کیا آپ یہوواہ کے طالب ہیں؟
ایک مسیحی کی شدید خواہش تھی کہ وہ گاڑی پر اپنے ساتھ سفر کرنے والے لوگوں کو بائبل سے خوشخبری سنائے۔ (مرقس ۱۳:۱۰) تاہم، خوف اُس کی ہمت پست کر دیتا تھا۔ کیا اُس نے ہار مان لی؟ نہیں، اُس نے اس کی بابت مستعدی سے دُعا کی اور گفتگو شروع کرنے کے طریقوں پر کام کرتا رہا۔ یہوواہ خدا نے اس شخص کی درخواست کا جواب دیا اور اُسے گواہی دینے کی قوت بخشی۔
جب ہم یہوواہ اور اُس کی برکت کے متلاشی ہوتے ہیں تو ایسا اشتیاق انتہائی ضروری ہے۔ پولس رسول نے کہا: ”خدا کے پاس آنے والے کو ایمان لانا چاہئے کہ وہ موجود ہے اور اپنے طالبوں کو بدلہ دیتا ہے۔“ (عبرانیوں ۱۱:۶) محض یہوواہ کی تلاش کرنا ہی کافی نہیں ہے۔ یونانی فعل جس کا ترجمہ ”طالب“ کِیا گیا ہے یہ کوشش کی شدت کو بیان کرتا ہے۔ اس میں ایک شخص کی تمامتر قوت، دلوجان اور دماغ شامل ہے۔ اگر ہم یہوواہ کے طالب ہیں تو ہم خود کو لاپرواہ، عذر پیش کرنے والے یا کاہل شخص کے طور پر پیش نہیں کریں گے۔ بلکہ ہم اُس کی تلاش میں حقیقی سرگرمی دکھائیں گے۔—اعمال ۱۵:۱۷۔
یہوواہ کے طالب لوگ
صحائف یہوواہ کی تلاش میں اپنا دلوجان لگا دینے والے لوگوں کی مثالوں سے پُر ہیں۔ ایک ایسا شخص یعقوب تھا جو صبح ہونے تک خدا کے فرشتے کے ساتھ کشتی کرتا رہا۔ نتیجتاً، یعقوب کا نام اسرائیل (خدا کے ساتھ زورآزمائی کرنے والا) رکھا گیا کیونکہ اُس نے خدا کے ساتھ ”زورآزمائی“ کی اور ”غالب ہوا۔“ اُس کی مخلص کوشش کے لئے فرشتے نے اُسے برکت دی۔—پیدایش ۳۲:۲۴-۳۰۔
پھر ایک گلیلی عورت کا ذکر ملتا ہے جو بارہ برس سے جریانِخون میں مبتلا ہونے کی وجہ سے ”بڑی تکلیف“ میں تھی۔ اس حالت میں وہ دوسرے لوگوں کو چُھونے کی مجاز نہیں تھی۔ اس کے باوجود اُس نے یسوع کو ملنے کی جرأت کی۔ وہ کہتی تھی: ”اگر مَیں صرف اُس کی پوشاک ہی چھولونگی تو اچھی ہو جاؤں گی۔“ ذرا تصور کریں جب وہ یسوع کے پیچھے پیچھے چلنے والی بِھیڑ میں گزر رہی تھی اور بِھیڑ اُس پر گری پڑتی تھی۔‘ یسوع کی پوشاک کو چُھوتے ہی اُسے محسوس ہوا کہ ”فیالفور اُس کا خون بہنا بند ہو گیا“ اور اُس نے اپنے بدن میں معلوم کِیا کہ اُس نے بیماری سے شفا پا لی ہے! جب یسوع نے پوچھا، ”کس نے میری پوشاک چُھوئی؟“ تو وہ ڈر گئی۔ مگر یسوع نے تپاک کے ساتھ اُسے کہا: ”بیٹی تیرے ایمان سے تجھے شفا ملی۔ سلامت جا اور اپنی اس بیماری سے بچی رہ۔“ اُس کی کوششیں بابرکت ثابت ہوئیں۔—مرقس ۵:۲۴-۳۴؛ احبار ۱۵:۲۵-۲۷۔
ایک دوسرے موقع پر، ایک فنیکی عورت نے یسوع سے درخواست کی کہ اُس کی بیٹی کو شفا دے۔ یسوع نے جواب دیا کہ بچوں کی روٹی کتوں کو دینا مناسب نہیں۔ اُس کا مطلب تھا کہ وہ یہودیوں کو چھوڑ کر غیراسرائیلیوں کی مدد نہیں کر سکتا تھا۔ اُس کی تمثیل کو سمجھتے ہوئے، عورت نے درخواست کی: ”ہاں خداوند کیونکہ کتّے بھی اُن ٹکڑوں میں سے کھاتے ہیں جو اُن کے مالکوں کی میز سے گِرتے ہیں۔“ اِس کے مضبوط ایمان اور خلوص نے یسوع کو اُسے یہ کہنے کی تحریک دی: ”اَے عورت تیرا ایمان بہت بڑا ہے۔ جیسا تُو چاہتی ہے تیرے لئے ویسا ہی ہو۔“—متی ۱۵:۲۲-۲۸۔
اگر اِن اشخاص نے اپنی کوششوں میں مستعدی نہ دکھائی ہوتی تو ان کے ساتھ کیا ہوتا؟ اگر اُنہوں نے شروع میں ہی مشکلات کے آگے ہار مان لی ہوتی تو کیا اُنہیں یہ برکات حاصل ہوتیں؟ ہرگز نہیں! یہ مثالیں اس نکتے کو بخوبی واضح کرتی ہیں جو یسوع نے سکھایا کہ یہوواہ کے طالب ہونے کے لئے ’مسلسل کوشش کرنے‘ کی اشد ضرورت ہے۔—لوقا ۱۱:۵-۱۳۔
اُس کی مرضی کے موافق
مذکورہبالا سرگزشتوں میں جن لوگوں کو معجزانہ شفا حاصل ہوئی کیا اُن کے لئے صرف خلوصدل ہونا ہی کافی تھا؟ نہیں، یہ بھی ضروری تھا کہ اُن کی درخواست خدا کی مرضی کے مطابق ہو۔ یسوع کو یہ ثابت کرنے کے لئے معجزے کرنے کی طاقت دی گئی تھی کہ وہ خدا کا بیٹا اور موعودہ مسیحا ہے۔ (یوحنا ۶:۱۴؛ ۹:۳۳؛ اعمال ۲:۲۲) مزیدبرآں، یسوع کے معجزے اُن شاندار زمینی برکات کا عکس تھے جو یہوواہ مسیح کی ہزارسالہ بادشاہت میں نوعِانسان کو دے گا۔—مکاشفہ ۲۱:۴؛ ۲۲:۲۔
اب خدا کی مرضی یہ نہیں کہ سچے مذہب پر چلنے والے شفا دینے اور مختلف زبانیں بولنے کی معجزانہ قوتیں رکھیں۔ (۱-کرنتھیوں ۱۳:۸، ۱۳) ہمارے زمانے کے لئے اُس کی مرضی یہ ہے کہ بادشاہت کی منادی تمام زمین پر کی جائے تاکہ ’سب انسان سچائی کی پہچان حاصل کر سکیں۔‘ (۱-تیمتھیس ۲:۴؛ متی ۲۴:۱۴؛ ۲۸:۱۹، ۲۰) اگر خدا کے خادم اُس کی مرضی کے موافق عمل کریں تو وہ اپنی مخلصانہ دُعاؤں کے جواب کی توقع کر سکتا ہے۔
بعض شاید یہ سوچیں کہ ’اگر خدا کا مقصد ہر حال میں پورا ہونا ہی ہے تو ہمیں جانفشانی کرنے کی کیا ضرورت ہے؟‘ یہ بات سچ ہے کہ خدا انسانی کوششوں سے قطعِنظر اپنا مقصد پورا کرے گا توبھی وہ انسانوں کو اپنی مرضی کی تکمیل میں شامل کرکے خوش ہوتا ہے۔ یہوواہ گھر بنانے والے ایک شخص کی مانند ہے۔ معمار کے پاس عمارت کا پورا نقشہ ہوتا ہے اور وہ مقامی سازوسامان سے عمارت بنانے کا انتخاب کرتا ہے۔ اُسی طرح، یہوواہ بھی اپنا مقصد پورا کرنا چاہتا ہے اور اپنے ایسے خادموں کو استعمال کرکے خوش ہوتا ہے جو رضامندی سے خود کو پیش کرتے ہیں۔—زبور ۱۱۰:۳؛ ۱-کرنتھیوں ۹:۱۶، ۱۷۔
نوجوان توشیو کے تجربے پر غور کریں۔ سکول میں داخل ہونے کے بعد وہ اپنے اس نئے اور بڑے علاقے میں زیادہ سے زیادہ گواہی دینا چاہتا تھا۔ وہ ہمیشہ اپنی بائبل تیار رکھتا تھا اور مثالی مسیحی ثابت ہونے کی کوشش کرتا تھا۔ اپنے سکول کے پہلے سال میں اُسے اپنی کلاس میں ایک تقریر پیش کرنے کا موقع ملا۔ توشیو نے مدد کے لئے یہوواہ سے دُعا کی اور اُسے یہ دیکھ کر بڑی حیرت ہوئی کہ ساری کلاس نے اُس کی تقریر بہت دھیان سے سنی جس کا عنوان تھا ”پائنیر خدمت اپنانے کا مقصد۔“ اُس نے واضح کِیا کہ وہ یہوواہ کے گواہوں میں کُلوقتی خادم بننا چاہتا ہے۔ ایک طالبعلم اُس سے بائبل مطالعہ کرنے پر آمادہ ہو گیا اور بپتسمہ بھی لیا۔ توشیو کی دُعا اور مخلصانہ کوششوں کا اُسے بڑا اَجر حاصل ہوا۔
آپ کتنے خلوصدل ہیں؟
آپ کئی طریقوں سے ظاہر کر سکتے ہیں کہ آپ یہوواہ اور اُس کی برکات کے خلوصدلی سے طالب ہیں۔ اوّل، چند بنیادی کام آپ کر سکتے ہیں جیسےکہ مسیحی اجلاسوں کے لئے اچھی تیاری کرنا۔ خوب تیارشُدہ تبصروں، تحریکانگیز تقاریر اور مؤثر مظاہروں سے آپ ظاہر کرتے ہیں کہ آپ کتنی شدت سے یہوواہ کی تلاش کر رہے ہیں۔ آپ اپنی خدمت کا معیار بہتر بنانے سے بھی اپنی خلوصدلی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔ کیوں نہ میدانی خدمت میں لوگوں سے زیادہ دوستانہ انداز میں بات کی جائے اور اپنے علاقے کے مطابق مؤثر تعارفات استعمال کئے جائیں؟ (کلسیوں ۳:۲۳) اپنی پوری کوشش کرنے سے ایک مسیحی خادم یا بزرگ کے طور پر تفویضات قبول کرنے کے قابل ہو سکتا ہے۔ (۱-تیمتھیس ۳:۱، ۲، ۱۲، ۱۳) آپ خود کو دستیاب رکھنے سے دینے کی خوشی میں شریک ہو سکتے ہیں۔ آپ کوئی برانچ تعمیر کرنے کے کام میں حصہ لینے یا اپنے مُلک میں یہوواہ کے گواہوں کے برانچ دفتر میں کام کرنے کے لئے درخواست دے سکتے ہیں۔ اگر آپ لائق غیرشادیشُدہ بھائی ہیں تو آپ منسٹریل ٹریننگ سکول میں جا سکتے ہیں جو روحانی اشخاص کو اچھے چرواہے بننے کی تربیت دیتا ہے۔ اگر آپ شادیشُدہ ہیں تو مشنری خدمت یہوواہ کی زیادہ خدمت کرنے کی مخلصانہ خواہش کا اظہار ہو سکتی ہے۔ آپ ایسے علاقے میں بھی جا سکتے ہیں جہاں بادشاہتی مُنادوں کی ضرورت زیادہ ہے۔—۱-کرنتھیوں ۱۶:۹۔
زیادہ اہم بات آپ کا رُجحان ہے جس سے آپ کوئی کام کرتے ہیں۔ آپ کو خواہ کیسی ہی ذمہداری دی جائے، اسے مستعدی، جوش اور ’خلوصدلی‘ سے نبھائیں۔ (اعمال ۲:۴۶؛ رومیوں ۱۲:۸) آپ ہر تفویض کو یہوواہ کی حمد اور جلال کے لئے اشتیاق ظاہر کرنے کا موقع سمجھ سکتے ہیں۔ یہوواہ کی مدد کے لئے بِلاناغہ دُعا کریں اور اپنی پوری کوشش کریں۔ یوں آپ کو بہت برکت ملے گی۔
بااَجر مخلصانہ کوششیں
کیا آپ کو وہ مسیحی شخص یاد ہے جس نے دوسروں کو منادی کرنے کے خوف پر غالب آنے کے لئے دُعا کی تھی؟ یہوواہ نے اُس کی مخلصانہ خواہش کو برکت دی تھی۔ اُس بھائی نے خوشگوار رسائی حاصل کرنے اور گفتگو شروع کرنے کے لئے اچھے موضوعات کا انتخاب کرنے کی کوشش کی۔ اُسے ایک شخص کو بائبل میں سے مؤثر گواہی دینے میں کامیابی حاصل ہوئی جو انسانی رشتوں میں تناؤ کی وجہ سے پریشان تھا۔ ٹرین میں کئی ملاقاتوں سے گھریلو بائبل مطالعہ شروع ہو گیا۔ یہوواہ نے واقعی اُسے مخلصانہ کوششوں کے لئے برکت دی تھی!
اگر آپ بھی خلوصدلی سے یہوواہ کے طالب ہوتے ہیں تو آپ بھی ایسے ہی نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔ اگر آپ فروتنی سے مستقلمزاجی دکھاتے اور خدائی کام میں پورے دل سے کوشش کرتے ہیں تو یہوواہ آپ کو بھی اپنے مقاصد کے مطابق استعمال کرے گا اور کثیر برکات سے نوازے گا۔
[صفحہ ۲۶ پر تصویر]
اگر یہ عورت مستقلمزاج نہ ہوتی تو اس کے ساتھ کیا ہوا ہوتا؟
[صفحہ ۲۷ پر تصویر]
کیا آپ مستقلمزاجی سے یہوواہ سے برکت کے طالب ہوتے ہیں؟
[صفحہ ۲۸ پر تصویریں]
آپ کیسے ظاہر کر سکتے ہیں کہ آپ خلوصدلی سے یہوواہ کی تلاش کر رہے ہیں؟