‏پید ۵:‏۲۴؛‏ ۶:‏۹‏)‏ موسیٰ ”‏اندیکھے [‏خدا]‏ کو گویا دیکھ کر ثابت‌قدم رہا۔“‏ (‏عبر ۱۱:‏۲۷‏)‏ بادشاہ داؤد جو بڑی عاجزی سے اپنے خدا کے ساتھ چلتا رہا، اُس نے لکھا:‏ ”‏چُونکہ [‏یہوواہ]‏ میرے دہنے ہاتھ ہے اس لئے مجھے جنبش نہ ہوگی۔“‏—‏زبور ۱۶:‏۸‏۔‏

۴ ظاہری بات ہے کہ ہم یہوواہ خدا کا ہاتھ تھام کر نہیں چل سکتے۔ لیکن ہم روحانی طور پر ایسا کر سکتے ہیں۔ زبور نویس آسف نے لکھا:‏ ”‏مَیں برابر تیرے ساتھ ہوں۔ تُو نے میرا دہنا ہاتھ پکڑ رکھا ہے۔ تُو اپنی مصلحت [‏یعنی نیک صلاح]‏ سے میری رہنمائی کرے گا۔“‏ (‏زبور ۷۳:‏۲۳، ۲۴‏)‏ یہوواہ خدا کے ساتھ‌ساتھ چلنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم اُس کی صلاح پر عمل کریں۔ یہ صلاح ہمیں اُس کے کلام اور ”‏دیانتدار اور عقلمند نوکر“‏ جماعت کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔—‏متی ۲۴:‏۴۵؛‏ ۲-‏تیم ۳:‏۱۶‏۔‏

۵.‏ (‏ا)‏ یہوواہ خدا اپنے خادموں پر کیوں نگاہ رکھتا ہے؟ (‏ب)‏ ہمیں یہوواہ خدا کو کیسا خیال کرنا چاہئے؟‏

۵ جو لوگ یہوواہ خدا کے ساتھ‌ساتھ چلتے ہیں وہ اُسے عزیز ہیں۔ ایک شفیق باپ کی طرح وہ اُن پر نگاہ رکھتا ہے تاکہ وہ اُنہیں خطروں سے بچائے رکھے اور اُن کی تربیت کر سکے۔ خدا کہتا ہے کہ ”‏مَیں تجھے تعلیم دوں گا اور جس راہ پر تجھے چلنا ہوگا تجھے بتاؤں گا۔ مَیں تجھے صلاح دوں گا۔ میری نظر تجھ پر ہوگی۔“‏ (‏زبور ۳۲:‏۸‏)‏ خود سے پوچھیں:‏ کیا مَیں خدا کے ساتھ‌ساتھ چل رہا ہوں؟ کیا مَیں اُس کی ہدایت پر کان لگاتا ہوں؟ کیا مجھے یقین ہے کہ یہوواہ خدا کی نگاہ میری بھلائی کے لئے مجھ پر ہے؟ کیا میرے الفاظ اور اعمال سے ظاہر ہوتا ہے کہ مجھے اِس بات کا یقین ہے کہ یہوواہ خدا سب کچھ جانتا ہے؟ جب مجھ سے خطا ہو جاتی ہے تو کیا مجھے یہ ڈر ستاتا ہے کہ یہوواہ خدا مجھ سے سختی اور بے‌رُخی سے پیش آئے گا؟ یا پھر کیا مَیں یہوواہ خدا کو ایک شفیق باپ کی طرح خیال کرتا ہوں جو توبہ کرنے والوں کے ساتھ رحم سے پیش آتا ہے؟—‏زبور ۵۱:‏۱۷‏۔‏

۶.‏ یہوواہ خدا ایک انسانی باپ سے زیادہ جلد ہماری اصلاح کیوں کر سکتا ہے؟‏

۶ اِس سے پہلے کہ ہم ایک غلط قدم اُٹھائیں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ یہوواہ خدا ہماری مدد کو آتا ہے۔ مثال کے طور پر جب ہمارے حیلہ‌باز دل میں غلط خواہشات اُبھرنے لگتی ہیں تو وہ اِسے پرکھ لیتا ہے۔ (‏یرم ۱۷:‏۹‏)‏ ایک انسانی باپ اپنے بچوں کی اصلاح تب ہی کر سکتا ہے جب وہ کوئی غلط کام کرتے ہیں۔ لیکن یہوواہ خدا کی ”‏آنکھیں“‏ دل‌ودماغ کو جانچتی ہیں اِس لئے وہ ہماری اصلاح اُس وقت کر سکتا ہے جب ہمارے دل میں کوئی غلط خیال آتا ہے۔ (‏زبور ۱۱:‏۴؛‏ ۱۳۹:‏۴؛‏ یرم ۱۷:‏۱۰‏)‏ اس سلسلے میں ذرا غور کریں کہ یہوواہ خدا یرمیاہ نبی کے مُنشی اور عزیز دوست باروک کے ساتھ کیسے پیش آیا۔‏

ایک رحیم باپ

۷، ۸.‏ (‏ا)‏ باروک کون تھا اور اُس کے دل میں کونسی غلط خواہشات اُبھرنے لگیں؟ (‏ب)‏ یہوواہ خدا، باروک کے ساتھ کیسے پیش آیا؟‏

۷ باروک ایک مُنشی تھا جو یرمیاہ نبی کے ساتھ خدا کی خدمت کرتا تھا۔ وہ دونوں یہوداہ کے لوگوں کو خدا کے آنے والے غضب کا پیغام سناتے تھے جوکہ بڑا مشکل کام تھا۔ (‏یرم ۱:‏۱۸، ۱۹‏)‏ ہو سکتا ہے کہ باروک اُونچے گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔باروک کی زندگی میں ایک ایسا وقت آیا جب وہ اپنے لئے ”‏بڑی‌بڑی چیزیں“‏ ڈھونڈنے لگا۔ شاید وہ بڑا بننا اور مال‌ودولت جمع کرنا چاہتا تھا۔ یہوواہ خدا نے جانچ لیا کہ باروک کے دل میں غلط خواہشات اُبھرنے لگی ہیں۔ اسلئے یہوواہ خدا نے یرمیاہ نبی کے ذریعے باروک سے کہا:‏ ”‏اَے باروک:‏ تُو نے کہا، مجھ پر افسوس!‏ [‏یہوواہ]‏ نے میرے دُکھ میں غم کا اضافہ کر دیا۔ مَیں کراہتے کراہتے تھک گیا اور مجھے کچھ چین نہیں ملتا۔“‏ پھر یہوواہ خدا نے اُسے آگاہ کِیا:‏ ”‏کیا تُو اپنے لئے بڑی‌بڑی چیزیں ڈھونڈ رہا ہے؟ اُنہیں مت ڈھونڈ۔“‏—‏یرم ۴۵:‏۱-‏۵‏؛ نیو اُردو بائبل ورشن۔‏

۸ ایک شفیق باپ کی مانند یہوواہ خدا نے باروک پر غصہ نہیں کِیا لیکن اُس کو ڈھیل بھی نہیں دی۔ یہوواہ خدا نے جانچ لیا تھا کہ حالانکہ باروک غلط قدم اُٹھانے والا تھا لیکن اُس کے دل میں مکاری نہیں تھی۔ یہوواہ خدا یہ بھی جانتا تھا کہ یروشلیم اور یہوداہ جلد ہی تباہ ہونے والے تھے اور وہ یہ نہیں چاہتا تھا کہ باروک اِس نازک وقت میں بھٹک جائے۔ اِس لئے یہوواہ خدا نے باروک کو یاد دلایا کہ وہ ”‏تمام بشر پر بلا نازل“‏کرنے والا ہے اور اگر باروک اُس کی ہدایت پر عمل کرے گا تو وہ اُس کی جان بچائے گا۔ (‏یرم ۴۵:‏۵‏)‏ دراصل یہوواہ خدا باروک سے کہہ رہا تھا:‏ ”‏ہوش میں آ۔ یاد رکھ کہ مَیں یہوداہ اور یروشلیم کو تباہ کرنے والا ہوں۔ میرا وفادار رہ تو مَیں تیری حفاظت کروں گا۔“‏ یہوواہ خدا کی بات نے باروک کے دل پر اثر کِیا اور اُس نے اپنی سوچ درست کر لی۔ اِس کے نتیجے میں جب یروشلیم ۱۷ سال بعد تباہ ہوا تو باروک اِس تباہی سے زندہ بچ نکلا۔‏

۹.‏ آپ پیراگراف میں دئے گئے سوالوں کا کیا جواب دیں گے؟‏

۹ باروک کے ساتھ جو کچھ واقع ہوا اِس کو ذہن میں رکھتے ہوئے اِن سوالات اور صحیفوں پر غور کریں:‏ یہوواہ خدا جس طرح سے باروک سے پیش آیا اِس سے ہم کیسے جان سکتے ہیں کہ وہ اپنے خادموں کے لئے کونسے احساسات رکھتا ہے؟ (‏عبرانیوں ۱۲:‏۹ کو پڑھیں۔)‏ یہ جانتے ہوئے کہ ہم اخیر زمانے میں رہ رہے ہیں ہم اُس آگاہی سے کیا سیکھ سکتے ہیں جو خدا نے باروک کو دی؟ اور ہم باروک کے ردِعمل سے کیا سبق سیکھ سکتے ہیں؟ (‏لوقا ۲۱:‏۳۴-‏۳۶ کو پڑھیں۔)‏ یرمیاہ کی مثال پر عمل کرتے ہوئے کلیسیا کے بزرگوں کو خدا کے خادموں کے ساتھ کیسے پیش آنا چاہئے؟—‏گلتیوں ۶:‏۱ کو پڑھیں۔‏

بیٹا باپ کی محبت کی عکاسی کرتا ہے

۱۰.‏ کلیسیا کا سردار ہونے کے ناطے یسوع مسیح کیا کرنے کے قابل ہے اور کیوں؟‏

۱۰ مسیحی دَور سے پہلے یہوواہ خدا اپنے نبیوں اور دوسرے وفادار خادموں کے ذریعے اپنے لوگوں کے لئے محبت ظاہر کرتا تھا۔ آجکل یہوواہ خدا اپنی محبت کلیسیا کے سردار یسوع مسیح کے ذریعے ظاہر کرتا ہے۔ (‏افس ۱:‏۲۲، ۲۳‏)‏ مکاشفہ کی کتاب میں یسوع کو ایک برّہ کے طور پر ظاہر کِیا گیا ہے جس کی ’‏سات آنکھیں ہیں۔ یہ خدا کی ساتوں روحیں ہیں جو تمام رویِ‌زمین پر بھیجی گئی ہیں۔‘‏ (‏مکا ۵:‏۶‏)‏ اِس کا مطلب ہے کہ خدا اپنی پاک روح کے ذریعے یسوع کو کامل فہم عطا کرتا ہے۔لہٰذا یہوواہ خدا کی طرح یسوع بھی جانتا ہے کہ ہمارے دل میں کیا ہے اور کوئی بات اُس سے پوشیدہ نہیں ہے۔‏

۱۱.‏ (‏ا)‏ یسوع مسیح کونسا اہم کردار ادا کرتا ہے؟ (‏ب)‏ یہ کیسے ظاہر ہوتا ہے کہ یسوع ہمارے لئے ایسے ہی احساسات رکھتا ہے جیسے یہوواہ خدا رکھتا ہے؟‏

۱۱ یہوواہ خدا کی طرح یسوع مسیح بھی ہم پر اسلئے نگاہ نہیں رکھتا تاکہ وہ ہمیں گناہ کرتے پکڑے بلکہ وہ ہمیں اسلئے پرکھتا ہے کیونکہ اُسے بھی ہم سے گہری محبت ہے۔ یسوع مسیح کا ایک لقب ”‏ابدیت کا باپ“‏ ہے۔ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یسوع اُن لوگوں کو جو اُس پر ایمان لاتے ہیں ہمیشہ کی زندگی فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ (‏یسع ۹:‏۶‏)‏ کلیسیا کے سردار کے طور پر یسوع مسیح پُختہ مسیحیوں اور خاص طور پر کلیسیا کے بزرگوں کو استعمال کرتا ہے تاکہ وہ دوسرے مسیحیوں کو تسلی دیں اور اُن کی نصیحت کریں۔—‏۱-‏تھس ۵:‏۱۴؛‏ ۲-‏تیم ۴:‏۱، ۲‏۔‏

۱۲.‏ (‏ا)‏ کلیسیا کے نام سات خطوط سے ہم یسوع مسیح کے بارے میں کیا سیکھتے ہیں؟ (‏ب)‏ ہم یہ کیوں کہہ سکتے ہیں کہ کلیسیا کے بزرگ گلّے کے لئے ایسے ہی احساسات رکھتے ہیں جیسے یسوع مسیح رکھتا ہے؟‏

