”میری کمک خداوند سے ہے“
کنوارے مسیحی جو یہوواہ کی خدمت میں خوش ہیں
ملک سپین میں رہنے والی ایک کنواری مسیحی بہن کہتی ہے: ”مَیں بہت سے ایسے بہنبھائیوں کو جانتی ہوں جو شادیشُدہ نہ ہونے کے باوجود بھی مطمئن ہیں۔“ اسکی وجہ اُس نے یوں بتائی: ”ہم بیاہتا زندگی کی ذمہداریوں سے آزاد ہیں اور اسلئے یہوواہ خدا کی خدمت میں زیادہ سے زیادہ وقت صرف کر سکتے ہیں۔“
خدا کے کلام میں بھی کنوارا رہنے کو اچھا قرار دیا گیا ہے۔ پولس رسول خود بھی شادیشُدہ نہیں تھا اور اُس نے خدا کے الہام سے شادی کے سلسلے میں یوں لکھا: ”مَیں بےبیاہوں اور بیواؤں کے حق میں یہ کہتا ہوں کہ اُنکے لئے ایسے ہی رہنا اچھا ہے جیسا مَیں ہوں۔“ اس صحیفے میں کنوارے رہنے کو ”اچھا“ کیوں کہا گیا ہے؟ کیونکہ بیاہتا شخص اپنے ساتھی کو راضی کرنے کی فکر میں رہتا ہے جبکہ ”بےبیاہا شخص خداوند کی فکر میں رہتا ہے۔“ (۱-کرنتھیوں ۷:۸، ۳۲-۳۴) یہ سچ ہے کہ یہوواہ کی خدمت ایک کنوارے شخص کیلئے خوشی اور اطمینان کا باعث بنتا ہے۔
کنوارا رہنے کی خاص وجہ
دُنیا کی زیادہتر تہذیبوں میں شادی کرنے اور اولاد پیدا کرنے کو بہت ہی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اگر آپ ایک ایسی تہذیب سے تعلق رکھتے ہیں تو شاید آپکو پولس رسول کی یہ باتیں عجیب لگیں۔ لیکن یاد رکھیں کہ یسوع مسیح نے بھی شادی نہیں کی تھی۔ اُس نے کنوارا رہنے کی ایک خاص وجہ یوں بیان کی: ”بعض خوجے اَیسے ہیں جنہوں نے آسمان کی بادشاہی کیلئے اپنے آپ کو خوجہ بنایا۔ جو قبول کر سکتا ہے وہ قبول کرے۔“—متی ۱۹:۱۲۔
واقعی بہتیرے مسیحیوں نے یسوع کے ان الفاظ کو سچ پایا ہے۔ کیونکہ کنوارا رہنے سے وہ بغیر کسی رُکاوٹ کے خدا کی خدمت میں مشغول رہ سکتے ہیں۔ (۱-کرنتھیوں ۷:۳۵) اسلئے ہزاروں مسیحیوں نے شادی نہ کرنے کا انتخاب کِیا ہے۔ وہ یہوواہ خدا اور لوگوں کی خدمت کرنے سے دلی خوشی محسوس کرتے ہیں۔a
چاہے کوئی شادیشُدہ ہے یا کنوارا سب کی زندگی میں کبھیکبھار دُکھسُکھ آتے ہیں۔ البتہ خدا کا کلام بیان کرتا ہے کہ جو شادی کرتے ہیں وہ ضرور ”تکلیف“ اُٹھائیں گے۔—۱-کرنتھیوں ۷:۲۸۔
کنوارا رہنے کی دیگر وجوہات
بہتیرے بہنبھائی شادی کرنا چاہتے ہیں۔ اُنہیں اپنی زندگی میں ایک بیاہتا ساتھی کا سہارا چاہئے۔ لیکن مختلف مجبوریوں کی وجہ سے وہ شادی نہیں کر سکتے۔ بعض کے پاس شادی کرنے اور ایک گھرانے کا خرچ چلانے کیلئے کافی پیسے نہیں ہوتے۔ دوسرے مسیحی ایک ایسے شخص کی تلاش میں ہوتے ہیں جو یہوواہ کا ایک بپتسمہیافتہ گواہ ہے۔ کیونکہ وہ ”صرف خداوند میں“ شادی کرنے کے حکم پر عمل کرتے ہیں۔—۱-کرنتھیوں ۷:۳۹۔
کبھیکبھار کنوارے مسیحی خود کو تنہا محسوس کرتے ہیں۔ ایک کنواری بہن اس سلسلے میں کہتی ہے: ”ہمیں یہوواہ کے حکم کا علم ہے اور ہم اُسے ہرگز ناراض نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ ہم ایک بیاہتا ساتھی کی قربت چاہتے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہم یہوواہ خدا کی نافرمانی بھی نہیں کرنا چاہتے۔ لوگ ہمیں شادی کرنے کیلئے کتنا ہی مجبور کیوں نہ کریں ہم اُنکی بات نہیں مانتے۔ کیونکہ ہم ایک ایسے شخص کیساتھ شادی کرنے کا تصور تک نہیں کر سکتے جو یہوواہ کی عبادت نہ کرتا ہو۔“ سچ ہے کہ بعض مسیحیوں کیلئے کنوارا رہنا آسان نہیں۔ اسکے باوجود وہ خدا کے احکام پر چلتے ہوئے اپنا چالچلن نیک رکھتے ہیں۔ اور اس بات کیلئے ہمیں اُنکی بہت قدر کرنی چاہئے۔
یہوواہ خدا کا سہارا
جب مسیحی ایسے لوگوں سے شادی کرنے سے انکار کرتے ہیں جو یہوواہ کے پرستار نہیں تو وہ خدا کیلئے اپنی وفاداری کا ثبوت پیش کرتے ہیں۔ اور یہوواہ خدا ایسے وفادار مسیحیوں سے وعدہ کرتا ہے کہ ”مَیں تجھ سے ہرگز دستبردار نہ ہوں گا اور کبھی تجھے نہ چھوڑوں گا۔“ (عبرانیوں ۱۳:۵) اسی طرح ہمیں بھی خدا کے حکموں پر چلنے والے کنوارے مسیحیوں کی قدر کرنی چاہئے۔ ہم اُنکے لئے دُعا بھی کر سکتے ہیں تاکہ وہ تمامتر آزمائشوں کے باوجود یہوواہ کو خوش کرتے رہیں۔—قضاۃ ۱۱:۳۰-۴۰۔
بہت سے کنوارے مسیحیوں نے دیکھا ہے کہ دوسروں کو بائبل کی تعلیم دینے میں زیادہ وقت صرف کرنے سے اُنکی زندگی بامقصد ہو جاتی ہے۔ پیٹریشیا ہی کی مثال لیجئے جو تقریباً ۳۵ سال کی ہے۔ وہ کہتی ہے: ”یہ بات سچ ہے کہ کنوارا رہنے کی وجہ سے مجھے طرح طرح کی آزمائشوں کا سامنا ہے۔ لیکن اسکے ساتھ ساتھ مَیں شادی کی ذمہداریوں سے بھی آزاد ہوں۔ لہٰذا مَیں اپنا سارا وقت یہوواہ کی خدمت میں لگا رہی ہوں۔ ایک شادیشُدہ شخص کی نسبت یہوواہ کے کلام پر غور کرنے کیلئے میرے پاس زیادہ وقت ہوتا ہے۔ مشکلات کا سامنا کرتے وقت یہوواہ ہی میرا سب سے بڑا سہارا ہے۔ اس وجہ سے مَیں خود کو یہوواہ کے اَور بھی قریب محسوس کرتی ہوں۔“
پیٹریشیا کی طرح بہت سے کنوارے مسیحی خدا کے اس وعدے پر بھروسہ کرتے ہیں: ”اپنی راہ [یہوواہ] پر چھوڑ دے اور اُس پر توکل کر۔ وہی سب کچھ کرے گا۔“ (زبور ۳۷:۵) جیہاں، یہوواہ خدا کے تمام خادم چاہے وہ شادیشُدہ ہیں یا نہیں زبورنویس کے ان الفاظ سے تسلی پا سکتے ہیں: ”میری مدد یہوواہ سے ہے۔“—زبور ۱۲۱:۲، این ڈبلیو۔
[فٹنوٹ]
a یہوواہ کے گواہوں کا کیلنڈر سن ۲۰۰۵، جولائی/اگست دیکھیں۔
[صفحہ ۹ پر عبارت]
”بےبیاہا شخص خداوند کی فکر میں رہتا ہے کہ کسطرح خداوند کو راضی کرے۔“—۱-کرنتھیوں ۷:۳۲
[صفحہ ۸ پر بکس]
کنوارپن سے خوش ہونا
یسوع نے شادی نہیں کی تھی۔ اُس نے اپنی زندگی کا مقصد یوں بیان کِیا: ”میرا کھانا یہ ہے کہ اپنے بھیجنے والے کی مرضی کے موافق عمل کروں اور اس کا کام پورا کروں۔“ —یوحنا ۴:۳۴۔
فلپس کی چار کنواری بیٹیاں ’نبوّت کرنے‘ میں مشغول رہتی تھیں۔—اعمال ۲۱:۸، ۹۔
بادشاہت کی مُنادی کرنے والی کنواری بہنیں ’خوشخبری دینے والیوں کی فوج‘ میں شامل ہیں۔—زبور ۶۸:۱۱۔