زندگی—قیمتی یا معمولی؟
”جب انسان خدا کی شبِیہ پر بنایا گیا ہے تو انسانی جان لینا دُنیا کی نہایت ہی قیمتی اور مُقدس چیز کو ختم کرنے کے مترادف ہے۔“—ولیم بارکلے کی کتاب سے اقتباس۔
’زندگی دُنیا کی نہایت ہی قیمتی چیز ہے۔‘ کیا آپ بھی زندگی کی بابت ایسا ہی نظریہ رکھتے ہیں؟ لوگوں کے رویے ظاہر کرتے ہیں کہ اکثریت مذکورہبالا مصنف ولیم بارکلے سے متفق نہیں ہے۔ لاکھوں انسان ظلموستم ڈھانے والے بےرحم لوگوں کے ہاتھوں اپنی زندگیاں گنوا بیٹھتے ہیں جنہیں اپنے ساتھی انسانوں کی فلاحوبہبود کا کوئی خیال نہیں ہوتا۔ وہ صرف اپنے خودغرضانہ مقاصد کو پورا کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔—واعظ ۸:۹۔
بیکار اور بےوقعت
اِسکی ایک مثال پہلی عالمی جنگ ہے۔ تاریخدان اے. جے. پی. ٹیلر بیان کرتا ہے کہ اُس ہولناک لڑائی میں اکثر ”لوگوں کو بِلامقصد قربان کر دیا گیا تھا۔“ فوجی راہنما اپنی شان بڑھانے کی جستجو میں جنگ کے بعد فوجیوں کو بیکار خیال کرتے تھے۔ فرانس میں صرف وَردن کی لڑائی میں ۵۰ ہزار فوجی زخمی ہوئے تھے۔ ٹیلر لکھتا ہے، ”جیتنے یا ہارنے کیلئے کچھ نہیں تھا [یعنی جنگی نقطۂنگاہ سے اُس جگہ کی کوئی خاص اہمیت نہیں تھی]، صرف شانوشوکت کی خاطر آدمیوں کو موت کے گھاٹ اُتار دیا گیا تھا۔“—اے. جے. پی. ٹیلر کی کتاب سے اقتباس۔
زندگی کو بےوقعت خیال کرنے کا رجحان آج بھی بہت عام ہے۔ ایک عالم کیون بالز اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حالیہ وقتوں میں ”آبادی میں بےپناہ اضافے کی وجہ سے غریب اور تنگدست لوگ کم اُجرت پر کام کرنے کیلئے نکل آئے ہیں۔“ اُنہیں ایک ظالم معاشی نظام کے اندر زندہ رہنے کیلئے مسلسل جدوجہد کرنی پڑتی ہے، ”جہاں زندگی بیکار اور بےوقعت ہے۔“ بالز بیان کرتا ہے کہ ایسے مزدوروں سے ناجائز فائدہ اُٹھانے والے اُنکے ساتھ غلاموں جیسا سلوک کرتے اور ”اُنہیں پیسہ بنانے والی مشینیں خیال کرتے ہیں اور اپنا مطلب نکل جانے کے بعد اُنہیں بیکار سمجھ کر پھینک دیتے ہیں۔“—کیون بالز کی کتاب سے اقتباس۔
”ہوا کی چران“
اِسکی اَور بھی بہت سی وجوہات ہیں کہ کیوں لاکھوں لوگ خود کو بیکار اور بےیارومددگار محسوس کرتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کسی کو اس بات کی پرواہ نہیں کہ وہ زندہ ہیں یا مر رہے ہیں۔ جنگ اور ناانصافی کے علاوہ خشکسالی، قحط، بیماری، کسی کے بچھڑ جانے کا غم اور اسی طرح کی کئی دیگر مشکلات آجکل تمام نسلِانسانی کو متاثر کرتی ہیں اور اُنہیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہیں کہ آیا زندہ رہنے کا کوئی فائدہ بھی ہے یا نہیں۔—واعظ ۱:۸، ۱۴۔
بِلاشُبہ سب کو زندگی میں مایوسی اور رنجوغم کا سامنا نہیں ہوتا۔ لیکن ظلموستم سے بچ جانے والے لوگ بھی قدیم اسرائیلی بادشاہ سلیمان کی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں: ”آدمی کو اُسکی ساری مشقت اور جانفشانی سے جو اُس نے دُنیا میں کی کیا حاصل ہے؟“ اِس پر غوروخوض کرنے کے بعد بہت سے یہ سمجھنے لگے ہیں کہ اُنکے بیشتر کام ”بطلان اور ہوا کی چران“ ثابت ہوئے ہیں۔—واعظ ۲:۲۲، ۲۶۔
بہت سے اپنی زندگی پر غور کرنے کے بعد پوچھتے ہیں کہ ”کیا زندگی کا یہی مقصد ہے؟“، علاوہازیں، ایسے کتنے لوگ ہیں جو ابرہام کی طرح آسودہ زندگی گزار کر بڑھاپے میں اپنی زندگی کے اچھے انجام کو پہنچتے ہیں؟ (پیدایش ۲۵:۸) بیشتر ہمیشہ بیکار ہونے کے احساس میں مبتلا رہتے ہیں۔ تاہم، زندگی کو بیکار سمجھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ خدا ہر انسانی زندگی کو قیمتی خیال کرتا ہے اور اُسکی خواہش ہے کہ ہم سب ایک بھرپور اور مطمئن زندگی گزاریں۔ یہ کیسے ممکن ہے؟ غور کریں کہ اگلا مضمون اِس موضوع پر کیا بحث کرتا ہے۔