خدا کے کلام سے محبت کرنے والا ایک فروتن افریقی
افریقی سیاحوں نے اکثر وہاں کے مقامی لوگوں کے ساتھ بائبل موضوعات پر باتچیت شروع کرنا آسان پایا ہے۔ مثال کے طور پر، جب ان سوالات پر بات کی جاتی ہے کہ ”خدا کی بادشاہت کیا ہے؟“ یا ”کیا جنگ، بیماری، قحط اور جُرم کا کوئی دائمی حل موجود ہے؟“ تو آسانی کیساتھ سننے والے لوگ مل جاتے ہیں۔ بہتیرے لوگ خوشی سے کسی اجنبی شخص کو بائبل سے جواب فراہم کرنے کا موقع دیتے ہیں۔ ایسا موقع اکثر باقاعدہ بائبل مطالعے پر منتج ہوتا ہے۔ لہٰذا، طالبعلم روحانی ترقی کرتے ہوئے بپتسمہیافتہ مسیحی بن جاتے ہیں۔
جس افریقی نے سب سے پہلے ایسا ردِعمل دکھایا تھا اسکا ذکر بائبل میں اعمال ۸:۲۶-۴۰ میں ملتا ہے۔ یہ حبشی خوجہ (ایتھیوپیا کا باشندہ) تھا جس نے سچے خدا یہوواہ کی پرستش کیلئے یروشلیم کی طرف سفر کِیا تھا۔
زیرِنظر تصویر کے مطابق، حبشی خوجہ اپنے رتھ پر سوار کتابِمُقدس کو پڑھتا ہوا واپس گھر جا رہا ہے۔ ایک اجنبی اُس کے پاس آکر پوچھتا ہے: ”جو تُو پڑھتا ہے اُسے سمجھتا بھی ہے؟“ حبشی خوجہ فروتنی سے تسلیم کرتا ہے کہ اُسے مدد کی ضرورت ہے اور اجنبی مسیحی مبشر فلپس سے رتھ میں اپنے ساتھ بیٹھ جانے کی درخواست کرتا ہے۔ پھر وہ فلپس سے درخواست کرتا ہے کہ اس عبارت کا مطلب مجھے سمجھا دے۔ فلپس اسکی وضاحت یوں کرتا ہے کہ یہ پیشینگوئی مسیحا، یسوع مسیح کی حالیہ موت کے بارے میں بتاتی ہے۔ علاوہازیں فلپس ”یسوؔع کی خوشخبری“ سے تعلق رکھنے والے دیگر معاملات کو بھی سمجھاتا ہے جس میں بِلاشُبہ یسوع کی قیامت بھی شامل ہے۔
ان شاندار سچائیوں کو سننے کے بعد حبشی خوجہ یسوع کا شاگرد بننا چاہتا ہے اور پوچھتا ہے: ”اب مجھے بپتسمہ لینے سے کونسی چیز روکتی ہے؟“ اپنے بپتسمہ کے بعد، فروتن افریقی خوشی کرتا ہوا واپس گھر لوٹ گیا۔ بائبل اُسکی بابت مزید کچھ نہیں بتاتی۔
آجکل، یہوواہ کے گواہ پوری دُنیا میں لاکھوں لوگوں کو اِسی طرح ”خوشخبری“ کے بارے میں سیکھا رہے ہیں۔ اِس وقت تقریباً ساٹھ لاکھ مُفت بائبل مطالعے کرائے جا رہے ہیں۔