ایسی شادیاں جنہیں خدا اور انسان احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں
”قانایِگلیلؔ میں ایک شادی ہوئی۔ . . . یسوؔع اور اس کے شاگردوں کی بھی اس شادی میں دعوت تھی۔“—یوحنا ۲:۱، ۲۔
۱. یوحنا ۲:۱-۱۱ سے ہم شادی کے سلسلے میں کیا جان سکتے ہیں؟
ایک ایسی شادی جو خدا کے احکام کے مطابق کی جائے بڑی خوشی کا موقع ہوتی ہے۔ یسوع، اُس کی ماں اور اُس کے شاگرد اِس بات سے اچھی طرح واقف تھے کیونکہ یسوع نے اپنا پہلا معجزہ شادی کے ایک موقعے پر دکھایا تھا۔ (یوحنا ۲:۱-۱۱) شاید آپ نے بھی یہوواہ کے گواہوں کی ایک شادی میں شرکت کی ہے۔ یا پھر شاید آپ خود شادی کرنا چاہتے ہیں یا اپنے کسی دوست کی شادی کو خوشیوں کا موقع بنانا چاہتے ہیں۔ خدا کے احکام پر عمل کرتے ہوئے شادی کو خوشیوں کا موقع کیسے بنایا جا سکتا ہے؟
۲. بائبل میں شادی کے بارے میں کونسی معلومات پائی جاتی ہے؟
۲ جب مرد اور عورت شادی کرنا چاہتے ہیں تو خدا کے کلام میں درج اصول اُن کے لئے بہت فائدہمند ہوتے ہیں۔ (۲-تیمتھیس ۳:۱۶، ۱۷) البتہ ہر ملک اور دَور میں شادی کی تقریب اور رسم فرق ہوتی ہے۔ اس لئے بائبل میں شادی کی تقریب کے بارے میں تفصیل سے ہدایت نہیں دی جاتی۔ مثال کے طور پر بنی اسرائیل کے زمانے میں شادی سے کوئی خاص رسمیں وابستہ نہیں تھیں اور نہ ہی نکاحنامے پر دستخط کرنے کی ضرورت پڑتی تھی۔ دُلہا اپنی دُلہن کو اپنے باپ کے گھر یا پھر اپنے گھر لے آتا تھا اور یوں وہ اُس کی بیوی بن جاتی تھی۔—پیدایش ۲۴:۶۷؛ یسعیاہ ۶۱:۱۰؛ متی ۱:۲۴۔
۳. قانایِگلیلؔ میں یسوع کس قسم کی تقریب پر شریک ہوا؟
۳ اسرائیلیوں کی نظر میں جب دُلہا اپنی دُلہن کو اپنے گھر لے آتا تو شادی قانونی حیثیت اختیار کر لیتی تھی۔ اس کے بعد دُلہا دُلہن اکثر ایک ضیافت کا اہتمام بھی کرتے تھے۔ یوحنا ۲:۱ میں ہم پڑھتے ہیں کہ ”قانایِگلیلؔ میں ایک شادی ہوئی۔“ اس آیت میں جس لفظ کا ترجمہ ”شادی“ سے کِیا گیا ہے اس کا مطلب ”شادی کی ضیافت“ یا ’شادی کا جشن‘ بھی ہے۔a (متی ۲۲:۲-۱۰؛ ۲۵:۱۰؛ لوقا ۱۴:۸) اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یسوع مسیح قانایِگلیل میں شادی کی ایک ضیافت میں شامل ہوا تھا۔ البتہ ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ یسوع مسیح کے زمانے میں شادی کی تقریب آج کی شادیوں سے بہت فرق تھی۔
۴. کئی مسیحی شادی کی تقریب کے سلسلے میں کونسا فیصلہ کرتے ہیں اور اس کی کیا وجہ ہے؟
۴ بہت سے ممالک میں جب لوگ شادی کرنا چاہتے ہیں تو اُن کو حکومت کی چند شرائط پر پورا اُترنا پڑتا ہے۔ ایسا کرنے کے بعد ہی سچے مسیحی شادی کر سکتے ہیں۔ البتہ وہ اپنی شادی کو قانونی حیثیت ضرور دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر کئی ملکوں میں ایک قاضی، رجسٹرار یا پھر ایک مذہبی رہنما جو نکاحخواں کی حیثیت رکھتا ہے، شادی کروا سکتا ہے۔ کئی مسیحی نکاحنامے پر دستخط کرنے کے علاوہ شادی کی کوئی اَور تقریب نہیں کرتے۔ نکاحنامے پر دستخط کرنے کی تقریب کے لئے شاید وہ اپنے چند دوستوں اور رشتہداروں کو مدعو کریں تاکہ وہ اس سادہ سی تقریب کے گواہ ہوں اور اُن کی خوشی میں شامل ہو سکیں۔ (یرمیاہ ۳۳:۱۱؛ یوحنا ۳:۲۹) ایسے بھی مسیحی ہیں جو اپنی شادی کے سلسلے میں ایک بڑی ضیافت نہیں دیتے چونکہ اس کی تیاریوں میں بہت وقت لگتا ہے اور خرچہ بھی زیادہ ہوتا ہے۔ اپنے فیصلے کے مطابق وہ چند دوستاحباب کو کھانے کی دعوت دینے کے علاوہ کوئی اَور انتظام نہیں کرتے۔ شادی کی تقریبات کے سلسلے میں ہمارا جو بھی نظریہ ہو ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ دوسرے پُختہ مسیحی اِس سے فرق نظریہ رکھ سکتے ہیں۔—رومیوں ۱۴:۳، ۴۔
۵. زیادہتر یہوواہ کے گواہ اپنی شادی پر ایک خاص تقریر پیش کرانے کا فیصلہ کیوں کرتے ہیں اور یہ تقریر کس چیز پر مبنی ہے؟
۵ زیادہتر یہوواہ کے گواہ اپنی شادی پر ایک ایسی تقریر پیش کرانے کا فیصلہ کرتے ہیں جو خدا کے کلام پر مبنی ہوتی ہے۔b سچے مسیحی جانتے ہیں کہ یہوواہ خدا ہی نے شادی کی بنیاد ڈالی ہے اور اُس کے کلام میں شادی کو خوشحال بنانے کے سلسلے میں عمدہ راہنمائی پائی جاتی ہے۔ (پیدایش ۲:۲۲-۲۴؛ مرقس ۱۰:۶-۹؛ افسیوں ۵:۲۲-۳۳) اس کے علاوہ زیادہتر یہوواہ کے گواہ خوشی کے اس موقعے پر اپنے مسیحی دوستوں اور رشتہداروں کو شامل کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ البتہ شادی کے سلسلے میں ہر مُلک میں مختلف قانونی شرائط اور رسمیں ہوتی ہیں۔ اس مضمون میں ان میں سے چند پر غور کِیا جائے گا۔ ہو سکتا ہے کہ یہ آپ کے مُلک میں پائی جانے والی شرائط اور رسموں سے بہت فرق ہوں۔ اس کے باوجود خدا کے کلام میں شادی کے سلسلے میں چند ایسے اصول ہیں جن پر تمام یہوواہ کے گواہوں کو غور کرنا چاہئے، چاہے وہ دُنیا کے کسی بھی گوشے میں رہتے ہوں۔
اپنی شادی کو قانونی حیثیت دیں
۶، ۷. ہمیں اپنی شادی کو قانونی حیثیت کیوں دینی چاہئے اور ہم ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟
۶ یہوواہ خدا ہی نے شادی کی بنیاد ڈالی۔ البتہ اُس نے شادی کے سلسلے میں حکومتوں کو شرائط عائد کرنے کا حق دیا ہے۔ یسوع نے کہا تھا کہ ”جو قیصرؔ کا ہے قیصرؔ کو اور جو خدا کا ہے خدا کو ادا کرو۔“ (مرقس ۱۲:۱۷) اسی طرح پولس رسول نے بھی تاکید کی کہ ”ہر شخص اعلےٰ حکومتوں کا تابعدار رہے کیونکہ کوئی حکومت ایسی نہیں جو خدا کی طرف سے نہ ہو اور جو حکومتیں موجود ہیں وہ خدا کی طرف سے مقرر ہیں۔“—رومیوں ۱۳:۱؛ ططس ۳:۱۔
۷ جب دو مسیحی خدا کی نظروں میں شادی کرنے کی اجازت رکھتے ہیں تو وہ اپنے مُلک میں عائد قوانین پر پورا اُترتے ہوئے شادی کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر اپنے مُلک کے قانون کے مطابق وہ شادی کا اجازتنامہ حاصل کریں گے، نکاحخواں کو بلائیں گے یا پھر نکاحنامے پر دستخط کریں گے۔ جب قیصر اَوگوستُس نے ”اسمنویسی“ کے سلسلے میں حکم جاری کِیا کہ لوگوں کے نام لکھے جائیں تو یوسف اور مریم اپنا ”نام لکھوانے کے لئے“ شہر بیتلحم کو گئے۔—لوقا ۲:۱-۵۔
۸. یہوواہ کے گواہ شادی کے سلسلے میں کونسے کاموں سے کنارہ کرتے ہیں، اور کیوں؟
۸ جب یہوواہ کے گواہ اپنی شادی کو قانونی حیثیت دیتے ہیں تو اُن کا بندھن خدا کی نظر میں جائز بن جاتا ہے۔ اِس لئے وہ ایک ہی بار اپنی شادی کو قانونی حیثیت دیتے ہیں۔ اسی طرح سچے مسیحی شادی کا عہدوپیمان بھی بار بار نہیں کرتے، مثلاً وہ شادی کی پچیسویں یا پھر پچاسویں سالگرہ کے موقعے پر اس عہدوپیمان کو نہیں دُہراتے۔ (متی ۵:۳۷) (کئی چرچوں میں شادی کو اُس وقت تک جائز نہیں قرار دیا جاتا جب تک کہ پادری خود دُلہا دُلہن کا نکاح نہ پڑھوائے۔ ان چرچوں میں رجسٹرار یا قبیلے کے سردار کے ذریعے کئے گئے نکاح کو تسلیم نہیں کِیا جاتا۔) کئی حکومتیں یہوواہ کے گواہوں کے بزرگوں میں سے بھی بعض کو نکاحخواں کا درجہ دیتی ہیں۔ جب نکاحخواں ایک یہوواہ کا گواہ ہوتا ہے تو وہ کنگڈم ہال میں شادی کی تقریر کے وقت ہی نکاحنامے پر دستخط کرائے گا۔ شادی کی تقریر کو کنگڈم ہال ہی میں پیش کِیا جانا چاہئے کیونکہ سچے مسیحی یہاں پر یہوواہ خدا کی عبادت کرتے ہیں جس نے شادی کی بنیاد ڈالی ہے۔
۹. (ا) سرکاری دفتر میں شادی کرنے کے بعد یہوواہ کے گواہ کیا کرنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں؟ (ب) کلیسیا کے بزرگ شادی کی تیاریوں میں دُلہا دُلہن کی راہنمائی کس طرح کر سکتے ہیں؟
۹ کئی ممالک میں شادی کو ایک سرکاری دفتر ہی میں یا پھر ایک رجسٹرار ہی کے ذریعے قانونی شکل دی جا سکتی ہے۔ ایسے ممالک میں سرکاری دفتر میں نکاحنامے پر دستخط کرنے کے بعد یہوواہ کے گواہ کنگڈم ہال میں شادی کی تقریر پیش کرانے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ البتہ ایسا اُسی دن یا پھر اُس کے اگلے دن ہی کِیا جانا چاہئے۔ (جب دو یہوواہ کے گواہ سرکاری دفتر میں شادی کرتے ہیں تو اُن کی شادی خدا اور کلیسیا کی نظروں میں جائز ہو جاتی ہے۔ اس لئے کنگڈم ہال میں اُن کی شادی کی تقریر بہت دنوں بعد نہیں پیش کی جانی چاہئے۔) اگر ایک جوڑا سرکاری دفتر میں شادی کرنے کے بعد ایک کنگڈم ہال میں شادی کی تقریر پیش کرانا چاہتا ہے تو اسے پہلے ہی سے اُس کلیسیا کی خدمتی کمیٹی سے اجازت لے لینی چاہئے۔ خدمتی کمیٹی میں شامل بزرگ یہ دیکھیں گے کہ دُلہا دُلہن کا چالچلن مسیحی معیاروں کے مطابق رہا ہے یا نہیں۔ وہ یہ بھی دیکھیں گے کہ شادی کی تقریر اُس وقت نہ پیش کی جائے جب کنگڈم ہال میں اجلاس منعقد کئے جاتے ہیں یا پھر عبادت کے سلسلے میں کوئی اَور بندوبست کِیا گیا ہو۔ (۱-کرنتھیوں ۱۴:۳۳، ۴۰) وہ ہال کی سجاوٹ کے سلسلے میں بھی دُلہا دُلہن سے بات کریں گے تاکہ یہ مسیحیوں کے لئے مناسب ہو۔ اس کے علاوہ وہ اس بات کا بھی فیصلہ کریں گے کہ آیا کلیسیا میں شادی کی تقریر کا اعلان کِیا جائے یا نہیں۔
۱۰. اگر حکومت کی طرف سے سرکاری دفتر ہی میں شادی کو قانونی شکل دی جا سکتی ہے تو شادی کی تقریر پر اس کا کیا اثر ہوگا؟
۱۰ شادی کی تقریر پیش کرنے والا بزرگ تقریر میں بڑی نرمی اور شائستگی سے دُلہا دُلہن کی حوصلہافزائی کرے گا۔ اگر دُلہا دُلہن سرکاری دفتر میں شادی کو قانونی حیثیت دے چکے ہیں تو بزرگ تقریر میں اس کا ذکر ضرور کرے گا۔ اگر دفتر میں شادی کا عہدوپیمان نہیں کِیا گیا تو دُلہا دُلہن تقریر کے دوران ایسا کر سکتے ہیں۔c اور اگر دُلہا دُلہن نے سرکاری دفتر میں شادی کا عہدوپیمان کر لیا ہے تو وہ تقریر کے دوران خدا اور کلیسیا کے سامنے اسے دوبارہ سے دُہرانے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ البتہ تب اُنہیں عہدوپیمان دُہرانے سے پہلے یہ کہنا چاہئے کہ ”مَیں یہ عہدوپیمان کر چکا ہوں کہ. . .۔“ اس طرح وہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ پہلے سے ہی ’جوڑے جا چکے ہیں۔‘—متی ۱۹:۶؛ ۲۲:۲۱۔
۱۱. کئی ممالک میں شادی کیسے کی جاتی ہے اور اس کا شادی کی تقریر پر کیا اثر ہوگا؟
۱۱ کئی حکومتیں شادی کے لئے کسی قسم کی رسمیں نہیں مقرر کرتیں۔ ایسے ممالک میں دُلہا دُلہن نکاحنامے پر دستخط کرکے اسے ایک رجسٹرار کو پیش کرتے ہیں جو نکاحنامے کی رجسٹری کر دیتا ہے۔ اسی وقت اُن کی شادی جائز ہو جاتی ہے۔ جیسا کہ پہلے بھی ذکر کِیا گیا ہے اگر دُلہا دُلہن شادی کی تقریر پیش کرانا چاہتے ہیں تو اسے نکاحنامے کی رجسٹری کے فوراً بعد کنگڈم ہال میں پیش کِیا جانا چاہئے۔ تقریر پیش کرتے وقت مقرر اس بات کا ذکر کرے گا کہ دُلہا دُلہن نکاحنامے کی رجسٹری کر آئے ہیں۔ اگر دُلہا دُلہن شادی کا عہدوپیمان لینا چاہتے ہیں تو پیراگراف ۱۰ اور اُس کے فٹنوٹ میں دی گئی ہدایت کو مدِّنظر رکھتے ہوئے وہ ایسا کر سکتے ہیں۔ کنگڈم ہال میں شادی کی تقریر کو سننے والے تمام لوگ دُلہا دُلہن کی خوشی میں شریک ہوں گے اور تقریر میں دی گئی نصیحت سے فائدہ حاصل کریں گے۔—غزلالغزلات ۳:۱۱۔
قبائیلی رسم کے مطابق شادی
۱۲. کئی ممالک میں کس قسم کی شادیاں قانونی حیثیت رکھتی ہیں؟ اور جو جوڑے ایسی شادی کرتے ہیں اُنہیں بزرگ کیا کروانے کی ہدایت دیتے ہیں؟
۱۲ اُس شادی کے بندھن کے بارے میں کیا کہا جا سکتا ہے جو ایک قبیلے کی رسموں کے مطابق جوڑا جاتا ہے؟ ایسی شادیوں میں دُلہا اپنی دُلہن کے والدین کو ایک مقررہ رقم ادا کرتا ہے جس سے شادی خدا اور قانون کی نظروں میں جائز ٹھہرائی جاتی ہے۔ کئی ممالک میں قبائیلی رسم کے مطابق کی جانے والی شادیاں قانونی حیثیت رکھتی ہیں۔ اِن ممالک میں دُلہا دُلہن ان رسموں کو ادا کرنے کے علاوہ بھی اپنی شادی کو رجسٹر کرا سکتے ہیں۔ ایسی شادی کو رجسٹر کرانے سے ایک جوڑے اور اُن کے آئندہ ہونے والے بچوں کو فائدہ ہو سکتا ہے، خاص طور پر اگر شوہر فوت ہو جائے۔ کلیسیا کے بزرگ ایسے جوڑوں کو جو قبائیلی رسم کے مطابق شادی کرتے ہیں، اُنہیں اپنی شادی جلد سے جلد رجسٹر کروانے کی ہدایت دیتے ہیں۔ جب بنی اسرائیل شریعت کے تحت تھے تو شادی کرنے والے جوڑے اپنے نام لکھواتے تھے اور جب اُن کے بچے پیدا ہوتے تو وہ اُن کے نام بھی رجسٹر کراتے تھے۔—متی ۱:۱-۱۶۔
۱۳. قبائیلی رسم کے مطابق شادی کرنے کے بعد کنگڈم ہال میں شادی کی تقریر پیش کرانا کیوں مناسب ہے؟
۱۳ دُلہا دُلہن جونہی قبیلے کی رسموں پر پورا اُترتے ہیں، اُن کی شادی جائز ہو جاتی ہے۔ لیکن اگر یہوواہ کے گواہ اس کے علاوہ بھی کنگڈم ہال میں شادی کی تقریر پیش کرانا اور شادی کا عہدوپیمان لینا چاہتے ہیں تو وہ ایسا کر سکتے ہیں۔ تقریر کے دوران مقرر اس بات کا ذکر ضرور کرے گا کہ دُلہا دُلہن کی شادی قبائیلی رسم کے مطابق ہو چکی ہے یعنی وہ اپنی شادی کو قانونی حیثیت دے چکے ہیں۔ ایک جوڑے کی شادی کے سلسلے میں کنگڈم ہال میں صرف ایک ہی تقریر پیش کی جائے گی۔ بہتر یہی ہوگا کہ جس دن دُلہا دُلہن قبائیلی رسم کے مطابق شادی کرتے ہیں اُسی دن کنگڈم ہال میں شادی کی تقریر بھی پیش کی جائے تاکہ لوگ جان جائیں کہ شادی مسیحی لحاظ سے بھی جائز ہے۔
۱۴. اگر ایک حکومت قبائیلی رسم کے مطابق شادی کرنے کے علاوہ رجسٹرار کی موجودگی میں شادی کرنے کی بھی اجازت دیتی ہے تو سچے مسیحی کیا کر سکتے ہیں؟
۱۴ کئی ممالک میں حکومت لوگوں کو قبائیلی رسم کے مطابق شادی کرنے کے علاوہ رجسٹرار کی موجودگی میں شادی کرنے کی بھی اجازت دیتی ہے۔ ایک ایسی شادی میں عہدوپیمان کرنا اور نکاحنامہ پر دستخط کرنا بھی شامل ہو سکتا ہے۔ ایسے ممالک میں بعض یہوواہ کے گواہ رجسٹرار کی موجودگی میں شادی کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس صورتحال میں اُنہیں قبائیلی رسم کے مطابق شادی کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ چُونکہ حکومت دونوں قسم کی شادیوں کو قانونی قرار دیتی ہے اس لئے دُلہا دُلہن ان میں سے ایک کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ البتہ ایسی صورتحال میں بھی دُلہا دُلہن پیراگراف ۹ اور ۱۰ میں شادی کی تقریر اور شادی کے عہدوپیمان کے بارے میں دی گئی ہدایات پر عمل کریں گے۔ دُلہا دُلہن جس طریقے سے بھی شادی کرنے کا انتخاب کرتے ہیں سب سے اہم بات یہ ہے کہ انسان کے علاوہ خدا بھی اُن کی شادی کو احترام کی نظر سے دیکھے۔—لوقا ۲۰:۲۵؛ ۱-پطرس ۲:۱۳، ۱۴۔
شادی میں احترام کی اہمیت
۱۵، ۱۶. شادی کے سلسلے میں احترام کا کیا کردار ہے؟
۱۵ فارس کے بادشاہ کی شادی میں ایک مسئلہ کھڑا ہو گیا تھا۔ اس پر بادشاہ کے مشیر مموکان نے اُسے ایک ایسا کام کرنے کا مشورہ دیا جس کے نتیجے میں مُلک کی ’سب بیویاں اپنے اپنے شوہر کی عزت کرنے لگتیں۔‘ (آستر ۱:۲۰) مسیحی جوڑوں کو ایک دوسرے کی عزت کرنے کے سلسلے میں کسی بادشاہ کے حکم کی ضرورت نہیں پڑتی۔ مسیحی بیویاں خوشی سے اپنے شوہر کی عزت کرتی ہیں۔ اسی طرح مسیحی شوہر اپنی بیوی کی عزت کرتے ہیں اور اُس کی تعریف بھی کرتے ہیں۔ (امثال ۳۱:۱۱، ۳۰؛ ۱-پطرس ۳:۷) مسیحی میاں بیوی شادی کے پہلے دن سے ہی ایک دوسرے کی عزت کرنے کی بنیاد ڈالتے ہیں۔
۱۶ دُلہا دُلہن شادی کے دِن ہی نہیں بلکہ ہمیشہ تک ایک دوسرے کی عزت کریں گے۔ شادی کی تقریر پیش کرنے والا مسیحی بزرگ بھی اپنی تقریر میں دُلہا دُلہن کا احترام کرتا ہے۔ وہ تقریر دیتے وقت اُن سے مخاطب ہوگا۔ وہ تقریر میں ہنسیمذاق نہیں کرے گا اور نہ ہی اس میں کہاوتیں شامل کرے گا۔ وہ دُلہا دُلہن کے بارے میں ایسی باتوں کا ذکر بھی نہیں کرے گا جن سے وہ دونوں یا پھر دوسرے حاضرین شرمانے لگیں۔ اس کی بجائے مقرر اپنی تقریر میں شادی کے بانی یہوواہ خدا کے خیالات اور اصولوں کو پیش کرے گا اور بڑی شائستگی اور نرمی سے دُلہا دُلہن کی حوصلہافزائی کرے گا۔ اس طرح شادی کی تقریر کے ذریعے ایک ایسی شادی کی بنیاد ڈالی جائے گی جس سے یہوواہ خدا کی بڑائی ہوگی۔
۱۷. سچے مسیحی اپنی شادی کو قانونی حیثیت کیوں دیتے ہیں؟
۱۷ اس مضمون میں ہم نے شادی کو قانونی شکل دینے کے سلسلے میں بہت سی مختلف باتوں کا ذکر کِیا ہے۔ ان میں سے بعض باتیں آپ کے مُلک میں شاید عائد نہ ہوں۔ بہرحال، چاہے وہ دُنیا کے کسی بھی مُلک کے باشندے ہوں یہوواہ کے گواہ شادی کے سلسلے میں قیصر یعنی حکومت کے قانون پر پورا اُترتے ہیں۔ (لوقا ۲۰:۲۵) پولس رسول نے مسیحیوں کو یوں تاکید کی: ”سب کا حق ادا کرو۔ جس کو خراج چاہئے خراج دو۔ جس کو محصول چاہئے محصول۔ . . . جس کی عزت کرنا چاہئے اُس کی عزت کرو۔“ (رومیوں ۱۳:۷) جیہاں، حکومتیں یہوواہ خدا کی طرف سے قوانین عائد کرنے کا حق رکھتی ہیں۔ سچے مسیحی شادی کی تقریب ہی سے یہوواہ خدا کے اس بندوبست کا احترام کرنا چاہتے ہیں۔
۱۸. شادی کی رسمیں ادا کرنے کے بعد بہت سے یہوواہ کے گواہ کس چیز کا انتظام کرتے ہیں؟ اس سلسلے میں ہم مزید معلومات کہاں سے حاصل کر سکتے ہیں؟
۱۸ بہت سے یہوواہ کے گواہ شادی کی رسمیں ادا کرنے کے بعد ایک ضیافت کا انتظام کرتے ہیں۔ آپ کو یاد ہوگا کہ یسوع مسیح بھی ایک ایسی ضیافت پر حاضر ہوا تھا۔ شادی کی ضیافت ایسی ہونی چاہئے کہ یہوواہ خدا، کلیسیا اور دُلہا دُلہن کی نیکنامی ہو۔ اِس سلسلے میں دُلہا دُلہن بائبل کے کن اصولوں پر عمل کر سکتے ہیں؟ اس موضوع پر اگلے مضمون میں بات کی جائے گی۔d
[فٹنوٹ]
a بائبل میں یہ لفظ شادی کی ضیافت کے علاوہ دوسری ضیافتوں کے لئے بھی استعمال ہوا ہے۔—آستر ۹:۲۲۔
b اس تقریر کا عنوان ”خدا کی نظر میں قابلِاحترام شادی“ ہے۔ اس کا مواد کتاب خاندانی خوشی کا راز کے علاوہ یہوواہ کے گواہوں کی شائعکردہ دوسری کتابوں اور رسالوں سے لیا گیا ہے۔ یہ تقریر نہ صرف دُلہا دُلہن کے لئے فائدہمند ہے بلکہ اُن تمام لوگوں کے لئے بھی جو شادی پر حاضر ہیں۔
c اگر حکومت کی طرف سے کوئی اَور عہدوپیمان مقرر نہ ہو تو یہوواہ کے گواہ شادی کا یہ عہدوپیمان کریں گے: دُلہے کا عہدوپیمان: ”مَیں [دُلہے کا نام] آپ [دُلہن کا نام] کو جب تک ہم دونوں زندہ ہیں اُس وقت تک خدا کے بندوبست کے مطابق اپنی بیوی کے طور پر قبول کرتا ہوں۔ بائبل میں مسیحی شوہروں کے لئے جو فرائض درج ہیں ان کے مطابق مَیں وعدہ کرتا ہوں کہ مَیں آپ سے پیارومحبت سے پیش آؤں گا۔“ دُلہن کا عہدوپیمان: ”مَیں [دُلہن کا نام] آپ [دُلہے کا نام] کو جب تک ہم دونوں زندہ ہیں اُس وقت تک خدا کے بندوبست کے مطابق اپنے شوہر کے طور پر قبول کرتی ہوں۔ بائبل میں مسیحی بیویوں کے لئے جو فرائض درج ہیں ان کے مطابق مَیں وعدہ کرتی ہوں کہ مَیں آپ سے پیارومحبت سے پیش آؤں گی اور آپ کا دلی احترام کروں گی۔“
d صفحہ ۱۴ پر مضمون ”شادی کی تقریب—ابدی خوشی کی بنیاد“ کو بھی دیکھیں۔
کیا آپ کو یاد ہے؟
• یہوواہ کے گواہ شادی کے سلسلے میں یہوواہ خدا اور حکومت کے تقاضوں پر کیوں پورا اُترتے ہیں؟
• سرکاری دفتر میں اپنی شادی کو قانونی حیثیت دینے کے بعد مسیحی دُلہا دُلہن کیا پیش کرانے کا فیصلہ کر سکتے ہیں؟
• شادی کی تقریر کو کنگڈم ہال میں کیوں پیش کِیا جانا چاہئے؟
[صفحہ ۴ پر تصویر]
بنیاسرائیل کے زمانے میں دُلہا اپنی دُلہن کو اپنے باپ کے گھر یا پھر اپنے گھر لے آتا اور یوں وہ اُس کی بیوی بن جاتی تھی
[صفحہ ۷ پر تصویر]
قبائیلی رسم کے مطابق شادی کرنے کے بعد مسیحی کنگڈم ہال میں شادی کی تقریر پیش کرا سکتے ہیں