۱۲ یسوع کو گلّے سے کس قدر محبت ہے؟ ہم اِس بات کا اندازہ اُن خطوط سے لگا سکتے ہیں جو اُس نے سات کلیسیاؤں کے نام لکھوائے۔ (‏مکا ۲:‏۱–‏۳:‏۲۲‏)‏ اِن خطوط میں یسوع دکھاتا ہے کہ اُسے اپنے پیروکاروں کی کتنی فکر ہے۔ اور وہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ اُسے اِس بات کی خبر ہے کہ ہر کلیسیا میں کیا ہو رہا ہے۔ یہی بات آج بھی سچ ہے اور زیادہ اہمیت رکھتی ہے کیونکہ ہم ”‏خداوند کے دن“‏ میں رہ رہے ہیں جب مکاشفہ میں درج رویا تکمیل پا رہی ہے۔‏a (‏مکا ۱:‏۱۰‏)‏ یسوع مسیح ہمارے لئے اپنی محبت کلیسیا کے بزرگوں کے ذریعے ظاہر کرتا ہے۔یہ بزرگ کلیسیا کی گلّہ‌بانی کرتے ہیں۔ یسوع مسیح اِن کے ذریعے کلیسیا کی حوصلہ‌افزائی کرتا ہے، اُسے تسلی فراہم کرتا ہے اور اُس کی اصلاح کرتا ہے۔ (‏اعما ۲۰:‏۲۸‏؛ برائے‌مہربانی یسعیاہ ۳۲:‏۱، ۲ کو پڑھیں۔)‏ بزرگوں کی اِن کوششوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یسوع مسیح آپ کے لئے گہری محبت رکھتا ہے۔ کیا آپ بزرگوں کی کوششوں کی قدر کرتے ہیں؟‏

یہوواہ خدا ہماری مدد کو آتا ہے

۱۳-‏۱۵.‏ یہوواہ خدا ہماری دُعاؤں کا جواب کن مختلف طریقوں سے دیتا ہے؟ اِس کی کچھ مثالیں بیان کریں۔‏

۱۳ کبھی‌کبھار جب ہم یہوواہ خدا سے مدد کی فریاد کرتے ہیں تو وہ کسی پُختہ مسیحی کو ہماری حوصلہ‌افزائی کرنے کو بھیجتا ہے۔ کیا آپ نے بھی اِس کا تجربہ کِیا ہے؟ (‏یعقو ۵:‏۱۴-‏۱۶‏)‏ اس کے علاوہ یہوواہ خدا اجلاس کے دوران دی جانے والی کسی تقریر سے یاپھر ہمارے رسالوں میں درج کسی بات سے بھی ہماری دُعاؤں کا جواب دیتا ہے۔ اِس سلسلے میں غور کریں کہ ایک بہن کے ساتھ کیا واقع ہوا۔ وہ ایک بہت بڑی ناانصافی کا شکار ہوئی۔ اِسکے کچھ ہفتے بعد ایک بزرگ نے اِس بہن کی کلیسیا میں ایک تقریر پیش کی۔ تقریر کے بعد اِس بہن نے جا کر اُس بزرگ سے بات کی۔ لیکن اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے بارے میں شکایت کرنے کی بجائے اُس بہن نے بھائی کا شکریہ ادا کِیا۔ تقریر میں جن صحیفوں کا ذکر ہوا تھا یہ اُس کی صورتحال پر لاگو ہوتے تھے۔ اِس بہن نے تقریر سے ہمت باندھی اور وہ خوش تھی کہ وہ اجلاس پر حاضر ہوئی تھی۔‏

۱۴ آئیں ایک اَور مثال پر غور کریں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہوواہ خدا ہماری دُعاؤں کو سنتا ہے۔ جیل میں بند تین قیدیوں نے بائبل کی سچائیوں کے بارے میں سیکھنا شروع کر دیا اور غیربپتسمہ‌یافتہ مُناد بن گئے۔ ایک دن دوسرے قیدیوں میں ہاتھاپائی ہوئی جس کی وجہ سے تمام قیدیوں پر مزید پابندیاں عائد کی گئیں۔ اِس کے نتیجے میں قیدیوں نے احتجاج کرنے کا فیصلہ کِیا۔ اُنہوں نے طے کِیا کہ وہ اگلی صبح ناشتے کے بعد اپنی پلیٹیں واپس نہیں کریں گے۔ اب یہ تین غیربپتسمہ‌یافتہ مُناد مشکل میں پڑ گئے۔ اگر وہ دوسرے قیدیوں کا ساتھ دیتے تو وہ رومیوں ۱۳:‏۱ میں پائے جانے والی ہدایت کی خلاف‌ورزی کرتے۔ لیکن اگر وہ اُن کا ساتھ نہ دیتے تو اُنہیں دوسرے قیدیوں سے خطرہ ہوتا۔‏

۱۵ یہ تین غیربپتسمہ‌یافتہ مُناد ایک دوسرے سے رابطہ نہیں کر سکتے تھے۔ اُن میں سے ہر ایک نے یہوواہ خدا سے حکمت کے لئے دُعا کی اور پھر اُنہوں نے صورتحال سے نپٹنے کے لئے ایک ہی جیسا فیصلہ کِیا۔ اگلے روز اُنہوں نے ناشتہ کرنے سے انکار کر دیا۔ اسطرح جب سپاہی پلیٹیں واپس لینے کے لئے آئے تو اِن تینوں کے پاس واپس کرنے کو پلیٹیں نہ تھیں۔ وہ اِس بات کے لئے نہایت شکرگزار تھے کہ ”‏دُعا کے سننے والے“‏ نے اُن کی مدد کی۔—‏زبور ۶۵:‏۲‏۔‏

مستقبل میں بھی خدا پر بھروسہ رکھیں

۱۶.‏ مُنادی کے کام سے کیسے ظاہر ہوتا ہے کہ یہوواہ خدا کو خلوص‌دل لوگوں کی بڑی فکر ہے؟‏

۱۶ دُنیابھر میں ہونے والے مُنادی کے کام سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ یہوواہ خدا کو خلوص‌دل لوگوں کی بڑی فکر ہے۔ (‏پید ۱۸:‏۲۵‏)‏ یہوواہ خدا اکثر اپنے فرشتوں کے ذریعے اپنے خادموں کی راہنمائی کرتا ہے تاکہ وہ لوگوں کو خوشخبری سنانے میں کامیاب رہیں۔ یہاں تک کہ اگر خلوص‌دل لوگ ایسے علاقوں میں رہتے ہوں جہاں خوشخبری کبھی پہلے نہ سنائی گئی ہو تب بھی فرشتوں کی مدد سے اُنہیں خوشخبری پہنچائی جاتی ہے۔ (‏مکا ۱۴:‏۶، ۷‏)‏ مثال کے طور پر خدا نے ایک فرشتے کے ذریعے فلپس کو ایک حبشی اہلکار کے پاس بھیجا تاکہ وہ اُسے خوشخبری سنائے۔ اِس کے نتیجے میں یہ آدمی یسوع پر ایمان لایا اور اُس نے بپتسمہ لے لیا۔‏b‏—‏یوح ۱۰:‏۱۴، ۱۵؛‏ اعما ۸:‏۲۶-‏۳۹‏۔‏

۱۷.‏ ہمیں مستقبل کے بارے میں فکر کیوں نہیں کرنی چاہئے؟‏

۱۷ جوں جوں اخیر زمانہ اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے دُنیا کی ”‏مصیبتوں“‏ میں اضافہ ہوتا جائے گا۔ (‏متی ۲۴:‏۸‏)‏ مثال کے طور پر بڑھتی ہوئی آبادی، موسم میں تبدیلیوں اور معاشی مسائل کی وجہ سے مہنگائی بڑھتی جائے گی۔ ملازمت ملنا زیادہ مشکل ہو جائے گا اور جو ملازمت کرتے ہیں اُن پر زیادہ دیر تک کام کرنے کا دباؤ ہوگا۔ چاہے کچھ بھی ہو، جو لوگ یہوواہ خدا کی خدمت کو پہلا درجہ دیں گے اور اپنی ”‏آنکھ درست“‏ رکھیں گے اُنہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اُنہیں معلوم ہے کہ یہوواہ خدا اُن سے گہری محبت رکھتا ہے اور وہی اُن کی ضروریات پوری کرے گا۔ (‏متی ۶:‏۲۲-‏۳۴‏)‏ اس سلسلے میں غور کریں کہ ۶۰۷ قبلِ‌مسیح میں یروشلیم کی تباہی کے وقت یہوواہ خدا نے یرمیاہ نبی کی ضروریات کو کیسے پورا کِیا۔‏

