یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م00 1/‏10 ص.‏ 30-‏31
  • ‏”‏دلفریب غزال“‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • ‏”‏دلفریب غزال“‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2000ء
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2000ء
م00 1/‏10 ص.‏ 30-‏31

‏”‏دلفریب غزال“‏

ہم میں سے بہتیرے ایک غزال کی تعریف میں اسمِ‌صفت دلفریب استعمال نہیں کرینگے۔ جو ملے وہ کھانے والی اور ہمیں مزیدار گوشت اور غذائیت سے بھرپور دودھ فراہم کرنے والی غزال کو ہم مفید تو خیال کر سکتے ہیں—‏لیکن ہم شاید ہی اُنہیں دلفریب کہیں۔‏

اس کے باوجود، بائبل ایک بیوی کا بیان ”‏پیاری ہرنی اور دلفریب غزال“‏ کے طور پر کرتی ہے۔ (‏امثا ۵:‏۱۸، ۱۹‏)‏ امثال کی کتاب کا مصنف، سلیمان اسرائیل کی حیوانی زندگی سے بخوبی واقف تھا اور بِلاشُبہ اُس کے پاس یہ استعارہ استعمال کرنے کی معقول وجہ تھی۔ (‏۱-‏سلاطین ۴:‏۳۰-‏۳۳‏)‏ شاید اُس نے بھی اپنے باپ داؤد کی طرح بحرِمُردار کے ساحلوں کے قریب، عین‌جدی کے اردگرد کے علاقوں میں اکثر نظر آنے والی غزال کا مشاہدہ کِیا تھا۔‏

یہوداہ کے ریگستانی علاقے کے نزدیک رہنے والی غزال، چھوٹے گروہوں میں عین‌جدی کے چشمے پر باقاعدہ آیا کرتی تھیں۔ اِس بنجر علاقے میں صرف ایک ہی قابلِ‌اعتماد پانی کا ذریعے ہونے کی وجہ سے، عین‌جدی صدیوں سے غزال‌کیلئے ایک پسندیدہ جگہ رہی ہے۔ درحقیقت عین‌جدی کا مطلب ”‏بزغالہ کا چشمہ“‏ ہو سکتا ہے جو اس بات کی شہادت مہیا کرتا ہے کہ اس علاقے میں بکری کے بچے عموماً دکھائی دیتے تھے۔ بادشاہ ساؤل کے ظلم سے بچنے کے لئے، داؤد بادشاہ نے یہاں پناہ لی حالانکہ اُسے ایک بھگوڑے کے طور پر ”‏جنگلی بکروں کی چٹانوں“‏ پر رہنا پڑا۔—‏۱-‏سموئیل ۲۴:‏۱، ۲‏۔‏

آپ عین‌جدی پر آج بھی پہاڑی بکری یا غزال کو تنگ پہاڑی گزرگاہ سے پانی کی طرف جانے والے بکرے کے پیچھے بانک‌پن سے چلتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔ پھر آپ ایک غزال اور ایک وفادار بیوی کا موازنہ سمجھ سکیں گے۔ اس کی پُرسکون طبیعت اور شائستہ اسلوب نسوانی خوبیاں ظاہر کرتے ہیں۔ لفظ ”‏دلفریب“‏ ظاہری طور پر ایک غزال کی نزاکت اور خوبصورت وضع‌قطع کی طرف اشارہ کرتا ہے۔‏a

پہاڑی بکری سجیلی ہونے کیساتھ ساتھ جفاکش بھی ہوتی ہے۔ جیساکہ یہوواہ نے ایوب پر آشکارا کِیا، پہاڑی بکری ناقابلِ‌رسائی چٹانوں پر بچے دیتی ہے جہاں اُسے غذا کی کمی اور شدید درجۂ‌حرارت کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔ (‏ایوب ۳۹:‏۱‏)‏ اِن مشکلات کے باوجود، وہ اپنے بچوں کی دیکھ‌بھال کرتی اور اُنہیں چٹانوں پر چڑھنا اور اُن پر سے کودنا سکھاتی ہے۔ پہاڑی بکری اپنے بچوں کو شکاری جانوروں سے محفوظ رکھنے میں بھی دلیری دکھاتی ہے۔ ایک مشاہد نے غزال کو عقاب کیساتھ آدھے گھنٹے تک لڑتے دیکھا جبکہ اُسکا بچہ تحفظ کیلئے اُسکے نیچے چھپا رہا۔‏

مسیحی بیویوں اور ماؤں کو اکثر کٹھن حالات کے تحت اپنے بچوں کی پرورش کرنی پڑتی ہے۔ غزال کی طرح، وہ خدا کی طرف سے اس ذمہ‌داری کے لئے عقیدت اور خودایثاری ظاہر کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ دلیری سے اپنے بچوں کو روحانی خطرات سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرتی ہیں۔ لہٰذا، اس استعارہ کے استعمال سے سلیمان نے عورتوں کی اہمیت گھٹانے کی بجائے، درحقیقت اُس نے ایک عورت کے وقار اور خوبصورتی—‏کٹھن حالات میں بھی نمایاں ہونے والی روحانی خوبیاں—‏پر توجہ مرکوز کرائی ہے۔‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a دی نیو براؤن-‏ڈرائیور-‏بریگز-‏جی‌سی‌نیوس ہیبریو اینڈ انگلش لیکسیکون کے مطابق، اس سیاق‌وسباق کے لحاظ سے عبرانی لفظ چین جسکا ترجمہ ”‏دلفریب“‏ کِیا گیا ہے ’‏نزاکت یا وضع‌قطع میں شائستگی‘‏ کا مفہوم پیش کرتا ہے۔‏

‏[‏صفحہ ۳۰، ۳۱ پر تصویریں]‏

ایک مسیحی ماں خداداد ذمہ‌داریوں کو پورا کرتے ہوئے خوبصورت روحانی خوبیاں ظاہر کرتی ہے

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں