یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م01 1/‏12 ص.‏ 19-‏23
  • یہوواہ سے ڈر اور اُسکے حکموں کو مان

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • یہوواہ سے ڈر اور اُسکے حکموں کو مان
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2001ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • بدی سے باز آؤ
  • خدا کا خوف ماننے والے تین اشخاص
  • خدائی خوف بمقابلہ انسانی خوف
  • یہوؔواہ کے خوف میں شادمانی حاصل کرنا سیکھنا
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1995ء
  • یہوواہ کا خوف ماننے والا دل پیدا کریں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2001ء
  • خدائے برحق کا خوف ماننے کے فوائد
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1995ء
  • یہوواہ سے ڈرو اور اس کے پاک نام کی تمجید کرو
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1992ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2001ء
م01 1/‏12 ص.‏ 19-‏23

یہوواہ سے ڈر اور اُسکے حکموں کو مان

‏”‏خدا سے ڈر اور اُسکے حکموں کو مان کہ انسان کا فرضِ‌کُلی یہی ہے۔“‏ —‏واعظ ۱۲:‏۱۳‏۔‏

۱، ۲.‏ (‏ا)‏ خوف ہمیں جسمانی طور پر کیسے بچا سکتا ہے؟ (‏ب)‏ دانشمند والدین اپنے بچوں میں صحتمندانہ خوف جاگزین کرنے کی کوشش کیوں کرتے ہیں؟‏

‏”‏دلیری زندگی کو خطرے میں ڈالتی ہے جبکہ خوف حفاظت کرتا ہے،“‏ لینارڈو ڈا ونسی نے بیان کِیا۔ دلیری کا احمقانہ مظاہرہ کسی شخص کو خطرات سے غافل کر دیتا ہے جبکہ خوف اُسے محتاط رہنے کی یاددہانی کراتا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر ہم کسی چٹان کے کنارے پر پہنچ کر دیکھتے ہیں کہ ہم کتنا نیچے گِر سکتے ہیں تو ہم میں سے بیشتر جبلّی طور پر پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ اسی طرح، پچھلے مضمون سے حاصل‌کردہ سبق کے مطابق خوشگوار ڈر خدا کیساتھ اچھے رشتے کو فروغ دینے کے علاوہ، ہمیں نقصان سے بھی بچاتا ہے۔‏

۲ تاہم، زمانۂ‌جدید کے بیشتر خطرات کے خوف کی بابت ابھی بھی بہت کچھ جاننا باقی ہے۔ چھوٹے بچے بجلی یا شہر کی ٹریفک کے خطرات سے ناواقف ہونے کی وجہ سے بآسانی سنگین حادثات کا شکار ہو سکتے ہیں۔‏a دانشمند والدین اپنی اولاد کو گردوپیش کے خطرات سے باربار خبردار کرتے ہوئے اُن میں صحتمندانہ خوف جاگزین کرتے ہیں۔ والدین جانتے ہیں کہ یہ خوف ان کے بچوں کی زندگی بچا سکتا ہے۔‏

۳.‏ یہوواہ ہمیں روحانی خطرات سے کیوں اور کیسے خبردار کرتا ہے؟‏

۳ یہوواہ ہماری بھلائی کے سلسلے میں ایسی ہی فکرمندی رکھتا ہے۔ ایک شفیق باپ کے طور پر، وہ ہمیں اپنے کلام اور اپنی تنظیم کے ذریعے مفید تعلیم دیتا ہے۔ (‏یسعیاہ ۴۸:‏۱۷‏)‏ اس الہٰی تعلیمی پروگرام میں ہمیں روحانی خطرات سے ’‏بار بار‘‏ خبردار کرنا شامل ہے تاکہ ہم ایسے خطرے کے لئے صحتمندانہ خوف پیدا کر سکیں۔ (‏۲-‏تواریخ ۳۶:‏۱۵؛‏ ۲-‏پطرس ۳:‏۱‏)‏ ’‏اگر لوگوں میں ایسا دل ہوتا کہ خدا کا خوف مانکر اس کے حکموں پر عمل کرتے‘‏ تو پوری تاریخ میں بیشتر روحانی آفات اور دُکھ‌تکلیف سے بچا جا سکتا تھا۔ (‏استثنا ۵:‏۲۹)‏ ان ’‏بُرے دنوں‘‏ میں ہم کیسے خدا کا خوف ماننے والا دل پیدا کرکے روحانی خطرے سے دُور رہ سکتے ہیں؟—‏۲-‏تیمتھیس ۳:‏۱‏۔‏

بدی سے باز آؤ

۴.‏ (‏ا)‏ مسیحیوں کو کس قسم کی نفرت پیدا کرنی چاہئے؟ (‏ب)‏ یہوواہ گنہگارانہ چال‌چلن کی بابت کیسا محسوس کرتا ہے؟ (‏فٹ‌نوٹ دیکھیں۔)‏

۴ بائبل واضح کرتی ہے کہ ”‏[‏یہوواہ]‏ کا خوف بدی سے عداوت ہے۔“‏ (‏امثال ۸:‏۱۳‏)‏ ایک بائبل لغت اس عداوت کی وضاحت کرتے ہوئے بیان کرتی ہے کہ یہ ”‏ایسے اشخاص اور چیزوں کیلئے جذباتی رویہ ہے جن سے نفرت، کراہیت، حقارت کی جاتی ہے اور جن سے کوئی شخص کسی قسم کا رابطہ یا سروکار نہیں رکھنا چاہتا۔“‏ پس، خدائی خوف میں ہر برائی سے نفرت یا کراہیت کرنا شامل ہے جس سے یہوواہ کو نفرت ہے۔‏b (‏زبور ۹۷:‏۱۰‏)‏ یہ ہمیں بدی سے بالکل اُسی طرح باز رہنے کی تحریک دیتی ہے جیسے ہم اپنے جبلّی خوف کے خبردار کرنے پر چٹان کے کنارے سے دُور رہتے ہیں۔ بائبل بیان کرتی ہے:‏ ”‏لوگ [‏یہوواہ]‏ کے خوف کے سبب سے بدی سے باز آتے ہیں۔“‏—‏امثال ۱۶:‏۶‏۔‏

۵.‏ (‏ا)‏ ہم اپنے خدائی خوف اور بدی کیلئے اپنی نفرت کو کیسے تقویت دے سکتے ہیں؟ (‏ب)‏ اس سلسلے میں بنی‌اسرائیل کی تاریخ ہمیں کیا سکھاتی ہے؟‏

۵ بدیہی طور پر گناہ کے نقصاندہ نتائج پر غور کرنے سے ہم اس خوشگوار خوف اور بدی سے نفرت کو تقویت دے سکتے ہیں۔ بائبل ہمیں یقین دلاتی ہے کہ ہم جو کچھ بوئیں گے وہی کاٹیں گے—‏خواہ ہم جسم کیلئے بوتے ہیں یا روح کیلئے بوتے ہیں۔ (‏گلتیوں ۶:‏۷، ۸‏)‏ اس وجہ سے یہوواہ نے اپنے احکام کی تحقیر کرنے اور سچی پرستش کو ترک کرنے کے ناگزیر نتائج کی توضیح کی ہے۔ الہٰی تحفظ کے بغیر اسرائیل کی چھوٹی، غیرمحفوظ قوم ظالم اور طاقتور پڑوسی اقوام کے رحم‌وکرم پر ہوگی۔ (‏استثنا ۲۸:‏۱۵، ۴۵-‏۴۸)‏ اسرائیل کی نافرمانی کے المناک نتائج کو بائبل میں ”‏نصیحت کے واسطے“‏ تفصیل سے درج کِیا گیا ہے تاکہ ہم عبرت حاصل کرکے خدائی خوف پیدا کریں۔—‏۱-‏کرنتھیوں ۱۰:‏۱۱‏۔‏

۶.‏ ایسی کونسی صحیفائی مثالیں ہیں جن پر ہم خدائی خوف سیکھنے کے سلسلے میں غور کر سکتے ہیں؟ (‏فٹ‌نوٹ دیکھیں۔)‏

۶ بائبل میں اسرائیلی قوم کے ساتھ مجموعی طور پر جو کچھ ہوا اُس کی تفصیلات کے علاوہ ایسے لوگوں کی زندگی کے حقیقی تجربات پائے جاتے ہیں جو حسد، بداخلاقی، لالچ یا تکبّر سے مغلوب ہو گئے تھے۔‏c ان میں سے بعض اشخاص نے کئی سال تک یہوواہ کی خدمت کی لیکن اپنی زندگی کے کسی خاص موڑ پر آ کر اپنے خدائی خوف کے زیادہ مضبوط نہ ہونے کی وجہ سے انہوں نے تلخ فصل کاٹی۔ ایسی صحیفائی مثالوں پر غوروخوض کرنے سے ہمارے عزم کو تقویت مل سکتی ہے تاکہ ہم ایسی غلطیاں نہ کریں۔ اگر ہم ذاتی المیے کا شکار ہونے کے بعد ہی خدا کی مشورت پر دھیان دیتے ہیں تو یہ بڑے دُکھ کی بات ہوگی!‏ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ تجربہ بہترین اُستاد ہوتا ہے لیکن ذاتی خواہشات کی تسکین کے سلسلے میں ایسا نہیں ہے۔—‏زبور ۱۹:‏۷‏۔‏

۷.‏ یہوواہ اپنے علامتی خیمے میں کسے بلا‌تا ہے؟‏

۷ خدائی خوف پیدا کرنے کے سلسلے میں ایک اَور ٹھوس وجہ خدا کیساتھ اپنے رشتے کی حفاظت کرنے کی ہماری خواہش ہے۔ ہم یہوواہ کو ناراض کرنے سے ڈرتے ہیں کیونکہ ہمیں اس کی دوستی نہایت عزیز ہے۔ خدا کسے دوست خیال کرتا ہے، جسے وہ اپنے علامتی خیمے میں بلا‌نا چاہیگا؟ صرف اسی شخص کو ”‏جو راستی سے چلتا اور صداقت کا کام کرتا“‏ ہے۔ (‏زبور ۱۵:‏۱، ۲‏)‏ اگر ہم اپنے خالق کیساتھ اس متشرف رشتے کو عزیز رکھتے ہیں تو ہم اس کی نظروں میں راستی سے چلنے کیلئے احتیاط سے کام لینگے۔‏

۸.‏ ملاکی کے دنوں میں بعض اسرائیلیوں نے خدا کیساتھ دوستی کو کیسے معمولی خیال کِیا تھا؟‏

۸ افسوس کی بات ہے کہ ملاکی کے دنوں میں بعض اسرائیلیوں میں خدا کے ساتھ دوستی کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔ یہوواہ کا خوف ماننے اور اس کی عزت کرنے کی بجائے، انہوں نے اس کے مذبح پر بیمار اور لنگڑے جانوروں کی قربانیاں پیش کیں۔ شادی کی جانب ان کے رویے نے بھی خدائی خوف کی کمی کو منعکس کِیا۔ انہوں نے جوان عورتوں سے شادی کرنے کی خاطر اپنی جوانی کی بیویوں کو معمولی وجوہات کی بِنا پر طلاق دیدی۔ ملاکی نے انہیں بتایا کہ یہوواہ ”‏طلاق“‏ سے بیزار ہے اور انکی بیوفائی نے انہیں خدا سے دُور کر دیا ہے۔ خدا کیسے کرمفرمائی کے ساتھ ان کی قربانیوں پر نظر کر سکتا تھا جبکہ مذبح علامتی طور پر آنسوؤں سے بھرا تھا—‏یہ ترک کر دی جانے والی بیویوں کے دردناک آنسو تھے؟ اپنے معیاروں کی ایسی سنگین بے‌ادبی نے یہوواہ کو یہ کہنے کی تحریک دی:‏ ”‏میرا خوف کہاں ہے؟“‏—‏ملاکی ۱:‏۶-‏۸؛ ۲:‏۱۳-‏۱۶۔‏

۹، ۱۰.‏ ہم کیسے ظاہر کر سکتے ہیں کہ ہمیں یہوواہ کی دوستی عزیز ہے؟‏

۹ آجکل، یہوواہ بہت سے معصوم بیاہتا ساتھیوں اور بچوں کی دل‌شکستگی کو اُسی نگاہ سے دیکھتا ہے جنہیں خودغرض اور بداخلاق شوہروں اور والدوں یا بیویوں اور ماؤں نے چھوڑ دیا ہے۔ ایسے رویے سے اُسے یقیناً دُکھ پہنچتا ہے۔ خدا کا ایک دوست معاملات کو خدا کی نظر سے دیکھتے ہوئے اپنی شادی کو مضبوط بنانے کے لئے سخت محنت کرے گا اور شادی کے بندھن کی اہمیت کو معمولی خیال کرنے والی دُنیاوی سوچ کو مسترد کرتے ہوئے ”‏حرامکاری سے [‏بھاگے گا]‏۔“‏—‏۱-‏کرنتھیوں ۶:‏۱۸‏۔‏

۱۰ شادی اور اپنی زندگی کے دیگر حلقوں میں یہوواہ کی نظر میں جو کچھ بُرا ہے اس سے نفرت کیساتھ اس کی دوستی کیلئے گہری قدردانی یہوواہ کی کرمفرمائی اور مقبولیت پر منتج ہوگی۔ پطرس رسول نے ثابت‌قدمی سے بیان کِیا:‏ ”‏اب مجھے پورا یقین ہو گیا کہ خدا کسی کا طرفدار نہیں۔ بلکہ ہر قوم میں جو اُس سے ڈرتا اور راستبازی کرتا ہے وہ اُسکو پسند آتا ہے۔“‏ (‏اعمال ۱۰:‏۳۴، ۳۵‏)‏ ہمارے پاس کئی صحیفائی مثالیں ہیں جو ظاہر کرتی ہیں کہ کیسے خدائی خوف نے لوگوں کو مختلف آزمائشی حالتوں میں درست کام کرنے کی تحریک دی۔‏

خدا کا خوف ماننے والے تین اشخاص

۱۱.‏ کن حالات کے تحت ابرہام کو کہا گیا کہ وہ ”‏خدا سے ڈرتا ہے“‏؟‏

۱۱ بائبل میں ایک ایسے شخص کا ذکر ملتا ہے جسے یہوواہ نے ذاتی طور پر اپنا دوست کہا—‏وہ آبائی بزرگ ابرہام ہے۔ (‏یسعیاہ ۴۱:‏۸‏)‏ جب خدا نے ابرہام سے اس کے اکلوتے بیٹے اضحاق کو قربان کرنے کیلئے کہا جسکے ذریعے خدا اپنا وعدہ پورا کریگا کہ ابرہام کی اولاد ایک بڑی قوم بنے گی تو اُس کا خدائی خوف آزمایا گیا تھا۔ (‏پیدایش ۱۲:‏۲، ۳؛‏ ۱۷:‏۱۹‏)‏ کیا ”‏[‏یہوواہ]‏ کا دوست“‏ اس تکلیف‌دہ آزمائش سے سرخرو ہو گا؟ (‏یعقوب ۲:‏۲۳‏)‏ ابرہام جونہی اضحاق پر اپنی چھری چلانے لگا تو عین وقت پر یہوواہ کے فرشتے نے کہا:‏ ”‏تُو اپنا ہاتھ لڑکے پر نہ چلا اور نہ اُس سے کچھ کر کیونکہ مَیں اب جان گیا کہ تُو خدا سے ڈرتا ہے اسلئے‌کہ تُو نے اپنے بیٹے کو بھی جو تیرا اِکلوتا ہے مجھ سے دریغ نہ کِیا۔“‏—‏پیدایش ۲۲:‏۱۰-‏۱۲‏۔‏

۱۲.‏ کس بات نے ابرہام کے خدائی خوف کو تحریک دی اور ہم کیسے ایسا ہی جذبہ دکھا سکتے ہیں؟‏

۱۲ اگرچہ ابرہام نے اس سے پہلے بھی خود کو یہوواہ سے ڈرنے والا ثابت کِیا تھا توبھی اس موقع پر اس نے اپنے خدائی خوف کو ایک خاص طریقے سے ظاہر کِیا۔ اضحاق کو قربان کرنے کی اسکی رضامندی مؤدب فرمانبرداری کو ظاہر کرنے سے بڑھکر تھی۔ ابرہام نے اپنے مکمل بھروسے سے تحریک پائی تھی کہ اس کا آسمانی باپ اگر ضروری ہوا تو اضحاق کو زندہ کرنے سے اپنے وعدے کو پورا کریگا۔ جیسے‌کہ پولس نے لکھا کہ ابرہام کو ”‏کامل اعتقاد ہوا کہ جو کچھ [‏خدا]‏ نے وعدہ کِیا ہے وہ اُسے پورا کرنے پر بھی قادر ہے۔“‏ (‏رومیوں ۴:‏۱۶-‏۲۱‏)‏ کیا ہم بڑی بڑی قربانیوں کا تقاضا کرنے والے حالات میں بھی خدا کی مرضی پوری کرنے کیلئے تیار ہیں؟ کیا ہم یہ جانتے ہوئے یہوواہ پر مکمل اعتماد رکھتے ہیں کہ وہ ”‏اپنے طالبوں کو بدلہ دیتا ہے“‏ اور ایسی فرمانبرداری دائمی فوائد لائیگی؟ (‏عبرانیوں ۱۱:‏۶‏)‏ خدا کا سچا خوف یہی ہے۔—‏زبور ۱۱۵:‏۱۱‏۔‏

۱۳.‏ یوسف بجا طور پر خود کو ایک ایسا شخص کیوں کہہ سکتا تھا جسے ’‏سچے خدا کا خوف تھا‘‏؟‏

۱۳ آئیے خدائی خوف کی ایک اَور عملی مثال پر غور کریں جو کہ یوسف کی ہے۔ فوطیفار کے گھر میں ایک غلام کے طور پر، یوسف نے ہر روز زناکاری کے دباؤ کا سامنا کِیا۔ بظاہر اپنے آقا کی بیوی کیساتھ رابطہ رکھنے سے گریز کرنے کا اس کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا جو بداخلاقی کیلئے مسلسل اُسے ورغلا رہی تھی۔ آخرکار، جب اس نے ”‏اُسکا پیراہن پکڑ“‏ لیا تو وہ ”‏بھاگا اور باہر نکل گیا۔“‏ کس بات نے اسے بدی سے باز رہنے کی تحریک دی؟ بِلاشُبہ، بنیادی چیز خدائی خوف تھا وہ ’‏ایسی بڑی بدی کرنے اور خدا کا گنہگار بننے‘‏ سے گریز کرنے کی خواہش رکھتا تھا۔ (‏پیدایش ۳۹:‏۷-‏۱۲‏)‏ یوسف بجا طور پر خود کو ایسا شخص کہہ سکتا تھا جسے ’‏سچے خدا کا خوف تھا۔‘‏—‏پیدایش ۴۲:‏۱۸‏۔‏

۱۴.‏ یوسف کے رحم نے خدا کے حقیقی خوف کا مظاہرہ کیسے کِیا؟‏

۱۴ کئی سالوں بعد یوسف کا آمناسامنا اپنے بھائیوں سے ہوتا ہے جنہوں نے سنگدلی سے اُسے غلامی میں بیچ دیا تھا۔ وہ بآسانی خوراک کیلئے ان کی اشد ضرورت کو اس غلطی کا انتقام لینے کے موقع کے طور پر استعمال کر سکتا تھا جو انہوں نے اس کیساتھ کی تھی۔ لیکن لوگوں پر ظلم کرنا خدا کا خوف ظاہر نہیں کرتا۔ (‏احبار ۲۵:‏۴۳)‏ لہٰذا، جب یوسف نے اپنے بھائیوں کی دلی تبدیلی کا حتمی ثبوت دیکھ لیا تو اس نے رحمدلی سے انہیں معاف کر دیا۔ یوسف کی طرح، ہمارا خدائی خوف ہمیں نیکی کے ذریعے بدی پر غالب آنے کی تحریک دیگا نیز یہ ہمیں آزمائش میں پڑنے سے بچائیگا۔—‏پیدایش ۴۵:‏۱-‏۱۱؛‏ زبور ۱۳۰:‏۳، ۴؛‏ رومیوں ۱۲:‏۱۷-‏۲۱‏۔‏

