”ہر شخص اپنا ہی بوجھ اٹھائے گا“
”ہم میں سے ہر ایک خدا کو اپنا حساب دے گا۔“—رومیوں ۱۴:۱۲۔
۱. تین یہودی کس ذمہداری پر پورا اُترے تھے؟
سدرک، میسک اور عبدنجو نامی تین یہودیوں پر فیصلہ کی گھڑی آن پہنچی تھی۔ بادشاہ نے حکم دیا تھا کہ وہ سونے کی مورت کو سجدہ کریں۔ اگر وہ ایسا کرنے سے انکار کرتے تو اُنہیں آگ کی جلتی بھٹی میں ڈال دیا جاتا۔ اس معاملے میں فیصلہ کرنے کے لئے ان تینوں کو کسی سے مشورہ لینے کی ضرورت نہیں تھی۔ اُنہوں نے بڑی دلیری سے کہا: ”اَے بادشاہ تجھے معلوم ہو کہ ہم تیرے معبودوں کی عبادت نہیں کریں گے اور اُس سونے کی مورت کو جو تُو نے نصب کی ہے سجدہ نہیں کریں گے۔“ (دانیایل ۳:۱-۱۸) جیہاں، ان تین یہودیوں کو معلوم تھا کہ اس معاملے میں فیصلہ کرنا اُن کی اپنی ذمہداری ہے اور وہ اس ذمہداری پر پورا اُترے تھے۔
۲. یسوع پر فیصلہ کس نے کِیا تھا؟ اس کے باوجود پیلاطُس کو اس فیصلہ کا جوابدہ کیوں ٹھہرایا گیا؟
۲ اس واقعے کے تقریباً ۶۰۰ سال بعد لوگوں کی بِھیڑ یسوع کا خون چاہتی تھی۔ لیکن پیلاطُس جانتا تھا کہ یسوع بےقصور ہے۔ اُس نے یسوع کو چھڑانے کی کوشش کی لیکن لوگوں نے اُس کی ایک نہ سنی۔ آخرکار پیلاطُس نے پانی لیکر لوگوں کے سامنے اپنے ہاتھ دھوئے اور کہا ”مَیں اِس راستباز کے خون سے بری ہوں۔“ پھر اُس نے حکم دیا کہ یسوع کو مصلوب کِیا جائے۔ یسوع کی زندگی اور موت کا فیصلہ کرنا پیلاطُس کی ذمہداری تھی۔ لیکن اُس نے یہ فیصلہ بِھیڑ کو کرنے دیا۔ پیلاطُس نے اپنی ذمہداری کو ٹالنے کی کوشش کی لیکن اس فیصلہ کے لئے وہ ہی جوابدہ ٹھہرایا گیا۔—متی ۲۷:۱۱-۲۶؛ لوقا ۲۳:۱۳-۲۵۔
۳. دوسروں کو ہمارے لئے فیصلہ کیوں نہیں کرنا چاہئے؟
۳ جب آپ کو کسی معاملے کے بارے میں فیصلہ کرنا ہوتا ہے تو کیا آپ اُن تین یہودیوں کی طرح خود فیصلہ کرتے ہیں یا پھر پیلاطُس کی طرح اپنی ذمہداری کو ٹال دیتے ہیں؟ یہ سچ ہے کہ اچھے فیصلے کرنا آسان نہیں ہوتا۔ ایسا کرنے کے لئے تجربہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر والدین کو اپنے بچوں کی پرورش کرتے وقت اچھے فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔ اور کئی معاملے اتنے پیچیدہ ہوتے ہیں کہ ان کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لئے خوب سوچسمجھ کر کام لینا پڑتا ہے۔ لیکن فیصلہ کرنے کی ذمہداری اُس ”بار“ میں نہیں پڑتی جسے اُٹھانے میں روحانی طور پر پُختہ مسیحی ہماری مدد کر سکتے ہیں۔ (گلتیوں ۶:۱، ۲) بلکہ یہ ذمہداری ایک ایسا بوجھ ہے جس کے بارے میں ”ہم میں سے ہر ایک خدا کو اپنا حساب دے گا۔“ (رومیوں ۱۴:۱۲) بائبل میں لکھا ہے کہ ”ہر شخص اپنا ہی بوجھ اٹھائے گا۔“ (گلتیوں ۶:۵) اِس کا مطلب ہے کہ فیصلہ کرنے کی ذمہداری ہر ایک پر پڑتی ہے۔ تو پھر ہم اچھے فیصلے کیسے کر سکتے ہیں؟ اس سوال کا جواب دینے سے پہلے آئیے ہم اس بات پر غور کرتے ہیں کہ انسان کو اچھے فیصلے کرنا اتنا مشکل کیوں لگتا ہے اور وہ اس مشکل پر کیسے غالب آ سکتا ہے۔
صحیح علم پر عمل کریں
۴. آدم اور حوا کی مثال سے ہم کونسا سبق سیکھ سکتے ہیں؟
۴ انسانی تاریخ کے آغاز میں ایک غلط فیصلے کی وجہ سے تمام انسانوں کے لئے بہت بُرا انجام نکلا۔ یہ اُس وقت کی بات ہے جب آدم اور حوا نے نیکوبد کی پہچان کے درخت سے کھانے کا فیصلہ کِیا تھا۔ (پیدایش ۲:۱۶، ۱۷) اُنہوں نے ایسا کرنے کا فیصلہ کیوں کِیا؟ اس سلسلے میں بائبل میں لکھا ہے: ”عورت نے جو دیکھا کہ وہ درخت کھانے کے لئے اچھا اور آنکھوں کو خوشنما معلوم ہوتا ہے اور عقل بخشنے کے لئے خوب ہے تو اُس کے پھل میں سے لیا اور کھایا اور اپنے شوہر کو بھی دیا اور اُس نے کھایا۔“ (پیدایش ۳:۶) حوا نے لالچ میں آ کر اپنی منمانی کی۔ آدم نے بھی ایسا کِیا اور یوں گُناہ اور موت ”سب آدمیوں میں پھیل گئی۔“ (رومیوں ۵:۱۲) آدم اور حوا کی مثال سے ہم یہ سبق سیکھتے ہیں کہ انسان خدا کی راہنمائی پر عمل کرنے کے بغیر اچھے فیصلے نہیں کر سکتا ہے۔
۵. یہوواہ خدا ہمارے لئے راہنمائی کیسے فراہم کرتا ہے اور اس راہنمائی سے فائدہ حاصل کرنے کے لئے ہمیں کیا کرنا چاہئے؟
۵ ہم یہوواہ خدا کے کتنے شکرگزار ہیں کہ اُس نے ہمیں راہنمائی فراہم کی ہے۔ بائبل میں لکھا ہے کہ ”جب تُو دہنی یا بائیں طرف مڑے تو تیرے کان تیرے پیچھے سے یہ آواز سنیں گے کہ راہ یہی ہے اس پر چل۔“ (یسعیاہ ۳۰:۲۱) یہوواہ خدا اپنے کلام کے ذریعے ہماری راہنمائی کرتا ہے۔ اچھے فیصلے کرنے کے لئے ہمیں اُس کے کلام کا مطالعہ کرنا چاہئے۔ ہمیں ”سخت غذا [جو] پوری عمر والوں کے لئے ہوتی ہے“ پر غور کرنا چاہئے۔ اس کے علاوہ ہمیں ”نیکوبد میں امتیاز کرنے کے لئے“ اپنے ”حواس“ کو تیز کرنے چاہئیں۔ (عبرانیوں ۵:۱۴) ایسا کرنے کے لئے ہمیں اُن باتوں پر عمل کرنا ہوگا جو ہم خدا کے کلام میں سے سیکھتے ہیں۔
۶. ہمارا ضمیر ہمیں صحیح راہ پر چلنے کی راہنمائی کیسے کر سکتا ہے؟
۶ ہمارا ضمیر ہمیں اچھے فیصلے کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ انسان کا ضمیر اُسے جانچتا ہے اور پھر یا تو اُس پر ’الزام لگاتا‘ ہے یا پھر اُسے ’معذور رکھتا‘ یعنی معاف کرتا ہے۔ (رومیوں ۲:۱۴، ۱۵) لیکن ہمارا ضمیر تب ہی ہمیں صحیح راہ پر چلنے کی راہنمائی کر سکتا ہے جب ہم خدا کے کلام پر غور کرتے اور پھر سیکھی ہوئی باتوں پر عمل کرتے ہیں۔ اگر ہم ایسا نہیں کرتے تو ہمارے علاقے کی روایتیں، رسمورواج یا پھر لوگوں کی رائے ہمارے ضمیر پر اثر کر سکتی ہے اور ہم اچھے فیصلے نہیں کر پاتے۔ جب ایک شخص اپنے ضمیر کی آواز کو بار بار نظرانداز کرکے خدا کے حکموں کی خلافورزی کرتا ہے تو اُس کا ضمیر اُسے ٹوکنا بند کر دیتا ہے۔ یہ بالکل ایسا ہوتا ہے جیسے ضمیر کو بار بار ”گرم لوہے سے داغا گیا“ ہو اور اس زخم کا جو داغ رہتا ہے اُس میں محسوس کرنے کی گنجائش نہیں رہتی۔ (۱-تیمتھیس ۴:۲) لیکن اگر ہم اپنے ضمیر کو خدا کے کلام کے ذریعے تیز کرتے رہیں گے تو ہم اُس کی راہنمائی پر بھروسہ کر سکیں گے۔
۷. اچھے فیصلے کرنے کی ذمہداری پر پورا اُترنے کے لئے کونسی بات ضروری ہے؟
۷ اچھے فیصلے کرنے کی ذمہداری پر پورا اُترنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم بائبل کی سچائیوں کو اچھی طرح سے سمجھیں اور پھر ان پر عمل بھی کریں۔ ہمیں ایک معاملے کے بارے میں فیصلہ کرتے وقت جلدبازی نہیں کرنی چاہئے بلکہ خدا کے کلام میں سے ایسے اصول تلاش کرنے چاہئیں جو اس معاملے پر لاگو ہوتے ہیں۔ پھر ہمیں ان اصولوں کو کام میں لا کر فیصلہ کرنا چاہئے۔ اس طرح ہم خدا کے کلام کے ذریعے اپنے ضمیر کو تیز کرتے ہیں۔ پھر ہم اُس وقت بھی اچھے فیصلے کر پائیں گے جب ہمیں کسی صورتحال میں فوراً فیصلہ کرنا پڑے جس طرح سدرک، میسک اور عبدنجو کو کرنا پڑا تھا۔ جس حد تک بائبل کے اصولوں کے بارے میں ہماری سمجھ بڑھتی جائے گی اُسی حد تک ہم اچھے فیصلے بھی کر پائیں گے۔ آئیے ہم اس سلسلے میں دو مثالوں پر غور کرتے ہیں۔
مسیحیوں کے لئے مناسب صحبتیں
۸، ۹. (ا) بائبل کے کونسے اصولوں پر عمل کرنے سے ہم بُری صحبت میں پڑنے سے بچ سکتے ہیں؟ (ب) بُری صحبتوں میں کیا کچھ شامل ہے؟ اس کی وضاحت کیجئے۔
۸ پولس رسول نے لکھا: ”فریب نہ کھاؤ۔ بُری صحبتیں اچھی عادتوں کو بگاڑ دیتی ہیں۔“ (۱-کرنتھیوں ۱۵:۳۳) یسوع مسیح نے اپنے شاگردوں سے کہا کہ ’تُم دُنیا کے نہیں ہو۔‘ (یوحنا ۱۵:۱۹) ان اصولوں کو جاننے کے بعد ہم سمجھ جاتے ہیں کہ ہمیں ایسے لوگوں سے کنارہ کرنا چاہئے جو حرامکار، زِناکار، چور یا شرابی وغیرہ ہوں۔ (۱-کرنتھیوں ۶:۹، ۱۰) جوں جوں بائبل کے بارے میں ہمارا علم بڑھتا ہے ہم یہ بھی سمجھ جاتے ہیں کہ بدکار لوگ ہم پر تب بھی اثر کر سکتے ہیں جب ہم ٹیلیویژن، ویڈیو یا کمپیوٹر پر ان کے بارے میں فلمیں دیکھتے یا پھر کتابوں میں ان کے بارے میں پڑھتے ہیں۔ اور جب ہم انٹرنیٹ پر چیٹ رومز کے ذریعے ایسے ’ریاکار‘ لوگوں سے باتچیت کرتے ہیں جو اپنی شناخت چھپاتے ہیں تو یہ بھی ہمارے لئے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔—زبور ۲۶:۴۔
۹ کیا ہمیں ایسے لوگوں کے ساتھ دوستی کرنی چاہئے جو بدکار تو نہیں ہیں لیکن یہوواہ خدا کی عبادت بھی نہیں کرتے؟ خدا کے کلام میں لکھا ہے کہ ”ساری دُنیا اُس شریر کے قبضہ میں پڑی ہوئی ہے۔“ (۱-یوحنا ۵:۱۹) اس سے ہم جان لیتے ہیں کہ صرف بدکار لوگ ہی ہم پر بُرا اثر نہیں ڈالتے۔ اس لئے ہم صرف ایسے لوگوں سے گہری دوستیاں قائم کریں گے جو یہوواہ خدا سے محبت رکھتے ہیں۔
۱۰. دُنیا سے تعلقات بڑھانے کے سلسلے میں مسیحی اچھے فیصلے کیسے کر سکتے ہیں؟
۱۰ مسیحی اس دُنیا میں رہتے ہیں اس لئے اُنہیں ایک حد تک دُنیاوی لوگوں کے ساتھ تعلقات بڑھانے پڑتے ہیں۔ (یوحنا ۱۷:۱۵) مثال کے طور پر جب ہم تبلیغ کرتے یا سکول میں پڑھتے یا پھر ملازمت کرتے ہیں تو ہمارا واسطہ ایسے لوگوں سے پڑتا ہے جو یہوواہ خدا کی عبادت نہیں کرتے۔ یہ بات خاص طور پر اُن مسیحیوں کے بارے میں سچ ہے جن کا بیاہتا ساتھی یہوواہ کا گواہ نہیں ہے۔ لیکن ایسے مسیحی جنہوں نے اپنے حواس تیز کئے ہیں وہ جاتنے ہیں کہ دُنیا سے واسطہ پڑنے میں اور جانبوجھ کر دُنیا سے گہرے تعلقات قائم کرنے میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ (یعقوب ۴:۴) اس لئے جب اُنہیں اپنے ہم جماعتوں یا ساتھی کارکنوں کی طرف سے کسی ایسے فنکشن میں حصہ لینے کی دعوت دی جاتی ہے جس کا پڑھائی یا ملازمت سے تعلق نہ ہو تو وہ بائبل کے اصولوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے فیصلہ کریں گے۔
مسیحیوں کے لئے مناسب ملازمت
۱۱. ملازمت کے سلسلے میں اچھا فیصلہ کرنے کیلئے مسیحیوں کو خود سے کیا پوچھنا چاہئے؟
۱۱ بائبل میں مسیحیوں کو ملازمت کرنے سے ”اپنے گھرانے کی خبرگیری“ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ (۱-تیمتھیس ۵:۸) لیکن ملازمت کے سلسلے میں وہ اچھے فیصلے کیسے کر سکتے ہیں؟ کوئی بھی ملازمت قبول کرنے سے پہلے مسیحیوں کو خود سے پوچھنا چاہئے کہ کیا مجھے ایسے کام کرنے پڑیں گے جن سے بائبل منع کرتی ہے۔ مسیحی کوئی ایسی ملازمت نہیں اختیار کریں گے جس کا تعلق بُتپرستی، چوری یا خون کے غلط استعمال سے ہو۔ وہ نہ تو جھوٹ بولیں گے اور نہ ہی لوگوں کو دھوکہ دیں گے یہاں تک کہ اگر اُن کا آقا اُنہیں ایسا کرنے کو کہے بھی تو وہ ایسا نہیں کریں گے۔—اعمال ۱۵:۲۹؛ مکاشفہ ۲۱:۸۔
۱۲، ۱۳. ملازمت کے سلسلے میں اچھے فیصلے کرنے کے لئے مسیحیوں کو اَور کن باتوں پر غور کرنا چاہئے؟
۱۲ فرض کریں کہ ان باتوں پر عمل کرتے ہوئے ہم نے ایک ایسا پیشہ اختیار کر لیا ہے جو مسیحیوں کے لئے مناسب ہے۔ لیکن جوں جوں بائبل کے اصولوں کے بارے میں ہمارا علم بڑھتا جائے گا اور ہمارے ضمیر کی آواز تیز ہوتی جائے گی ہمیں دوسرے پہلوؤں پر بھی غور کرنا چاہئے۔ کیا اِس ملازمت میں ایسے عنصر پائے جاتے ہیں جن سے بائبل منع کرتی ہے؟ مثال کے طور پر کیا ایک مسیحی کو جوئے کے اڈے کے دفتر میں ملازمت کرنی چاہئے؟ ہمیں اس بات کا بھی اندازہ لگانا چاہئے کہ ہمیں کس شخص یا تنظیم سے تنخواہ ملے گی اور ہمیں یہ ملازمت کہاں کرنی پڑے گی۔ مثال کے طور پر اگر ہم ٹھیکےدار ہیں تو کیا ہم ایک گرجاگھر کو رنگ کرنے کا ٹھیکا لیں گے؟ کیا ایسا کرنے سے ہم جھوٹے مذہب کو فروغ نہیں دے رہے ہوں گے؟—۲-کرنتھیوں ۶:۱۴-۱۶۔
۱۳ ایسی صورتحال میں ہمیں کیا کرنا چاہئے جب ہم کسی ٹھیکےدار کے لئے کام کرتے ہوں اور وہ گرجاگھر یا مندر وغیرہ کو رنگ کرنے کا ٹھیکا لے لیتا ہے؟ شاید ہم اپنے آقا سے درخواست کر سکتے ہیں کہ وہ ہمیں کسی اَور ٹھیکے پر لگائے۔ ہمیں خود سے یہ بھی پوچھنا چاہئے کہ کیا ہمیں بار بار ایسے کام کرنے کو کہا جائے گا؟ ایک اَور مثال پر غور کیجئے۔ شاید ہمیں کام کے سلسلے میں شہر کے مختلف علاقوں میں جانا پڑتا ہے جیسے ڈاکیا کو جانا پڑتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ہمیں شہر کے ایسے علاقوں میں بھی جانا پڑے جہاں بُری حرکتوں کے دھندے ہوتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں ہم متی ۵:۴۵ میں دئے گئے اصول کو عمل میں لا سکتے ہیں۔ لیکن ہمیں یہ بھی سوچنا چاہئے کہ روزانہ ایسے علاقوں میں جانے سے ہم پر کیسا اثر پڑے گا۔ (عبرانیوں ۱۳:۱۸) ان چند مثالوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملازمت کے سلسلے میں اچھے فیصلے کرنے کے لئے ہمیں اپنے ضمیر کو تیز کرنا ہوگا۔
”اپنی سب راہوں میں اُس کو پہچان“
۱۴. کسی معاملے کے بارے میں فیصلہ کرنے سے پہلے ہمیں کیا کرنا چاہئے؟
۱۴ ان دو مثالوں کے علاوہ مسیحیوں کو بہت سے اَور معاملوں کے بارے میں بھی فیصلے کرنے ہوتے ہیں، مثلاً اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے یا پھر کسی بیماری کے علاج کے سلسلے میں، وغیرہ۔ کسی بھی معاملے کے بارے میں فیصلہ کرنے سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ اس پر بائبل کے کونسے اصول لاگو ہوتے ہیں۔ پھر ہمیں اپنی سمجھ سے کام لے کر ان اصولوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرنا چاہئے۔ اسرائیل کے بادشاہ سلیمان نے کہا تھا: ”سارے دل سے [یہوواہ] پر توکل کر اور اپنے فہم پر تکیہ نہ کر۔ اپنی سب راہوں میں اُس کو پہچان اور وہ تیری راہنمائی کرے گا۔“—امثال ۳:۵، ۶۔
۱۵. فیصلہ کرنے کے سلسلے میں ہم پہلی صدی کے مسیحیوں سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
۱۵ ہم ایک معاملے کے بارے میں جیسا بھی فیصلہ کرتے ہیں اس کا دوسروں پر اثر پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر موسیٰ کی شریعت میں یہودیوں کو بعض جانوروں کا گوشت کھانے سے منع کِیا گیا تھا۔ لیکن مسیحی، شریعت کے تحت نہیں تھے۔ اسلئے پہلی صدی کے مسیحی ایسا گوشت کھا سکتے تھے۔ اُس زمانے میں اکثر یوں ہوتا تھا کہ ایسا گوشت جو مندروں سے آتا بازار میں بیچا جاتا تھا۔ اس گوشت کے سلسلے میں پولس رسول نے لکھا کہ ”اگر [اِسے] کھانا میرے بھائی کو ٹھوکر کھلائے تو مَیں کبھی ہرگز گوشت نہ کھاؤنگا تاکہ اپنے بھائی کے لئے ٹھوکر کا سبب نہ بنوں۔“ (۱-کرنتھیوں ۸:۱۱-۱۳) پہلی صدی کے مسیحیوں کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ دوسروں کو ٹھوکر نہ کھلائیں۔ اسی طرح ہمیں بھی اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ ہمارا کوئی فیصلہ ہمارے مسیحی بہنبھائیوں کیلئے ”ٹھوکر کا باعث“ نہ بنے۔—۱-کرنتھیوں ۱۰:۲۹، ۳۲۔
فیصلہ کرنے سے پہلے دُعا کریں
۱۶. فیصلے کرنے سے پہلے دُعا کیوں کرنی چاہئے؟
۱۶ کسی معاملے کے بارے میں فیصلہ کرنے سے پہلے ہمیں اس کے بارے میں دُعا کرنی چاہئے۔ یعقوب ۱:۵ میں لکھا ہے کہ ”اگر تُم میں سے کسی میں حکمت کی کمی ہو تو خدا سے مانگے جو بغیر ملامت کئے سب کو فیاضی کے ساتھ دیتا ہے۔ اس کو دی جائے گی۔“ ہمیں یہوواہ خدا سے التجا کرنی چاہئے کہ وہ ہمیں اچھا فیصلہ کرنے کی توفیق دے۔ جب ہم خدا کو اپنے مسئلے کے بارے میں بتاتے ہیں تو ہو سکتا ہے کہ خدا کی پاک روح ہمیں اُن صحیفوں کو یاد کرنے اور سمجھنے میں مدد دے جو ہمارے مسئلے پر لاگو ہوتے ہیں۔
۱۷. دوسرے لوگ ہمیں فیصلہ کرنے میں مدد کیسے دے سکتے ہیں؟
۱۷ فیصلہ کرنے سے پہلے ہم روحانی طور پر پُختہ مسیحیوں سے بھی مشورہ لے سکتے ہیں۔ (افسیوں ۴:۱۱، ۱۲) خاص طور پر جب ہمیں کسی بہت ہی اہم معاملے پر فیصلہ کرنا ہو تو ہمیں ایسے مسیحیوں سے ضرور مشورہ لینا چاہئے جو بائبل کی سچائیوں کو اچھی طرح سے سمجھتے ہیں اور تجربہکار بھی ہیں۔ وہ ہماری توجہ بائبل کے ان اصولوں پر دلا سکتے ہیں جو ہمارے مسئلے پر لاگو ہوتے ہیں اور اس طرح وہ ہمیں ”بہتر چیزوں کا امتیاز“ کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ (فلپیوں ۱:۹، ۱۰، کیتھولک ورشن) البتہ یاد رکھیں کہ ہمیں کسی سے یہ توقع نہیں کرنی چاہئے کہ وہ ہمارے لئے فیصلہ کرے کیونکہ یہ ذمہداری ہم پر پڑتی ہے۔
اچھے فیصلوں کا انجام
۱۸. اچھے فیصلے کرنے کا کیا انجام نکلتا ہے؟
۱۸ جب ہم بائبل کے اصولوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے ایک معاملے کے بارے میں فیصلہ کرتے ہیں تو اس کا انجام ہمیشہ اچھا ہوتا ہے۔ البتہ کبھیکبھار ایسا ہوتا ہے کہ ہمیں شروع میں اذیت یا مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔ جب سدرک، میسک اور عبدنجو نے مورت کو سجدہ کرنے سے انکار کِیا تو وہ جانتے تھے کہ اس کا انجام موت ہو سکتا ہے۔ (دانیایل ۳:۱۶-۱۹) اور جب رسولوں نے یہودیوں کے صدرِعدالت کو بتایا کہ اُنہیں آدمیوں کے حکم کی نسبت خدا کا حکم ماننا زیادہ فرض ہے تو اُنہیں پیٹا گیا۔ (اعمال ۵:۲۷-۲۹، ۴۰) اس کے علاوہ ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ اچھے فیصلے کرنے کے باوجود ”وقت اور حادثہ“ سب پر اثر کرتا ہے۔ (واعظ ۹:۱۱) اچھا فیصلہ کرنے کے باوجود اگر ہم مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں تو ہمیں جان لینا چاہئے کہ یہوواہ خدا ہمیں اس صورتحال کو برداشت کرنے میں ضرور مدد دے گا اور آخرکار اس فیصلے کا انجام اچھا ہی نکلے گا۔—۲-کرنتھیوں ۴:۷۔
۱۹. ہم فیصلہ کرنے کی اپنی ذمہداری پر کیسے پورا اُتر سکتے ہیں؟
۱۹ کسی معاملے کے بارے میں فیصلہ کرنے سے پہلے ہمیں بائبل کے ایسے اصولوں پر غور کرنا چاہئے جو اس معاملے پر لاگو ہوتے ہیں اور پھر ان پر عمل بھی کرنا چاہئے۔ ایسا کرنے میں یہوواہ خدا اپنی پاک روح اور روحانی طور پر پُختہ مسیحیوں کے ذریعے ہماری راہنمائی کرتا ہے۔ ہم اس راہنمائی کے نہایت شکرگزار ہیں۔ اس لئے آئیے ہم فیصلہ کرنے کی اپنی ذمہداری پر پورا اُتریں۔
آپ نے کیا سیکھا ہے؟
• اچھے فیصلے کرنے کی ذمہداری پر پورا اُترنے کے لئے کیا کرنا ضروری ہے؟
• ہم صحبتوں کے معاملے میں اچھے فیصلے کرنے کے قابل کیسے بنتے ہیں؟
• ملازمت کے سلسلے میں فیصلہ کرتے وقت ہمیں کن باتوں پر غور کرنا چاہئے؟
• اچھے فیصلہ کرنے کے لئے ہمیں یہوواہ خدا کی طرف سے کونسی راہنمائی حاصل ہے؟
[صفحہ ۱۰ پر تصویر]
اہم معاملوں کے بارے میں فیصلہ کرنے سے پہلے پاک صحائف کے اصولوں پر غور کریں