ایمان ہی سے برق نے ایک بڑے لشکر کو شکست دی
ذرا تصور کریں کہ ایک بہت بڑا لشکر آپ سے جنگ کرنے کیلئے آ رہا ہے۔ دُشمن کے پاس جدیدترین ہتھیار موجود ہیں جبکہ آپکے پاس ہتھیار نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اِسلئے اِس لشکر کا مقابلہ کرنا آپکے لئے بہت مشکل ہوگا۔
جس زمانے میں قاضی اسرائیل کی راہنمائی کِیا کرتے تھے ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا۔ اُس وقت برق اور دبورہ نے ۱۰،۰۰۰ اسرائیلیوں کیساتھ ملکر کنعانیوں کا مقابلہ کِیا۔ کنعانی لشکر کے سردار کا نام سیسرا تھا اور اُنکے پاس جدیدترین ہتھیاروں کے علاوہ ایسے رتھ بھی تھے جنکے پہیوں پر لوہے کی درانتیاں لگی ہوئی تھیں۔ جنگ کوہِتبور کے دامن میں قیسون کی نہر کے پاس لڑی گئی۔ اس جنگ میں برق نے ثابت کِیا کہ اُسکا ایمان کتنا مضبوط تھا۔ آئیے جنگ کا سبب بننے والے واقعات پر غور کریں۔
بنی اسرائیل یہوواہ سے فریاد کرتے ہیں
قضاۃ کی کتاب سے پتہ چلتا ہے کہ اسرائیلی اکثر خدا کی سچی پرستش کو چھوڑ کر بُتوں کی پرستش کرنے لگتے تھے جسکی وجہ سے وہ آفات کا شکار ہو جاتے تھے۔ آفتوں سے تنگ آ کر وہ خدا سے مدد کی فریاد کرتے۔ خدا اُنکی سنتا اور کسی آدمی کو مقرر کرتا جو اسرائیلیوں کو مصیبتوں کے اِس جال سے نکالتا۔ آفتوں سے نجات حاصل کرنے کے کچھ عرصہ بعد ہی وہ دوبارہ خدا کے خلاف بغاوت کرنے لگتے۔ جب اسرائیلی موآبیوں کے دباؤ کا شکار تھے تو اہود نامی قاضی نے اُنکو اس آفت سے چھڑایا۔ لیکن ”اؔہود کی وفات کے بعد بنی اسرائیل نے پھر [یہوواہ] کے حضور بدی کی۔“ یہانتک کہ ”اُنہوں نے نئے نئے دیوتا چن لئے۔“ اِس پر خدا نے کیا کِیا؟ ”[یہوواہ] نے اُنکو کنعاؔن کے بادشاہ یاؔبین کے ہاتھ جو حصوؔر میں سلطنت کرتا تھا بیچا اور اُسکے لشکر کے سردار کا نام سیسرؔا تھا۔ . . . تب بنی اسرائیل نے [یہوواہ] سے فریاد کی کیونکہ [سیسرا] کے پاس لوہے کے نو سو رتھ تھے اور اُس نے بیس برس تک بنی اسرائیل کو شدت سے ستایا۔“—قضاۃ ۴:۱-۳؛ ۵:۸۔
اُس زمانے میں بنی اسرائیل کس حالت میں تھے؟ خدا کا کلام بیان کرتا ہے کہ ”شاہراہیں سُونی پڑی تھیں اور مسافر پگڈنڈیوں سے آتے جاتے تھے۔ اؔسرائیل میں حاکم موقوف رہے۔“ (قضاۃ ۵:۶، ۷) کنعانی ڈاکو اسرائیلیوں پر حملے کِیا کرتے تھے جنکی وجہ سے وہ خوفزدہ رہتے تھے۔ ایک عالم یوں بیان کرتا ہے: ”لوگ ہر وقت خوفزدہ رہتے تھے اور بالکل بےبس تھے۔“ اِسلئے بنی اسرائیل نے وہی کِیا جو وہ ایسی صورتحال میں کرتے آئے تھے۔ اُنہوں نے اپنی بےبسی کی حالت میں یہوواہ خدا سے مدد کیلئے فریاد کی۔
یہوواہ ایک سردار مقرر کرتا ہے
کنعانیوں کے اِن حملوں کی وجہ سے اسرائیل کے لوگ بہت ہی پریشان تھے۔ اِسلئے یہوواہ خدا نے دبورہ نبِیّہ کے ذریعے بنی اسرائیل کو اپنے احکام سے آگاہ کِیا۔ اِسطرح دبورہ ایک ماں کی طرح اسرائیل کی راہنمائی کرنے لگی۔—قضاۃ ۴:۴؛ ۵:۷۔
دبورہ نے برقؔ کو بلوایا اور اُس سے کہا، ”کیا [یہوواہ] اؔسرائیل کے خدا نے حکم نہیں کِیا کہ تُو تبوؔر کے پہاڑ پر چڑھ جا اور بنی نفتالی اور بنی زبولون میں سے دس ہزار آدمی اپنے ساتھ لے لے؟ اور مَیں نہرِقیسوؔن پر یاؔبین کے لشکر کے سردار سیسرؔا کو اور اُسکے رتھوں اور فوج کو تیرے پاس کھینچ لاؤنگا اور اُسے تیرے ہاتھ میں کر دونگا۔“ (قضاۃ ۴:۶، ۷) دبورہ نے واضح کر دیا کہ وہ برق پر کوئی اختیار نہیں رکھتی تھی۔ وہ تو صرف برق کو ’یہوواہ کا حکم‘ سنا رہی تھی۔ اِس پر برق نے کیا کہا؟
برق نے کہا: ”اگر تُو میرے ساتھ چلیگی تو مَیں جاؤنگا پر اگر تُو میرے ساتھ نہیں چلیگی تو مَیں نہیں جاؤنگا۔“ (قضاۃ ۴:۸) برق خدا کا حکم ماننے سے کیوں ہچکچا رہا تھا؟ کیا وہ بزدل تھا یا پھر خدا کے وعدوں پر بھروسا نہیں رکھتا تھا؟ ایسی کوئی بات نہیں تھی۔ جب برق نے دبورہ کو ساتھ جانے کیلئے کہا تو اُس نے خدا پر اپنا ایمان ظاہر کِیا۔ برق جانتا تھا کہ اُسے خدا کی مدد کی ضرورت ہے کیونکہ وہ اپنے آپکو اِس لائق نہیں سمجھتا تھا کہ وہ خدا کے حکم کی تعمیل کر سکے۔ دبورہ اسرائیل کی راہنمائی کر رہی تھی۔ اسلئے اگر وہ لشکر کیساتھ جاتی تو سپاہیوں کو یقین ہو جاتا کہ یہوواہ لشکر کی راہنمائی کر رہا ہے اور اُنکا حوصلہ بلند رہتا۔
برق کے ردِعمل کا مقابلہ موسیٰ، جدعون اور یرمیاہ کیساتھ کِیا جا سکتا ہے جو اپنے آپکو اِس لائق نہیں سمجھتے تھے کہ وہ خدا کی مدد کے بغیر اُسکا حکم پورا کر سکیں گے۔ لیکن خدا اُن سے اِس بات پر ناراض نہیں تھا۔ (خروج ۳:۱۱–۴:۱۷؛ ۳۳:۱۲-۱۷؛ قضاۃ ۶:۱۱-۲۲، ۳۶-۴۰؛ یرمیاہ ۱:۴-۱۰) دبورہ کے بارے میں کیا کہا جا سکتا ہے؟ اُس نے برق کا درجہ حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ بڑی حلیمی سے ایک نبِیّہ کی حیثیت سے خدا کی خدمت کرتی رہی۔ دبورہ نے برق سے کہا کہ ”مَیں ضرور تیرے ساتھ چلونگی۔“ (قضاۃ ۴:۹) جیہاں، وہ اپنے گھر—تحفظ کی جگہ—کو چھوڑ کر لشکر کیساتھ اپنی جان خطرے میں ڈالنے کو تیار تھی۔ ہمارے لئے ایمان اور جُرأت کا کیا ہی عمدہ نمونہ!
ایمان کی بِنا پر اسرائیلی برق کا ساتھ دیتے ہیں
خدا کے حکم کی تعمیل میں برق، دبورہ اور ۱۰،۰۰۰ اسرائیلی کوہِتبور پر جنگ کیلئے جمع ہوئے۔ یہ پہاڑ دُور سے نظر آتا تھا۔ نفتالی اور زبولون کے قبائل اِسکے آسپاس رہتے تھے اسلئے کوہِتبور لشکر کے ملنے کی ایک بہترین جگہ تھی۔
جن اسرائیلیوں نے برق کا ساتھ دیا اُنہیں خدا پر پورا بھروسا رکھنے کی ضرورت تھی۔ یہوواہ نے برق کو کنعانیوں پر فتح دینے کا وعدہ بھی کِیا تھا۔ لیکن قضاۃ ۵:۸ میں لکھا ہے کہ ”کیا چالیس ہزار اسرائیلیوں میں بھی کوئی ڈھال یا برچھی دکھائی دیتی تھی؟“ اِسکا مطلب ہے کہ اُنکے پاس ہتھیار نہ ہونے کے برابر تھے اور اگر اُنکے پاس ہتھیار ہوتے بھی تو وہ سیسرا کے رتھوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے تھے جن پر لوہے کی درانتیاں لگی ہوئی تھیں۔ جونہی سیسرا کو خبر پہنچی کہ برق کوہِتبور پر چڑھ گیا ہے تو اُس نے اپنے لشکر کو نہرِقیسون پر جمع کر دیا۔ (قضاۃ ۴:۱۲، ۱۳) لیکن سیسرا یہ بھول گیا تھا کہ وہ برق کے خلاف نہیں بلکہ اُس خدا کے خلاف لڑنے والا ہے جسکے ہاتھ میں سب کچھ ہے۔
برق سیسرا کے لشکر کو شکست دیتا ہے
جب جنگ شروع کرنے کا وقت آ گیا تو دبورہ نے برق سے کہا: ”اُٹھ کیونکہ یہی وہ دن ہے جس میں [یہوواہ] نے سیسرؔا کو تیرے ہاتھ میں کر دیا ہے۔ کیا [یہوواہ] تیرے آگے نہیں گیا ہے؟“ اِس حکم کا مطلب یہ تھا کہ برق کو اپنے سپاہیوں کیساتھ وادی میں سیسرا کے لشکر کا مقابلہ کرنے کیلئے کوہِتبور سے اُترنا تھا۔ لیکن وادی میں تو سیسرا کے رتھ اُنکو کچل سکتے تھے۔ اگر آپ برق کے لشکر میں سپاہی ہوتے تو آپ اِس حکم کو سن کر کیا کرتے؟ کیا آپ یہ یاد رکھتے کہ یہ حکم یہوواہ خدا کی طرف سے ہے اور اِسلئے اِسکی تعمیل ضروری ہے؟ برق اور اُسکے ۱۰،۰۰۰ سپاہیوں نے اِس حکم کی تعمیل کی ”اور [یہوواہ] نے سیسرؔا کو اور اُسکے سب رتھوں اور سب لشکر کو تلوار کی دھار سے برقؔ کے سامنے شکست دی۔“—قضاۃ ۴:۱۴، ۱۵۔
یہوواہ کی مدد کیساتھ برق نے سیسرا کے لشکر کو شکست دی۔ بائبل اِس جنگ کے بارے میں تفصیل سے تو کچھ نہیں بتاتی لیکن سیسرا کو شکست دینے کے بعد دبورہ اور برق نے فتح کا گیت گایا کہ ’آسمان ٹوٹ پڑا اور بادل برسے۔‘ غالباً اچانک بارش ہو جانے کی وجہ سے سیسرا کے تمام رتھ کیچڑ میں پھنس گئے تھے۔ اسطرح اُسکا سب سے خطرناک ہتھیار بالکل ناکارہ ہو گیا۔ گیت میں سیسرا کے سپاہیوں کی لاشوں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ”قیسوؔن ندی اُنکو بہا لے گئی۔“—قضاۃ ۵:۴، ۲۱۔
کیا ہم بائبل میں درج اس واقعہ پر یقین کر سکتے ہیں؟ بیشتراوقات قیسون میں پانی کم ہی ہوتا ہے اور وادی خشک رہتی ہے۔ لیکن تیز اور طوفانی بارشوں میں اِس وادی میں اچانک سیلاب آ جاتا ہے۔ آئیے اِسکی کچھ مثالوں پر غور کریں۔ پہلی عالمی جنگ کے دوران اِسی علاقے میں جنگ ہو رہی تھی۔ لڑائی میں سپاہی گھوڑوں پر سوار تھے۔ اچانک بارش ہونا شروع ہو گئی اور صرف ۱۵ منٹ کے بعد چکنی مٹی کی وجہ سے لڑائی کو جاری رکھنا مشکل ہو گیا۔ اِس واقعہ سے تقریباً سو سال پہلے ۱۷۹۹ میں نپولین کوہِتبور کے علاقے میں ترکوں کے خلاف لڑائی کر رہا تھا۔ اِس جنگ کے بارے میں ایک کتاب یوں کہتی ہے کہ ”بہت سے ترکی سپاہی جو قیسون کی وادی کو پار کرکے دشمن سے بھاگنے کی کوشش کر رہے تھے سیلاب کے پانی میں ڈوب کر اپنی جان کھو بیٹھے۔“
قدیم زمانے کے ایک مؤرخ فلاویس یوسیفس کے مطابق برق اور سیسرا کے لشکر کے عین ٹکراؤ کے وقت ”طوفان آ گیا، اولے پڑنے لگے اور شدید بارش ہونے لگی۔ طوفانی ہوا کی وجہ سے بارش کنعانیوں کی آنکھوں پر پڑ رہی تھی اور وہ کچھ دیکھنے کے قابل نہ رہے۔ اُنکے تیر اور فلاخن کام نہ آ سکے۔“
قضاۃ ۵:۲۰ کے مطابق، ”آسمان کی طرف سے بھی لڑائی ہوئی بلکہ ستارے بھی اپنی اپنی منزل میں سیسرؔا سے لڑے۔“ ستاروں نے کیسے سیسرا کے خلاف لڑائی کی؟ بعض کے خیال میں یہ الہٰی یا پھر ملکوتی مدد تھی۔ دیگر کا خیال ہے کہ آسمان سے شہاب گرنے لگے یا پھر اِسکا یہ مطلب ہو سکتا ہے کہ سیسرا کے نجومیوں نے جو پیشینگوئیاں کی تھیں وہ غلط ثابت ہوئیں۔ اگرچہ بائبل اِسکی کوئی وضاحت پیش نہیں کرتی کہ ستاروں نے سیسرا کیساتھ کسطرح لڑائی کی، لیکن ہم اِس بیان سے یہ ضرور سمجھ سکتے ہیں کہ خدا نے کسی نہ کسی طرح سے اسرائیلی لشکر کی مدد ضرور کی تھی۔ اِس سے قطعِنظر کہ کیا واقع ہوا برق نے اِس سے بھرپور فائدہ اُٹھایا ”برقؔ رتھوں اور لشکر کو . . . رگیدتا گیا چنانچہ سیسرؔا کا سارا لشکر تلوار سے نابود ہوا اور ایک بھی نہ بچا۔“ (قضاۃ ۴:۱۶) لیکن لشکر کے سردار سیسرا کیساتھ کیا واقع ہوا؟
خدا ظالم کو ”عورت کے ہاتھ بیچ ڈالیگا“
بائبل میں لکھا ہے کہ سیسرا میدانِجنگ کو چھوڑ کر ”حبرقینیؔ کی بیوی یاعیلؔ کے ڈیرے کو پیدل بھاگ گیا۔ اِسلئےکہ حصوؔر کے بادشاہ یاؔبین اور حبرقینیؔ کے گھرانے میں صلح تھی۔“ یاعیل نے جنگ سے نڈھال سیسرا کو اپنے ڈیرے میں آنے کی دعوت دی، اُسے دودھ پلایا اور اُسکو کمبل اُڑھا دیا۔ جب سیسرا سو گیا تو یاعیل ”ڈیرے کی ایک میخ اور ایک میخچو کو ہاتھ میں لے دبے پاؤں اُسکے پاس گئی اور میخ اُسکی کنپٹیوں پر رکھ کر ایسی ٹھونکی کہ وہ پار ہو کر زمین میں جا دھسی کیونکہ وہ گہری نیند میں تھا۔ پس وہ بےہوش ہو کر مر گیا۔“—قضاۃ ۴:۱۷-۲۱۔
برق سیسرا کا پیچھا کرتے کرتے یاعیل کے خیمے تک پہنچ گیا۔ ”یاعیلؔ اُس سے ملنے کو نکلی اور اُس سے کہا آ جا اور مَیں تجھے وہی شخص جسے تُو ڈھونڈتا ہے دکھا دونگی۔ پس اُس نے اُسکے پاس آکر دیکھا کہ سیسرؔا مرا پڑا ہے اور میخ اُسکی کنپٹیوں میں ہے۔“ دبورہ نبِیّہ برق کو پہلے ہی کہہ چکی تھی کہ ”اِس سفر سے جو تُو کرتا ہے تجھے کچھ عزت حاصل نہ ہوگی کیونکہ [یہوواہ] سیسرؔا کو ایک عورت کے ہاتھ بیچ ڈالیگا۔“ (قضاۃ ۴:۹، ۲۲) اِس پیشینگوئی کی تکمیل نے برق کے حوصلے کو کتنا بلند کِیا ہوگا۔
کیا یاعیل نے اپنے شوہر کے دوست کو قتل کرکے غداری کی تھی؟ یہوواہ کی نظر میں یہ غداری نہیں تھی۔ برق اور دبورہ کے گیت میں کہا گیا ہے کہ یاعیل ’ڈیروں میں رہنے والی عورتوں سے مبارک ہوگی۔‘ اُس گیت سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ سیسرا کی شکست کتنی عجیب تھی۔ گیت میں سیسرا کی ماں بےچینی سے اپنے بیٹے کے جنگ سے لوٹنے کے انتظار میں ہے۔ وہ پوچھتی ہے کہ ”اُسکے رتھ کے آنے میں اتنی دیر کیوں لگی؟“ سیسرا کی ماں کی پریشانی کو دُور کرنے کیلئے ”دانشمند عورتیں“ اُس سے کہتی ہیں کہ وہ ضرور لُوٹ بانٹ رہا ہوگا اِسلئے اُسے دیر ہو گئی ہے۔ وہ پوچھتی ہیں ”کیا اُنہوں نے لُوٹ کو پا کر اُسے بانٹ نہیں لیا ہے؟ کیا ہر مرد کو ایک ایک بلکہ دو دو کنواریاں اور سیسرؔا کو رنگارنگ کپڑوں کی لُوٹ . . . اور دونوں طرف بیلبوٹے کڑھے ہوئے رنگارنگ کپڑوں کی لُوٹ جو اسیروں کی گردنوں پر لدی ہو نہیں ملی؟“—قضاۃ ۵:۲۴، ۲۸-۳۰۔
ہمارے لئے سبق
برق کی سرگزشت سے ہم کئی اہم سبق سیکھ سکتے ہیں۔ جو لوگ یہوواہ کے احکام کی خلافورزی کرتے ہیں اُنکے لئے مسائل اور پریشانیاں بڑھ جائینگی۔ لیکن بُرے کاموں سے توبہ کرکے، یہوواہ پر ایمان لانے اور اُسکی مرضی پوری کرنے سے ہم ہر طرح کی مشکلات سے نجات پا سکتے ہیں۔ جب خدا ہمیں کچھ کرنے کو کہتا ہے جسکی وجہ ہم نہیں سمجھ سکتے تو ہمیں پھر بھی اِسکی تعمیل کرنی چاہئے کیونکہ اُسکے احکام ہمیشہ ہماری بہتری کیلئے ہوتے ہیں۔ (یسعیاہ ۴۸:۱۷، ۱۸) برق نے یہوواہ پر بھروسا رکھ کر اُسکے ہر حکم کی تعمیل کی اور اِسلئے وہ ’غیروں کی فوجوں کو بھگا دینے‘ میں کامیاب رہا۔—عبرانیوں ۱۱:۳۲-۳۴۔
دبورہ اور برق کا دلگداز گیت اِن الفاظ کیساتھ ختم ہوتا ہے: ”اَے [یہوواہ]! تیرے سب دشمن ایسے ہی ہلاک ہو جائیں۔ لیکن اُسکے پیار کرنے والے آفتاب کی مانند ہوں جب وہ آبوتاب کیساتھ طلوع ہوتا ہے۔“ (قضاۃ ۵:۳۱) جب یہوواہ شیطان کی بُری دُنیا کو ہمیشہ کیلئے ختم کر دیگا تو یہ الفاظ کتنے سچ ثابت ہونگے!
[صفحہ ۲۹ پر تصویر]
یہوواہ نے دبورہ نبِیّہ کے ذریعے برق کو بلوایا
[صفحہ ۳۱ پر تصویر]
نہرِقیسون میں پانی چڑھ جانے سے اچانک سیلاب آ جاتا ہے
[تصویر کا حوالہ]
.Pictorial Archive )Near Eastern History( Est
[صفحہ ۳۱ پر تصویر]
کوہِتبور