۱۵.‏ ایوب کے چال‌چلن نے یہوواہ کے دل کو کیوں شاد کِیا تھا؟‏

۱۵ ایوب خدائی خوف کی ایک اَور شاندار مثال تھا۔ یہوواہ نے ابلیس سے کہا:‏ ”‏کیا تُو نے میرے بندہ اؔیوب کے حال پر بھی کچھ غور کِیا؟ کیونکہ زمین پر اُسکی طرح کامل اور راستباز آدمی جو خدا سے ڈرتا اور بدی سے دُور رہتا ہو کوئی نہیں۔“‏ (‏ایوب ۱:‏۸‏)‏ کئی سالوں سے، ایوب کے بے‌عیب چال‌چلن نے اس کے آسمانی باپ کے دل کو شاد کِیا تھا۔ ایوب خدا سے ڈرتا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ ایسا کرنا درست اور بہترین طرزِزندگی ہے۔ ایوب نے زور دیکر کہا:‏ ”‏دیکھ [‏یہوواہ]‏ کا خوف ہی حکمت ہے اور بدی سے دُور رہنا خرد ہے۔“‏ (‏ایوب ۲۸:‏۲۸‏)‏ ایک شادی‌شُدہ آدمی کے طور پر، ایوب نے جوان عورتوں میں نامناسب دلچسپی نہیں لی تھی اور نہ ہی اس نے اپنے دل میں زناکاری کے منصوبے باندھے تھے۔ اس نے ایک دولتمند آدمی ہونے کے باوجود دولت پر بھروسا نہ کِیا اور وہ ہر قسم کی بُت‌پرستی سے باز رہا۔—‏ایوب ۳۱:‏۱،‏ ۹-‏۱۱،‏ ۲۴-‏۲۸‏۔‏

۱۶.‏ (‏ا)‏ ایوب نے کن طریقوں سے شفقت دکھائی؟ (‏ب)‏ ایوب نے کیسے ظاہر کِیا کہ وہ معاف کرنے سے باز نہیں رہا؟‏

۱۶ تاہم، خدا کے خوف کا مطلب بدی سے کنارہ کرنے کیساتھ ساتھ نیکی کو عمل میں لانا بھی ہے۔ لہٰذا، ایوب نے اندھوں، لنگڑوں اور غریبوں کیلئے ہمدردانہ دلچسپی دکھائی۔ (‏احبار ۱۹:‏۱۴؛‏ ایوب ۲۹:‏۱۵، ۱۶‏)‏ ایوب سمجھ گیا کہ ”‏جو کوئی اپنے ساتھی سے شفقت کو دُور رکھتا ہے، وہ خدا کا خوف بھی چھوڑ دیگا۔“‏ (‏ایوب ۶:‏۱۴‏، این‌ڈبلیو‏)‏ شفقت کو دُور رکھنے میں معاف نہ کرنا یا بغض رکھنا شامل ہے۔ خدا کی ہدایت پر ایوب نے اپنے تین دوستوں کے حق میں دُعا کی جو اس کیلئے رنج کا سبب بنے تھے۔ (‏ایوب ۴۲:‏۷-‏۱۰‏)‏ کیا ہم ساتھی مسیحیوں کیلئے معاف کرنے کا ایسا ہی جذبہ ظاہر کر سکتے ہیں جو ہمیں کسی طرح سے ٹھیس پہنچاتے ہیں؟ جس شخص نے ہمیں ٹھیس پہنچائی ہے اس کے حق میں ایک مخلص دُعا آزردگی پر غالب آنے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔ ایوب نے اپنے خدائی خوف کی وجہ سے جن برکات سے استفادہ کِیا وہ ہمیں ’‏یہوواہ کی بڑی نعمت‘‏ کا پیشگی نظارہ دکھاتی ہیں ’‏جسے یہوواہ نے اپنے ڈرنے والوں کیلئے رکھ چھوڑا ہے۔‘‏—‏زبور ۳۱:‏۱۹؛‏ یعقوب ۵:‏۱۱‏۔‏

خدائی خوف بمقابلہ انسانی خوف

۱۷.‏ انسان کا ڈر ہمارے لئے کیا کر سکتا ہے لیکن ایسا ڈر محض عارضی نتائج ہی کیوں پیدا کرتا ہے؟‏

۱۷ جب خدا کا خوف ہمیں درست کام کرنے کی تحریک دیتا ہے تو انسان کا ڈر ہمارے ایمان کو کھوکھلا کر سکتا ہے۔ اس وجہ سے خوشخبری کے پُرجوش مُناد بننے کے لئے رسولوں کی حوصلہ‌افزائی کرتے وقت، یسوع نے انہیں کہا:‏ ”‏جو بدن کو قتل کرتے ہیں اور رُوح کو قتل نہیں کر سکتے اُن سے نہ ڈرو بلکہ اُسی سے ڈرو جو رُوح اور بدن دونوں کو جہنم میں ہلاک کر سکتا ہے۔“‏ (‏متی ۱۰:‏۲۸‏)‏ یسوع نے واضح کِیا کہ انسان ہماری آئندہ زندگی کے امکانات ختم نہیں کر سکتا اس لئے اُس کا ڈر صرف عارضی نتائج ہی پیدا کرتا ہے۔ مزیدبرآں، ہم خدا کا خوف اِس لئے مانتے ہیں کیونکہ ہم اس کی مہیب قدرت کو تسلیم کرتے ہیں جس کے مقابلے تمام قوموں کی طاقت ہیچ ہے۔ (‏یسعیاہ ۴۰:‏۱۵‏)‏ ابرہام کی مانند، اپنے بندوں کو زندہ کرنے کی یہوواہ کی قدرت پر ہمارا قطعی بھروسا ہے۔ (‏مکاشفہ ۲:‏۱۰‏)‏ پس، ہم اعتماد کیساتھ کہہ سکتے ہیں:‏ ”‏اگر خدا ہماری طرف ہے تو کون ہمارا مخالف ہے؟“‏—‏رومیوں ۸:‏۳۱‏۔‏

۱۸.‏ کس طریقے سے یہوواہ اپنے ڈرنے والوں کو اجر بخشتا ہے؟‏

۱۸ ہمارا مخالف خواہ ہمارے خاندان کا کوئی فرد یا سکول کا غنڈہ ہو، ہم دیکھتے ہیں کہ ”‏[‏یہوواہ]‏ کے خوف میں قوی اُمید ہے۔“‏ (‏امثال ۱۴:‏۲۶‏)‏ ہم یہ جانتے ہوئے کہ خدا ہماری سنیگا اُس سے طاقت کیلئے دُعا مانگ سکتے ہیں۔ (‏زبور ۱۴۵:‏۱۹‏)‏ یہوواہ ایسے لوگوں کو کبھی فراموش نہیں کرتا جو اس سے ڈرتے ہیں۔ اپنے نبی ملاکی کے ذریعے وہ ہمیں یقین دلاتا ہے:‏ ”‏تب خداترسوں نے آپس میں گفتگو کی اور [‏یہوواہ]‏ نے متوجہ ہو کر سنا اور اُنکے لئے جو [‏یہوواہ]‏ سے ڈرتے اور اُسکے نام کو یاد کرتے تھے اُسکے حضور یادگار کا دفتر لکھا گیا۔“‏—‏ملاکی ۳:‏۱۶۔‏

۱۹.‏ کس قسم کا خوف ختم ہو جائیگا لیکن کس کا خوف ہمیشہ قائم رہیگا؟‏

۱۹ وہ وقت قریب ہے جب زمین پر ہر کوئی یہوواہ کی پرستش کریگا اور انسان کا ڈر ختم ہو جائیگا۔ (‏یسعیاہ ۱۱:‏۹‏)‏ بھوک، بیماری، جُرم اور جنگ کا خوف بھی جاتا رہیگا۔ لیکن خدا کا خوف ابد تک قائم رہیگا کیونکہ آسمان اور زمین پر اس کے وفادار خادم اس کے لئے واجب احترام، فرمانبرداری اور عزت دکھاتے رہینگے۔ (‏مکاشفہ ۱۵:‏۴‏)‏ اس وقت تک ہم سب کو سلیمان کی الہامی مشورت پر دھیان دینا چاہئے:‏ ”‏تیرا دل گنہگاروں پر رشک نہ کرے بلکہ تُو دن‌بھر [‏یہوواہ]‏ سے ڈرتا رہ۔ کیونکہ اجر یقینی ہے اور تیری آس نہیں ٹوٹے گی۔“‏—‏امثال ۲۳:‏۱۷، ۱۸‏۔‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a بعض بالغوں کا کام جب انہیں مسلسل خطرناک حالتوں میں مبتلا رکھتا ہے تو خطرات کے سلسلے میں اُنکا خوف ختم ہو جاتا ہے۔ جب یہ پوچھا گیا کہ بیشتر ترکھانوں کی ایک آدھ انگلی کیوں کٹی ہوئی ہوتی ہے تو ایک تجربہ‌کار دستکار نے سادہ سا جواب دیا:‏ ”‏تیزرفتار برقی آریوں کے سلسلے میں اُن کا خوف ختم ہو جاتا ہے۔“‏

b یہوواہ بذاتِ‌خود ایسی ہی کراہیت محسوس کرتا ہے۔ مثال کے طور پر، افسیوں ۴:‏۲۹ فحش کلامی کو ”‏گندی بات“‏ کے طور پر بیان کرتی ہے۔ ”‏گندی“‏ کیلئے استعمال ہونے والا یونانی لفظ حقیقی طور پر سڑے ہوئے پھل، مچھلی یا گوشت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ایسی اصطلا‌ح واضح طور پر ناشائستہ یا بیہودہ گفتگو سے گھن کھانے کی عکاسی کرتی ہے۔ اسی طرح سے، بُتوں کو اکثراوقات ”‏مکروہ“‏ کہا گیا ہے۔ (‏استثنا ۲۹:‏۱۷؛ حزقی‌ایل ۶:‏۹، این‌ڈبلیو‏)‏ مکروہ چیزوں کیلئے ہماری فطرتی نفرت ہر طرح کی بُت‌پرستی کے سلسلے میں خدائی نفرت کے احساس کو سمجھنے میں ہماری مدد کرتی ہے۔‏

c مثال کے طور پر، قائن، (‏پیدایش ۴:‏۳-‏۱۲‏)‏؛ داؤد (‏۲-‏سموئیل ۱۱:‏۲–‏۱۲:‏۱۴‏)‏؛ جیحازی (‏۲-‏سلاطین ۵:‏۲۰-‏۲۷‏)‏؛ اور عزیاہ (‏۲-‏تواریخ ۲۶:‏۱۶-‏۲۱‏)‏ کی صحیفائی سرگزشتوں پر غور کریں۔‏

کیا آپ کو یاد ہے؟‏

‏• ہم بدی سے نفرت کرنا کیسے سیکھتے ہیں؟‏

‏• ملاکی کے دنوں میں بعض اسرائیلیوں نے یہوواہ کی دوستی کو کیسے معمولی خیال کِیا تھا؟‏

‏• ہم ابرہام، یوسف اور ایوب سے خدائی خوف کی بابت کیا سیکھ سکتے ہیں؟‏

‏• کونسا خوف کبھی ختم نہیں ہوگا اور کیوں؟‏

‏[‏صفحہ ۱۹ پر تصویر]‏

دانشمند والدین اپنے بچوں کے دلوں میں صحتمندانہ خوف جاگزین کرتے ہیں

‏[‏صفحہ ۲۰ پر تصویر]‏

جس طرح خوف خطرات سے بچاتا ہے اسی طرح خدائی‌خوف ہمیں بدی سے بچاتا ہے

‏[‏صفحہ ۲۳ پر تصویر]‏

ایوب نے اپنے تین جھوٹے دوستوں کا سامنا کرتے وقت بھی خدائی‌خوف کو برقرار رکھا

‏[‏تصویر کا حوالہ]‏

1795 ‏,Vulgata Latina From the Bible translation

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں