’اپنی اور اپنے سننے والوں کی نجات کا باعث بنیں‘
”اپنی اور اپنی تعلیم کی خبرداری کر۔ . . . ایسا کرنے سے تُو اپنی اور اپنے سننے والوں کی بھی نجات کا باعث ہوگا۔“—۱-تیمتھیس ۴:۱۶۔
۱، ۲. کونسی بات سچے مسیحیوں کو زندگی بچانے والا کام جاری رکھنے کی تحریک دیتی ہے؟
شمالی تھائیلینڈ کے ایک دُورافتادہ دیہات میں، ایک یہوواہ کا گواہ بیاہتا جوڑا پہاڑی قبیلے کے لوگوں سے اپنی نئی زبان میں گفتگو کرنے کی ازحد کوشش کرتا ہے۔ دیہاتیوں کو خدا کی بادشاہت کی خوشخبری سنانے کی غرض سے اس جوڑے نے حال ہی میں لاہو زبان سیکھی ہے۔
۲ ”ان دلچسپی رکھنے والے اشخاص کے درمیان کام کرنے سے حاصل ہونے والی خوشی اور تسکین کو بیان کرنا مشکل ہے،“ شوہر وضاحت کرتا ہے۔ ”ہم محسوس کرتے ہیں کہ ہم ’ہر قوم اور قبیلہ اور اہلِزبان‘ کو خوشخبری سناتے ہوئے واقعی مکاشفہ ۱۴:۶، ۷ کی تکمیل میں شامل ہیں۔ کچھ علاقے ایسے ہیں جہاں ابھی تک خوشخبری نہیں پہنچی جن میں یہ علاقہ بھی شامل ہے۔ ہمارے پاس اتنے زیادہ بائبل مطالعے ہیں کہ ہمارے لئے ان سب کیلئے وقت نکالنا مشکل ہے۔“ صاف ظاہر ہے کہ یہ جوڑا نہ صرف اپنی بلکہ اپنے سننے والوں کی بھی نجات کا خواہاں ہے۔ مسیحیوں کے طور پر، کیا ہم سب ایسا ہی کرنے کی اُمید نہیں رکھتے؟
”اپنی . . . خبرداری کر“
۳. دوسروں کو بچانے کیلئے ہمیں پہلے خود کیا کرنا چاہئے؟
۳ پولس رسول نے تیمتھیس کو نصیحت کی کہ ”اپنی اور اپنی تعلیم کی خبرداری کر“ اور اس کا اطلاق تمام مسیحیوں پر ہوتا ہے۔ (۱-تیمتھیس ۴:۱۶) واقعی، نجات حاصل کرنے میں دوسروں کی مدد کرنے کیلئے ہمیں پہلے اپنےآپ پر توجہ دینی چاہئے۔ ہم یہ کیسے کر سکتے ہیں؟ پہلی بات تو یہ ہے کہ ہمیں اپنے زمانے کی بابت چوکس رہنا چاہئے۔ یسوع نے ایک مرکب نشان دیا تاکہ اس کے شاگرد یہ جان سکیں کہ ”دُنیا کے آخر“ کا وقت آ پہنچا ہے۔ تاہم، یسوع نے یہ بھی کہا کہ ہمیں خاتمے کا ٹھیک وقت اور گھڑی معلوم نہیں ہوگی۔ (متی ۲۴:۳، ۳۶) ہمیں اس حقیقت کیلئے کیسا ردِعمل دکھانا چاہئے؟
۴. (ا)اس نظام کے باقیماندہ وقت کی بابت ہمیں کیسا رُجحان رکھنا چاہئے؟ (ب) ہمیں کس رُجحان سے گریز کرنا چاہئے؟
۴ ہم سب اس سوال پر غور کر سکتے ہیں، ’کیا مَیں اس نظام کے باقیماندہ وقت کو اپنی اور اپنے سننے والوں کی نجات کی خاطر استعمال کر رہا ہوں؟ یا کیا مَیں یہ سوچتا ہوں، ”خاتمے کا ٹھیک وقت معلوم نہ ہونے کی وجہ سے مجھے اس کی فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے“؟‘ مؤخرالذکر رُجحان خطرناک ہے۔ یہ یسوع کی اس تاکید کے بالکل برعکس ہے: ”تم بھی تیار رہو کیونکہ جس گھڑی تمکو گمان بھی نہ ہوگا ابنِآدؔم آ جائیگا۔“ (متی ۲۴:۴۴) یقیناً، یہ یہوواہ کی خدمت میں ٹھنڈے پڑ جانے یا تحفظ یا تسکین کیلئے دُنیا پر آس لگانے کا وقت نہیں ہے۔—لوقا ۲۱:۳۴-۳۶۔
۵. مسیحی دَور سے قبل یہوواہ کے گواہوں نے کونسا نمونہ قائم کِیا؟
۵ مسیحیوں کے طور پر وفاداری سے برداشت کرتے رہنا اپنی خبرداری کرنے کا ایک اَور طریقہ ہے۔ ماضی میں خدا کے خادموں نے فوری مخلصی کی اُمید ہونے یا نہ ہونے کی صورت میں بھی برداشت کی۔ پولس نے ہابل، حنوک، نوح، ابرہام اور سارہ جیسے مسیحی دَور سے پہلے کے گواہوں کے نمونے کا ذکر کرنے کے بعد بیان کِیا: ”[انہوں نے] وعدہ کی ہوئی چیزیں نہ پائیں مگر دُور ہی سے اُنہیں دیکھ کر خوش ہوئے اور اقرار کِیا کہ ہم زمین پر پردیسی اور مسافر ہیں۔“ وہ پُرآسائش زندگی کی آرزو کرنے اور معاشرے کی طرف سے بداخلاقی کے دباؤ تلے دب جانے کی بجائے، بڑے اشتیاق کیساتھ ”وعدہ کی ہوئی“ چیزوں کے منتظر رہے۔—عبرانیوں ۱۱:۱۳؛ ۱۲:۱۔
۶. نجات کی بابت پہلی صدی کے مسیحیوں کے نقطۂنظر نے انکی طرزِزندگی پر کیسا اثر ڈالا؟
۶ پہلی صدی کے مسیحیوں نے بھی اس دُنیا میں خود کو ”پردیسی“ سمجھا۔ (۱-پطرس ۲:۱۱) ۷۰ س.ع. میں یروشلیم کی تباہی سے بچ جانے کے بعد بھی، سچے مسیحیوں نے منادی بند کرکے دوبارہ دُنیاوی طرزِزندگی اختیار نہ کِیا۔ وہ جانتے تھے کہ وفاداروں کو ابھی اس سے بھی عظیمالشان نجات حاصل ہوگی۔ درحقیقت، ۹۸ س.ع. میں، یوحنا رسول نے تحریر کِیا: ”دُنیا اور اُس کی خواہش دونوں مٹتی جاتی ہیں لیکن جو خدا کی مرضی پر چلتا ہے وہ ابد تک قائم رہے گا۔“—۱-یوحنا ۲:۱۷، ۲۸۔
۷. دورِحاضر میں یہوواہ کے گواہوں نے برداشت کا مظاہرہ کیسے کِیا ہے؟
۷ دورِحاضر میں سخت اذیت کا سامنا کرنے کے باوجود، یہوواہ کے گواہوں نے مسیحی خدمت میں بڑے استقلال کا مظاہرہ کِیا ہے۔ کیا انکی برداشت رائیگاں ثابت ہوئی ہے؟ یقیناً نہیں، کیونکہ یسوع نے ہمیں یقین دلایا کہ ”جو آخر تک برداشت کریگا وہ نجات پائیگا،“ اب خواہ اس سے مُراد اس فرسودہ نظام کا آخر ہو یا کسی کی موجودہ زندگی کا آخر۔ یہوواہ موت کی نیند سو جانے والے اپنے تمام وفادار خادموں کو قیامت کے وقت یاد رکھیگا اور اُنہیں ضرور اجر دیگا۔—متی ۲۴:۱۳؛ عبرانیوں ۶:۱۰۔
۸. ہم کیسے ظاہر کر سکتے ہیں کہ ہم ماضی کے مسیحیوں کی برداشت کے ممنون ہیں؟
۸ مزیدبرآں، ہم خوش ہیں کہ ماضی کے وفادار مسیحی محض اپنی ہی نجات کی بابت فکرمند نہیں تھے۔ یہ اُنہی کی کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ آج ہم خدا کی بادشاہت کے علم سے بہرہور ہیں اسلئے ہمیں اُنکے احسانمند ہونا چاہئے کہ اُنہوں نے یسوع کے اس حکم کی ثابتقدمی سے تعمیل کی: ”تم جا کر سب قوموں کو شاگرد بناؤ . . . اور اُنکو یہ تعلیم دو کہ اُن سب باتوں پر عمل کریں جنکا مَیں نے تم کو حکم دیا۔“ (متی ۲۸:۱۹، ۲۰) جبتک موقع دستیاب ہے، ہم خوشخبری سے بےبہرہ لوگوں میں اسکی منادی کرنے سے اپنی احسانمندی کا اظہار کر سکتے ہیں۔ تاہم، منادی شاگرد بنانے کا پہلا قدم ہے۔
”اپنی تعلیم کی خبرداری کر“
۹. بائبل مطالعے شروع کرانے کے سلسلے میں مثبت رُجحان کیسے ہماری مدد کر سکتا ہے؟
۹ ہماری تفویض میں نہ صرف منادی کرنا بلکہ تعلیم دینا بھی شامل ہے۔ یسوع نے ہمیں لوگوں کو ان تمام باتوں پر عمل کرنے کی تعلیم دینے کا کام سونپا ہے جن کا اُس نے حکم دیا۔ یہ بات سچ ہے کہ بعض علاقوں میں، بظاہر معدودےچند ہی یہوواہ کی بابت سیکھنا چاہتے ہیں۔ لیکن علاقے کی بابت منفی نظریہ بائبل مطالعے شروع کرانے کی کوششوں میں حائل ہو سکتا ہے۔ اِیوٹ نامی پائنیر ایک ایسے علاقے میں رہتی ہے جس میں کام کرنا بعض کی نظر میں بیکار ہے مگر اُس نے محسوس کِیا کہ دیگر گواہوں نے جو منفی رُجحان نہیں رکھتے تھے یہاں آکر بہتیرے بائبل مطالعے شروع کئے۔ مثبت نقطۂنظر اپنا لینے کے بعد، اِیوٹ کو بھی بائبل مطالعہ کرنے کے خواہشمند لوگ مل گئے۔
۱۰. بائبل سکھانے والوں کے طور پر ہمارا بنیادی کردار کیا ہے؟
۱۰ بعض مسیحی دلچسپی رکھنے والے اشخاص کو بائبل مطالعے کی پیشکش کرنے سے ہچکچاتے ہیں کیونکہ وہ خود کو مطالعے کرانے کے قابل نہیں سمجھتے۔ یہ سچ ہے کہ ہم سب مختلف صلاحیتوں کے مالک ہیں۔ لیکن ہمیں خدا کے کلام کے کامیاب اُستاد بننے کیلئے انتہائی ماہر ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ بائبل کا خالص پیغام مؤثر ہے اور یسوع کے بقول بھیڑخصلت اشخاص حقیقی چرواہے کی آواز سنتے اور اُسے پہچانتے ہیں۔ لہٰذا، ہمارا فرض صرف اچھے چرواہے، یسوع مسیح کے پیغام کو حتیالوسع قابلِفہم انداز میں پیش کرنا ہے۔—یوحنا ۱۰:۴، ۱۴۔
۱۱. بائبل طالبعلم کی مدد کرنے کیلئے آپ کیسے زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں؟
۱۱ آپ یسوع کے پیغام کو کیسے مؤثر انداز میں پیش کر سکتے ہیں؟ سب سے پہلے، خود زیرِبحث موضوع کی بابت بائبل کی تفصیلات سے واقف ہونے کی کوشش کریں۔ کوئی بھی بات دوسروں کو سکھانے سے پہلے آپکو خود اچھی طرح معلوم ہونی چاہئے۔ نیز، مطالعے کے دوران ایک پُروقار مگر دوستانہ ماحول برقرار رکھیں۔ چھوٹے بچوں سمیت طالبعلم پُرسکون فضا اور اُستاد کی شفقت اور عزت کے سائے میں سیکھنے کی طرف زیادہ مائل ہوتے ہیں۔—امثال ۱۶:۲۱۔
۱۲. آپ اس بات کا تعیّن کیسے کر سکتے ہیں کہ طالبعلم آپکی سکھائی ہوئی باتوں کو سمجھتا بھی ہے؟
۱۲ ایک اچھے اُستاد کے طور پر آپ یہ نہیں چاہینگے کہ آپ اپنے طالبعلم کو محض حقائق بتا دیں اور وہ اُنہیں ازبر کر لے۔ آپ تمام باتوں کی گہری سمجھ حاصل کرنے میں اُسکی مدد کریں۔ آپکے طالبعلم کی تعلیم، زندگی کا تجربہ اور بائبل سے واقفیت اس حقیقت پر اثرانداز ہوگی کہ وہ کس حد تک آپکی بات سمجھتا ہے۔ لہٰذا، آپ خود سے پوچھ سکتے ہیں، ’کیا وہ مطالعے کے مواد میں حوالہشُدہ صحائف کی اہمیت سمجھتا ہے؟‘ آپ ایسے سوال پوچھنے سے اُس کے دل کی بات جان سکتے ہیں جنکے جواب محض ہاں یا ناں کی بجائے وضاحت طلب ہوتے ہیں۔ (لوقا ۹:۱۸-۲۰) اس کے برعکس، بعض طالبعلم اپنے اُستاد سے سوال پوچھنے سے ہچکچاتے ہیں۔ لہٰذا، عین ممکن ہے کہ وہ مطالعہ تو جاری رکھیں مگر کوئی بھی بات سمجھ نہ پائیں۔ طالبعلم کی حوصلہافزائی کریں کہ وہ سوال پوچھے اور جب کوئی بات اُسے سمجھ میں نہ آئے تو آپکو بتائے۔—مرقس ۴:۱۰؛ ۹:۳۲، ۳۳۔
۱۳. آپ ایک طالبعلم کی اُستاد بننے کیلئے کیسے مدد کر سکتے ہیں؟
۱۳ بائبل مطالعہ کرانے کا ایک اہم مقصد طالبعلم کی اُستاد بننے کے لئے مدد کرنا ہے۔ (گلتیوں ۶:۶) اس مقصد کی تکمیل کے لئے جب آپ اپنے مطالعہ کے آخر پر اعادہ کرتے ہیں تو طالبعلم سے کہیں کہ وہ آپ کے سامنے کسی نکتے کی وضاحت آسان الفاظ میں اس طرح کرے کہ جیسے وہ یہ نکتہ کسی ایسے شخص کو سمجھا رہا ہے جو اس سے پہلے واقف نہیں ہے۔ بعدازاں، جب وہ خدمتگزاری میں شرکت کرنے کے لائق ٹھہرتا ہے تو آپ اسے اپنے ساتھ میدانی خدمت میں جانے کی دعوت دے سکتے ہیں۔ وہ غالباً آپ کے ساتھ کام کرنے میں اطمینان محسوس کریگا اور تجربے کیساتھ ساتھ اُسکا اعتماد بھی اس حد تک بڑھ جائیگا کہ اُس کیلئے خدمتگزاری میں تنہا کام کرنا مشکل نہیں ہوگا۔
طالبعلم کی یہوواہ کا دوست بننے کیلئے مدد کریں
۱۴. ایک اُستاد کے طور پر آپ کا اوّلین نصباُلعین کیا ہے اور اسے حاصل کرنے میں کونسی چیز آپ کی مدد کرے گی؟
۱۴ ہر مسیحی اُستاد کا اوّلین نصباُلعین یہوواہ کی دوستی حاصل کرنے کے لئے طالبعلم کی مدد کرنا ہے۔ آپ نہ صرف اپنی گفتگو بلکہ اپنے نمونے سے یہ نصباُلعین حاصل کرنے کے قابل ہونگے۔ اپنے نمونے سے تعلیم دینا طالبعلموں کے دلوں پر گہرا اثر کرتا ہے۔ خاص طور پر، جب طالبعلم میں اخلاقی خوبیاں اور سرگرمی پیدا کرنے کی بات آتی ہے تو افعال یقیناً اقوال سے زیادہ اثرآفرین ثابت ہوتے ہیں۔ اگر وہ دیکھتا ہے کہ یہوواہ کیساتھ اچھا رشتہ آپ کے قولوفعل پر عمدہ اثر رکھتا ہے تو اُسے خود بھی ایسا رشتہ اُستوار کرنے کی تحریک ملیگی۔
۱۵. (ا)طالبعلم کے لئے یہوواہ کی خدمت کرنے کے سلسلے میں درست محرک پیدا کرنا کیوں اہم ہے؟ (ب) آپ مسلسل روحانی ترقی کرنے میں طالبعلم کی مدد کیسے کر سکتے ہیں؟
۱۵ آپ چاہتے ہیں کہ طالبعلم ہرمجدون میں ہلاک ہو جانے کے خوف کی بجائے محبت سے یہوواہ کی خدمت کرے۔ ایسا خالص محرک پیدا کرنے کیلئے اُسکی مدد کرنے سے آپ ایمان کی آزمائشوں سے بچ جانے والے غیرآتشگیر مادوں سے تعمیر کر رہے ہونگے۔ (۱-کرنتھیوں ۳:۱۰-۱۵) آپ کی یا کسی دوسرے انسان کی نقل کرنے کا غلط محرک اُسے غیرمسیحی اثرات کی مزاحمت اور دُرست کام کرنے کیلئے حوصلہ اور طاقت نہیں دیگا۔ یاد رکھیں کہ آپ ہمیشہ اُسکے اُستاد نہیں رہینگے۔ جبتک آپ کے پاس موقع ہے، آپ روزانہ خدا کا کلام پڑھنے اور اُس پر سوچبچار کرنے سے یہوواہ کی قربت حاصل کرنے کیلئے اُسکی حوصلہافزائی کر سکتے ہیں۔ اس طرح وہ آپ کے ساتھ مطالعہ ختم کرنے کے کافی دیر بعد بھی بائبل اور بائبل پر مبنی مطبوعات سے ”صحیح [باتوں] . . . کا خاکہ“ یاد رکھیگا۔—۲-تیمتھیس ۱:۱۳۔
۱۶. آپ طالبعلم کو دلی دُعا کرنا کیسے سکھا سکتے ہیں؟
۱۶ آپ طالبعلم کو دلی دُعا کرنا سکھا کر بھی یہوواہ کے نزدیک جانے میں اُسکی مدد کر سکتے ہیں۔ آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟ آپ یسوع کی نمونے کی دُعا اور زبور کی کتاب میں پائی جانے والی دُعاؤں کے علاوہ بائبل میں درج بیشتر مخلصانہ دُعاؤں پر اُسکی توجہ دِلا سکتے ہیں۔ (زبور ۱۷، ۸۶، ۱۴۳؛ متی ۶:۹، ۱۰) علاوہازیں، مطالعے کے شروع اور آخر میں دُعا کرنے سے بھی آپ کا طالبعلم یہوواہ کیلئے آپکے گہرے جذباتواحساسات سے واقف ہو جائیگا۔ لہٰذا، آپ کی دُعاؤں کو ہمیشہ خلوصدلی اور صافگوئی کے ساتھ ساتھ روحانی اور جذباتی توازن ظاہر کرنا چاہئے۔
اپنے بچوں کی نجات کیلئے کام کرنا
۱۷. نجات کی راہ پر قائم رہنے کیلئے والدین اپنے بچوں کی مدد کیسے کر سکتے ہیں؟
۱۷ ہم یقیناً اپنے خاندانی افراد کی نجات میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں۔ مسیحی والدین کے بچوں کی اکثریت مخلص اور ”ایمان میں مضبوط“ ہے۔ تاہم، دیگر نے اپنے دلوں میں سچائی کو گہری جڑ پکڑنے نہیں دیا ہے۔ (۱-پطرس ۵:۹؛ افسیوں ۳:۱۷؛ کلسیوں ۲:۷) ان میں سے بہتیرے نوجوان سنِبلوغت میں قدم رکھتے ہی مسیحی راہ کو چھوڑ دیتے ہیں۔ اگر آپ والدین ہیں تو آپ ایسے امکان کو کسطرح کم کر سکتے ہیں؟ اوّل، آپ خوشگوار خاندانی ماحول پیدا کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ ایک اچھی خاندانی زندگی، اختیار کے لئے صحتمندانہ نظریے، اخلاقی اقدار کیلئے پاسولحاظ اور دوسروں کیساتھ خوشگوار تعلقات کی بنیاد ڈالتی ہے۔ (عبرانیوں ۱۲:۹) لہٰذا، خاندان کے اندر باہمی قریبی تعلقات یہوواہ کے ساتھ دوستی پیدا کرنے کے سلسلے میں بچوں کیلئے معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ (زبور ۲۲:۱۰) مضبوط خاندان متحد ہوکر مختلف سرگرمیوں میں شریک ہوتے ہیں خواہ اس کیلئے والدین کو اپنا ایسا وقت بھی قربان کرنا پڑے جو وہ ذاتی فائدے کیلئے استعمال کر سکتے ہیں۔ اس طرح آپ اپنے نمونے سے اپنے بچوں کو زندگی میں درست فیصلے کرنا سکھا سکتے ہیں۔ اَے اولاد والو، آپ کے بچوں کو آپکے دھندولت کی نہیں بلکہ آپکی—آپکے وقت، توانائی اور محبت—کی ضرورت ہے۔ کیا آپ اپنے بچوں کو یہ چیزیں دے رہے ہیں؟
۱۸. والدین کو کس قسم کے سوالات کے جواب تلاش کرنے کے لئے اپنے بچوں کی مدد کرنی چاہئے؟
۱۸ مسیحی والدین کو کبھی بھی یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ اُنکے بچے بھی خودبخود مسیحی بن جائینگے۔ ایک بزرگ اور پانچ بچوں کا باپ، ڈینئل بیان کرتا ہے: ”سکول اور دیگر مقامات پر بچوں کے ذہن میں جو شکوشبہات ڈالے جاتے ہیں اُنہیں دُور کرنے کیلئے والدین کو وقت ضرور نکالنا چاہئے۔ انہیں صبر کیساتھ اِن سوالات کے جواب تلاش کرنے میں بچوں کی مدد کرنی چاہئے: ’کیا ہم واقعی آخری وقت میں رہ رہے ہیں؟ کیا واقعی ایک ہی سچا مذہب ہے؟ بظاہر ایک اچھا ہممکتب اچھا دوست کیوں نہیں ہو سکتا؟ کیا شادی سے پہلے جنسی تعلقات ہمیشہ غلط ہوتے ہیں؟‘ ” اَے اولاد والو، اپنی کوشش پر یہوواہ کی برکت کا یقین رکھیں کیونکہ وہ بھی آپکے بچوں کی بھلائی چاہتا ہے۔
۱۹. والدین کا اپنے بچوں کیساتھ خود مطالعہ کرنا کیوں اچھا ہے؟
۱۹ بعض والدین خود کو اپنے بچوں کے ساتھ مطالعہ کرنے کے اہل نہیں سمجھتے۔ تاہم، آپ کو ایسا محسوس نہیں کرنا چاہئے کیونکہ آپ کے بچوں کی تعلیموتربیت آپ سے بہتر اَور کوئی نہیں کر سکتا۔ (افسیوں ۶:۴) اپنے بچوں کیساتھ مطالعہ آپکو اُنکے دلودماغ کی کیفیت جاننے کے قابل بنائیگا۔ کیا اُنکی باتچیت اُنکے دلی احساسات کی عکاسی کرتی ہے یا محض سطحی ہوتی ہے؟ کیا وہ اس تعلیم پر ایمان بھی رکھتے ہیں؟ کیا وہ یہوواہ کو حقیقی خیال کرتے ہیں؟ آپ اپنے بچوں کیساتھ ذاتی مطالعہ کرنے کی صورت میں ہی اِن اور دیگر اہم سوالات کے جواب حاصل کر سکتے ہیں۔—۲-تیمتھیس ۱:۵۔
۲۰. والدین خاندانی مطالعے کو پُرلطف اور مفید کیسے بنا سکتے ہیں؟
۲۰ ایک مرتبہ خاندانی مطالعہ شروع کر لینے کے بعد آپ اسے کیسے برقرار رکھ سکتے ہیں؟ ایک نوجوان بیٹے اور بیٹی کا باپ اور بزرگ، جوزف بیان کرتا ہے: ”تمام بائبل مطالعوں کی طرح، خاندانی مطالعے کو بھی اس قدر پُرلطف ہونا چاہئے کہ ہر کوئی اس کا منتظر رہے۔ ہم اپنے خاندانی مطالعے کیلئے کوئی وقتی حد مقرر نہیں کرتے۔ ہمارا مطالعہ ایک گھنٹے کا بھی ہوتا ہے اور کبھیکبھار حالات کے مطابق صرف دس منٹ کا بھی ہوتا ہے۔ بائبل کہانیوں کی میری کتابa سے مختلف مناظر کی اداکاری ہمارے مطالعے کا اہم پہلو ہے جسکی وجہ سے بچے پورے ہفتے کے دوران بڑے اشتیاق سے اسکے منتظر رہتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ پیراگراف کا احاطہ کرنے کی بجائے مواد کی سمجھ اور اطلاق زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔“
۲۱. والدین اپنے بچوں کو کب تعلیم دے سکتے ہیں؟
۲۱ بیشک، اپنے بچوں کو تعلیم دینا محض مخصوص اوقات تک ہی محدود نہیں ہے۔ (استثنا ۶:۵-۷) اس مضمون کے شروع میں متذکرہ تھائیلینڈ کا گواہ بیان کرتا ہے: ”مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میرے والد سائیکل پر ہماری کلیسیا کے دُوردراز علاقے میں منادی کیلئے مجھے اپنے ساتھ لیجایا کرتے تھے۔ یقیناً، ہمارے والدین کے نمونے اور تمام حالات کے تحت اُن کی تعلیم نے کُلوقتی خدمت اختیار کرنے کا فیصلہ کرنے میں ہماری مدد کی۔ نیز اُن سے سیکھے ہوئے اسباق ابھی تک ہمارے لئے مشعلراہ ہیں۔ مَیں ابھی تک دُوردراز علاقوں میں کام کر رہا ہوں!“
۲۲. ’اپنی اور اپنی تعلیم کی خبرداری کرنے‘ کا کیا نتیجہ نکلے گا؟
۲۲ جلد ہی ایک دن یسوع مُعیّن وقت پر، خدا کی طرف سے اس نظام کی عدالت کرنے آئے گا۔ تب عالمگیر تاریخ کا ایک بہت بڑا واقعہ رُونما ہوگا لیکن یہوواہ کے وفادار خادم ابدی نجات کے پیشِنظر اس کی خدمت کرتے رہیں گے۔ کیا آپ اپنے بچوں اور بائبل مطالعوں سمیت، ان کے درمیان شامل ہونے کی اُمید کرتے ہیں؟ اگر ایسا ہے توپھر اس نصیحت کو یاد رکھیں: ”اپنی اور اپنی تعلیم کی خبرداری کر۔ ان باتوں پر قائم رہ کیونکہ ایسا کرنے سے تُو اپنی اور اپنے سننے والوں کی بھی نجات کا باعث ہوگا۔“—۱-تیمتھیس ۴:۱۶۔
[فٹنوٹ]
a واچٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف نیو یارک انکارپوریٹڈ کی شائعکردہ۔
کیا آپ وضاحت کر سکتے ہیں؟
• خدا کی عدالت کا معیّن وقت معلوم نہ ہونے کے باوجود ہمارا رُجحان کیسا ہونا چاہئے؟
• ہم کن طریقوں سے ”اپنی تعلیم کی خبرداری“ کر سکتے ہیں؟
• آپ یہوواہ کا دوست بننے کیلئے ایک طالبعلم کی مدد کیسے کر سکتے ہیں؟
• والدین کیلئے اپنے بچوں کی تعلیموتربیت کی خاطر وقت نکالنا کیوں اہم ہے؟
[صفحہ ۱۵ پر تصویر]
پُروقار مگر دوستانہ ماحول میں زیادہ اچھے طریقے سے تعلیموتربیت کی جا سکتی ہے
[صفحہ ۱۸ پر تصویر]
دو کسبیوں کے معاملے میں سلیمان کا انصاف جیسی بائبل کہانیوں پر اداکاری خاندانی مطالعے کو پُرلطف بناتی ہے