میری کہانی میری زبانی
ہم ایک ٹیم تھے
از میلبا بیری
جولائی ۲، ۱۹۹۹ کو مَیں اور میرا شوہر یہوواہ کے گواہوں کے ایک بہت بڑے اجتماع میں حاضر تھے جیسے کہ ہم اپنی ۵۷ سالہ ازدواجی زندگی میں ہزاروں مرتبہ حاضر ہو چکے تھے۔ لائیڈ ہوائی میں منعقد ہونے والے ڈسٹرکٹ کنونشن پر جمعے کے روز اپنا آخری خطاب پیش کر رہے تھے۔ وہ اچانک گِر پڑے۔ اُنہیں بچانے کی تمام کوششوں کے باوجود وہ وفات پا گئے۔a
ہوائی کے وہ مسیحی بہنبھائی کتنے قابلِقدر ہیں جو میرے اردگرد جمع تھے اور جنہوں نے اس حادثے سے نپٹنے میں میری مدد کی تھی! لائیڈ نے دنیا کے دیگر اشخاص کی طرح، ان میں سے بھی بہتوں کی زندگیوں پر عمدہ اثر ڈالا تھا۔
اُن کی موت کو تقریباً دو سال ہونے کو ہیں اور اس عرصہ کے دوران، مَیں اپنے اُن قیمتی سالوں کو یاد کرتی رہی ہوں جن میں سے بیشتر ہم نے غیرملکی مشنری تفویضات اور یہوواہ کے گواہوں کے ہیڈکوارٹرز بروکلن، نیو یارک میں اکٹھے گزارے ہیں۔ مجھے آسٹریلیا، سڈنی میں اپنی ابتدائی زندگی اور وہ چیلنج بھی یاد آ رہے ہیں جنکا دوسری جنگِعظیم کے آغاز پر مجھے اور لائیڈ کو اپنی شادی کے سلسلے میں سامنا کرنا پڑا تھا۔ تاہم، پہلے مَیں یہ بتاتی ہوں کہ مَیں گواہ کیسے بنی اور ۱۹۳۹ میں لائیڈ سے میری ملاقات کیسے ہوئی۔
مَیں گواہ کیسے بنی
میرے والدین جیمز اور ہنریٹ جونز بڑے شفیق اور مہربان تھے۔ مَیں نے ۱۹۳۲ میں صرف ۱۴ سال کی عمر میں سکول کی پڑھائی مکمل کر لی تھی۔ اس وقت دنیا بڑی کسادبازاری کا شکار تھی۔ مَیں نے خاندان کی مدد کیلئے کام کرنا شروع کر دیا جس میں میری دو چھوٹی بہنیں بھی تھیں۔ چند ہی سالوں میں مجھے اچھی تنخواہ والی ملازمت مل گئی جہاں کئی نوجوان خواتین میری ماتحتی میں کام کرتی تھیں۔
اسی دوران ۱۹۳۵ میں، ہماری والدہ نے یہوواہ کے ایک گواہ سے بائبل پر مبنی لٹریچر قبول کِیا اور وہ جلد ہی اس بات کی قائل ہو گئی کہ اُسے سچائی مل گئی ہے۔ باقی ہم سب سوچتے تھے کہ وہ پاگل ہو گئی ہے۔ تاہم ایک دن، جب مَیں نے ایک کتابچہ بعنوان ویئر آر دی ڈیڈ؟ (مُردے کہاں ہیں؟) دیکھا تو میرے اندر تجسّس پیدا ہو گیا۔ لہٰذا مَیں نے چھپ کر اس کتابچے کو پڑھا۔ اس نے میری زندگی میں انقلاب برپا کر دیا! اِسکے فوراً بعد مَیں نے اپنی والدہ کے ساتھ ہفتہ کے دوران ہونے والے اجلاس پر جانا شروع کر دیا جو کہ ماڈل سٹڈی کہلاتا تھا۔ ماڈل سٹڈی کے تین کتابچے تھے جن میں سوال اور جواب کے علاوہ جوابات کی حمایت کرنے والے صحائف بھی موجود تھے۔
اسی دوران، اپریل ۱۹۳۸ میں یہوواہ کے گواہوں کے ہیڈکوارٹرز کے ایک نمائندے جوزف ایف. رتھرفورڈ نے سڈنی کا دورہ کِیا۔ مَیں پہلی مرتبہ ان ہی کی عوامی تقریر پر حاضر ہوئی تھی۔ یہ سڈنی ٹاؤن ہال میں منعقد ہونی تھی لیکن مخالفین اسے منسوخ کرانے میں کامیاب ہو گئے۔ اس کی بجائے، یہ تقریر ایک بہت ہی بڑے سڈنی اسپورٹس گراؤنڈ میں دی گئی۔ مخالفین کی اضافی تشہیر کی وجہ سے حاضرین کی تعداد تقریباً ۱۰،۰۰۰ تک پہنچ گئی جبکہ اُس وقت آسٹریلیا میں صرف ۱،۳۰۰ گواہ تھے اور یہ تعداد حیرانکُن تھی۔
اس کے تھوڑے ہی عرصہ بعد، مَیں کسی تربیت کے بغیر پہلی مرتبہ میدانی خدمتگزاری میں شریک ہوئی۔ جب ہمارا گروپ منادی کے علاقے میں پہنچا تو راہنمائی کرنے والے شخص نے مجھ سے کہا، ”وہ رہا آپ کا گھر۔“ مَیں اتنی زیادہ پریشان تھی کہ جب ایک عورت نے دروازہ کھولا تو مَیں نے پوچھا کہ ”مہربانی سے کیا آپ مجھے ٹائم بتا سکتی ہیں؟“ وہ اندر گئی اور ٹائم دیکھ کر واپس آئی اور مجھے بتایا۔ بس اتنی سی ملاقات تھی۔ اِس کے بعد مَیں واپس کار میں آ گئی۔
تاہم، مَیں نے ہمت نہ ہاری اور جلد ہی باقاعدگی کیساتھ بادشاہتی پیغام دوسروں تک لیجانے لگی۔ (متی ۲۴:۱۴) مارچ ۱۹۳۹ میں، مَیں نے یہوواہ کیلئے اپنی مخصوصیت کے اظہار میں اپنی پڑوسن ڈورتھی ہیوچنگ کے ٹب میں بپتسمہ لے لیا۔ کسی بھائی کی عدم موجودگی کی وجہ سے میرے بپتسمہ کے فوراً بعد مجھے عام طور پر مسیحی بھائیوں کو دی جانے والی کلیسیائی ذمہداریاں سونپی گئیں۔
ہمارے اجلاس عموماً گھروں میں منعقد ہوتے تھے لیکن کبھیکبھار عوامی تقاریر کیلئے ہم کرائے پر ہال لے لیا کرتے تھے۔ ہمارے برانچ آفس، بیتایل سے ایک خوبصورت جوان بھائی ہماری چھوٹی سی کلیسیا میں تقریر دینے کے لئے آیا۔ مجھے معلوم نہیں تھا مگر اس کے آنے کا ایک اَور مقصد—مجھے دیکھنا تھا۔ جیہاں، اس طرح لائیڈ سے میری ملاقات ہوئی۔
لائیڈ کے خاندان سے ملاقات
جلد ہی میرے اندر یہوواہ کیلئے کُلوقتی خدمت کرنے کی خواہش پیدا ہو گئی۔ بہرحال جب مَیں نے پائنیر خدمت (منادی کے کُلوقتی کام میں شمولیت) کیلئے درخواست دی تو مجھ سے پوچھا گیا کہ کیا مَیں بیتایل میں خدمت کرنا چاہتی ہوں۔ لہٰذا ستمبر ۱۹۳۹ میں، اُسی مہینے میں دوسری عالمی جنگ کا آغاز ہوا، مَیں سڈنی کے نواحی علاقے اسٹراتھفیلڈ کے بیتایل خاندان کی رُکن بن گئی۔
دسمبر ۱۹۳۹ میں، مَیں ایک کنونشن کے لئے نیوزیلینڈ گئی۔ لائیڈ بھی نیوزیلینڈ سے تعلق رکھنے کی وجہ سے وہیں جا رہا تھا۔ ہم نے ایک ہی جہاز پر سفر کِیا اور اسطرح ہم ایک دوسرے کو بہتر طور پر جاننے لگے۔ لائیڈ نے بندوبست بنایا تاکہ مَیں ولنگٹن میں ہونے والے کنونشن پر اور بعدازاں کرائسٹچرچ میں اُسکے گھر پر اس کے ماںباپ اور بہنوں سے مل سکوں۔
ہمارے کام پر پابندی
جنوری ۱۸، ۱۹۴۱ بروز ہفتہ، دولتمشترکہ کے حکام جائیداد پر قبضہ کرنے کیلئے تقریباً چھ لمازینز (لمبی کاریں) پر سوار برانچ آفس پہنچ گئے۔ مَیں اس وقت بیتایل کے مدخل کے قریب واقع گارڈہاؤس میں کام کر رہی تھی اس لئے سب سے پہلے مَیں نے ہی اُنہیں دیکھا۔ کوئی ۱۸ گھنٹے پہلے ہمیں پابندی کی بابت مطلع کر دیا گیا تھا لہٰذا تمام لٹریچر اور فائلیں برانچ سے اُٹھا لی گئی تھیں۔ اگلے ہفتے، لائیڈ سمیت بیتایل خاندان کے پانچ ارکان کو قید میں ڈال دیا گیا۔
مَیں جانتی تھی کہ قید میں بھائیوں کو سب سے زیادہ روحانی خوراک کی ضرورت ہوگی۔ لائیڈ کی مدد کرنے کے لئے مَیں نے اسے ”محبتنامے“ لکھنے کا فیصلہ کِیا۔ مَیں نے اسی طرز کے خط کی طرح اس کا آغاز کِیا اور پھر مینارِنگہبانی کے پورے مضمون کو کاپی کر دیا اور آخر میں اُسکی محبوبہ کے طور پر دستخط کر دئے۔ ساڑھے چار مہینے کے بعد لائیڈ رہا ہو گیا۔
شادی اور کُلوقتی خدمت
سن ۱۹۴۰ میں لائیڈ کی والدہ آسٹریلیا آئیں اور لائیڈ نے اُنہیں بتایا کہ ہم شادی کرنے کی بابت سوچ رہے ہیں۔ اُسکی والدہ نے اُسے مشورہ دیا کہ ایسا نہ کرے کیونکہ دنیا کا خاتمہ بالکل نزدیک دکھائی دیتا ہے۔ (متی ۲۴:۳-۱۴) اس نے اپنے دوستوں سے بھی اپنے ارادوں کا ذکر کِیا لیکن ہر مرتبہ وہ اُسکی بات کو ٹال دیتے تھے۔ آخرکار فروری ۱۹۴۲ میں لائیڈ چار گواہوں کے ہمراہ مجھے چپکے سے نکاحخواں کے دفتر لے گیا جو ہمارے منصوبے کو راز میں رکھنے کا وعدہ کر چکے تھے اور یوں ہماری شادی ہو گئی۔ اُس وقت تک آسٹریلیا میں یہوواہ کے گواہوں میں کوئی نکاحخواں نہیں تھا۔
ہمیں شادیشُدہ جوڑے کے طور پر بیتایل میں کام کرنے کی اجازت تو نہ ملی تاہم ہمیں سپیشل پائنیر خدمت کی پیشکش کی گئی۔ ہم نے واگا واگا نامی دیہات میں خوشی کیساتھ تفویض قبول کر لی۔ ہمارے منادی کے کام پر ابھی تک پابندی تھی اور ہمیں کوئی مالی مدد بھی حاصل نہیں تھی لہٰذا ہمیں واقعی اپنا سارا بوجھ یہوواہ پر ڈالنا پڑا۔—زبور ۵۵:۲۲۔
ہم ایک سائیکل کے ذریعے دیہاتوں میں جاتے تھے اور کچھ اچھے لوگوں سے ملاقات کرتے اور پھر کافی دیر تک اُنکے ساتھ باتچیت کرتے تھے۔ زیادہ لوگ بائبل مطالعہ قبول نہیں کرتے تھے۔ تاہم ایک دکاندار ہمارے کام کی بہت زیادہ قدر کرتا تھا لہٰذا وہ ہر ہفتے ہمیں سبزیاں اور پھل دے دیا کرتا تھا۔ واگا واگا میں چھ مہینے گزارنے کے بعد ہمیں بیتایل واپس آنے کی دعوت دی گئی۔
بیتایل خاندان مئی ۱۹۴۲ میں اسٹراتھفیلڈ کے دفتر کو چھوڑ کر نجی گھروں میں منتقل ہو گیا تھا۔ گرفتاری سے بچنے کیلئے وہ ہر دوسرے تیسرے ہفتے نئے گھر میں منتقل ہو جاتے تھے۔ جب لائیڈ اور مَیں اگست میں بیتایل واپس آئے تو ہم بھی اُنکے ساتھ ایک ایسے ہی گھر میں رہنے لگے۔ دن کے دوران ہماری تفویض وہاں پر قائم ایک زمیندوز چھاپہخانہ میں کام کرنے کی تھی۔ آخرکار، جون ۱۹۴۳ میں ہمارے کام پر سے پابندی اُٹھا لی گئی۔
غیرملکی خدمت کیلئے تیاری
اپریل ۱۹۴۷ میں ہمیں ساؤتھ لانسنگ نیویارک، یو.ایس.اے. میں واقع واچٹاور بائبل سکول آف گلئیڈ کیلئے درخواستیں دی گئیں۔ اسی دوران ہمیں آسٹریلیا میں کلیسیاؤں کو روحانی طور پر مضبوط کرنے کی تفویض دی گئی۔ چند مہینوں کے بعد، ہمیں گلئیڈ سکول کی ۱۱ ویں کلاس کیلئے مدعو کِیا گیا۔ اپنے تمام معاملات کو نپٹانے اور اپنے مالواسباب کو سمیٹنے کیلئے ہمارے پاس تین ہفتے باقی تھے۔ ہم نے دسمبر ۱۹۴۷ میں خاندان اور دوستوں کو چھوڑا اور آسٹریلیا ہی سے دیگر ۱۵ ساتھیوں کیساتھ جنہیں اسی کلاس کیلئے دعوت دی گئی تھی نیو یارک روانہ ہو گئے۔
گلئیڈ سکول میں ہمارے چند مہینے جلد ہی ختم ہو گئے اور ہمیں جاپان میں مشنری خدمت کی تفویض دی گئی۔ چونکہ جاپان جانے کیلئے ہماری دستاویزات کو تیار ہونے میں کچھ وقت لگا لہٰذا لائیڈ کو ایک مرتبہ پھر یہوواہ کے گواہوں کا سفری نگہبان مقرر کر دیا گیا۔ جو کلیسیائیں ہمیں تفویض کی گئیں وہ لاساینجلز کے شہر سے لیکر میکسیکو کی سرحد تک پھیلی ہوئی تھیں۔ ہمارے پاس گاڑی نہیں تھی لہٰذا ہر ہفتے بہنبھائی پُرمحبت طریقے سے ہمیں ایک سے دوسری کلیسیا میں لیجاتے تھے۔ اُس وقت کا وسیع سرکٹ اب تین انگریزی اور تین ہسپانوی ڈسٹرکٹس پر مشتمل ہے جن میں سے ہر ڈسٹرکٹ تقریباً دس سرکٹوں پر مشتمل ہے!
بہت ہی جلد، اکتوبر ۱۹۴۹ کو ہم سابقہ فوجی بحری جہاز میں سوار جاپان کی طرف جا رہے تھے۔ جہاز کا ایک حصہ مردوں کیلئے اور دوسرا حصہ عورتوں اور بچوں کیلئے مخصوص تھا۔ ہمارے یوکوہاما پہنچنے سے صرف ایک دن پہلے ہمیں ایک غیرمتوقع طوفان کا سامنا کرنا پڑا۔ بدیہی طور پر ہوا صاف ہو چکی تھی کیونکہ اگلے دن یعنی اکتوبر ۳۱ کو جب سورج نکلا تو ہم ماؤنٹ فیوجی کو اس کی تمامتر آبوتاب سمیت دیکھ سکتے تھے۔ ہماری نئی تفویض کیلئے یہ شاندار استقبال تھا!
جاپانیوں کیساتھ کام کرنا
جیسے ہی ہم بندرگاہ کے قریب پہنچے تو ہم نے سینکڑوں سیاہ بالوں والے لوگوں کو دیکھا۔ جب ہم نے بےہنگم شور سنا تو سوچا کہ یہ تو ’بڑے شورشرابے والے لوگ‘ ہیں۔ ہر ایک نے لکڑی کے جوتے [کھڑاؤں] پہن رکھے تھے جو کہ لکڑی کے فرش پر بہت شور کر رہے تھے۔ یوکوہاما میں ایک رات گزارنے کے بعد، ہم نے کوبے جانے کے لئے ٹرین لی جہاں ہماری مشنری تفویض تھی۔ وہاں گلئیڈ کے ہمارے ایک ہمجماعت ڈان ہسلیٹ نے ایک مشنری ہوم کرائے پر لیا ہوا تھا جو چند مہینے پہلے جاپان پہنچ گیا تھا۔ یہ مغربی طرز کی ایک بڑی سی دو منزلہ خوبصورت عمارت تھی جس میں کوئی فرنیچر وغیرہ نہیں تھا!
ہم نے بستر بنانے کے لئے باغ کی لمبی لمبی گھاس کو کاٹ کر فرش پر ڈال دیا۔ پس اسطرح جو کچھ ہمارے سوٹکیس میں تھا اُسی کے ساتھ ہماری مشنری زندگی کا آغاز ہوا۔ ہم نے چھوٹی چھوٹی انگیٹھیاں خرید لیں جنہیں ہباچی کہتے تھے اور جو کھانا پکانے اور کمرہ گرم رکھنے کا کام دیتی تھیں۔ ایک رات لائیڈ نے دو مشنری ساتھیوں پرسی اور لیما ازلاب کو بےہوش پایا۔ لائیڈ نے کھڑکی کھول دی اور یوں تازہ اور ٹھنڈی ہوا سے اُنہیں ہوش آ گیا۔ ایک مرتبہ انگیٹھی پر کھانا پکاتے پکاتے مَیں بھی بےہوش ہو گئی۔ بعض چیزوں کا عادی ہونے میں کچھ وقت لگا!
ہماری پہلی فکر زبان سیکھنا تھی لہٰذا ایک مہینے تک ہم ہر روز ۱۱ گھنٹے جاپانی زبان کا مطالعہ کرتے تھے۔ بعدازاں، اپنی خدمتگزاری کو شروع کرنے کیلئے ہم ایک یا دو جملے لکھ کر ساتھ لیجایا کرتے تھے۔ اپنی خدمتگزاری کے پہلے ہی دن، مَیں ایک بہت شفیق خاتون مایو تاکاجی سے ملی جو بہت مہربانی سے پیش آئی۔ واپسی ملاقاتوں کے دوران ہم نے جاپانی انگریزی ڈکشنری کی مدد سے اپنی کوشش کو جاری رکھا جسکی وجہ سے بالآخر ایک بائبل مطالعہ شروع ہو گیا۔ سن ۱۹۹۹ میں، جاپان کی توسیعی برانچ عمارت کی مخصوصیت میں، اپنے دیگر بہتیرے عزیز بائبل مطالعوں کیساتھ ساتھ میری ملاقات مایو سے بھی ہوئی۔ پچاس سال گزر جانے کے بعد بھی وہ سب بادشاہی کے سرگرم مُنادوں کے طور پر اپنی بساط کے مطابق یہوواہ کی خدمت کر رہے ہیں۔
کوبے میں یکم اپریل ۱۹۵۰ میں، مسیح کی موت کی یادگار کے موقع پر تقریباً ۱۸۰ لوگ حاضر تھے۔ اگلی صبح ۳۵ اشخاص کو میدانی خدمتگزاری میں دیکھ کر ہمیں بہت حیرت ہوئی۔ ہر مشنری ان نئے افراد میں سے تین یا چار کو اپنے ساتھ خدمتگزاری میں لے گیا۔ کیونکہ غیرملکی ہونے کی وجہ سے مَیں زبان بہت کم سمجھتی تھی لہٰذا گھروں پر ملنے والے لوگ مجھ سے باتچیت کرنے کی بجائے میموریل پر حاضر ہونے والے جاپانیوں سے بات کرتے جو اُس وقت میرے ساتھ تھے۔ گفتگو کا سلسلہ کافی دیر تک جاری رہتا لیکن مَیں نہیں جانتی تھی کہ وہ کس چیز کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ مجھے یہ کہتے ہوئے خوشی محسوس ہوتی ہے کہ ان نئے اشخاص میں سے بعض نے علم میں ترقی کی اور آج تک منادی کے کام میں حصہ لے رہے ہیں۔
بیشمار استحقاقات اور تفویضات
ہم نے ۱۹۵۲ تک کوبے میں اپنے مشنری کام کو جاری رکھا اور اس کے بعد ہمیں ٹوکیو میں کام کرنے کیلئے بھیج دیا گیا جہاں لائیڈ کو برانچ آفس کی نگہبانی کا کام سونپا گیا۔ وقت گزرنے کیساتھ ساتھ، اُسکی تفویضات نے اُسے پورے جاپان نیز دیگر ممالک میں کام کرنے کا شرف عطا کِیا۔ بعدازاں، ورلڈ ہیڈکوارٹرز سے ٹوکیو آنے والے ناتھن ایچ. نار نے مجھے کہا: ”کیا آپ جانتی ہیں کہ آپکا شوہر اپنے آئندہ زون کے دورے پر کہاں جا رہے ہیں؟ آسٹریلیا اور نیوزیلینڈ“ اس نے مزید کہا: ”اگر آپ خود اپنے اخراجات ادا کر دیں تو آپ بھی جا سکتی ہیں۔“ یہ بڑی خوشی کی بات تھی! اِسلئے کہ ہمیں گھر چھوڑے ہوئے نو سال ہو گئے تھے۔
اس کے فوراً بعد ہم نے جلدی جلدی خاندانوں کو خطوط لکھے۔ میری والدہ نے ہماری مالی مدد کی۔ لائیڈ اور مَیں اپنی تفویضات میں مصروف رہے تھے اسلئے ہمارے پاس اپنے خاندانوں سے ملاقات کرنے کیلئے کافی پیسے نہیں تھے۔ لہٰذا یہ میری دعاؤں کا جواب تھا۔ آپ تصور کر سکتے ہیں کہ میری والدہ مجھے دیکھ کر کتنی خوش ہوئی ہو گی۔ اس نے کہا، ”مَیں تمہارے لئے پیسے جمع کر رہی ہوں تاکہ تم تین سال بعد دوبارہ آ سکو۔“ اس خیال کیساتھ ہم جدا ہوئے مگر افسوس کہ اسی سال جولائی میں وہ وفات پا گئیں۔ میرے پاس نئی دنیا میں اُسے دوبارہ ملنے کی کتنی شاندار اُمید ہے!
سن ۱۹۶۰ تک میری واحد تفویض مشنری کام ہی تھا لیکن پھر مجھے ایک خط موصول ہوا جس میں کہا گیا تھا: ”اب سے لیکر آپکو سارے بیتایل خاندان کے کپڑے دھونا اور استری کرنا ہونگے۔“ اُس وقت ہمارا بیتایل خاندان تقریباً ۱۲ افراد پر مشتمل تھا لہٰذا اپنی مشنری تفویض کے ساتھ مَیں اس کام کو بھی بخوبی انجام دے سکتی تھی۔
سن ۱۹۶۲ میں ہماری جاپانی طرز کی عمارت کو مسمار کر دیا گیا اور اگلے ہی سال ایک نیا چھ منزلہ بیتایل ہوم تعمیر کِیا گیا۔ مجھے بیتایل میں نئے آنے والے جوان بھائیوں کی اپنے کمروں کو صافستھرا رکھنے میں تربیت دینے کی تفویض سونپی گئی۔ جاپان میں عام طور پر لڑکوں کو گھروں میں کوئی کام کرنا نہیں سکھایا جاتا۔ دُنیاوی تعلیم حاصل کرنے پر زیادہ زور دیا جاتا تھا اور اِن کی مائیں ان کیلئے سب کام کرتی تھیں۔ جلد ہی وہ جان گئے کہ مَیں اُن کی ماں نہیں ہوں۔ وقت آنے پر، بہتیروں نے ترقی کی اور تنظیم کے اندر نئی ذمہدارانہ تفویضات قبول کرنے کے قابل ہوئے۔
شدید گرمیوں میں ایک دن، ایک بائبل طالبعلم ہماری عمارت دیکھنے کیلئے آئی اور اس نے مجھے غسلخانے کی رگڑائی کرتے دیکھا۔ اس نے کہا، ”مہربانی سے جو بھی انچارج ہے اُسے بتائیں کہ مَیں چاہتی ہوں کہ کوئی ملازمہ آ کر آپ کا یہ کام کرے اور مَیں اُسے تنخواہ دونگی۔“ مَیں نے اُسے بتایا کہ مَیں اس کی فکرمندی کی قدر کرتی ہوں مگر یہوواہ کی تنظیم کے اندر مَیں ہر وہ کام کرنے کو تیار ہوں جو مجھے تفویض کِیا جاتا ہے۔
اسی دوران، مجھے اور لائیڈ کو گلئیڈ کی ۳۹ویں کلاس میں حاضر ہونے کی دعوت دی گئی! سن ۱۹۶۴ میں ۴۶ سال کی عمر میں دوبارہ سکول جانے کا کیا ہی شاندار استحقاق تھا! تعلیمی پروگرام بالخصوص انکی مدد کرنے کیلئے فراہم کِیا گیا تھا جو برانچ دفاتر میں ذمہداریاں انجام دے رہے تھے۔ دس مہینے کی تربیت کے بعد، ہمیں دوبارہ جاپان واپس بھیج دیا گیا۔ اُس وقت مُلک میں ۳،۰۰۰ سے زائد بادشاہتی مُناد تھے۔
ترقی اسقدر تیزی کے ساتھ ہوئی کہ ۱۹۷۲ میں یہاں ۱۴،۰۰۰ سے زائد گواہ تھے اور ٹوکیو کے جنوب میں نومازو کے شہر میں ایک نیا پانچ منزلہ برانچ آفس تعمیر کِیا گیا۔ ہماری عمارات سے ماؤنٹ فیوجی کا قابلِدید منظر دکھائی دیتا تھا۔ نئے چھاپہخانے میں ہر مہینے جاپانی زبان میں ایک ملین سے زیادہ رسالوں کی چھپائی شروع ہو گئی۔ لیکن ایک تبدیلی ہمیں نظر آ رہی تھی۔
سن ۱۹۷۴ کے آخر میں، لائیڈ کو بروکلن میں یہوواہ کے گواہوں کے ہیڈکوارٹرز سے ایک خط موصول ہوا جس میں اُسے گورننگ باڈی کے رکن کے طور پر کام کرنے کی دعوت دی گئی تھی۔ پہلے تو مَیں نے سوچا: ’بس اب سب کچھ ختم ہو گیا ہے۔ اِسلئے کہ لائیڈ آسمانی اُمید رکھتا ہے جبکہ میری زمینی اُمید ہے لہٰذا جلد یا بدیر ہمیں ایک دوسرے سے جدا تو ہونا ہی پڑے گا۔ شاید لائیڈ کو اکیلے ہی بروکلن چلے جانا چاہئے۔‘ لیکن جلد ہی مَیں نے اپنی سوچ کو بدلا اور مارچ ۱۹۷۵ میں راضیخوشی لائیڈ کے ساتھ چلی گئی۔
ہیڈکوارٹرز میں برکات
بروکلن میں بھی، لائیڈ کا دل ابھی تک جاپان ہی میں تھا کیونکہ وہ جاپان میں پیش آنے والے تجربات کا ہمیشہ ذکر کِیا کرتے تھے۔ لیکن اب کشادہدل ہونے کے زیادہ مواقع تھے۔ زندگی کے آخری ۲۴ سالوں میں، لائیڈ کو وسیع پیمانے پر زون کے کام کیلئے استعمال کِیا گیا جس میں پوری دُنیا کا سفر شامل تھا۔ مَیں کئی بار مختلف مقامات پر اُنکے ساتھ تھی۔
دوسرے ممالک میں اپنے مسیحی بھائیوں سے ملاقات نے مجھے اُن حالات کو سمجھنے میں مدد دی جن کے تحت وہ کام کرتے ہیں۔ مجھے دسسالہ لڑکی اینٹلی کبھی نہیں بھولتی جس سے مَیں شمالی افریقہ میں ملی تھی۔ وہ خدا کے نام سے محبت رکھتی تھی اور ہر مسیحی اجلاس میں حاضر ہونے کیلئے ڈیڑھ گھنٹے کا پیدل سفر کرتی تھی۔ خاندان کی طرف سے سخت مخالفت کے باوجود، اینٹلی نے خود کو یہوواہ کیلئے مخصوص کِیا تھا۔ جب ہم نے اسکی کلیسیا کا دورہ کِیا تو وہاں ہلکی سی روشنی والا صرف ایک بلب مقرر کے نوٹس پر لٹک رہا تھا—جبکہ اردگرد اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ اندھیرے کے باوجود، بھائیوں اور بہنوں کا خوبصورتی کیساتھ گیت گانا دمبخود کرنے والا تھا۔
ہماری زندگیوں کا ایک اہمترین واقعہ دسمبر ۱۹۹۸ میں رونما ہوا جب لائیڈ اور مَیں کیوبا میں منعقد ہونے والے ”زندگی کی خدائی راہ“ ڈسٹرکٹ کنونشن کے مندوبین میں شامل تھے۔ وہاں کے بھائی بہنوں نے بروکلن ہیڈکوارٹرز سے آنے والے لوگوں کیلئے جس خوشی اور شکرگزاری کا اظہار کِیا اُس سے ہم بہت متاثر ہوئے! ایسے عزیز بہنبھائیوں سے ملاقات کی یادوں کی مَیں بہت قدر کرتی ہوں جو یہوواہ کی حمدوثنا کرنے میں سرگرمِعمل ہیں۔
خدا کے لوگوں کیساتھ مطمئن
میرا آبائی مُلک تو آسٹریلیا ہے لیکن یہوواہ کی تنظیم نے مجھے جہاں بھی بھیجا مجھے وہاں کے لوگوں سے محبت ہو گئی۔ یہ جاپان کے معاملے میں بھی سچ تھا اور اب جبکہ مجھے ریاستہائےمتحدہ میں ۲۵ سال سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے مَیں نے یہاں بھی ایسا ہی پایا ہے۔ جب میرا شوہر وفات پا گیا تو مَیں نے آسٹریلیا واپس جانے کی بجائے بروکلن بیتایل ہی میں رہنے کا فیصلہ کِیا جہاں یہوواہ نے مجھے تفویض عطا کی تھی۔
اب مَیں ۸۰ کی دہائی میں ہوں۔ مَیں ۶۱ سال کی کُلوقتی خدمت کے بعد بھی جہاں یہوواہ چاہے اسکی خدمت کرنے کیلئے تیار ہوں۔ اس نے واقعی میرا خیال رکھا ہے۔ مجھے اپنی زندگی کے ۵۷ سے زائد سال کا وہ عرصہ بہت عزیز ہے جو مَیں نے ایک شفیق ساتھی کے ساتھ گزارا جو یہوواہ سے محبت کرتا تھا۔ مَیں یہوواہ کی جاریوساری برکات کیلئے پُراعتماد ہوں اور مَیں جانتی ہوں کہ اس کے نام کی خاطر جو کام اور محبت ہم نے دکھائی ہے وہ اُسے کبھی نہیں بھولے گا۔—عبرانیوں ۶:۱۰۔
[فٹنوٹ]
a اکتوبر ۱، ۱۹۹۹ کے مینارِنگہبانی کے صفحہ ۱۶ اور ۱۷ کو پڑھیں۔
[صفحہ ۲۵ پر تصویر]
سن ۱۹۵۶ میں والدہ کیساتھ
[صفحہ ۲۶ پر تصویر]
سن ۱۹۵۰ کے اوائل میں لائیڈ اور جاپانی پبلشروں کے ایک گروپ کیساتھ
[صفحہ ۲۶ پر تصویریں]
جاپان میں سن ۱۹۵۰ کے اوائل میں اور سن ۱۹۹۹ میں میری پہلی بائبل طالبعلم ماؤتاکاجی کیساتھ
[صفحہ ۲۸ پر تصویر]
جاپان میں رسالے تقسیم کرنے کے کام میں لائیڈ کیساتھ