یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م04 1/‏3 ص.‏ 29
  • سوالات از قارئین

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • سوالات از قارئین
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2004ء
  • ملتا جلتا مواد
  • یہوواہ خدا میرا حصہ ہے
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—2011ء
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2004ء
م04 1/‏3 ص.‏ 29

سوالات از قارئین

جب لاویوں کو قدیم اسرائیل میں کوئی میراث ہی نہیں ملی تھی تو پھر یرمیاہ ۳۲:‏۷ کے مطابق، لاوی حنم‌ایل اپنا کھیت اپنے تایازاد بھائی یرمیاہ کو کیسے بیچ سکتا تھا؟‏

لاویوں کے سلسلے میں، یہوواہ نے ہارون سے کہا:‏ ”‏اُنکے مُلک میں تجھے کوئی میراث نہیں ملیگی اور نہ اُنکے درمیان تیرا کوئی حصہ ہوگا کیونکہ بنی‌اسرائیل میں تیرا حصہ اور تیری میراث مَیں ہوں۔“‏ (‏گنتی ۱۸:‏۲۰)‏ تاہم، لاویوں کو ملکِ‌موعود میں ۴۸ شہر اور اُنکے نواحی کھیت دئے گئے تھے۔ یرمیاہ کا آبائی شہر عنتوت تھا جوکہ ”‏ہارون کاہن کی اولاد کو“‏ دئے جانے والے شہروں میں سے ایک تھا۔—‏یشوع ۲۱:‏۱۳-‏۱۹؛ گنتی ۳۵:‏۱-‏۸؛‏ ۱-‏تواریخ ۶:‏۵۴،‏ ۶۰‏۔‏

احبار ۲۵:‏۳۲-‏۳۴ میں ہم پڑھتے ہیں کہ یہوواہ نے لاویوں کی ملکیت کو ’‏دوبارہ خریدنے‘‏ کی بابت خاص ہدایات واضح کی تھیں۔ بدیہی طور پر ہر لاوی خاندان کے پاس اپنی ملکیت کو استعمال کرنے اور اُس پر اپنا قبضہ رکھنے اور پھر اُنہیں بیچنے کا مکمل اختیار تھا۔ اس میں جائیداد کی خریدوفروخت بھی شامل تھی۔‏a بیشتر صورتوں میں لاوی، دوسرے اسرائیلی قبیلوں کی طرح اپنی ملکیت کو استعمال کرتے تھے۔‏

لاویوں کی ایسی ملکیت کو غالباً خاندانی وراثت کے ذریعے آگے منتقل کِیا جاتا تھا۔ تاہم، جہاں تک ’‏جائیداد کو دوبارہ خریدنے‘‏ کا تعلق ہے تو یہ صرف لاویوں کے مابین ہی ممکن تھا۔ علاوہ‌ازیں زمین کی خریدوفروخت بظاہر صرف شہروں کے اندر ہی ہو سکتی تھی، کیونکہ ”‏اُنکے شہروں کی نواحی کے کھیت نہیں بک سکتے“‏ تھے کیونکہ وہ اُنکی دائمی ملکیت تھے۔—‏احبار ۲۵:‏۳۲، ۳۴۔‏

لہٰذا جو کھیت یرمیاہ نے حنم‌ایل سے خریدا وہ واقعی ایسی ملکیت تھا جسے آگے بیچا جا سکتا تھا۔ یہ شاید شہر کی فصیل کے اندر ہی تھا۔ یہوواہ نے خود تصدیق کی تھی کہ زیرِبحث ”‏کھیت“‏ حنم‌ایل ہی کی ملکیت تھا اور یہ کہ یرمیاہ اُسے ’‏دوبارہ خریدنے کا حق‘‏ رکھتا تھا۔ (‏یرمیاہ ۳۲:‏۶، ۷‏)‏ یہوواہ نے اپنے اس وعدے کی اہمیت کو نمایاں کرنے کیلئے جائیداد کی اس منتقلی کو علامتی مفہوم میں استعمال کِیا تھا کہ اسرائیلی بابلی اسیری کی مدت پوری ہو جانے کے بعد ملک واپس جائینگے۔—‏یرمیاہ ۳۲:‏۱۳-‏۱۵‏۔‏

اسکا کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ حنم‌ایل نے عنتوت میں جائیداد پر ناجائز قبضہ کر رکھا تھا۔ کسی بھی بات سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ حنم‌ایل نے یرمیاہ کو عنتوت کا یہ کھیت خریدنے کی دعوت دیکر یا یرمیاہ نے اس کھیت کو خریدنے کے اپنے حق کو ناجائز طور پر استعمال کرکے یہوواہ کی شریعت کی خلاف‌ورزی کی تھی۔—‏یرمیاہ ۳۲:‏۸-‏۱۵‏۔‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a پہلی صدی س.‏ع.‏ میں برنباس نامی لاوی نے اپنی جائیداد بیچ کر تمام رقم یروشلیم میں موجود ضرورتمند ساتھی مسیحیوں کی مدد کیلئے دے دی تھی۔ یہ جائیداد فلسطین یا قبرص کہیں بھی ہو سکتی تھی۔ ممکن ہے کہ یہ کوئی تدفین کی جگہ ہو جسے برنباس نے یروشلیم میں خرید رکھا تھا۔—‏اعمال ۴:‏۳۴-‏۳۷‏۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں