یہوواہ کے لائق چال چلنے میں دوسروں کی مدد کریں
”ہم بھی تمہارے واسطے یہ دُعا کرنے اور درخواست کرنے سے باز نہیں آتے کہ . . . تمہارا چالچلن [یہوواہ] کے لائق ہو اور اُسکو ہر طرح سے پسند آئے اور تم میں ہر طرح کے نیک کام کا پھل لگے۔“—کلسیوں ۱:۹، ۱۰۔
۱، ۲. کونسی چیز بالخصوص خوشی اور اطمینان کا باعث بن سکتی ہے؟
”ہم ایک فارم پر ایک بڑی گاڑی میں رہتے ہیں۔ اپنی زندگی کو سادہ رکھنے سے ہمیں دوسروں کو خوشخبری سنانے کیلئے زیادہ وقت ملتا ہے۔ ہمیں یہوواہ کیلئے اپنی زندگی مخصوص کرنے کے سلسلے میں بہتیرے لوگوں کی مدد کرنے کا مبارک شرف حاصل ہوا ہے۔“—جنوبی افریقہ میں کُلوقتی خدمت انجام دینے والا ایک بیاہتا جوڑا اپنی بابت بتاتا ہے۔
۲ کیا آپ اس بات سے متفق نہیں کہ دوسروں کی مدد کرنا باعثِمسرت ہے؟ بعض لوگ اکثر بیماروں، محتاجوں یا تنہا لوگوں کی مدد کرنے سے اطمینان حاصل کرتے ہیں۔ سچے مسیحی اس بات کے قائل ہیں کہ وہ دوسروں کو یہوواہ اور یسوع مسیح کے علم سے بہرہوَر کرنے کی صورت میں ہی سب سے بڑی مدد پیش کر سکتے ہیں۔ صرف اسی کی بدولت لوگ یسوع کے فدیے کو قبول کر کے خدا کیساتھ ایک اچھا رشتہ قائم کرنے اور ابدی زندگی حاصل کرنے کے لائق ٹھہرتے ہیں۔—اعمال ۳:۱۹-۲۱؛ ۱۳:۴۸۔
۳. کس قسم کی مدد ہماری توجہ کی مستحق ہے؟
۳ تاہم، پہلے ہی سے مسیحی ”طریق“ پر چلتے ہوئے خدا کی خدمت بجا لانے والے لوگوں کی مدد کرنے کی بابت کیا خیال ہے؟ (اعمال ۱۹:۹) بِلاشُبہ آپ اُن میں بہت زیادہ دلچسپی تو رکھتے ہیں مگر شاید آپ اُنکی مزید مدد کرنے کے طریقوں سے واقف نہیں ہیں۔ یا غالباً آپ اپنے حالات کی وجہ سے اُنکی زیادہ مدد نہیں کر پاتے اور یوں اس سے حاصل ہونے والے اطمینان سے بھی محروم رہ جائیں۔ (اعمال ۲۰:۳۵) ہم کلسیوں کی کتاب سے اِن دونوں پہلوؤں کی بابت سیکھ سکتے ہیں۔
۴. (ا) پولس نے کن حالات کے تحت کلسیوں کے نام خط تحریر کِیا؟ (ب) اپفراس کا اس میں کیا کردار تھا؟
۴ جب پولس نے کُلسّے کے مسیحیوں کے نام خط لکھا تو وہ روم میں نظربند تھا مگر لوگ اُس سے ملنے کیلئے آ سکتے تھے۔ آپ کی توقع کے عین مطابق پولس نے اپنی محدود آزادی کو خدا کی بادشاہت کی منادی کیلئے ہی استعمال کِیا تھا۔ (اعمال ۲۸:۱۶-۳۱) ساتھی مسیحی پولس کی ملاقات کیلئے آ سکتے تھے جن میں سے بعض اُسکے ساتھ قید میں بھی رہ چکے تھے۔ (کلسیوں ۱:۷، ۸؛ ۴:۱۰) ایسا ہی ایک شخص، سرگرم مُناد اپفراس تھا جو ایشیائےکوچک (موجودہ تُرکی) میں افسس کے مشرقی ارتفاعی مُلک، فروگیہ کے شہر کُلسّے کا باشندہ تھا۔ اپفراس نے کُلسّے میں کلیسیا کے قیام کیلئے نہایت اہم کردار ادا کرنے کے علاوہ قریبی لودیکیہ اور ہیراپلس کی کلیسیاؤں کیلئے بھی بڑی جانفشانی کی تھی۔ (کلسیوں ۴:۱۲، ۱۳) اپفراس روم میں پولس سے ملنے کیلئے کیوں گیا اور ہم پولس کے جوابیعمل سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
کلسیوں کیلئے مؤثر مدد
۵. پولس نے کلسیوں کے نام ایسا خط کیوں لکھا؟
۵ اپفراس نے کلسیوں کی کلیسیا کی حالت کے بارے میں پولس سے مشورہ کرنے کیلئے روم کا کٹھن سفر کِیا تھا۔ اُس نے اُن مسیحیوں کے ایمان، محبت اور بشارتی کاوشوں کی بابت اُسے بتایا۔ (کلسیوں ۱:۴-۸) تاہم، اُس نے کُلسّے کے مسیحیوں کی روحانیت کیلئے خطرہ بننے والے منفی اثرات کی بابت اپنے تفکرات کا اظہار بھی ضرور کِیا ہوگا۔ نتیجتاً پولس نے اپنے الہامی خط میں جھوٹے اُستادوں کے پھیلائے گئے بعض نظریات کی تردید کی۔ اُس نے بالخصوص یسوع مسیح کے مرکزی کردار پر توجہ دلائی۔a کیا اُس نے صرف بائبل کی بنیادی سچائیوں کو اُجاگر کرنے سے ہی مدد کی تھی؟ وہ کُلسّے کے مسیحیوں کی اَور کیسے مدد کر سکتا تھا اور دوسروں کی مدد کے حوالے سے ہم کیا سبق سیکھ سکتے ہیں؟
۶. کلسیوں کے نام اپنے خط میں پولس نے کس چیز پر زور دیا تھا؟
۶ اپنے خط کے شروع میں، پولس نے مدد کی ایک ایسی قسم پر روشنی ڈالی جسے ہم شاید نظرانداز کر دیں۔ پولس اور اپفراس کُلسّے سے بہت دُور تھے اسلئے یہ مدد کرنے کا ایک ایسا ذریعہ تھا جو طویل فاصلے سے بھی مؤثر ثابت ہوا تھا۔ پولس بیان کرتا ہے: ”ہم تمہارے حق میں ہمیشہ دُعا کر کے اپنے خداوند یسوؔع مسیح کے باپ یعنی خدا کا شکر کرتے ہیں۔“ جیہاں، یہ کُلسّے کے مسیحیوں کیلئے مخلصانہ دُعائیں تھیں۔ پولس نے مزید بیان کِیا: ”اسی لئے جس دن سے یہ سنا ہے ہم بھی تمہارے واسطے یہ دُعا کرنے اور درخواست کرنے سے باز نہیں آتے کہ تم کمال روحانی حکمت اور سمجھ کے ساتھ اُسکی مرضی کے علم سے معمور ہو جاؤ۔“—کلسیوں ۱:۳، ۹۔
۷، ۸. ہم اپنی ذاتی اور کلیسیائی دُعاؤں میں اکثر کن کا ذکر کرتے ہیں؟
۷ ہم جانتے ہیں کہ یہوواہ ’دُعاؤں کا سننے والا‘ ہے اسلئے ہم بھروسا رکھ سکتے ہیں کہ جو دُعائیں اُسکی مرضی کے موافق کی جاتی ہیں وہ اُنہیں سننے کیلئے تیار رہتا ہے۔ (زبور ۶۵:۲؛ ۸۶:۶؛ امثال ۱۵:۸، ۲۹؛ ۱-یوحنا ۵:۱۴) تاہم، جب دوسروں کے حق میں دُعا کرنے کی بات آتی ہے تو ہم کیسی دُعائیں کرتے ہیں؟
۸ ہم اکثر اپنی ’عالمی برادری‘ کیلئے فکرمندی کے اظہار میں دُعا کرتے ہیں۔ (۱-پطرس ۵:۹) علاوہازیں، ہم کسی آفتزدہ علاقے کے مسیحیوں اور دیگر لوگوں کیلئے بھی یہوواہ سے دُعا کر سکتے ہیں۔ جب پہلی صدی کے شاگردوں کو یہودیہ میں قحط کی خبر ملی ہوگی تو اُنہوں نے امدادی اشیا بھیجنے سے پہلے اپنے بھائیوں کے حق میں ڈھیروں دُعائیں کی ہونگی۔ (اعمال ۱۱:۲۷-۳۰) آجکل، مسیحی اجلاس پر تمام برادری یا بھائیوں کی کسی جماعت کیلئے اکثر دُعائیں کی جاتی ہیں جنہیں قابلِسمجھ ہونا چاہئے تاکہ سننے والے آخر میں ”آمین“ کہہ سکیں۔—۱-کرنتھیوں ۱۴:۱۶۔
خصوصی دُعا
۹، ۱۰. (ا) کونسی مثالوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ مخصوص اشخاص کیلئے دُعا کرنا موزوں ہے؟ (ب) پولس خود بھی خصوصی دُعا کا موضوع کیسے تھا؟
۹ تاہم، بائبل میں ایسی دُعاؤں کی مثالیں بھی ملتی ہیں جو خاص طور پر کسی ایک شخص کے لئے کی گئی تھیں۔ لوقا ۲۲:۳۱، ۳۲ میں درج یسوع کی اس بات پر غور کیجئے۔ وہ اپنے ۱۱ وفادار رسولوں کے درمیان کھڑا تھا۔ آئندہ کٹھن حالات میں اُن سب کو خدا کی مدد درکار ہوگی اسی لئے یسوع نے اُن سب کیلئے دُعا کی تھی۔ (یوحنا ۱۷:۹-۱۴) لیکن یسوع نے ان میں سے پطرس شاگرد کیلئے خاص التجا کی۔ دیگر مثالیں: الیشع نے اپنے خادم کی مدد کیلئے خدا سے خاص دُعا کی تھی۔ (۲-سلاطین ۶:۱۵-۱۷) یوحنا رسول نے گِیُس کی جسمانی اور روحانی صحت کیلئے دُعا کی تھی۔ (۳-یوحنا ۱، ۲) ایسی اَور بھی دُعائیں ہیں جو صرف مخصوص گروہوں کیلئے کی گئی تھیں۔—ایوب ۴۲:۷، ۸؛ لوقا ۶:۲۸؛ اعمال ۷:۶۰؛ ۱-تیمتھیس ۲:۱، ۲۔
۱۰ پولس کے خطوط بھی خصوصی دُعاؤں کے معاملے پر روشنی ڈالتے ہیں۔ اُس نے اپنے اور اپنے ساتھیوں کے حق میں دُعا کرنے کی درخواست کی تھی۔ کلسیوں ۴:۲، ۳ بیان کرتی ہیں: ”دُعا کرنے میں مشغول اور شکرگذاری کے ساتھ اُس میں بیدار رہو۔ اور ساتھ ساتھ ہمارے لئے بھی دُعا کِیا کرو کہ خدا ہم پر کلام کا دروازہ کھولے تاکہ مَیں مسیح کے اُس بھید کو بیان کر سکوں جسکے سبب سے قید بھی ہوں۔“ اِس کے علاوہ درجذیل صحائف میں قلمبند مثالوں پر بھی غور کیجئے: رومیوں ۱۵:۳۰؛ ۱-تھسلنیکیوں ۵:۲۵؛ ۲-تھسلنیکیوں ۳:۱؛ عبرانیوں ۱۳:۱۸۔
۱۱. روم میں اپفراس کن کیلئے دُعاگو تھا؟
۱۱ روم میں پولس کے ساتھی نے بھی ایسا ہی کِیا تھا۔ ”اؔپفراس جو تم میں سے ہے . . . تمہیں سلام کہتا ہے۔ وہ تمہارے لئے دُعا کرنے میں ہمیشہ جانفشانی کرتا ہے۔“ (کلسیوں ۴:۱۲) لفظ ”جانفشانی“ قدیم کھیلوں میں حصہ لینے والے جمناسٹ کی ”کسرت“ کی طرف اشارہ کر سکتا ہے۔ کیا اپفراس عالمگیر برادری کے لئے یا ایشیائےکوچک کے تمام سچے پرستاروں کیلئے خلوصدلی سے دُعا کر رہا تھا؟ پولس نے واضح کِیا کہ اپفراس بالخصوص کُلسّے کے مسیحیوں کے لئے دُعا کر رہا تھا۔ اپفراس اُنکی حالت سے واقف تھا۔ ہم نہ تو اُن سب کے نام جانتے ہیں اور نہ ہی ہمیں اُنہیں درپیش مسائل کا کچھ علم ہے البتہ ہم کچھ ممکنات کا تصور ضرور کر سکتے ہیں۔ غالباً نوجوان لینس مروّجہ فیلسوفیوں کے اثر سے نبردآزما تھا جبکہ روفس کو یہودیت کے سابقہ کاموں کی کشش کی مزاحمت کرنے کیلئے قوت درکار تھی۔ پرسس کا شوہر بےایمان تھا اسلئے کیا اُسے اپنے بچوں کی خداوند میں پرورش کرنے کے لئے برداشت اور حکمت کی ضرورت تھی اور کیا جانلیوا بیماری میں مبتلا اسنکرتس اضافی تسلی کا حاجتمند تھا؟ جیہاں، اپفراس اپنی کلیسیا کے ان تمام لوگوں سے واقف تھا، لہٰذا اُس نے اُن کے لئے خلوصدلی سے دُعا کی کیونکہ وہ اور پولس دونوں یہ چاہتے تھے کہ یہ عقیدتمند لوگ یہوواہ کے لائق چال چلتے رہیں۔
۱۲. ہم اپنی ذاتی دُعاؤں میں اَور زیادہ وضاحت سے کیسے کام لے سکتے ہیں؟
۱۲ کیا آپ دوسروں کی مدد کے حوالے سے اس میں اپنے لئے کوئی نمونہ یا طریقہ دیکھتے ہیں؟ ہم اس بات پر پہلے ہی غور کر چکے ہیں کہ مسیحی اجلاس پر فرقفرق لوگ آتے ہیں اسلئے ان پر پیش کی جانے والی عوامی دُعائیں وسیع مفہوم رکھتی ہیں۔ تاہم ہماری ذاتی یا خاندانی دُعائیں خصوصی ہو سکتی ہیں۔ ممکن ہے کہ بعضاوقات ہم تمام سفری نگہبانوں یا روحانی چرواہوں کی راہنمائی اور برکت کیلئے خدا سے دُعا کریں لیکن کیا ہم کبھیکبھار کسی ایک کیلئے خصوصی دُعا کر سکتے ہیں؟ مثال کے طور پر، کیوں نہ اپنی کلیسیا کا دورہ کرنے والے سرکٹ اوورسیئر یا اپنے کلیسیائی کتابی مطالعے کے کنڈکٹر کا نام لیکر اُس کیلئے دُعا کریں؟ فلپیوں ۲:۲۵-۲۸ اور ۱-تیمتھیس ۵:۲۳ اپفردتس اور تیمتھیس کی صحت کیلئے پولس کی ذاتی فکر کو نمایاں کرتی ہیں۔ ہم جن بیمار لوگوں سے بنام واقف ہیں کیا اُن کیلئے ایسی ہی فکرمندی دکھا سکتے ہیں؟
۱۳. کونسی حالتیں ہماری ذاتی دُعاؤں کیلئے مناسب موضوعات ہو سکتی ہیں؟
۱۳ یہ درست ہے کہ ہم دوسروں کے معاملات میں دخلاندازی تو نہیں کرنا چاہتے مگر اپنی دُعاؤں میں اپنے واقفکاروں کے لئے حقیقی دلچسپی ظاہر کرنا اور اُن کیلئے فکر دکھانا موزوں ہے۔ (۱-تیمتھیس ۵:۱۳؛ ۱-پطرس ۴:۱۵) شاید کسی بھائی کی نوکری چھوٹ گئی ہے اور ہم اُسے کوئی دوسری ملازمت نہیں دِلا سکتے۔ لیکن ہم اپنی ذاتی دُعاؤں میں اُسکا اور اُسکے مسئلے کا ذکر کر سکتے ہیں۔ (زبور ۳۷:۲۵؛ امثال ۱۰:۳) کیا ہم کسی ایسی کنواری بہن کو جانتے ہیں جو ”صرف خداوند میں“ شادی کرنے کے عزم کی وجہ سے اُدھیڑ عمر کو پہنچ گئی ہے؟ (۱-کرنتھیوں ۷:۳۹) کیوں نہ اپنی ذاتی دُعاؤں میں یہوواہ سے اُسے برکت دینے اور وفادارانہ خدمت جاری رکھنے کیلئے اُسکی مدد کرنے کی درخواست کریں؟ اسکی ایک اَور مثال یہ ہے کہ شاید دو بزرگوں نے کسی خطاکار بھائی کو تنبیہ کی ہے، لہٰذا، کیوں نہ وہ دونوں بھی اپنی ذاتی دُعاؤں میں وقتاًفوقتاً اُسکا بنام ذکر کریں؟
۱۴. خصوصی دُعائیں دوسروں کی مدد سے کیسے منسلک ہیں؟
۱۴ آپ کے پاس یہوواہ کی حمایت، تسلی، حکمت اور رُوحاُلقدس یا اسکے کسی پھل کے ضرورتمند اشخاص کا اپنی ذاتی دُعاؤں میں ذکر کرنے کے بہتیرے امکانات ہیں۔ فاصلے یا دیگر حالات کی وجہ سے آپ کو مادی یا براہِراست مدد فراہم کرنا مشکل معلوم ہو سکتا ہے۔ لیکن اپنے بھائیبہنوں کیلئے دُعا کرنا مت بھولیں۔ آپ جانتے ہیں کہ وہ یہوواہ کے لائق چال چلنے کے خواہاں ہیں لیکن ہمیشہ اس روش پر گامزن رہنے کیلئے اُنہیں مدد کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ اس ضمن میں آپکی دُعائیں مدد کا بنیادی ذریعہ ہیں۔—زبور ۱۸:۲؛ ۲۰:۱، ۲؛ ۳۴:۱۵؛ ۴۶:۱؛ ۱۲۱:۱-۳۔
دوسروں کو تقویت دینے کیلئے کام کریں
۱۵. ہمیں کلسیوں کے اختتامی حصے میں دلچسپی کیوں لینی چاہئے؟
۱۵ بِلاشُبہ، پُرخلوص اور خصوصی دُعا ہی دوسروں، بالخصوص اپنے قریبی اور عزیز لوگوں کی مدد کرنے کا واحد طریقہ نہیں ہے۔ کلسیوں کی کتاب اس بات کو واضح کرتی ہے۔ بہتیرے علما کا خیال ہے کہ پولس نے عقائد سے متعلق ہدایت اور عملی مشورت دینے کے بعد محض سلاموتہنیت پیش کی۔ (کلسیوں ۴:۷-۱۸) تاہم، ہم یہ دیکھ چکے ہیں کہ اس کتاب کے آخری حصے میں قابلِقدر مشورت پائی جاتی ہے مگر یہ حصہ ہمیں اَور بھی بہت کچھ سکھاتا ہے۔
۱۶، ۱۷. کلسیوں ۴:۱۰، ۱۱ میں متذکرہ بھائیوں کی بابت ہم کیا کہہ سکتے ہیں؟
۱۶ پولس نے لکھا: ”اؔرسترخس جو میرے ساتھ قید ہے تم کو سلام کہتا ہے اور برؔنباس کا رشتہ کا بھائی مرقسؔ (جسکی بابت تمہیں حکم ملے تھے کہ اگر وہ تمہارے پاس آئے تو اس سے اچھی طرح ملنا) اور یسوؔع جو یوستُسؔ کہلاتا ہے مختونوں میں سے صرف یہی خدا کی بادشاہی کے لئے میرے ہمخدمت اور میری تسلی [”تقویتبخش مدد،“ اینڈبلیو] کا باعث رہے ہیں۔“—کلسیوں ۴:۱۰، ۱۱۔
۱۷ پولس یہاں کچھ ایسے بھائیوں کا نام لیتا ہے جو خاص طور پر قابلِذکر تھے۔ وہ کہتا ہے کہ وہ مختون یہودی تھے۔ روم میں مختون یہودی خاصی تعداد میں موجود تھے اور بعض اب مسیحی بن چکے تھے۔ لہٰذا، پولس نے جنکا ذکر کِیا اُنہوں نے اُس کی مدد کی تھی۔ غالباً، وہ غیرقوم مسیحیوں سے بھی بِلاہچکچاہٹ رفاقت رکھتے تھے اسی لئے اُنہوں نے بڑی خوشی سے پولس کے ساتھ ملکر غیرقوم لوگوں میں منادی بھی کی ہوگی۔—رومیوں ۱۱:۱۳؛ گلتیوں ۱:۱۶؛ ۲:۱۱-۱۴۔
۱۸. پولس نے اپنے بعض ساتھیوں کی تعریف کیسے کی تھی؟
۱۸ پولس کی اس بات پر غور کیجئے: ’یہی . . . میرے لئے تقویتبخش مدد کا باعث رہے ہیں۔‘ یہاں اُس نے جو یونانی لفظ استعمال کِیا وہ بائبل میں صرف اسی جگہ دکھائی دیتا ہے۔ بہتیرے مترجمین اسی لفظ کا ترجمہ ”تسلی“ کرتے ہیں۔ تاہم، ایک اَور یونانی لفظ (پاراکیلیو) بھی ہے جسکا ترجمہ عموماً ”تسلی“ کِیا جاتا ہے۔ پولس نے اس لفظ کو اس خط میں دوسری جگہوں پر استعمال کِیا مگر کلسیوں ۴:۱۱ میں استعمال نہیں کِیا۔—متی ۵:۴؛ اعمال ۴:۳۶؛ ۹:۳۱؛ ۲-کرنتھیوں ۱:۴؛ کلسیوں ۲:۲؛ ۴:۸۔
۱۹، ۲۰. (ا) پولس نے روم میں اُس کی مدد کرنے والے بھائیوں کے لئے جو اصطلاح استعمال کی اُس کا مفہوم کیا ہے؟ (ب) اِن بھائیوں نے کن طریقوں سے پولس کی مدد کی ہوگی؟
۱۹ پولس نے جنکا بنام ذکر کِیا اُنہوں نے اُسے صرف زبانیکلامی ہی تسلی نہیں دی ہوگی۔ کلسیوں ۴:۱۱ میں جس یونانی اصطلاح کا ترجمہ ”تقویتبخش مدد“ کِیا گیا ہے وہ دُنیاوی کُتب میں درد کو رفع کرنے والی دوا کیلئے بھی استعمال ہوئی ہے۔ نیو لائف ورشن اسی اظہار کو یوں پیش کرتی ہے: ”وہ میرے لئے نہایت مددگار ثابت ہوئے ہیں!“ ٹوڈیز انگلش ورشن بھی کچھ ایسا ہی کہتی ہے: ”اُنہوں نے میری بڑی مدد کی ہے۔“ پولس کے قریب رہنے والے ان مسیحی بھائیوں نے اُس کی مدد کیلئے کیا کِیا ہوگا؟
۲۰ پولس کے پاس ملاقاتی تو آ سکتے تھے مگر اُس کیلئے ضرورت کی اشیا—خوراک اور موسمِسرما کا لباس وغیرہ—خریدنے کے علاوہ دیگر بہت سے کام کرنا ناممکن تھا۔ اُسکے پاس مطالعے کیلئے طومار کیسے آ گئے یا اُس نے لکھنے کیلئے کاغذ، قلم اور دوات وغیرہ کیسے خریدی؟ (۲-تیمتھیس ۴:۱۳) کیا آپ اس بات کا تصور نہیں کر سکتے کہ یہی بھائی خریداری یا دیگر بنیادی ضروریات پوری کرنے میں پولس کی مدد کرتے ہونگے؟ ممکن ہے کہ وہ کسی کلیسیا کا حال دریافت کرنا اور اُسکی حوصلہافزائی کرنا چاہتا ہو۔ نظربندی کی حالت میں تو وہ ایسا نہیں کر سکتا تھا اسلئے یہی بھائی پولس کی خاطر سفر کر کے اُسکے پیغام لیجاتے اور واپس اُسکے پاس خبریں لاتے ہونگے۔ کتنی تقویتبخش بات!
۲۱، ۲۲. (ا) ہمارے لئے کلسیوں ۴:۱۱ دلچسپی کی حامل کیوں ہونی چاہئے؟ (ب) ہم کن طریقوں سے پولس کے ساتھیوں کے نمونے پر عمل کر سکتے ہیں؟
۲۱ پولس نے ”تقویتبخش مدد“ کے سلسلے میں جوکچھ لکھا اُس سے ہم یہ سمجھ جاتے ہیں کہ ہم دوسروں کی مدد کیسے کر سکتے ہیں۔ ممکن ہے کہ وہ اُسکے اخلاقی معیاروں، مسیحی اجلاس پر حاضری اور منادی میں شرکت کے لحاظ سے یہوواہ کے لائق چال چل رہے ہوں جس کیلئے وہ قابلِتعریف ہیں۔ تاہم، کیا ہم پولس کے ساتھیوں کی طرح ’تقویتبخش مدد‘ فراہم کرنے کی زیادہ کوشش کر سکتے ہیں؟
۲۲ اگر آپ کسی ایسی بہن کو جانتے ہیں جس نے ۱-کرنتھیوں ۷:۳۷ کی مشورت پر عمل کرنے سے دانشمندی کا ثبوت دیا ہے مگر اب اُسکے نزدیک کوئی خاندان نہیں رہتا تو کیا آپ اُسے اپنے ساتھ کھانے پر یا شاید دوستوں اور رشتہداروں کے اجتماع میں مدعو کرنے سے اپنے خاندان کی بعض سرگرمیوں میں شریک کر سکتے ہیں؟ اُسے اپنے خاندان کیساتھ کنونشن یا چھٹیوں میں سیروتفریح پر لیجانے کی بابت کیا خیال ہے؟ یا اُس سے پوچھیں کہ آیا وہ کسی فرصت کے وقت آپ کے ساتھ اشیائےخوردونوش کی خریداری کیلئے جا سکتی ہے۔ اسی طرح ہم بیواؤں، رنڈوؤں یا ایسے لوگوں کی بھی مدد کر سکتے ہیں جو شاید گاڑی چلانے کے قابل نہیں رہے۔ آپ اُنکے تجربات سننے اور بڑھیا پھل یا بچگانا ملبوسات کے انتخاب کے سلسلے میں اُنکے علم سے بہت مستفید ہونگے۔ (احبار ۱۹:۳۲؛ امثال ۱۶:۳۱) اس سے یقیناً عمدہ دوستانہ رشتہ اُستوار ہوگا۔ لہٰذا، جب اُنہیں بازار سے کوئی دوا یا کوئی اَور چیز منگوانی ہوگی تو وہ بِلاجھجھک آپ سے کہہ سکیں گے۔ روم میں بھائیوں نے پولس کی عملی اور تقویتبخش مدد کی ہوگی اور آپ بھی ایسا ہی کر سکتے ہیں۔ نہ صرف ماضی میں بلکہ آجکل بھی اس سے محبت کے اٹوٹ بندھن اور وفاداری سے یہوواہ کی خدمت کرنے کے مضبوط عزم کی اضافی برکت حاصل ہوتی ہے۔
۲۳. ہم سب کیلئے کس کام میں وقت صرف کرنا اچھا ہوگا؟
۲۳ ہم سب اس مضمون میں زیرِبحث آنے والی حالتوں پر غور کر سکتے ہیں۔ یہ تو محض مثالیں ہیں لیکن یہ ایسی حقیقی حالتوں کی طرف ہماری توجہ دِلا سکتی ہیں جن میں ہم اپنے بھائیبہنوں کو زیادہ ”تقویتبخش مدد“ فراہم کر سکتے ہیں۔ اسکا مطلب یہ نہیں کہ ہم فلاحی کام کرنے والے لوگوں کی طرح بن جائیں۔ کلسیوں ۴:۱۰، ۱۱ میں متذکرہ بھائیوں کا یہ مقصد ہرگز نہیں تھا۔ وہ ”خدا کی بادشاہی کے لئے . . . ہمخدمت“ تھے۔ تقویتبخش مدد کا تعلق براہِراست اسی سے تھا۔ دُعا ہے کہ ہمارے معاملے میں بھی ایسا ہی ہو۔
۲۴. دوسروں کے حق میں دُعا اور اُنکی مدد کرنے کی بنیادی وجہ کیا ہے؟
۲۴ اپنی دُعاؤں میں دوسروں کا بنام ذکر کرنے اور اُنہیں تقویت دینے کی کوشش کرنے کی وجہ یہ ہے: ہمیں یقین ہے کہ ہمارے بھائیبہن چاہتے ہیں کہ اُنکا ”چالچلن [یہوواہ] کے لائق ہو اور اُسکو ہر طرح سے پسند آئے۔“ (کلسیوں ۱:۱۰) اس حقیقت کا تعلق ایک اَور چیز سے بھی ہے جسکا ذکر پولس نے کلسیوں کے حق میں اپفراس کی دُعاؤں کے حوالے سے کِیا کہ وہ ”کامل ہوکر پورے اعتقاد کے ساتھ خدا کی پوری مرضی پر قائم“ رہیں۔ (کلسیوں ۴:۱۲) ہم ذاتی طور پر اس نشانے کو کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟ آئیے دیکھیں۔
[فٹنوٹ]
a واچٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف نیو یارک انکارپوریٹڈ کی شائعکردہ انسائٹ آن دی سکرپچرز، جِلد ۱، صفحات ۴۹۰-۴۹۱ اور ”آل سکرپچر از انسپائرڈ آف گاڈ اینڈ بینیفشل،“ صفحات ۲۲۶-۲۲۸ کا مطالعہ کریں۔
کیا آپ نے غور کِیا؟
• ہم اپنی ذاتی دُعاؤں میں زیادہ مددگار کیسے ثابت ہو سکتے ہیں؟
• کس مفہوم میں بعض مسیحی پولس کیلئے ’تقویتبخش مدد‘ کا باعث تھے؟
• ہم کن حالتوں میں ’تقویتبخش مدد‘ کا باعث بن سکتے ہیں؟
• اپنے بہنبھائیوں کے حق میں دُعا اور اُن کی مدد کرنے کا مقصد کیا ہے؟
[صفحہ ۱۸ پر تصویر]
کیا آپ کسی ساتھی مسیحی کو اپنے خاندان کیساتھ سیروتفریح پر لیجا سکتے ہیں؟
[تصویر کا حوالہ]
Courtesy of Green Chimney’s Farm