یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م05 1/‏4 ص.‏ 3-‏4
  • سائنس اور مذہب—‏ایک اختلاف کا آغاز

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • سائنس اور مذہب—‏ایک اختلاف کا آغاز
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2005ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • اختلاف میں شدت
  • ایک کتاب جسکی غلط نمائندگی کی جاتی ہے
    سب لوگوں کیلئے ایک کتاب
  • سائنس اور بائبل—‏کیا ان میں واقعی اختلاف ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2005ء
  • سائنس اور مذہب میں اختلاف
    جاگو!‏—‏2002ء
  • اِس شمارے میں
    جاگو!‏—‏2015ء
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2005ء
م05 1/‏4 ص.‏ 3-‏4

سائنس اور مذہب‏—‏ایک اختلاف کا آغاز

ایک ستر سالہ ماہرِفلکیات بسترِمرگ پر بھی پڑھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اُسکے ہاتھ میں ایک مسودہ تھا جو بہت جلد کتابی شکل میں شائع ہونے والا تھا۔ شاید ہی وہ اس بات سے واقف ہو کہ اُسکی کتاب کائنات کی بابت لوگوں کے نظریے کو یکسر بدل دیگی۔ اس نے دُنیائے‌مسیحیت کے اندر بھی ایسا اختلاف پیدا کر دیا جسکے اثرات آج بھی محسوس کئے جا رہے ہیں۔‏

یہ بات سن ۱۵۴۳ کی ہے۔ بسترِمرگ پر پڑا شخص نکولس کوپرنیکس تھا۔ وہ پولینڈ کا رہنے والا تھا۔ نکولس کوپرنکس کا تعلق کیتھولک مذہب سے تھا۔ کوپرنیکس کی اس کتاب کا نام اجرامِ‌فلکی کی گردشیں تھا جس میں یہ بیان کِیا گیا ہے کہ نظامِ‌شمسی کا مرکز زمین نہیں بلکہ سورج ہے۔ اپنی اس کتاب میں کوپرنیکس نے زمین کے نظامِ‌شمسی کا مرکز ہونے کے انتہائی پیچیدہ نظریے کو بدل کر یہ نہایت سادہ نظریہ پیش کِیا کہ سورج ہمارے نظامِ‌شمسی کا مرکز ہے۔‏

ابتدا میں کسی کے وہم‌وگمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ نظریاتی اختلاف مستقبل میں ایک بڑا مسئلہ بن جائیگا۔ اسکی ایک وجہ تو یہ تھی کہ کوپرنیکس نے اس نظریے کو پیش کرتے وقت بڑے احتیاط سے کام لیا۔ اسکے علاوہ، اُس وقت کیتھولک چرچ جو زمین کو مرکز تسلیم کرتا تھا، اس سائنسی قیاس‌آرائی کو ماننے کی طرف مائل تھا۔ حتیٰ‌کہ پوپ نے کوپرنیکس سے کہا کہ وہ اس کتاب کو شائع کرے۔ جب کوپرنیکس نے اس کتاب کو شائع کِیا تو ایک خوفزدہ ایڈیٹر نے اسکا پیش‌لفظ تحریر کِیا اور سورج کو مرکز ماننے کے نظریے کو ایک فلکیاتی حقیقت کی بجائے ریاضی کے ایک اُصول کے طور پر پیش کِیا۔‏

اختلاف میں شدت

اس اختلاف میں شریک ہونے والا اگلا شخص اطالوی ماہرِفلکیات، ریاضی‌دان اور ہیئت‌دان گلیلیو گلیلی (‏۱۵۶۴-‏۱۶۴۲)‏ تھا جو کیتھولک مذہب سے تعلق رکھتا تھا۔ اپنے ایجادکردہ لینز (‏عدسے)‏ کو استعمال کرتے ہوئے اُس نے دُوربین تیار کی جسکی مدد سے گلیلیو نے کائنات کا وسیع جائزہ لیا۔ اُسکے اس مشاہدے نے اُسے یہ ماننے پر مجبور کر دیا کہ کوپرنیکس کی تحقیق بالکل درست تھی۔ تاہم، اُس وقت ایک اَور اہم فلسفہ اور مذہبی اعتقاد بڑا عام تھا کہ سورج میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہو سکتی۔ لیکن جب گلیلیو نے سورج پر دھبے دیکھے جنہیں آجکل داغِ‌آفتاب کہا جاتا ہے تو انکے اس اعتقاد کی صداقت پر اختلاف پیدا ہو گیا۔‏

کوپرنیکس کے برعکس، گلیلیو نے اپنے نظریات کی تشہیر کیلئے انتہائی دلیری اور سرگرمی کا مظاہرہ کِیا۔ علاوہ‌ازیں اُسے زیادہ مذہبی مخالفت کا بھی سامنا کرنا پڑا کیونکہ اس وقت تک کیتھولک چرچ کوپرنیکس کے نظریے کی کھلم‌کھلا مخالفت کرنے لگا تھا۔ جب گلیلیو نے اصرار کِیا کہ سورج کے نظامِ‌شمسی کا مرکز ہونے کا نظریہ نہ صرف درست بلکہ صحائف کے مطابق بھی ہے تو چرچ نے اسکو بدعت قرار دیا۔‏a

اپنا دفاع کرنے کیلئے گلیلیو روم بھی گیا مگر اُسے خاطرخواہ کامیابی حاصل نہ ہوئی۔ سن ۱۶۱۶ میں کیتھولک چرچ نے اُسے کوپرنیکس کے نظریے کی حمایت کرنے سے روک دیا۔ کچھ عرصہ تک گلیلیو خاموش رہا۔ اسکے بعد ۱۶۳۲ میں اُس نے کوپرنیکس کی حمایت میں ایک اَور کتاب شائع کی۔ اگلے ہی سال رومی کیتھولک عدالت نے گلیلیو کو عمرقید کی سزا سنا دی۔ تاہم، اُس کی عمر کو مدِنظر رکھتے ہوئے، اُنہوں نے اُسے گھر ہی میں نظربند کر دیا۔‏

بہتیرے لوگ گلیلیو کے چرچ کیساتھ اختلاف کو سائنس کی مذہب بلکہ سائنس کی بائبل پر عظیم فتح خیال کرتے ہیں۔ تاہم، جیسے‌کہ ہم اگلے مضمون میں دیکھینگے، اس سادہ سی بات نے بہت سے حقائق کو نظرانداز کر دیا تھا۔‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a دراصل گلیلیو نے اپنی برجستہ اور طنزیہ باتوں کی وجہ سے خواہ‌مخواہ بااثر لوگوں کی مخالفت مول لے لی تھی۔ اسکے علاوہ، یہ اصرار کرنے سے کہ سورج کے نظامِ‌شمسی کا مرکز ہونے کا نظریہ صحائف کی مطابقت میں ہے اُس نے خود کو مذہب کے سلسلے میں معتبر ظاہر کِیا جس سے چرچ مزید غصے میں آ گیا۔‏

‏[‏صفحہ ۳ پر تصویر]‏

کوپرنیکس

‏[‏تصویر کا حوالہ]‏

‏(‎German edition‎) Giordano Brunoand Galilei Taken from

‏[‏صفحہ ۳ پر تصویر]‏

گلیلیو رومی کیتھولک عدالت کے سامنے اپنا دفاع کرتا ہے

‏[‏تصویر کا حوالہ]‏

1904 ,Vol. IX ‏,The Historian‎’s History of the World From the book

‏[‏صفحہ ۳ پر تصویر کا حوالہ]‏

of the solar system Background: Chart depicting Copernicus‎’concept

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں