ماں کے کردار کو کامیابی سے نبھانا
آج کے دَور میں خواتین کی اکثریت ملازمت کرتی ہے۔ صنعتی ممالک میں عورتیں مردوں کے شانہبشانہ کام کرتی ہیں۔ ترقیپذیر ممالک میں اکثر عورتیں کھیتیباڑی کے کام میں سخت محنت کرتی ہیں تاکہ اپنے خاندان کی کفالت کرنے میں مدد دے سکیں۔
بہت سی عورتیں اِس پریشانی کا شکار ہیں کہ آیا وہ خاندان کی ضروریات پوری کرنے کے لئے ملازمت کریں یاپھر اپنے گھربار کی دیکھبھال کریں۔ خواتین نہ صرف خاندان کے لئے خوراک، لباس اور گھر مہیا کرنے میں مدد دیتی ہیں بلکہ خاندان کے لئے کھانا تیار کرتی، کپڑے دھوتی اور گھر کو صافستھرا رکھتی ہیں۔
اِس کے علاوہ، مسیحی مائیں اپنے بچوں کو خدا کے ساتھ مضبوط رشتہ قائم رکھنے میں مدد دینے کے لئے اُن کی تعلیموتربیت بھی کرتی ہیں۔ کرس ٹینا جس کی دو بیٹیاں ہیں بیان کرتی ہے، ”یہ سچ ہے کہ جب بچے چھوٹے ہوتے ہیں تو ملازمت کے ساتھ ساتھ خاندانی ذمہداریوں کو پورا کرنا آسان نہیں ہوتا۔ ایسی صورتحال میں بچوں کو پوری توجہ دینا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔“
کیا چیز ماؤں کو ملازمت کرنے پر مجبور کرتی ہے؟ اِس سلسلے میں اُنہیں کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟ نیز کیا ایک ماں کے لئے اپنے کردار کو بخوبی نبھانے کے لئے ملازمت کرنا ضروری ہے؟
مائیں کیوں ملازمت کرتی ہیں؟
بیشتر ماؤں کے لئے ملازمت کرنا اشد ضروری ہوتا ہے۔ کیونکہ بعض کے شوہر نہیں ہوتے جو خاندان کی دیکھبھال کرنے میں اُن کا بوجھ بانٹ سکیں۔ جبکہ دیگر جوڑے محسوس کرتے ہیں کہ ایک تنخواہ سے خاندان کی بنیادی ضروریات پوری کرنا ممکن نہیں ہے۔
سچ ہے کہ سب مائیں محض خاندان کی معاشی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ملازمت نہیں کرتی ہیں۔ عورتوں کی بڑی تعداد معاشرے میں اپنا مقام پیدا کرنے کے لئے ملازمت کرتی ہے۔ بعض شاید کسی حد تک مالی طور پر خودمختار بننے یا پُرآسائش زندگی گزارنے کے لئے ملازمت کرتی ہیں۔ دیگر نے کسی خاص کام میں مہارت حاصل کی ہوتی ہے جسے کرنے سے اُنہیں خوشی ہوتی ہے۔
دوستوں کا دباؤ بھی بعض ماؤں کو ملازمت کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ اگرچہ زیادہتر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ملازمت کرنے والی ماؤں کو شدید دباؤ اور تھکاوٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے توبھی جو مائیں ملازمت نہیں کرتی اُنہیں غلط سمجھا جاتا اور اُن کا مذاق اُڑایا جاتا ہے۔ ایک خاتون نے بیان کِیا کہ ”دوسروں کو یہ سمجھانا مشکل ہوتا ہے کہ آپ اپنا سارا وقت گھر کی دیکھبھال کرنے میں صرف کرتی ہیں۔ کیونکہ اُن کی باتوں یا چہرے کے تاثرات سے ایسا لگتا ہے کہ آپ اپنی زندگی ضائع کر رہی ہیں۔“ دو سالہ بیٹی کی ماں ربقہ بیان کرتی ہے: ”جس معاشرے میں ہم رہتے ہیں اگرچہ وہ یہ تسلیم کرتا ہے کہ عورتوں کو اپنے بچوں کی دیکھبھال کرنی چاہئے توبھی مجھے محسوس ہوتا ہے کہ ہمارا معاشرہ ملازمت نہ کرنے والی ماؤں کو کمتر خیال کرتا ہے۔“
حقیقت کیا ہے؟
دُنیا کے بعض خطوں میں، میڈیا اُس عورت کو ایک ”آئیڈیل عورت“ کے طور پر پیش کرتا ہے جو اپنے پیشے کے اعتبار سے کامیاب، اچھی تنخواہ حاصل کرنے والی، شاندار لباس پہننے والی اور خوداعتماد ہے۔ نیز جب وہ ملازمت سے گھر واپس آتی ہے تو اُس کے اندر اپنے بچوں کے مسائل کو حل کرنے، اپنے شوہر کی مدد کرنے اور گھریلو مشکلات سے نپٹنے کا حوصلہ ہوتا ہے۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ بہت ہی کم عورتیں اِس معیار پر پورا اُترتی ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ عورتوں کو ملنے والی زیادہتر ملازمتیں اُکتا دینے والی اور نسبتاً کم تنخواہ والی ہوتی ہیں۔ ملازمتپیشہ ماؤں کو یہ دیکھ کر بہت مایوسی ہوتی ہے کہ اُنہیں ایسی ملازمتیں نہیں ملتیں جہاں وہ اپنی خداداد صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کر سکتی ہیں۔ کتاب سوشل سائیکولوجی بیان کرتی ہے: ”اگرچہ مساوات کا بڑا چرچا کِیا جاتا ہے توبھی مردوں کو ہمیشہ اچھی تنخواہ اور اعلیٰ مرتبے والی ملازمتیں دی جاتی ہیں۔ لہٰذا کسی حد تک اچھی ملازمت حاصل کرنے کے باوجود عورتیں مردوں کی برابری کرنے میں ناکام رہتی ہیں۔“ سپین کا ایک اخبار بیان کرتا ہے: ”جہاں تک عورتوں کا تعلق ہے وہ ملازمت کے سلسلے میں مردوں سے تین گُنا زیادہ دباؤ اور پریشانی کا شکار ہوتی ہیں۔ کیونکہ عورتوں کو عموماً دو نوکریاں کرنی پڑتی ہیں۔ اُنہیں نہ صرف ملازمت کرنی پڑتی ہے بلکہ گھر میں بھی کام کرنا پڑتا ہے۔“
شوہر کیسے مدد کر سکتے ہیں؟
بِلاشُبہ یہ ایک ذاتی فیصلہ ہے کہ آیا ایک مسیحی ماں ملازمت کرے گی یا نہیں۔ تاہم، ایک شوہر اور بیوی کو بڑی احتیاط کے ساتھ تمام معاملات پر غور کرنے اور آپس میں باتچیت کرنے کے بعد کوئی فیصلہ کرنا چاہئے۔—امثال ۱۴:۱۵۔
اُس صورت میں کیا ہے جب ایک جوڑا یہ فیصلہ کرتا ہے کہ خاندان کی مالی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے اُن دونوں کا ملازمت کرنا بہت ضروری ہے؟ ایسے میں ایک دانشمند شوہر بائبل کی اِس نصیحت پر خاص دھیان دے گا: ”اَے شوہرو! تُم بھی بیویوں کے ساتھ عقلمندی سے بسر کرو اور عورت کو نازک ظرف جان کر اُس کی عزت کرو اور یوں سمجھو کہ ہم دونوں زندگی کی نعمت کے وارث ہیں۔“ (۱-پطرس ۳:۷) ایک شوہر اپنی بیوی کی جسمانی اور جذباتی بناوٹ کا لحاظ رکھنے سے اُس کے لئے عزت دکھا سکتا ہے۔ جب بھی ممکن ہو، وہ گھر کے کامکاج میں اپنی بیوی کی مدد کر سکتا ہے۔ یسوع مسیح کی طرح فروتنی ظاہر کرتے ہوئے، ایک شوہر گھر کے چھوٹےموٹے کام کرنے کے لئے تیار ہوگا اور ایسے ادنیٰ کام انجام دینے کو بےعزتی خیال نہیں کرے گا۔ (یوحنا ۱۳:۱۲-۱۵) اِس کی بجائے وہ یہ سوچے گا کہ ایسے کاموں سے وہ اپنی بیوی کے لئے محبت ظاہر کر سکتا ہے جوکہ سارا دن سخت محنت کرتی ہے۔ یقیناً بیوی ایسی مدد کی بہت قدر کرے گی۔—افسیوں ۵:۲۵، ۲۸، ۲۹۔
اِس میں کوئی شک نہیں کہ اگر دونوں کو ملازمت کرنی ہے توپھر گھر کے کامکاج میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا بہت ضروری ہے۔ سپین کے ایک اخبار کے مطابق، اِس سلسلے میں اکثر کوتاہی برتی جاتی ہے۔ اِس اخبار نے خاندانی معاملات سے تعلق رکھنے والے ایک ادارے کی رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ سپین میں طلاق کی شرح بہت زیادہ ہے۔ اِس کی وجہ نہ صرف ”مذہبی اور اخلاقی معیاروں کا فقدان ہے“ بلکہ دو اَور عنصر بھی اِس کے ذمہدار ہیں۔ اوّل ”عورتوں کو ملازمت کرنے پر مجبور کِیا جاتا ہے“ اور دوم ”مرد گھر کے کامکاج میں اپنی بیویوں کا ہاتھ بٹانے میں ناکام رہتے ہیں۔“
ایک مسیحی ماں کا اہم کردار
یہوواہ خدا نے بچوں کی تربیت کرنے کی بنیادی ذمہداری والدوں کو سونپی ہے۔ مگر مسیحی مائیں اِس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ جب بچے چھوٹے ہوتے ہیں تو اُس وقت اُنہیں بھی ایک اہم کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔ (امثال ۱:۸؛ افسیوں ۶:۴) جب یہوواہ خدا نے اسرائیلیوں کو یہ حکم دیا کہ شریعت کو اپنے بچوں کے ذہننشین کریں تو وہ ماں اور باپ دونوں سے مخاطب تھا۔ یہوواہ جانتا تھا کہ جب بچے کی شخصیت کی نشوونما ہو رہی ہوتی ہے تو ایسا کرنے کے لئے وقت اور صبر درکار ہوتا ہے۔ اِسی لئے خدا نے والدین کو گھر میں، اُٹھتےبیٹھتے، راہ چلتے اور لیٹتے وقت اپنے بچوں کو سکھانے کا حکم دیا تھا۔—استثنا ۶:۴-۷۔
خدا کے کلام نے ماؤں کے اہم اور باوقار کردار کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے بچوں کو حکم دیا: ”اپنی ماں کی تعلیم کو نہ چھوڑ۔“ (امثال ۶:۲۰) بِلاشُبہ، ایک ماں اپنے بچوں کے لئے کسی بھی قسم کی ہدایات وضع کرنے سے پہلے اپنے شوہر سے ضرور مشورہ کرے گی۔ تاہم، امثال ۶:۲۰ ظاہر کرتی ہے مائیں اپنے بچوں کے لئے قوانین وضع کر سکتی ہیں۔ پس جو بچے اپنی خداترس ماں کے سکھائے گئے روحانی اور اخلاقی قوانین کی پابندی کرتے ہیں اُنہیں بیشمار فوائد حاصل ہوں گے۔ (امثال ۶:۲۱، ۲۲) ٹریسا جس کے دو بیٹے ہیں اُس نے ملازمت نہ کرنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا: ”اپنے بچوں کی خدا کی راہ پر تربیت کرنا ہی میرے لئے سب سے اہم کام ہے۔ مَیں اِس کام کو بہترین طریقے سے انجام دینا چاہتی ہوں۔“
اپنے کردار کو کامیابی سے نبھانے والی مائیں
اسرائیلی بادشاہ لموایل نے یقیناً اپنی ماں کی بااُصول زندگی سے فائدہ اُٹھایا تھا۔ اُس کی ماں نے اُسے جو ”پیغام“ دیا اور جو باتیں اُسے ”سکھائیں“ وہ خدا کے الہامی کلام کا حصہ ہیں اور امثال کی کتاب میں درج ہیں۔ (امثال ۳۱:۱؛ ۲-تیمتھیس ۳:۱۶) لموایل بادشاہ کی ماں نے ایک لائق بیوی کے بارے میں جوکچھ بیان کِیا وہ آج بھی نوجوانوں کو اپنے لئے ایک اچھی بیوی کا انتخاب کرنے میں مدد دیتا ہے۔ نیز بداخلاقی اور شرابنوشی کے بارے میں اُس کی آگاہیاں آج بھی اُتنی ہی اہمیت کی حامل ہیں جتنی اِس کی تحریر کے وقت تھیں۔—امثال ۳۱:۳-۵، ۱۰-۳۱۔
پہلی صدی میں پولس رسول نے یونیکے نامی عورت کے نیک کاموں کی تعریف کی۔ ایک ماں کے طور پر یونیکے نے اپنے بیٹے تیمتھیس کی عمدہ تعلیموتربیت کی تھی۔ چونکہ اُس کا شوہر یونانی ہونے کی وجہ سے اپنے دیوتاؤں کی پرستش کرتا تھا اِس لئے یونیکے کو تیمتھیس کو ”پاک نوشتوں“ کی تعلیم دینے کے لئے خاص کوشش کرنی پڑی ہوگی۔ یونیکے نے تیمتھیس کو پاک صحائف کی تعلیم کب دینی شروع کی؟ بائبل بیان کرتی ہے کہ اُس نے ”بچپن سے“ اُسے تعلیم دینا شروع کر دی تھی۔ (۲-تیمتھیس ۱:۵؛ ۳:۱۴، ۱۵) یقیناً یونیکے کے ایمان، نمونے اور تعلیموتربیت نے اُس کے بیٹے تیمتھیس کو مشنری خدمت کی طرف راغب کِیا تھا۔—فلپیوں ۲:۱۹-۲۲۔
بائبل میں ایسی ماؤں کا بھی ذکر کِیا گیا ہے جنہوں نے خدا کے خادموں کی مہماننوازی کی۔ اِس طرح اُن کے بچوں کو ایسے لوگوں کی رفاقت ملی جن کے نقشِقدم پر وہ چل سکتے تھے۔ مثال کے طور پر، شونیم کی ایک عورت الیشع نبی کی مہمانداری کِیا کرتی تھی۔ بعدازاں الیشع نبی نے اُس کے بیٹے کو بھی زندہ کِیا۔ (۲-سلاطین ۴:۸-۱۰، ۳۲-۳۷) بائبل میں مرقس کی انجیل لکھنے والے شاگرد کی ماں مریم کی مثال پر بھی غور کریں۔ یسوع کے ابتدائی شاگرد یروشلیم میں واقع مریم کے گھر میں عبادت کے لئے جمع ہوا کرتے تھے۔ (اعمال ۱۲:۱۲) مرقس نے یقیناً اپنے گھر میں آنے والے رسولوں اور دیگر مسیحیوں کی رفاقت سے فائدہ اُٹھایا ہوگا۔
اِن مختلف مثالوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہوواہ خدا اُن وفادار عورتوں کی محنت کی بہت قدر کرتا ہے جو اپنے بچوں کے دلوں میں اُس کے اُصول نقش کرتی ہیں۔ یہوواہ خدا اِن عورتوں کی وفاداری اور گھر میں روحانی ماحول پیدا کرنے کی اُن کی کوششوں کو بھی بہت پسند کرتا ہے۔—۲-سموئیل ۲۲:۲۶؛ امثال ۱۴:۱۔
ایک اچھا انتخاب
مندرجہبالا صحیفائی مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ خاندان کی جسمانی، روحانی اور جذباتی ضروریات کا خیال رکھنا بیشمار برکات کا باعث بنتا ہے۔ مگر ایسا کرنا آسان نہیں ہے۔ گھر میں ایک ماں کا کردار اکثر کسی اُونچے عہدے والی ملازمت سے زیادہ مشکل ہوتا ہے۔
سچ ہے کہ اگر ایک بیوی اپنے شوہر سے مشورہ کرنے کے بعد یہ فیصلہ کرتی ہے کہ اُسے کُلوقتی ملازمت کرنے کی بجائے جُزوقتی ملازمت کرنی چاہئے۔ ایسی صورت میں خاندان کو اپنی زندگی کو کسی حد تک سادہ بنانا پڑ سکتا ہے۔ علاوہازیں، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اُسے اُن لوگوں کی باتیں بھی سننی پڑیں جو اُس جیسی سوچ نہیں رکھتے۔ مگر اِس قربانی کے بدلے میں اُسے جو برکات ملیں گی وہ اُس کی توقعات سے کہیں زیادہ ہوں گی۔ پاکی نامی ایک عورت کے تین بچے ہیں اور اُسے جُزوقتی ملازمت کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ کہتی ہے: ”مَیں چاہتی ہوں کہ جب میرے بچے سکول سے واپس آئیں تو مَیں گھر میں موجود ہوں تاکہ وہ اپنی دنبھر کی کارگزاری کے بارے میں مجھے بتا سکیں۔“ اِس سے اُس کے بچوں کو کیا فائدہ ہوتا ہے؟ پاکی مزید کہتی ہے: ”مَیں اُنہیں ہوم ورک کرواتی ہوں۔ اگر اُنہیں کوئی مشکل پیش آتی ہے تو مَیں فوراً اُن کی مدد کرتی ہوں۔ ہر روز ہم جو وقت اکٹھے گزارتے ہیں اُس سے ہم ایک دوسرے کے ساتھ اچھا رابطہ رکھنے کے قابل ہوئے ہیں۔ بچوں کے ساتھ وقت گزارنا مجھے اتنا اچھا لگتا ہے کہ مَیں نے کُلوقتی ملازمت کی پیشکش کو ٹھکرا دیا ہے۔“
بہتیری مسیحی ماؤں نے یہ محسوس کِیا ہے کہ اگر وہ جُزوقتی ملازمت کرتی ہیں تو اِس سے پورے خاندان کو فائدہ ہوتا ہے۔ کرس ٹینا جس کا شروع میں ذکر کِیا گیا ہے بیان کرتی ہے: ”جب مَیں نے ملازمت چھوڑ دی تو ایسا لگتا تھا کہ اب خاندان کے مسائل کم ہو گئے ہیں۔ اب میرے پاس اپنے بچوں کے ساتھ باتچیت کرنے کے لئے وقت تھا۔ نیز مَیں مختلف طریقوں سے اپنے شوہر کی بھی مدد کر سکتی تھی۔ میرے پاس اپنی بیٹیوں کو پڑھانے کے لئے بھی وقت تھا اور مَیں اُنہیں بہت کچھ سیکھتے اور ترقی کرتے دیکھ کر بہت خوش تھی۔“ ایک خاص واقعہ کرس ٹینا کو کبھی نہیں بھولتا۔ ”میری بڑی بیٹی نے بچوں کی نگہداشت کے سینٹر میں چلنا سیکھا تھا۔ مگر اپنی چھوٹی بیٹی کو مَیں نے خود گھر میں چلنا سکھایا۔ شروع شروع میں جب وہ چند قدم اُٹھانے کے بعد گرنے لگتی تو مَیں اُسے اپنی بانہوں میں تھام لیا کرتی تھی۔ اِس لمحے مجھے بیحد تسکین ملتی تھی!“
ایک دوسرا غورطلب پہلو یہ ہے کہ ایک ماں کے جُزوقتی ملازمت کرنے سے جو مالی نقصان ہوگا وہ شاید اتنا زیادہ نہ ہو جتنا آپ سمجھ رہے ہیں۔ کرس ٹینا بیان کرتی ہے: ”درحقیقت میری زیادہتر تنخواہ تو بچی کی نگہداشت کرنے والے سینٹر کے اخراجات ادا کرنے ہی میں چلی جاتی تھی۔ جب ہم نے بڑے احتیاط کے ساتھ اپنے حالات کا جائزہ لیا تو ہمیں پتہ چلا کہ میری ملازمت سے ہمیں مالی طور پر کچھ زیادہ فائدہ نہیں ہو رہا تھا۔“
پس اپنے حالات کا بغور جائزہ لینے کے بعد بعض جوڑے یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ بیوی کا گھر کی دیکھبھال کرنا ملازمت سے حاصل ہونے والے مالی نفع سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔ کرس ٹینا کا شوہر پال کہتا ہے: ”مَیں خوش ہوں کہ میری بیوی گھر پر رہ کر بیٹیوں کی دیکھبھال کرنے کے قابل ہے۔ جب میری بیوی ملازمت کرتی تھی تو ہم دونوں بہت پریشان رہتے تھے۔“ والدین کے اِس فیصلے کا اُن کی بیٹیوں پر کیا اثر پڑا؟ پال بیان کرتا ہے: ”وہ نہ صرف زیادہ محفوظ محسوس کرتی ہیں بلکہ اپنی عمر کے ابتدائی سالوں میں وہ بڑی حد تک بُرے اثرات سے بھی محفوظ ہیں۔“ یہ جوڑا کیوں محسوس کرتا ہے کہ اُن کے لئے اپنی بیٹیوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزارنا اتنا ضروری ہے؟ پال جواب دیتا ہے: ”اگر ہم والدین اپنے بچوں کے دلودماغ میں اچھی باتیں نقش نہیں کریں گے توپھر کوئی اَور اُن کے دلودماغ پر غلط اثر ڈالے گا۔“
پس یہ واضح ہو گیا ہے کہ ہر ایک جوڑے کو خود اپنے حالات کا جائزہ لینا ہے اس لئے کسی کو اُن کے فیصلوں پر نکتہچینی نہیں کرنی چاہئے۔ (رومیوں ۱۴:۴؛ ۱-تھسلنیکیوں ۴:۱۱) تاہم، اِس بات پر غور کرنا بہت ضروری ہے کہ جب ماں ملازمت نہیں کرتی تو خاندان کو کتنا فائدہ پہنچتا ہے۔ اِس سلسلے میں اپنے احساسات کا اظہار کرتے ہوئے ٹریسا جس کا پہلے ذکر کِیا گیا ہے کہتی ہے: ”کسی بھی چیز سے اتنی خوشی اور تسکین نہیں ہوتی جتنی اپنے بچوں کی دیکھبھال اور تعلیموتربیت کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔“—زبور ۱۲۷:۳۔
[صفحہ ۲۳ پر تصویر]
مسیحی مائیں اپنے بچوں کی تعلیموتربیت کرنے کی اہم ذمہداری رکھتی ہیں