۱۸.‏ یہوواہ خدا نے یرمیاہ نبی کے لئے اپنی محبت کیسے ظاہر کی؟‏

۱۸ بابلیوں نے یروشلیم کو گھیرے میں لے رکھا تھا جس کی وجہ سے شہر میں فاقہ‌کشی تھی۔ اِس دوران یرمیاہ نبی کو قیدخانہ کے صحن میں قید کر دیا گیا۔ اُسے خوراک کہاں سے ملتی؟ اگر وہ آزاد ہوتا تو وہ خود اپنے لئے خوراک تلاش کر لیتا۔لیکن وہ تو قید تھا اور لوگ اُس سے دُشمنی کر رہے تھے۔ البتہ یرمیاہ نبی نے انسانوں پر نہیں بلکہ خدا پر بھروسہ رکھا۔ کیا یہوواہ خدا نے اپنے وعدے کے مطابق یرمیاہ نبی کی ضروریات پوری کیں؟ جی‌ہاں۔ یہوواہ خدا نے بندوبست کِیا کہ لوگ ’‏ہر روز یرمیاہ کو ایک روٹی لے کر دیتے رہیں جب تک کہ شہر میں روٹی مل سکتی تھی۔‘‏ (‏یرم ۳۷:‏۲۱‏)‏ یرمیاہ نبی کے علاوہ باروک، عبدملک اور خدا کے اَور بھی وفادار خادم اِس اذیت‌ناک وقت میں تلوار اور کال اور وبا سے بچے رہے۔—‏یرم ۳۸:‏۲؛‏ ۳۹:‏۱۵-‏۱۸‏۔‏

۱۹.‏ مستقبل میں چاہے کچھ بھی ہو ہمیں کیا کرنے کی ٹھان لینی چاہئے؟‏

۱۹ جی‌ہاں، ”‏[‏یہوواہ]‏ کی نظر راستبازوں کی طرف ہے اور اُس کے کان اُن کی دُعا پر لگے ہیں۔“‏ (‏۱-‏پطر ۳:‏۱۲‏)‏ کیا آپ اِس بات کی قدر کرتے ہیں کہ یہوواہ خدا آپ پر نگاہ رکھتا ہے؟ کیا آپ یہ جان کر خود کو محفوظ سمجھتے ہیں کہ یہوواہ خدا کی نگاہ آپ کی بھلائی کے لئے آپ پر ہے؟ مستقبل میں چاہے کچھ بھی ہو خدا کے ساتھ‌ساتھ چلنے کی ٹھان لیں۔ ہم اِس بات پر یقین رکھ سکتے ہیں کہ یہوواہ خدا ایک شفیق باپ کی طرح ہمیشہ اپنے وفادار خادموں پر نگاہ رکھے گا۔—‏زبور ۳۲:‏۸‏؛ برائے‌مہربانی یسعیاہ ۴۱:‏۱۳ کو پڑھیں۔‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a حالانکہ یہ خطوط ممسوح مسیحیوں کے نام ہیں لیکن اِن میں درج اصول تمام مسیحیوں پر لاگو ہوتے ہیں۔‏

b مُنادی کے کام کے سلسلے میں یہوواہ خدا کی راہنمائی کی ایک اَور مثال اعمال ۱۶:‏۶-‏۱۰ میں پائی جاتی ہے۔ وہاں لکھا ہے کہ روحُ‌القدس نے پولس رسول اور اُس کے ساتھیوں کو ’‏آؔسیہ اور بتوؔنیہ میں کلام سنانے سے منع کِیا۔‘‏ اِسکی بجائے اُنہیں مکدنیہ جانے کی ہدایت دی گئی جہاں بہت سے خلوص‌دل لوگ خدا کے کلام پر ایمان لائے۔‏

کیا آپ بتا سکتے ہیں؟‏

‏• ہم کیسے ظاہر کر سکتے ہیں کہ ہم ’‏خدا کیساتھ‌ساتھ چل‘‏ رہے ہیں؟‏

‏• یہوواہ خدا نے کیسے ظاہر کِیا کہ وہ باروک کے لئے محبت رکھتا تھا؟‏

‏• یسوع مسیح کلیسیا کے سردار کے طور پر یہوواہ خدا کی صفات کی عکاسی کیسے کرتا ہے؟‏

‏• اِس اخیر زمانے میں ہم کیسے ظاہر کر سکتے ہیں کہ ہم دل سے خدا پر بھروسہ رکھتے ہیں؟‏

‏[‏صفحہ ۱۵ پر تصویر]‏

جس طرح یرمیاہ نبی باروک سے پیش آیا تھا اِسی طرح کلیسیا کے بزرگ خدا کے خادموں کے ساتھ پیش آتے ہیں

‏[‏صفحہ ۱۶ پر تصویر]‏

یہوواہ خدا ہماری مدد کو کیسے آتا ہے؟‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں