یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م02 15/‏2 ص.‏ 4-‏7
  • خدائی اُصول آپ کیلئے مفید ہو سکتے ہیں

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • خدائی اُصول آپ کیلئے مفید ہو سکتے ہیں
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2002ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • ‏”‏تمام زمین پر بلندوبالا“‏
  • ‏”‏فروتنی سے“‏ چلیں
  • خدائی اُصولوں سے اپنے قدموں کی راہنمائی کریں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2002ء
  • خدا کے اصولوں پر عمل کرنے کے کیا فائدے ہیں؟‏
    خدا کی طرف سے خوشخبری
  • ‏”‏یہوواہ کی اور جدعون کی تلوار“‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2005ء
  • بزرگو!‏ جدعون سے سیکھیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2023ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2002ء
م02 15/‏2 ص.‏ 4-‏7

خدائی اُصول آپ کیلئے مفید ہو سکتے ہیں

بِلاشُبہ آپ جانتے ہیں کہ جانور جبلّت کے تابع ہیں۔ کئی مشینیں وضع‌کردہ ہدایات پر عمل کرنے کیلئے ترتیب دی جاتی ہیں۔ تاہم انسان درحقیقت اُصولوں سے راہنمائی حاصل کرنے کیلئے خلق کئے گئے تھے۔ آپ اس بات پر کیسے یقین کر سکتے ہیں؟ تمام راست اُصولوں کے موجد یہوواہ نے جب پہلے انسانی جوڑے کو خلق کِیا تو فرمایا:‏ ”‏ہم انسان کو اپنی صورت پر اپنی شبِیہ کی مانند بنائیں۔“‏ خالق ایک روح ہے، وہ ہماری طرح نفسانی جسم نہیں رکھتا لہٰذا، اُسکی ”‏صورت“‏ پر بنائے جانے کا مطلب ہے کہ ہم کسی حد تک اُسکی عمدہ صفات کی نقل کرکے اُسکی شخصیت کی عکاسی کر سکتے ہیں۔ انسان اُصولوں یا اپنی نظر میں درست روش کے ضوابط کی مطابقت میں اپنی زندگیوں کی راہنمائی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہوواہ نے ایسے کئی اُصولوں کو اپنے کلام میں قلمبند کروا دیا تھا۔—‏پیدایش ۱:‏۲۶؛‏ یوحنا ۴:‏۲۴؛‏ ۱۷:‏۱۷‏۔‏

شاہد کوئی کہے:‏ ’‏بائبل میں تو ہزاروں اُصول پائے جاتے ہیں۔ ان سب کو جاننا میرے لئے ناممکن ہے۔‘‏ یہ سچ ہے۔ تاہم اس حقیقت پر غور کریں:‏ تمام خدائی اُصول فائدہ‌مند ہیں لیکن بعض دوسروں کی نسبت زیادہ اہم ہیں۔ آپ متی ۲۲:‏۳۷-‏۳۹ سے اس بات کا اندازہ لگا سکتے ہیں جہاں یسوع نے ظاہر کِیا کہ موسوی شریعت کے احکامات اور اس سے مماثل اُصولوں میں سے چند دوسروں کی نسبت زیادہ اہمیت کے حامل تھے۔‏

یہ اہم اُصول کونسے ہیں؟ بائبل کے بنیادی اُصول وہ ہیں جو یہوواہ خدا کیساتھ ہمارے رشتے پر براہِ‌راست اثرانداز ہوتے ہیں۔ اگر ہم پورے دل سے ان پر عمل کریں تو خالق ہمارے اخلاقی قُطب‌نما پر اثرانداز ہوتا ہے۔ علاوہ‌ازیں، ایسے اُصول بھی ہیں جو دوسروں کیساتھ ہمارے تعلقات پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ ان کا اطلاق پہلے مَیں جیسے رُجحان کی مزاحمت کرنے میں ہمارے لئے مددگار ثابت ہوگا۔‏

آئیے بائبل میں پائی جانے والی اہم سچائیوں میں سے ایک پر غور کریں۔ یہ سچائی کیا ہے اور ہمیں کیسے متاثر کرتی ہے؟‏

‏”‏تمام زمین پر بلندوبالا“‏

پاک صحائف واضح کرتے ہیں کہ یہوواہ ہمارا عظیم خالق، قادرِمطلق خدا ہے۔ کوئی اُس کا ثانی نہیں اور نہ ہی کوئی اُسکی جگہ لے سکتا ہے۔ یہ بائبل کی بنیادی سچائی ہے۔—‏پیدایش ۱۷:‏۱؛‏ واعظ ۱۲:‏۱‏۔‏

زبور کی کتاب کے ایک مصنف نے یہوواہ کی بابت بیان کِیا:‏ ”‏تُو ہی .‏ .‏ .‏ تمام زمین پر بلندوبالا ہے۔“‏ قدیم بادشاہ داؤد نے لکھا:‏ ”‏اَے [‏یہوواہ]‏ بادشاہی تیری ہے اور تُو ہی بحیثیت سردار سبھوں سے ممتاز ہے۔“‏ اور مشہور نبی یرمیاہ نے یہ حقیقت قلمبند کرنے کی تحریک پائی:‏ ”‏اَے [‏یہوواہ]‏!‏ تیرا کوئی نظیر نہیں۔ تُو عظیم ہے اور قدرت کے سبب سے تیرا نام بزرگ ہے۔“‏—‏زبور ۸۳:‏۱۸؛‏ ۱-‏تواریخ ۲۹:‏۱۱؛‏ یرمیاہ ۱۰:‏۶‏۔‏

ہم خدا کی بابت ان سچائیوں کا اپنی روزمرّہ زندگی پر کیسے اطلاق کر سکتے ہیں؟‏

یہ بات تو واضح ہے کہ ہماری زندگی میں سب سے اہم مقام ہمارے خالق اور زندگی کے ماخذ کو حاصل ہے۔ لہٰذا کیا اپنی ذات پر توجہ مبذول کرانے کے میلان کی مزاحمت کرنا موزوں نہیں—‏ایک ایسا میلان جو بعض میں زیادہ جبکہ دیگر کے اندر کم ہو سکتا ہے؟ ایک پُرحکمت راہنما اُصول یہ ہے کہ ”‏جوکچھ کرو سب خدا کے جلال کے لئے کرو۔“‏ (‏۱-‏کرنتھیوں ۱۰:‏۳۱‏)‏ دانی‌ایل نبی نے اس سلسلے میں ایک عمدہ مثال قائم کی۔‏

تاریخ بیان کرتی ہے کہ بابل کے بادشاہ نبوکدنضر نے ایک مرتبہ ایک خواب سے پریشان ہوکر اُسکا مطلب جاننا چاہا۔ جب تمام لوگ اسکی درست تعبیر بتانے میں ناکام رہے تو دانی‌ایل نے بادشاہ کو وہ سب کچھ بتا دیا جسے جاننے کا وہ متمنی تھا۔ کیا دانی‌ایل نے اس کامیابی کے لئے خود کو قابلِ‌تعریف ٹھہرایا؟ ہرگز نہیں، بلکہ اُس نے ’‏راز کی باتیں آشکارا کرنے والے آسمان کے خدا‘‏ کی تمجید کی۔ دانی‌ایل نے مزید بیان کِیا:‏ ”‏اس راز کے مجھ پر آشکارا ہونے کا سبب یہ نہیں کہ مجھ میں کسی اَور ذی‌حیات سے زیادہ حکمت ہے۔“‏ دانی‌ایل ایک بااصول شخص تھا۔ اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں کہ دانی‌ایل کی کتاب میں تین بار اُسکا بیان خدا کی نظروں میں ”‏عزیز“‏ شخص کے طور پر کِیا گیا ہے۔—‏دانی‌ایل ۲:‏۲۸،‏ ۳۰؛‏ ۹:‏۲۳؛‏ ۱۰:‏۱۱،‏ ۱۹‏۔‏

دانی‌ایل کی نقل کرنا آپ کیلئے بھی فائدہ‌مند ہوگا۔ دانی‌ایل کے نمونے کی پیروی کرنے میں سب سے اہم عنصر محرک ہے۔ آپ کی کامیابی کو کس کی تمجید کا باعث بننا چاہئے؟ صورتحال خواہ کیسی بھی ہو، آپ اس اہم‌ترین بائبل اُصول کی مطابقت میں عمل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ یہوواہ حاکمِ‌اعلیٰ ہے۔ ایسا کرنا آپکو اُسکی نظروں میں ”‏عزیز“‏ بنائیگا۔‏

آئیے انسانی تعلقات کے سلسلے میں ہماری راہنمائی کرنے والے دو بنیادی اُصولوں پر غور کریں۔ اپنی ذات کو اہم خیال کرنے کے عام رُجحان کے مقابلے میں زندگی کا یہ حلقہ بالخصوص ایک چیلنج پیش کرتا ہے۔‏

‏”‏فروتنی سے“‏ چلیں

اپنی ذات کو اہمیت دینے والے کبھی بھی مطمئن نہیں ہوتے۔ بہتیرے فوری طور پر ایک بہتر زندگی کی خواہش کرتے ہیں۔ ان کے خیال میں انکساری کمزوری کی علامت ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ صبر کی خوبی ظاہر کرنا دوسروں کا کام ہے۔ وہ ہر قیمت پر آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ کیا آپ ان لوگوں سے فرق طرزِعمل اختیار کر سکتے ہیں؟‏

خدا کے خادموں کو ہر روز ایسے رُجحان کا سامنا ہوتا ہے لیکن اُنہیں اس سے اثرپذیر نہیں ہونا چاہئے۔ پُختہ مسیحی اس اُصول کو قبول کرتے ہیں کہ ”‏جو اپنی نیکنامی جتاتا ہے وہ مقبول نہیں بلکہ جسکو [‏یہوواہ]‏ نیکنام ٹھہراتا ہے وہی مقبول ہے۔“‏—‏۲-‏کرنتھیوں ۱۰:‏۱۸‏۔‏

فلپیوں ۲:‏۳، ۴ میں درج اُصول کا اطلاق کرنا فائدہ‌مند ثابت ہوگا۔ یہ صحیفہ آپکی حوصلہ‌افزائی کرتا ہے کہ ”‏تفرقے اور بیجا فخر کے باعث کچھ نہ کرو بلکہ فروتنی سے ایک دوسرے کو اپنے سے بہتر سمجھے۔“‏ اس طرح آپ ”‏اپنے ہی احوال پر نہیں بلکہ دوسروں کے احوال پر بھی نظر“‏ رکھیں گے۔‏

قدیم عبرانیوں کا قاضی جدعون اپنی ذات کی بابت موزوں رُجحان رکھتا تھا اور اُس نے اپنی لیاقتوں کا معقول اندازہ لگایا تھا۔ اُس نے اسرائیل کا سردار بننے کی کبھی کوشش نہیں کی تھی۔ جب اُسے اس کام کیلئے نامزد کِیا گیا تو اُس نے اپنی نااہلیت پر توجہ دلائی۔ اُس نے وضاحت کی:‏ ”‏میرا گھرانا منسیؔ میں سب سے غریب ہے اور مَیں اپنے باپ کے گھر میں سب سے چھوٹا ہوں۔“‏—‏قضاۃ ۶:‏۱۲-‏۱۶۔‏

علاوہ‌ازیں جب یہوواہ نے جدعون کو فتح‌یابی بخشی تو افرائیم کے لوگوں نے اُسکی مخالفت کی۔ جدعون کا ردِعمل کیا تھا؟ کیا اُسکی فتح نے اُسے متکبر بنا دیا تھا؟ نہیں۔ اُسکے فروتن جواب نے ایک بڑی تباہی کا رُخ موڑ دیا۔ ”‏پس تمہاری طرح مَیں کر ہی کیا سکا ہوں؟“‏ جدعون ایک فروتن شخص تھا۔—‏قضاۃ ۸:‏۱-‏۳۔‏

سچ ہے‌کہ جدعون کی مثال بہت پُرانی ہے۔ اسکے باوجود اس سرگزشت پر غور کرنا فائدہ‌مند ثابت ہوتا ہے۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ جدعون کا رُجحان آجکل کے عام رُجحان سے بہت مختلف تھا اور اس پر عمل کرنا اُس کیلئے فائدہ‌مند ثابت ہوا تھا۔‏

اپنی ذات پر توجہ مُرتکز کرنے والا عام رُجحان اپنی قدروقیمت کی بابت غلط نظریہ قائم کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ خالق اور دوسروں کی مناسبت سے ہمیں اپنی حقیقی قدروقیمت کا احساس دلاتے ہوئے بائبل اُصول ہمارے اس غلط نظریے کی اصلاح کرتے ہیں۔‏

بائبل اُصولوں پر دھیان دینے سے ہم خودپسندی کے عام رُجحان سے بچ جاتے ہیں۔ ہم احساسات یا شخصیات سے مغلوب نہیں ہوتے۔ جتنا زیادہ ہم ان راست اُصولوں کی بابت سیکھتے ہیں اتنا ہی زیادہ ہم خالق کو بہتر طور پر جاننے کے قابل ہوتے ہیں۔ جی‌ہاں، بائبل پڑھتے وقت الہٰی اُصولوں پر خاص توجہ دینا کوشش کا تقاضا کرتا ہے۔—‏بکس کا مطالعہ کریں۔‏

یہوواہ نے انسانوں کو جانوروں سے بالاتر بنایا ہے جو بنیادی طور پر جبلّت سے تحریک پاتے ہیں۔ خدا کی مرضی پوری کرنے میں الہٰی اُصولوں کا اطلاق کرنا بھی شامل ہے۔ اس طرح ہم اپنے اخلاقی قُطب‌نما کو صحیح حالت میں رکھ سکتے ہیں، ایک ایسا قُطب‌نما جو ہماری راہنمائی خدا کے نئے نظام کی طرف کریگا۔ بائبل ہمیں یہ توقع کرنے کی معقول وجہ فراہم کرتی ہے کہ بہت جلد پوری زمین پر ایک نیا نظام کارفرما ہوگا جس میں ”‏راستبازی بسی رہیگی۔“‏—‏۲-‏پطرس ۳:‏۱۳‏۔‏

‏[‏صفحہ ۶ پر بکس/‏تصویر]‏

چند مفید بائبل اُصول

خاندان کے اندر:‏

‏”‏کوئی اپنی بہتری نہ ڈھونڈے بلکہ دوسرے کی۔“‏—‏۱-‏کرنتھیوں ۱۰:‏۲۴‏۔‏

‏”‏محبت .‏ .‏ .‏ اپنی بہتری نہیں چاہتی۔“‏—‏۱-‏کرنتھیوں ۱۳:‏۴، ۵‏۔‏

‏”‏تم میں سے بھی ہر ایک اپنی بیوی سے اپنی مانند محبت رکھے۔“‏—‏افسیوں ۵:‏۳۳‏۔‏

‏”‏اَے بیویو!‏ .‏ .‏ .‏ اپنے شوہروں کے تابع رہو۔“‏—‏کلسیوں ۳:‏۱۸‏۔‏

‏”‏اپنے باپ کا جس سے تُو پیدا ہوا شنوا ہو اور اپنی ماں کو اُسکے بڑھاپے میں حقیر نہ جان۔“‏—‏امثال ۲۳:‏۲۲‏۔‏

سکول، جائے‌ملازمت یا کاروبار میں:‏

‏’‏دغا کے ترازو نفرت‌انگیز ہیں،‘‏ ”‏شریر کی کمائی باطل ہے۔“‏—‏امثال ۱۱:‏۱،‏ ۱۸‏۔‏

‏”‏چوری کرنے والا پھر چوری نہ کرے بلکہ .‏ .‏ .‏ محنت کرے۔“‏—‏افسیوں ۴:‏۲۸‏۔‏

‏”‏جسے محنت کرنا منظور نہ ہو وہ کھانے بھی نہ پائے۔“‏—‏۲-‏تھسلنیکیوں ۳:‏۱۰‏۔‏

‏”‏جو کام کرو جی سے کرو۔ یہ جان کر کہ [‏یہوواہ]‏ کیلئے کرتے ہو۔“‏—‏کلسیوں ۳:‏۲۳‏۔‏

‏”‏ہم ہر بات میں نیکی کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔“‏—‏عبرانیوں ۱۳:‏۱۸‏۔‏

دولت کی بابت ہمارا رُجحان:‏

‏”‏جو دولتمند ہونے کے لئے جلدی کرتا ہے بے‌سزا نہ چُھوٹیگا۔“‏—‏امثال ۲۸:‏۲۰‏۔‏

‏”‏زردوست روپیہ سے آسودہ نہ ہوگا۔“‏—‏واعظ ۵:‏۱۰‏۔‏

ذاتی قدروقیمت کا اندازہ لگانا:‏

‏”‏اپنی بزرگی کا طالب ہونا زیبا نہیں ہے۔“‏—‏امثال ۲۵:‏۲۷‏۔‏

‏”‏غیر تیری ستایش کرے نہ کہ تیرا ہی مُنہ۔“‏—‏امثال ۲۷:‏۲‏۔‏

‏”‏مَیں .‏ .‏ .‏ تُم میں سے ہر ایک سے کہتا ہوں کہ جیسا سمجھنا چاہئے اُس سے زیادہ کوئی اپنے آپ کو نہ سمجھے۔“‏—‏رومیوں ۱۲:‏۳‏۔‏

‏”‏اگر کوئی شخص اپنے آپ کو کچھ سمجھے اور کچھ بھی نہ ہو تو اپنے آپ کو دھوکا دیتا ہے۔“‏—‏گلتیوں ۶:‏۳‏۔‏

‏[‏صفحہ ۵ پر تصویر]‏

دانی‌ایل نے موزوں طور پر خدا کی تمجید کی

‏[‏صفحہ ۷ پر تصویر]‏

خدائی اُصولوں کی مطابقت میں دوسروں کیساتھ پیش آنا خوشگوار تعلقات اور خوشی پر منتج ہوتا ہے

‏[‏صفحہ ۷ پر تصویر کا حوالہ]‏

U.S. Fish & Wildlife Service, Washington, D.C./Robert Bridges

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں