ہمیں یسوع مسیح کے نام میں کیوں دُعا کرنی چاہئے؟
یسوع مسیح اکثر اپنے شاگردوں کو دُعا کرنے کے بارے میں سکھاتا تھا۔ اُس کے زمانے میں یہودی مذہبی رہنما ”بازاروں کے موڑوں پر کھڑے ہو کر“ دُعا کِیا کرتے تھے۔ وہ ایسا اس لئے کرتے تھے ”تاکہ لوگ اُن کو دیکھیں۔“ وہ چاہتے تھے کہ لوگ اُن کی دینداری کی تعریفیں کریں۔ بہتیرے یہودی مذہبی رہنما لمبی دُعائیں مانگتے اور بار بار وہی الفاظ دہراتے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ ”بہت بولنے کے سبب سے“ اُن کی دُعائیں سنی جائیں گی۔ (متی ۶:۵-۸) یسوع نے ظاہر کِیا کہ ایسی دُعائیں فضول ہیں۔ لیکن اُس نے خلوص دل لوگوں کو نہ صرف یہ بتایا کہ دُعا کرتے وقت اُنہیں کن باتوں سے گریز کرنا چاہئے بلکہ اُس نے یہ بھی سکھایا کہ اُنہیں کیسے دُعا کرنی چاہئے۔
یسوع مسیح نے سکھایا کہ دُعا میں ہمیں اِس خواہش کا اظہار کرنا چاہئے کہ خدا کا نام پاک ٹھہرایا جائے، اُس کی بادشاہت آئے اور اُس کی مرضی پوری ہو۔ اُس نے یہ بھی کہا کہ ہمیں اپنی ذاتی ضروریات کے لئے بھی دُعا کرنی چاہئے۔ (متی ۶:۹-۱۳؛ لوقا ۱۱:۲-۴) تمثیلوں کے ذریعے یسوع نے ظاہر کِیا کہ اگر ہم چاہتے ہیں کہ یہوواہ خدا ہماری دُعا قبول کرے تو ہمیں نہ صرف ایمان اور عاجزی سے دُعا کرنی چاہئے بلکہ ہمیں ایک بات کے لئے بار بار درخواست بھی کرنی چاہئے۔ (لوقا ۱۱:۵-۱۳؛ ۱۸:۱-۱۴) اِس سلسلے میں یسوع مسیح نے بہترین مثال قائم کی۔—متی ۱۴:۲۳؛ مرقس ۱:۳۵۔
بلاشُبہ یسوع کی ہدایت کی وجہ سے اُس کے شاگردوں کی دُعاؤں میں بہتری آ گئی ہوگی۔ لیکن دُعا کرنے کے سلسلے میں سب سے اہم بات یسوع نے اپنی زندگی کی آخری رات بتائی۔
”دُعا کے سلسلے میں ایک بہت بڑی تبدیلی“
یسوع مسیح نے اپنی زندگی کی آخری رات اپنے شاگردوں کی حوصلہافزائی کرنے میں گزاری تھی۔ اور اب وہ وقت آ گیا تھا جب وہ اُنہیں ایک بہت اہم بات بتانے والا تھا۔ یسوع نے اُن سے کہا: ”راہ اور حق اور زندگی مَیں ہوں۔ کوئی میرے وسیلہ کے بغیر باپ کے پاس نہیں آتا۔“ پھر یسوع نے شاگردوں کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے اُن سے کہا: ”جو کچھ تُم میرے نام سے چاہو گے مَیں وہی کروں گا تاکہ باپ بیٹے میں جلال پائے۔“ اپنی بات کو ختم کرتے ہوئے یسوع نے کہا ”اب تک تُم نے میرے نام سے کچھ نہیں مانگا۔ مانگو تو پاؤ گے تاکہ تمہاری خوشی پوری ہو جائے۔“—یوحنا ۱۴:۶، ۱۳، ۱۴؛ ۱۶:۲۴۔
یسوع مسیح کے یہ الفاظ بہت اہمیت رکھتے تھے۔ ایک لغت کے مطابق یسوع کا یہ حکم ”دُعا کے سلسلے میں ایک بہت بڑی تبدیلی لایا تھا۔“ یسوع کے کہنے کا مطلب یہ نہیں تھا کہ لوگ خدا کی بجائے اُس سے دُعا کریں بلکہ وہ یہ بتا رہا تھا کہ اب اُسی کے وسیلے سے خدا کے حضور دُعائیں پیش کی جائیں۔
یہ بات سچ ہے کہ خدا ہمیشہ سے اپنے وفادار خادموں کی دُعاؤں کو سنتا آ رہا تھا۔ (۱-سموئیل ۱:۹-۱۹؛ زبور ۶۵:۲) جب خدا نے بنیاسرائیل کو شریعت دی تو اُس نے اُن کو اپنی خاص قوم ٹھہرایا۔ اُس وقت سے جو شخص چاہتا تھا کہ خدا اُس کی دُعاؤں کو سنے اُسے یہ بات تسلیم کرنی تھی کہ بنیاسرائیل خدا کی خاص قوم ہے۔ پھر بادشاہ سلیمان کے دَور میں ایک شخص کو یہ بھی تسلیم کرنا تھا کہ یہوواہ خدا کی ہیکل ہی وہ جگہ تھی جہاں قربانیاں چڑھائی جانی تھیں۔ (استثنا ۹:۲۹؛ ۲-تواریخ ۶:۳۲، ۳۳) لیکن عبادت کرنے کا یہ انتظام صرف کچھ عرصے کے لئے رہنا تھا۔ پولس رسول نے لکھا کہ بنیاسرائیل کو دی گئی شریعت اور ہیکل میں قربانیاں چڑھانے کا انتظام ’آیندہ کی اچھی چیزوں کا عکس تھا اور اُن چیزوں کی اصلی صورت نہیں تھی۔‘ (عبرانیوں ۱۰:۱، ۲) شریعت محض عکس تھی لیکن اب حقیقت کو سامنے آنا تھا۔ (کلسیوں ۲:۱۷) سن ۳۳ عیسوی سے جو شخص خدا کی قربت حاصل کرنا چاہتا تھا اُس کو موسیٰ کی شریعت پر عمل کرنے کی ضرورت نہیں رہی۔ اب اُسے اُس شخص کا فرمانبردار رہنا تھا جس کی طرف شریعت نے اشارہ کِیا تھا یعنی یسوع مسیح۔—یوحنا ۱۵:۱۴-۱۶؛ گلتیوں ۳:۲۴، ۲۵۔
وہ نام ”جو سب ناموں سے اعلیٰ ہے“
یسوع مسیح نے خدا تک رسائی حاصل کرنے کے لئے ایک اعلیٰ بنیاد ڈالی۔ وہ ایک ایسا بااختیار دوست ہے جس نے اِس بات کو ممکن بنایا کہ ہماری دُعائیں خدا تک پہنچیں اور قبول ہوں۔ یسوع ہمارے لئے یہ سب کچھ کیوں کر سکتا ہے؟
ہم سب نے گناہ کا داغ ورثے میں پایا ہے اِس لئے ہم ایسا کوئی کام نہیں کر سکتے اور نہ ہی ایسی قربانی چڑھا سکتے ہیں جس سے ہم اِس داغ سے پاک ہو جائیں اور اپنے پاک خدا کی قربت حاصل کر سکیں۔ (رومیوں ۳:۲۰، ۲۴؛ عبرانیوں ۱:۳، ۴) لیکن یسوع مسیح نے اپنی بےداغ جان کی قربانی دے کر انسانوں کے گناہوں کی معافی ممکن بنائی۔ (رومیوں ۵:۱۲، ۱۸، ۱۹) اب ایسے لوگ جو اپنے گناہوں کی معافی چاہتے ہیں وہ راستباز ٹھہرائے جا سکتے ہیں اور خدا تک ”بھروسے کے ساتھ رسائی“ حاصل کر سکتے ہیں۔ لیکن یہ سب صرف تب ممکن ہے جب وہ یسوع مسیح کی جان کی قربانی پر ایمان لائیں گے اور اُس کے نام کے وسیلہ سے خدا سے دُعا کریں گے۔—افسیوں ۳:۱۱، ۱۲۔
یسوع کے نام میں دُعا کرنے سے ہم ظاہر کرتے ہیں کہ ہم اِن باتوں پر ایمان لاتے ہیں: (۱) یسوع مسیح ”خدا کا برّہ ہے“ جس کی قربانی کے ذریعے انسانوں کو گناہوں کی معافی ملتی ہے۔ (۲) خدا نے یسوع مسیح کو زندہ کِیا تھا اور اب یسوع ”بڑا سردارکاہن ہے“ جو ہمیں اپنی جان کی قربانی کے فائدے پہنچا رہا ہے۔ (۳) یسوع مسیح ہی وہ ”راہ“ ہے جس کے ذریعے ہماری دُعائیں یہوواہ خدا تک پہنچتی ہیں۔—یوحنا ۱:۲۹؛ ۱۴:۶؛ عبرانیوں ۴:۱۴، ۱۵۔
جب ہم یسوع کے نام میں دُعا کرتے ہیں تو ہم اُس کے لئے احترام دکھاتے ہیں۔ یسوع احترام کا مستحق ہے کیونکہ خدا کی مرضی یہی ہے کہ ”یسوؔع کے نام پر ہر ایک گھٹنا جھکے . . . اور خدا باپ کے جلال کے لئے ہر ایک زبان اقرار کرے کہ یسوؔع مسیح خداوند ہے۔“ (فلپیوں ۲:۱۰، ۱۱) اِس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ یسوع کے نام میں دُعا کرنے سے ہم یہوواہ خدا کو جلال دیتے ہیں کیونکہ اُس نے ہمارے لئے اپنا بیٹا بخش دیا۔—یوحنا ۳:۱۶۔
خدا کے کلام میں یسوع مسیح کو بہت سے ایسے لقب دئے جاتے ہیں جن سے ہم اُس کے رتبے کی اہمیت کو بہتر طور پر سمجھ جاتے ہیں۔ اِن القاب سے ہم یہ بھی سمجھ جاتے ہیں کہ یسوع نے ہمارے لئے جو کچھ کِیا ہے، جو کچھ کر رہا ہے اور مستقبل میں جو کچھ کرے گا اِس سے ہم کیسے فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔ (صفحہ ۱۴ پر بکس ”یسوع مسیح کا اہم کردار“ کو دیکھیں۔) خدا نے یسوع مسیح کو ”وہ نام بخشا جو سب ناموں سے اعلیٰ ہے۔“a اِس کے علاوہ خدا نے اُسے آسمان اور زمین کا کُل اِختیار دیا ہے۔—فلپیوں ۲:۹؛ متی ۲۸:۱۸۔
صرف رسم ادا نہ کریں
بلاشُبہ اگر ہم چاہتے ہیں کہ خدا ہماری دُعاؤں کو سنے تو ہمیں یسوع مسیح کے نام میں دُعا کرنی چاہئے۔ (یوحنا ۱۴:۱۳، ۱۴) لیکن ہمیں دُعا کرتے وقت محض رسمی طور پر جملہ ’یسوع کے نام میں‘ نہیں دہرانا چاہئے۔ ایسا کیوں ہے؟
اِس سلسلے میں ایک تمثیل پر غور کریں۔ جب آپ کو ایک کمپنی یا ادارے سے خط موصول ہوتا ہے تو اکثر اِس کے آخر میں ’آپ کا نیازمند‘ جیسے رسمی الفاظ درج ہوتے ہیں۔ کیا ایسے الفاظ خط لکھنے والے کے اصلی احساسات کی عکاسی کرتے ہیں؟ یا کیا یہ محض خط لکھنے کے قواعد کے مطابق درج کئے جاتے ہیں؟ جب ہم اپنی دُعاؤں میں یسوع کا نام لیتے ہیں تو اِس کو خط کے آخر میں درج کئے جانے والے ایک رسمی جملے سے زیادہ اہم ہونا چاہئے۔ یہ سچ ہے کہ ہمیں ’بِلاناغہ دُعا کرنے‘ کی ہدایت دی جاتی ہے۔ لیکن اِس کا مطلب یہ نہیں کہ ہمیں صرف رسم ادا کرنے کے لئے دُعا کرنی چاہئے بلکہ ہمیں ”پورے دل سے“ دُعا کرنی چاہئے۔—۱-تھسلنیکیوں ۵:۱۷؛ زبور ۱۱۹:۱۴۵۔
آپ کیا کر سکتے ہیں تاکہ دُعا کرتے وقت جب آپ جملہ ’یسوع کے نام میں‘ کہتے ہیں تو یہ محض ایک رسمی بات بن کر نہ رہ جائے؟ یسوع مسیح کی خوبیوں پر غور کریں۔ اِس بات پر بھی غور کریں کہ یسوع نے آپ کے لئے کیا کچھ کِیا ہے اور آئندہ کیا کرنے والا ہے۔ دُعا کرتے وقت یہوواہ خدا کا شکر ادا کریں کہ اُس نے اپنے بیٹے کو اتنا اہم کردار عطا کِیا ہے۔ ایسا کرنے سے آپ یسوع مسیح کے اِن الفاظ پر اَور بھی بھروسہ کرنے لگیں گے: ”اگر باپ سے کچھ مانگو گے تو وہ میرے نام سے تُم کو دے گا۔“—یوحنا ۱۶:۲۳۔
[فٹنوٹ]
a ایک لغت کے مطابق جس یونانی لفظ کا ترجمہ ”نام“ سے کِیا گیا ہے اُس کا اشارہ اختیار، کردار، عہدے، حاکمیت، طاقت اور عظمت کی طرف ہے۔
[صفحہ ۱۳ پر تصویر]
ہمیں رسم ادا کرنے کے لئے نہیں بلکہ ”پورے دل سے“ دُعا کرنی چاہئے
[صفحہ ۱۴ پر بکس/تصویر]
یسوع مسیح کا اہم کردار
یسوع مسیح کے اہم کردار کو سمجھنے کے لئے اُس کے کچھ القاب اور ناموں پر غور کریں۔
آمین۔—۲-کرنتھیوں ۱:۱۹، ۲۰؛ مکاشفہ ۳:۱۴۔
ابدیت کا باپ۔—یسعیاہ ۹:۶۔
ابنِآدم۔—متی ۸:۲۰۔
اچھا چرواہا۔—یوحنا ۱۰:۱۱۔
استاد۔—یوحنا ۱۳:۱۳۔
بادشاہ۔—مکاشفہ ۱۱:۱۵۔
پچھلا آدم۔—۱-کرنتھیوں ۱۵:۴۵۔
خدا کا برّہ۔—یوحنا ۱:۲۹۔
خدا کا بیٹا۔—یوحنا ۱:۳۴۔
خداوند۔—یوحنا ۱۳:۱۳۔
خدایِقادِر۔—یسعیاہ ۹:۶۔
درمیانی۔—۱-تیمتھیس ۲:۵۔
رسول۔—عبرانیوں ۳:۱۔
زندگی کا مالک۔—اعمال ۳:۱۵۔
سچا گواہ۔—مکاشفہ ۱:۵۔
سردارکاہن۔—عبرانیوں ۴:۱۴، ۱۵۔
سلامتی کا شاہزادہ۔—یسعیاہ ۹:۶۔
عجیب مشیر۔—یسعیاہ ۹:۶۔
عمانوایل۔—متی ۱:۲۳۔
کلام۔—یوحنا ۱:۱۔
کلیسیا کا سر۔—افسیوں ۵:۲۳۔
مسیح۔—متی ۱۶:۱۶؛ یوحنا ۱:۴۱۔
مقرب فرشتہ میکائیل۔—۱-تھسلنیکیوں ۴:۱۶؛ یہوداہ ۹۔
منجّی۔—لوقا ۲:۱۱۔
منصف۔—اعمال ۱۰:۴۲۔
ہادی۔—متی ۲۳:۱۰۔