سوالات از قارئین
کیا ایک مسیحی کو کسی سرکاری ملازم کو اُسکی خدمات کیلئے بخشیش یا تحفہ دینا چاہئے، نیز کیا اسے رشوت خیال کِیا جائیگا؟
مسیحی خواہ کسی بھی جگہ رہتے ہوں وہ مقامی صورتحال کے پیشِنظر عقلمندی سے کام لیتے ہوئے یاد رکھتے ہیں کہ جو چیزیں ایک ملک میں قابلِقبول اور جائز ہیں وہ دوسرے ممالک میں نامقبول اور ناجائز ہو سکتی ہیں۔ (امثال ۲:۶-۹) تاہم ایک مسیحی کو ہمیشہ ذہن میں رکھنا چاہئے کہ جو ”[یہوواہ] کے خیمہ“ میں رہنا چاہتا ہے اُسے رشوت کو رد کرنا ہوگا۔—زبور ۱۵:۱، ۵؛ امثال ۱۷:۲۳۔
رشوت کیا ہے؟ دی ورلڈ بُک انسائیکلوپیڈیا کے مطابق، ”کسی اعلیٰ سرکاری ملازم کو کوئی بیشقیمت چیز دیکر اس سے فائدہ اُٹھانے کیلئے غیرقانونی کام کروانے کو رشوت کہتے ہیں۔“ چنانچہ اس سے قطعِنظر کہ کوئی شخص کہاں رہتا ہے کسی جج، پولیس افسر کو پیسے یا تحفہ دیکر اُس سے معاملے کا رُخ موڑنے یا کسی غلط کام سے اپنی آنکھیں پھیرنے کا تقاضا کرنا رشوت ہے۔ اسکے علاوہ دوسروں سے خاص برتاؤ، مثلاً فہرست میں اپنا نام پہلے لکھوانے یا باری سے پہلے کام کروانے کی اُمید میں تحفہ دینا بھی رشوت ہے۔ ایسی روش مسیحی محبت کی کمی کو ظاہر کرتی ہے۔—متی ۷:۱۲؛ ۲۲:۳۹۔
تاہم، کیا کسی سرکاری ملازم کو اسکے جائز کام یا بدسلوکی سے بچنے کیلئے تحفے یا بخشیش دینا بھی رشوت ہے؟ مثال کے طور پر، کچھ جگہوں پر حکام بخشیش لئے بغیر سکول میں بچوں کے نام درج نہیں کرتے، کسی شخص کو ہسپتال میں داخل نہیں کرتے، نقلمکانی کے کاغذات پر مہر نہیں لگاتے۔ وہ لائسنس بنانے یا پرمٹ کی تجدید کرنے میں تاخیر کر سکتے ہیں۔
مختلف جگہوں پر بخشیش دینے کا دستور اور اِسکی بابت عام رُجحان فرق ہو سکتا ہے۔ تاہم جہاں بخشیش یا تحفے دینے کا رواج ہے یا اِسکی توقع کی جاتی ہے تو بعض مسیحی محسوس کر سکتے ہیں کہ کسی سرکاری ملازم کو بخشیش یا تحفے دینے سے قانون کی خلافورزی نہیں ہوتی اور نہ ہی اس سے کوئی بائبل اصول ٹوٹتا ہے۔ بعض ممالک میں لوگ کم تنخواہ والے سرکاری ملازمین کو بخشیش یا تحفے دینا درست خیال کرتے ہیں تاکہ اُنکی مدد ہو سکے۔ تاہم یہ ذہن میں رکھیں کہ کسی جائز حقدار کی تنخواہ کو بخشیش کے طور پر بڑھانے اور غیرقانونی کام کرانے کیلئے رشوت دینے میں فرق ہے۔
اسکے برعکس بعض یہوواہ کے گواہ کسی جائز کام کیلئے درخواست کرتے وقت انسپکٹروں، کسٹم حکام اور دیگر لوگوں کو بخشیش یا تحفہ دینے سے گریز کرتے ہیں۔ یہوواہ کے گواہ ایسے معاملات میں اپنی فرضشناسی اور ایمانداری کی وجہ سے مقامی طور پر اچھی شہرت رکھتے ہیں۔ لہٰذا بعضاوقات اُنکے کام مُفت ہو جاتے ہیں جو عام طور پر بخشیش یا تحفوں کے بغیر نہیں ہوتے۔—امثال ۱۰:۹؛ متی ۵:۱۶۔
المختصر، یہوواہ کے ہر خادم کو ذاتی طور پر فیصلہ کرنا چاہئے کہ آیا وہ کسی جائز کام یا ناروا سلوک سے بچنے کیلئے بخشیش وغیرہ دیگا یا نہیں۔ سب سے بڑھکر اُسے ایسی روش سے بچنا چاہئے جس سے اُسکا پاک ضمیر آلودہ نہ ہو، یہوواہ کے نام کی بدنامی نہ ہو اور وہ دوسروں کیلئے ٹھوکر کا باعث نہ بنے۔—متی ۶:۹؛ ۱-کرنتھیوں ۱۰:۳۱-۳۳؛ ۲-کرنتھیوں ۶:۳؛ ۱-تیمتھیس ۱:۵۔