میری کہانی میری زبانی
میری انمول یادیں!
از ڈروسیلا کین
یہ سن ۱۹۳۳ کی بات ہے کہ زانوا کین سے میری شادی ہوئی جو میری ہی طرح کالپورٹر—کُلوقتی مبشر—تھا۔ مَیں بڑی خوشی اور جوش سے اپنے شوہر کیساتھ اُسکی تفویض میں شریک ہونے کا منصوبہ بنا رہی تھی لیکن اس کیلئے مجھے ایک سائیکل کی ضرورت تھی جسے خریدنا میرے لئے ممکن نہیں تھا کیونکہ کسادبازاری کی وجہ سے معاشی حالت بہت خراب تھی۔ مَیں کیا کر سکتی تھی؟
میری اس مشکل کو حل کرنے کیلئے میرے دیوروں نے اپنے علاقے کے سارے کوڑےکرکٹ کے ڈھیر چھان ڈالے تاکہ پُرانے پُرزے تلاش کرکے میرے لئے سائیکل بنا سکیں۔ حیرت کی بات ہے کہ اُنہیں یہ پُرزے واقعی مِل گئے اور اُنہوں نے میرے لئے سائیکل بنا دی! جب مَیں نے سائیکل چلانا سیکھ لیا تو مَیں اور زانوا اپنی سائیکلوں پر انگلینڈ کی کاؤنٹیوں، ہیرفورڈ اور وارسسٹر میں تمام ملنے والوں کو خوشیخوشی گواہی دینے لگے۔
مَیں یہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ اپنے ایمان کا اظہار کرنے کا یہ چھوٹا سا قدم انمول یادوں بھری زندگی پر منتج ہوگا۔ تاہم، میری روحانی زندگی کی بنیاد میرے پیارے والدین نے ڈالی تھی۔
جنگِعظیم کے کٹھن سال
مَیں دسمبر ۱۹۰۹ میں پیدا ہوئی تھی۔ کچھ ہی دیر بعد میری والدہ کو دی ڈیوائن پلان آف دی ایجز کتاب مل گئی اور ۱۹۱۴ میں میرے والدین مجھے اولڈہام، لنکاشائر ”فوٹو ڈرامہ آف کریئیشن“ دکھانے کیلئے لیکر گئے۔ (یہ کتاب اور ڈرامہ یہوواہ کے گواہوں نے تیار کئے تھے۔) مَیں بہت چھوٹی تھی مگر مجھے یاد ہے کہ ڈرامہ دیکھنے کے بعد گھر جاتے ہوئے مَیں خوشی سے اُچھلکود رہی تھی! بعدازاں، فرینک ہیلی نے ہمارے علاقے روچڈیل میں بائبل مطالعے کا ایک گروپ شروع کِیا۔ اس گروپ میں حاضر ہونے سے خاندان کے طور پر صحائف کی سمجھ میں ترقی کرنے کیلئے ہماری بڑی مدد ہوئی۔
اُسی سال جنگِعظیم—جسے اب پہلی عالمی جنگ کہا جاتا ہے—شروع ہونے سے ہمارا سکھچین تباہ ہو گیا۔ میرے والد کو فوج میں بھرتی کرنے کی کوشش کی گئی لیکن اُس نے غیرجانبدارانہ مؤقف برقرار رکھا۔ ایک مقامی اخبار کی رپورٹ کے مطابق اُسے عدالت میں ”نیک انسان“ کہا گیا اور بہتیرے خطوط موصول ہوئے جن میں ”شرفاء نے اظہارِخیال کِیا کہ فوج میں بھرتی نہ ہونے کے سلسلے میں یہ شخص مخلصانہ مؤقف رکھتا ہے۔“
تاہم میرے والد کو بالکل مستثنیٰ قرار دینے کی بجائے یہ فیصلہ کِیا گیا کہ وہ ”بطور سپاہی میدانِجنگ میں جاکر نہیں لڑیگا۔“ لہٰذا، انہیں اور ان کیساتھ مجھے اور میری والدہ کو بھی تمسخر کا نشانہ بنایا گیا۔ بالآخر، اُن کے معاملے پر نظرثانی کے بعد اُنہیں کھیتیباڑی کا کام سونپ دیا گیا لیکن بعض کسان اس صورتحال سے ناجائز فائدہ اُٹھاتے ہوئے انہیں یا تو بہت کم یاپھر کوئی اُجرت نہیں دیتے تھے۔ خاندان کی کفالت کے لئے میری والدہ کسی پرائیوٹ لانڈری میں سخت محنت کرتی تھی مگر اُسے پیسے بہت ہی کم ملتے تھے۔ تاہم، مجھے اب احساس ہوتا ہے کہ اپنی زندگی کے ابتدائی سالوں کے دوران ایسے کٹھن حالات سے گزرنا میرے لئے کتنا تقویتبخش ثابت ہوا ہے جس سے زیادہ اہم روحانی چیزوں کی قدر کرنے میں میری مدد ہوئی ہے۔
معمولی آغاز
بہت جلد ایک مستعد بائبل طالبعلم، ڈینئل ہیوز منظرِعام پر آیا۔ وہ اوسویسٹری سے تقریباً ۲۰ کلومیٹر دُور ایک دیہات، روابن میں کانکن تھا جہاں ہم منتقل ہو گئے تھے۔ مَیں انہیں انکل ڈین کہتی تھی اور اکثر ہم سے ملنے آیا کرتے تھے لیکن وہ ہمیشہ صحیفائی معاملات پر گفتگو کرتے تھے۔ وہ گپشپ میں وقت ضائع نہیں کرتے تھے۔ سن ۱۹۲۰ میں اوسویسٹری میں بائبل مطالعے کا گروپ ہوا اور ۱۹۲۱ میں انکل ڈین نے مجھے دی ہارپ آف گاڈ کتاب کی ایک کاپی دی۔ مجھے یہ کتاب بہت پسند تھی کیونکہ اس نے میرے لئے بائبل تعلیمات کو سمجھنا آسان بنایا تھا۔
ایک اَور قابلِذکر شخص پرائس ہیوزa تھا جو بعدازاں یہوواہ کے گواہوں کے لنڈن برانچ آفس کا صدارتی خادم بنا۔ وہ اپنے خاندان کیساتھ ویلز کی قریبی سرحد پر واقع برونیگارتھ میں رہتا تھا اور اسکی بہن سیسی میری والدہ کی سہیلی بن گئی۔
مجھے ۱۹۲۲ میں وہ جوش اور خوشی کی لہر یاد ہے جو ’بادشاہ اور اُس کی بادشاہت کی تشہیر کرنے‘ کی حوصلہافزائی کے باعث پیدا ہو گئی تھی۔ آئندہ سالوں کے دوران جبکہ مَیں ابھی سکول ہی میں تھی تو مَیں نے خاص اشتہارات، بالخصوص ۱۹۲۴ میں ایکلیزیایسٹکس انڈِکٹِڈ کی تقسیم میں خوشی سے حصہ لیا۔ اس عشرے کو یاد کرتے ہوئے یہ احساس ہوتا ہے کہ اتنے سارے وفادار بہنبھائیوں کے ساتھ رفاقت رکھنا واقعی ایک عمدہ شرف تھا—ان میں موڈ کلارکb اور اُسکی ساتھی میری گرانٹ،* ایڈگر کلے،* رابرٹ ہیڈلنگٹن، کےٹی رابرٹز اور ایڈون سکنر* کے علاوہ پرسی چیپمین اور جیک ناتھن* بھی شامل تھے جو بعدازاں کینیڈا میں کام کرنے چلے گئے۔
بائبل تقریر ”لاکھوں جو اب زندہ ہیں کبھی نہ مریں گے“ ہمارے وسیع علاقے میں موزوں اور بروقت گواہی ثابت ہوئی۔ مئی ۱۴، ۱۹۲۲ میں پرائس ہیوز کا رشتہدار، سٹانلی راجرز اس تقریر کو پیش کرنے کیلئے لِورپول سے ہمارے علاقے کے شمال میں واقع دیہات، چرک آیا اور بعدازاں اُسی شام اوسویسٹری میں دی پکچر پلےہاؤز میں بھی اُس نے یہ تقریر پیش کی۔ میرے پاس ابھی تک اُن دستی اشتہاروں کی ایک کاپی موجود ہے جو خاص طور پر اس موقع کیلئے شائع کئے گئے تھے۔ اس اثنا میں ہمارا چھوٹا سا گروپ تین سفری نگہبانوں—ہم انہیں اُس وقت زائرین کہتے تھے—ہربرٹ سینیئر، البرٹ لائیڈ اور جان بلےنی کے دوروں سے تقویت پاتا رہا۔
فیصلے کا وقت
مَیں نے ۱۹۲۹ میں بپتسمہ لینے کا فیصلہ کر لیا۔ مَیں ۱۹ سال کی تھی اور اسی دوران مَیں نے اپنی پہلی حقیقی آزمائش کا سامنا بھی کِیا۔ میری ملاقات ایک نوجوان شخص سے ہوئی جو ایک سیاستدان کا بیٹا تھا۔ ہم ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے اور اُس نے شادی کی پیشکش کی۔ اس واقعہ سے ایک سال پہلے کتاب گورنمنٹ کی رونمائی ہوئی تھی، لہٰذا مَیں نے اسکی ایک کاپی اُسے دی۔ تاہم، بہت جلد یہ عیاں ہوگیا کہ وہ اس کتاب کے موضوع، آسمانی حکومت میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا تھا۔ مَیں نے اپنے مطالعوں سے سیکھ لیا تھا کہ قدیم اسرائیلیوں کو غیرقوموں کیساتھ شادی نہ کرنے کا حکم دیا گیا تھا اور اس اُصول کا اطلاق مسیحیوں پر بھی ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ میرے لئے مشکل تھا توبھی مَیں نے اُس کیساتھ شادی کرنے سے انکار کر دیا۔—استثنا ۷:۳؛ ۲-کرنتھیوں ۶:۱۴۔
مَیں نے پولس رسول کے اِن الفاظ سے تقویت حاصل کی: ”ہم نیک کام کرنے میں ہمت نہ ہاریں کیونکہ اگر بے دل نہ ہونگے تو عین وقت پر کاٹیں گے۔“ (گلتیوں ۶:۹) پیارے انکل ڈین نے بھی اپنے خط میں یہ لکھ کر میری حوصلہافزائی کی: ”آزمائشیں خواہ بڑی ہوں یا چھوٹی ہمیشہ رومیوں ۸:۲۸ کا اطلاق کریں“ جو بیان کرتی ہے: ”ہم کو معلوم ہے کہ سب چیزیں مل کر خدا سے محبت رکھنے والوں کے لئے بھلائی پیدا کرتی ہیں یعنی اُنکے لئے جو خدا کے ارادہ کے موافق بلائے گئے۔“ میرے لئے ایسا کرنا آسان نہیں تھا لیکن مَیں جانتی تھی کہ میرا فیصلہ درست ہے۔ اُسی سال مَیں نے کالپورٹر کے طور پر اپنا اندراج کرایا۔
چیلنج کا مقابلہ کرنا
ہم نے ۱۹۳۱ میں اپنا نیا نام، یہوواہ کے گواہ اپنایا اور اسی سال کتابچے دی کنگڈم، دی ہوپ آف دی ورلڈ کو استعمال کرتے ہوئے ایک پُرجوش مہم کی شروعات کی۔ یہ کتابچہ ہر سیاستدان، پادری اور تاجر کو دیا گیا۔ میرا علاقہ اوسویسٹری سے لیکر تقریباً ۲۵ کلومیٹر دُور شمال میں ریکسہام تک تھا۔ اس پورے علاقے کا احاطہ کرنا ایک چیلنج تھا۔
اگلے سال برمنگھم کی کنونشن پر ۲۴ رضاکاروں کو اپنی خدمات پیش کرنے کی دعوت دی گئی۔ ہم میں سے ۲۴ لوگوں نے خدمت کے اس نئے حلقے کے لئے خوشی سے اپنے نام درج کروائے جس کی بابت ہم کچھ نہیں جانتے تھے۔ ہماری حیرانی کا تصور کریں جب ہمیں بادشاہت کی تشہیر کرنے والے بھاری سینڈوچ بورڈ اپنے کاندھوں پر لٹکائے اسی کتابچے، دی کنگڈم، دی ہوپ آف دی ورلڈ کی تقسیم کیلئے دو دو کرکے بھیجا گیا۔
چرچ کے علاقے میں کام کرتے ہوئے مجھے بڑی شرم محسوس ہو رہی تھی مگر پھر مَیں نے خود کو یہ تسلی دی کہ اس شہر میں مجھے کوئی نہیں جانتا۔ تاہم مجھ سے ملنے والی پہلی ہی خاتون میری سکول کی پُرانی سہیلی نکلی جو حیرت سے مجھے دیکھتی رہی اور پھر بولی: ”تم یہ بورڈ اُٹھائے یہاں کیا کر رہی ہو؟“ اس تجربے نے میرے دل سے انسان کا خوف بالکل نکال دیا!
دیگر علاقوں میں خدمت
مَیں نے ۱۹۳۳ میں زانوا سے شادی کر لی جو مجھ سے ۲۵ سال بڑا تھا اور اسکی پہلی بیوی فوت ہو چکی تھی۔ اسکی پہلی بیوی بائبل کی ایک سرگرم طالبعلم تھی اور زانوا نے اُسکی موت کے بعد بھی وفاداری سے اپنی خدمت جاری رکھی۔ جلد ہی ہم انگلینڈ سے تقریباً ۱۵۰ کلومیٹر دُور، اپنے نئے علاقے شمالی ویلز آ گئے۔ ہماری سائیکلیں ڈبوں، سوٹکیسوں اور دیگر قیمتی اشیاء سے لدی ہوئی تھیں لیکن پھربھی ہم اپنی منزل تک کامیابی سے پہنچ گئے! اس تفویض پر ہماری سائیکلیں اشد ضروری تھیں—اِن کی مدد سے ہم ہر جگہ حتیٰکہ ۳،۰۰۰ فٹ اُونچے ویلز کے پہاڑ، ساڈر آئیڈرس پر بھی لیجاتی تھیں۔ ”بادشاہی کی . . . خوشخبری“ سننے کے خواہشمند لوگوں کی تلاش واقعی بااجر ثابت ہوئی۔—متی ۲۴:۴۔
ہمیں اس علاقے میں آئے ہوئے زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ لوگوں نے ہمیں بتایا کہ ہمارے آنے سے پہلے ٹام پرائس نامی ایک شخص نے ہماری ہی طرح انہیں منادی کی تھی۔ آخرکار ہم نے ٹام کو ڈھونڈ ہی نکالا جو ولشپول کے قریب، لانگ ماؤنٹین میں رہتا تھا۔ اُسے دیکھ کر تو ہماری حیرت کا ٹھکانا ہی نہ رہا! جب مَیں نے منادی شروع ہی کی تھی تو مَیں نے بائبل مطالعے کی امدادی کتاب ریکنسلیایشن اُسے دی تھی۔ اُس نے اکیلے ہی اسکا مطالعہ کِیا، مزید مطبوعات کے لئے لنڈن خط لکھا اور اُس وقت سے گرمجوشی کیساتھ دوسروں کو اپنے نئے ایمان میں شریک کر رہا تھا۔ ہم کافی وقت اس پُرمسرت رفاقت سے محظوظ ہوئے اور اکثر ہم تینوں باہمی حوصلہافزائی کیلئے اکٹھے مطالعہ کرتے تھے۔
ایک حادثہ باعثِبرکت بنتا ہے
سن ۱۹۳۴ میں شمالی ویلز کے قریب موجود تمام کالپورٹروں کو ریکسہام کے علاقے میں کتابچہ رائچیس رولر [راست حاکم] تقسیم کرنے کی دعوت دی گئی۔ اس خاص مہم کو شروع کرنے سے ایک دن پہلے وہاں ایک حادثہ پیش آیا تھا۔ ریکسہام سے تین کلومیٹر شمال میں گریسفورڈ نامی ایک کوئلے کی کان پر دھماکا ہونے سے ۲۶۶ کانکن ہلاک ہو گئے تھے۔ اس حادثے نے ۲۰۰ سے زائد بچوں کو یتیم اور ۱۶۰ عورتوں کو بیوہ کر دیا۔
ہمیں سوگواروں کی فہرست بنانے، ان سے ذاتی ملاقات کرنے اور انہیں یہ کتابچہ دینے کا کام سونپا گیا۔ مجھے جو نام دئے گئے اُن میں ایک نام مسز شیڈوک کا تھا جسکا ۱۹ سالہ بیٹا بھی اس حادثے کی نذر ہو گیا تھا۔ جب مَیں اس سے ملنے گئی تو اُسکا بڑا بیٹا، جیک اُسے تسلی دینے کیلئے آیا ہوا تھا۔ اس نوجوان شخص نے مجھے پہچان لیا مگر کچھ نہ کہا۔ بعدازاں اُس نے میرا دیا ہوا کتابچہ پڑھا اور پھر ایک اَور کتابچے دی فائنل وار [فیصلہکُن لڑائی] کو ڈھونڈا جو مَیں نے اُسے کچھ سال پہلے دیا تھا۔
جیک اور اُسکی بیوی نے میرا پتا تلاش کِیا اور مزید مطبوعات حاصل کرنے کے لئے میرے پاس آئے۔ سن ۱۹۳۶ میں انہوں نے ریکسہام میں اپنے گھر پر اجلاس منعقد کرنے کی اجازت دے دی۔ چھ مہینوں کے اندر، البرٹ لائیڈ کے دورے کے بعد وہاں ایک کلیسیا قائم کی گئی اور جیک شیڈوک کو صدارتی نگہبان مقرر کِیا گیا۔ اب ریکسہام میں تین کلیسیائیں ہیں۔
خانہبدوشی زندگی
اس سے پہلے جابجا سفر کرنے کے باعث رہائش کیلئے جو بھی جگہ ہمیں ملتی تھی ہم وہیں قیام کر لیتے تھے لیکن زانوا نے فیصلہ کِیا کہ اب ہمارا اپنا ایک ایسا گھر ہونا چاہئے جسے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کِیا جا سکے۔ میرا شوہر ایک ماہر بڑھئی تھا اور اُس نے ہمارے لئے ایک خانہبدوشی گھر بنایا۔ ہم نے بائبل میں سے اس کا نام الزبتھ رکھا جسکا مطلب ہے ”خدا کثرت سے دیتا ہے۔“
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے ندی کے کنارے ایک باغ میں قیام کِیا تھا۔ میرے لئے تو یہ بالکل فردوس تھا! محدود جگہ اور سامان کے باوجود اس گھر میں گزارا ہوا وقت خوشیوں سے معمور تھا۔ سردیوں میں بستر کی چادریں اکثر منجمد ہو کر گھر کی دیواروں سے چپک جاتی تھیں اور اسکے اُوپر اوس بھی گِر کر جم جاتی تھی۔ پانی لانے کیلئے بھی کافی فاصلہ طے کرنا پڑتا تھا مگر ہم نے ملکر ان مسائل پر قابو پایا۔
ایک مرتبہ مَیں سردیوں کے موسم میں بیمار پڑ گئی اور ہمارے پاس خوراک اور پیسے بہت ہی کم تھے۔ زانوا نے پلنگ پر بیٹھ کر میرا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا اور مجھے زبور ۳۷:۲۵ پڑھ کر سنائی: ”مَیں جوان تھا اور اب بوڑھا ہوں توبھی مَیں نے صادق کو بیکس اور اُسکی اولاد کو ٹکڑے مانگتے نہیں دیکھا۔“ میری طرف دیکھ کر اُس نے کہا: ”اگر کچھ نہ بن پایا تو ہمیں جلد ہی بھیک مانگنی پڑیگی اور مجھے یقین ہے کہ خدا ایسی نوبت ہرگز نہیں آنے دیگا!“ اس کے بعد وہ ہمارے پڑوسیوں کو منادی کرنے چلا گیا۔
جب زانوا دوپہر کو مجھے کچھ کھانےپینے کیلئے دینے لوٹا تو اُس کیلئے ایک لفافہ آیا ہوا تھا۔ اس میں ۵۰ پونڈ تھے جو اُسکے والد نے بھیجے تھے۔ کچھ سال پہلے زانوا پر غبن کا جھوٹا الزام لگایا گیا تھا لیکن اب یہ ثابت ہو گیا تھا کہ وہ بےقصور ہے۔ یہ تحفہ ازالے کیلئے بھیجا گیا تھا اور نہایت موزوں وقت پر پہنچا تھا!
ایک مفید سبق
بعضاوقات ہم کئی سال گزر جانے کے بعد کوئی سبق سیکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر: ۱۹۲۷ میں سکول چھوڑنے سے پہلے مَیں نے لوینیا فیرکلاف کے سوا اپنے تمام ہمجماعتوں اور اساتذہ کو گواہی دی تھی۔ چونکہ کوئی بھی اس بات میں دلچسپی نہیں رکھتا تھا کہ مَیں نے اپنی زندگی کیلئے کیا منصوبہ بنایا ہے اور ویسے بھی مس فیرکلاف اور میرے تعلقات ہمیشہ خراب ہی رہے اسلئے مَیں نے اُسے گواہی نہ دی۔ تقریباً ۲۰ سال بعد میری حیرانی—اور خوشی—کا ذرا تصور کریں جب میری ماں نے مجھے بتایا کہ یہ اُستانی اپنے تمام سابقہ ساتھیوں اور طالبعلموں کو یہ بتانے کیلئے ان سے ملاقات کر رہی ہے کہ وہ اب یہوواہ کی گواہ بن گئی ہے!
جب ہماری ملاقات ہوئی تو مَیں نے وضاحت کی کہ مَیں نے اُسے اپنے ایمان اور زندگی کے منصوبوں کی بابت کیوں نہیں بتایا تھا۔ اُس نے خاموشی سے میری بات سنی اور پھر کہا: ”مجھے ہمیشہ سے ہی سچائی کی تلاش تھی۔ میری زندگی کا مقصد یہی تھا!“ اس تجربے نے مجھے یہ مفید سبق سکھایا کہ ہر شخص کو گواہی دی جانی چاہئے اور کسی کے بارے مَیں جلدبازی اور پہلے ہی سے کوئی رائے کبھی قائم نہیں کرنی چاہئے۔
ایک اَور جنگ کے بعد کا دَور
سن ۱۹۳۰ کے اختتام پر جنگ کے آثار پھر سے دکھائی دینے لگے۔ مجھ سے دس سال چھوٹے میرے بھائی ڈینس کو اس شرط پر فوجی خدمت سے مستثنیٰ قرار دیا گیا کہ وہ اپنی ملازمت جاری رکھیگا۔ اُس نے سچائی میں کبھی بھی زیادہ دلچسپی نہیں لی تھی، لہٰذا مَیں نے اور میرے شوہر نے مقامی پائنیروں، روپرٹ بریڈبری اور اُس کے بھائی ڈیوڈ سے اس سے ملنے کی درخواست کی۔ وہ اُس کے پاس گئے اور اُسے بائبل مطالعہ کروایا۔ ڈینس نے ۱۹۴۲ میں بپتسمہ لیا اور بعدازاں پائنیر خدمت اختیار کی اور ۱۹۵۷ میں سفری نگہبان مقرر ہوا۔
ہماری بیٹی الزبتھ ۱۹۳۸ میں پیدا ہوئی اور خاندان کی ضرورت کو مدِنظر رکھتے ہوئے زانوا نے ہمارے گھر کو بھی بڑا کِیا۔ تاہم، ۱۹۴۲ میں ہماری دوسری بیٹی یونیس کی پیدائش کے بعد ہم نے محسوس کِیا کہ ایک پائیدار گھر بنانا دانشمندی کی بات ہوگی۔ اس وجہ سے زانوا نے کچھ سالوں کے لئے پائنیر خدمت چھوڑ دی اور ہم ریکسہام کے قریب ایک چھوٹے سے گھر میں منتقل ہو گئے۔ بعدازاں ہم چےشائر کے ملحقہ ضلع، مڈلوِچ میں رہنے لگے۔ یہاں ۱۹۵۶ میں میرا عزیز شوہر وفات پا گیا۔
ہماری دو بیٹیاں کُلوقتی مبشر بنیں اور دونوں خوشحال شادی سے محظوظ ہو رہی ہیں۔ یونیس اور اُسکا شوہر جو کلیسیا میں بزرگ ہے، سپیشل پائنیروں کے طور پر لندن میں اب بھی خدمت کر رہے ہیں۔ الزبتھ کا شوہر بھی ایک کلیسیائی بزرگ ہے اور میرے لئے یہ باعثِمسرت بات ہے کہ یہ دونوں، انکے بچے اور پھر اُنکے چار بچے بھی لنکاشائر، پرسٹن میں میرے قریب رہتے ہیں۔
مَیں شکرگزار ہوں کہ مَیں اپنے گھر کے دروازے سے چل کر سڑک کے پار کنگڈم ہال تک جا سکتی ہوں۔ مَیں نے حالیہ سالوں میں گجراتی زبان بولنے والے گروپ سے رفاقت رکھنا شروع کی ہے جو اجلاس کیلئے یہیں پر جمع ہوتا ہے۔ انکی زبان سیکھنا میرے لئے آسان نہیں کیونکہ اب میں کچھ اُونچا سنتی ہوں۔ جس طرح نوجوان دھیمی آوازوں کو سن لیتے ہیں بعضاوقات میرے لئے سننا اور سمجھنا مشکل ہوتا ہے۔ تاہم یہ ایک دلچسپ چیلنج ہے۔
مَیں اب بھی گھرباگھر منادی اور اپنے گھر پر بائبل مطالعہ کروا سکتی ہوں۔ جب میرے دوست مجھ سے ملنے آتے ہیں تو انہیں اپنے کچھ ابتدائی تجربات سنانے سے مجھے بہت خوشی ہوتی ہے۔ یہوواہ کے لوگوں کیساتھ تقریباً ۹۰ سال کی رفاقت سے حاصل ہونے والی برکات کی انمول یادوں کیلئے مَیں بیحد مشکور ہوں۔
[فٹنوٹ]
a پرائس ہیوز کی سوانححیات، ”وفادار تنظیم کیساتھ چلنا،“ اپریل ۱، ۱۹۶۳ کے دی واچٹاور میں شائع ہوئی تھی۔
b یہوواہ کے اِن وفادار خادموں کی سوانححیات مینارِنگہبانی کے سابقہ شماروں میں شائع ہو چکی ہیں۔
[صفحہ ۲۵ پر تصویر]
بائبل تقریر ”لاکھوں جو اب زندہ ہیں کبھی نہ مرینگے“ کی تشہیر کرنے والا اشتہار جو مَیں نے مئی ۱۴، ۱۹۲۲ میں سنی
[صفحہ ۲۶ پر تصویر]
سن ۱۹۳۳ میں ہماری شادی کے کچھ ہی دیر بعد زانوا کیساتھ
[صفحہ ۲۶ پر تصویر]
ہمارے خانہبدوشی گھر، ”الزبتھ“ کے پاس جسے میرے شوہر نے بنایا تھا