میری کہانی میری زبانی
یہوواہ کی خدمت کرنے کیلئے زندگی کو سادہ رکھنا
کلیرا جربر موئر
میری عمر ۹۲ سال ہے اور مشکل سے چل پھر سکتی ہوں مگر میرا حافظہ ابھی تک تیز ہے۔ مَیں کتنی شکرگزار ہوں کہ مجھے بچپن سے یہوواہ کی خدمت کرنے کا شرف حاصل رہا ہے! بڑی حد تک ایک سادہ اور غیرپیچیدہ زندگی اس شرف کا باعث بنی ہے۔
مَیں اگست ۱۸، ۱۹۰۷ کو الائنس، اوہائیو، یو.ایس.اے. میں پیدا ہوئی اور پانچ بچوں میں سے سب سے بڑی تھی۔ جب مَیں آٹھ برس کی تھی تو بائبل سٹوڈنٹس کا ایک خادم جیسے کہ اُس وقت یہوواہ کے گواہوں کو کہا جاتا تھا، بائیسکل پر سوار ہمارے ڈیری فارم پر آیا۔ دروازے پر اُسکی ملاقات میری والدہ، لاورا جربر سے ہوئی اور اُس سے پوچھا گیا کہ آیا وہ جانتی ہے کہ بدکاری کی اجازت کیوں دی گئی ہے۔ ماں ہمیشہ اس کی بابت سوچا کرتی تھی۔
والد سے اجازت لینے کے بعد جو باہر باڑے میں کام کر رہے تھے، والدہ نے سٹڈیز اِن دی سکرپچرز کی چھ جِلدوں کا آرڈر دے دیا۔ اِنہیں پڑھنے کے بعد وہ اُن بائبل سچائیوں کی گرویدہ ہو گئی جو وہ سیکھ رہی تھی۔ اُس نے جِلد نمبر ۶، دی نیو کریئیشن کا مطالعہ کِیا اور پانی میں ڈبکی کے ذریعے مسیحی بپتسمے کی ضرورت کو واضح طور پر سمجھ گئی۔ یہ نہ جانتے ہوئے کہ بائبل سٹوڈنٹس کو کیسے تلاش کرے، والدہ نے والد سے درخواست کی کہ اُسے فارم پر موجود چھوٹی سی ندی میں بپتسمہ دے، اگرچہ یہ مارچ ۱۹۱۶ کا سرد مہینہ تھا۔
اس کے کچھ ہی عرصہ بعد، والدہ نے اخبار میں ایک تقریر کا اشتہار پڑھا جو الائنس میں ڈاٹرز آف ویٹرنز ہال میں پیش کی جانے والی تھی۔ تقریر کا عنوان تھا ”دی ڈیوائن پلان آف دی ایجز۔“ والدہ نے اس کیلئے فوری ردِعمل دکھایا چونکہ سٹڈیز اِن دی سکرپچرز کی پہلی جِلد کا عنوان بھی یہی تھا۔ ایک گھوڑا گاڑی منگوائی گئی اور پورا خاندان گھوڑا گاڑی پر بیٹھ کر اپنے پہلے اجلاس پر گیا۔ اُس وقت سے لیکر، ہم اتوار اور بدھ کی شام کو بھائیوں کے گھروں پر منعقد ہونے والے اجلاسوں میں جاتے رہے۔ اس کے کچھ ہی عرصہ بعد والدہ کو مسیحی کلیسیا کے ایک نمائندے کے ذریعے دوبارہ بپتسمہ دیا گیا تھا۔ میرے والد نے بھی بالآخر، جو ہمیشہ فارم کے کام میں مصروف رہتے تھے، بائبل مطالعے میں دلچسپی لینا شروع کر دی اور چند سال بعد بپتسمہ لے لیا۔
پیشوائی کرنے والوں سے ملاقات
جون ۱۰، ۱۹۱۷ میں، اُس وقت کے واچ ٹاور سوسائٹی کے صدر، جے. ایف. رتھرفورڈ نے ”قومیں برسرِپیکار کیوں ہیں؟“ کے موضوع پر تقریر پیش کرنے کیلئے الائنس کا دورہ کِیا۔ اُس وقت میری عمر نو برس تھی اور مَیں اپنے دو بھائیوں ویلی اور چارلس اور اپنے والدین کے ہمراہ وہاں گئی۔ ہماری حاضری تقریباً سو سے زیادہ تھی۔ بھائی رتھرفورڈ کی تقریر کے بعد، سامعین کی بڑی تعداد کولمبیا تھیئٹر کے باہر جہاں بھائی نے تقریر پیش کی تھی، تصاویر اُتروانے میں مصروف ہو گئی۔ اگلے ہفتے اسی جگہ پر، اے. ایچ. میکملن نے ”خدا کی بادشاہی نزدیک آ رہی ہے“ کے موضوع پر تقریر پیش کی۔ اِن بھائیوں کا ہمارے چھوٹے سے قصبے کا دورہ کرنا ایک بڑا شرف تھا۔
ابتدائی یادگار کنونشنیں
جس پہلے کنونشن پر مَیں حاضر ہوئی وہ ۱۹۱۸ میں الائنس سے چند کلومیٹر دُور، ایٹواٹر، اوہائیو میں منعقد ہوا تھا۔ والدہ نے وہاں موجود سوسائٹی کے نمائندگان سے دریافت کِیا کہ آیا مَیں بپتسمہ لینے کے قابل تھی یا نہیں۔ مَیں محسوس کرتی تھی کہ مَیں نے خدا کی مرضی بجا لانے کیلئے صحیح مخصوصیت کی تھی، لہٰذا مجھے اُسی دن سیبوں کے بہت بڑے باغ کے قریب ایک ندی میں بپتسمہ لینے کی اجازت مل گئی۔ مَیں نے ایک خیمے میں کپڑے تبدیل کئے جو کہ اسی مقصد کیلئے نصب کِیا گیا تھا اور ایک پُرانا نائٹ گاؤن پہن کر مَیں نے بپتسمہ لیا۔
ستمبر ۱۹۱۹ میں، میرے والدین اور مَیں نے سینڈوسکی، اوہائیو میں لیک ایری کیلئے ریل گاڑی پر سوار ہوئے۔ وہاں سے ہم نے بذریعہ کشتی سفر کِیا اور جلد ہی ہم سیڈر پوائنٹ پہنچ گئے جہاں ہمارا ایک یادگار کنونشن منعقد ہونے والا تھا۔ جب ہم کشتی سے اُترے تو وہاں کنارے پر کھانے کا ایک خوانچہ لگا ہؤا تھا۔ مَیں نے ایک ہیمبرگر لیا جو کہ اُس وقت کے حساب سے میرے لئے ایک پُرتکلف کھانا تھا۔ یہ بہت ہی مزیدار تھا! ہمارے آٹھ روزہ کنونشن کی حاضری ۷،۰۰۰ تھی۔ اُس وقت صوتی نظام نہ ہونے کی وجہ سے مجھے بڑے دھیان سے سننا پڑا۔
اس کنونشن پر دی واچ ٹاور کے ساتھی رسالے بعنوان دی گولڈن ایج (اب اویک!) کی اشاعت شروع ہوئی تھی۔ اس کنونشن پر حاضر ہونے کیلئے مَیں سکول کے پہلے ہفتے غیرحاضر رہی، تاہم یہ مفید ثابت ہؤا۔ سیڈر پوائنٹ ایک تعطیلاتی سیرگاہ تھی لہٰذا وہاں ریسٹورانٹ میں خانسامے کام کرتے تھے جو مندوبین کیلئے کھانا تیار کرتے تھے۔ کسی وجہ سے خانسامے اور ملازمائیں نوکری چھوڑ کر جا چکے تھے، لہٰذا کھانا پکانے کا علم رکھنے والے مسیحی بھائیوں نے اس کام کو سنبھال لیا اور مندوبین کیلئے کھانا تیار کِیا۔ اِسکے بعد کئی عشروں تک، یہوواہ کے لوگ اسمبلیوں اور کنونشنوں پر خود ہی اپنا کھانا تیار کرتے تھے۔
ہمیں ستمبر ۱۹۲۲ میں دوبارہ سیڈر پوائنٹ میں نو-روزہ کنونشن پر حاضر ہونے کا شرف حاصل ہؤا جسکی انتہائی حاضری ۱۸،۰۰۰ تھی۔ اِسی کنونشن پر بھائی رتھرفورڈ نے ہماری حوصلہافزائی کی تھی کہ ”بادشاہ اور اُسکی بادشاہی کا اشتہار دو، اشتہار دو، اشتہار دو۔“ میری ذاتی خدمتگزاری کا آغاز کئی سال پہلے دستی اشتہارات اور دی گولڈن ایج کی تقسیم کیساتھ ہو چکا تھا۔
خدمتگزاری کیلئے قدردانی
مَیں نے ۱۹۱۸ کے اوائل میں، اردگرد کے فارمز پر اشتہار دی فال آف بیبولون کی تقسیم میں حصہ لیا تھا۔ سردی کی وجہ سے، ہم گھر ہی سے ایک پتھر کو لکڑی کے چولہے پر گرم کرکے اپنے پاؤں گرم رکھنے کیلئے اسے بگھی میں اپنے ساتھ رکھ لیتے تھے۔ ہم بھاری کوٹ اور ٹوپیاں پہنتے تھے کیونکہ بگھی کے اُوپر اور اطراف میں صرف پردے لگے ہوتے تھے اور اس میں ہیٹر کا کوئی انتظام نہیں ہوتا تھا۔ اس کے باوجود، وہ دن بہت اچھے تھے۔
سن ۱۹۲۰ میں دی فِنشڈ مسٹری کے ایک خصوصی ایڈیشن کو رسالے کی صورت میں تیار کِیا گیا جو زیڈجی کہلایا۔a میرے والدین اور مَیں اس اشاعت کیساتھ الائنس میں ہر جگہ گئے۔ اُن دنوں میں ہر شخص اکیلا ہی دروازے پر جاتا تھا، لہٰذا مَیں بھی ڈرتے ڈرتے ایک برآمدے میں گئی جہاں کئی لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ جب مَیں بات ختم کر چکی تو ایک خاتون نے کہا: ”اس نے اچھا وعظ دیا ہے نا،“ اور اشاعت بھی قبول کر لی۔ اُس روز، اپنی گھرباگھر کی طویل رسمی پیشکش کے دوران، مَیں نے ۱۳ زیڈجیز پیش کئے۔
جب مَیں نویں جماعت میں تھی تو میری والدہ کو نمونیا ہو گیا اور وہ ایک مہینے سے زیادہ بستر پر رہیں۔ میری سب سے چھوٹی بہن ہیزل بہت چھوٹی تھی لہٰذا فارم کے کام میں مدد دینے اور بچوں کی دیکھبھال کرنے کیلئے مَیں نے سکول چھوڑ دیا۔ تاہم، ہمارا خاندان بائبل سچائیوں میں گہری دلچسپی لیتا تھا اور ہم باقاعدگی سے تمام کلیسیائی اجلاسوں پر حاضر ہوتے تھے۔
سن ۱۹۲۸ میں، مسیح کی موت کی یادگاری پر تمام حاضرین کو ایک اشتہار بعنوان ”وئیر آر دی نائن؟“ دیا گیا تھا۔ اس میں لوقا ۱۷:۱۱-۱۹ پر بحث کی گئی تھی جہاں بائبل بیان کرتی ہے کہ شفا پانے والے دس کوڑھیوں میں سے صرف ایک نے فروتنی کیساتھ معجزانہ شفا پانے کیلئے یسوع کا شکریہ ادا کِیا۔ اس چیز نے مجھے بہت زیادہ متاثر کِیا۔ مَیں نے خود سے پوچھا، ’مَیں کتنی قدرافزائی ظاہر کر رہی ہوں؟‘
اس وقت گھر کے حالات اچھے ہونے کے ساتھساتھ مَیں صحتمند اور ذمہداریوں سے آزاد تھی اسلئے مَیں نے گھر کو خیرباد کہنے اور پائنیر خدمت شروع کرنے کا فیصلہ کِیا جیسے کہ اُس وقت کُلوقتی خدمت کو کہا جاتا تھا۔ میرے والدین نے ایسا کرنے کے لئے میری حوصلہافزائی کی۔ پس مَیں نے اور میری ساتھی ایگنس الیٹا نے اپنی تفویض حاصل کی اور اگست ۲۸، ۱۹۲۸ میں ہم صبح ۹ بجے گاڑی پر سوار ہو گئیں۔ ہم دونوں کے پاس ایک ایک سوٹ کیس تھا اور اپنی بائبل اور لٹریچر اُٹھانے کیلئے ایک ایک بیگ۔ سٹیشن پر میرے والدین اور بہنیں اور ہم دونوں سب رو رہے تھے۔ مَیں سوچتی تھی کہ شاید مَیں اُن سے دوبارہ کبھی نہ مل سکوں چونکہ ہم سمجھتے تھے کہ ہرمجدون بہت قریب ہے۔ اگلی صبح، ہم اپنی تفویض بروکسویلا، کینٹکی پہنچ گئیں۔
ایک بورڈنگ ہاؤس میں ہم نے ایک چھوٹا سا کمرہ کرائے پر لے لیا اور سویوں کے کچھ ڈبے خرید لئے اور اپنے لئے کچھ سینڈوچز تیار کیں۔ ہر روز ہم مختلف علاقوں کی طرف نکل جاتی تھیں اور اکیلے ہی کام کرتی تھیں اور ۹۸.۱ ڈالر کے ہدیے پر لوگوں کو پانچ مجلد کتابیں پیش کرتی تھیں۔ ہم نے بتدریج پورے قصبے میں کام مکمل کر لیا اور بہت سے ایسے لوگوں سے ملے جو بائبل میں کافی دلچسپی رکھتے تھے۔
تقریباً تین مہینوں میں، ہم نے بروکسویلا اور آگسٹا اور اسکے گردونواح کے تمام لوگوں سے ملاقات کر لی تھی۔ پس ہم نے میزویلا، پیرس اور رچمونڈ کے قصبوں میں کام شروع کر دیا۔ اگلے تین سالوں میں، ہم نے کینٹکی کے بیشتر علاقوں میں جہاں کلیسیائیں نہیں تھیں کام مکمل کر لیا۔ اوہائیو سے اکثر دوست اور خاندان کے افراد ہمارے پاس آ جاتے تھے اور ہفتے بھر کیلئے یا اس سے زیادہ وقت کیلئے ہمارے ساتھ خدمتگزاری میں کام کرتے تھے۔
دیگر یادگار کنونشنیں
کولمبس اوہائیو میں، جولائی ۲۴-۳۰، ۱۹۳۱ میں منعقد ہونے والا کنونشن واقعی ایک یادگار کنونشن تھا۔ اِسی کنونشن پر یہ اعلان کِیا گیا تھا کہ ہمارا نام بائبل پر مبنی یہوواہ کے گواہ ہوگا۔ (یسعیاہ ۴۳:۱۲) اس سے پہلے جب لوگ ہم سے پوچھتے کہ ہمارا تعلق کس مذہب سے ہے تو ہم کہتے، ”انٹرنیشنل بائبل سٹوڈنٹس۔“ مگر اس سے ہماری کوئی حقیقی شناخت نہیں ہوتی تھی، چونکہ دیگر مختلف مذہبی گروہوں کے بھی بائبل سٹوڈنٹس تھے۔
میری ساتھی ایگنس کی شادی ہو گئی اور مَیں تنہا رہ گئی تھی؛ لہٰذا جب یہ اعلان کِیا گیا کہ جو لوگ پائنیر ساتھی کی تلاش میں ہیں وہ ایک خاص جگہ پہنچ جائیں تو مَیں بہت خوش ہوئی۔ وہاں میری ملاقات برتھا اور ایلس گارٹی اور بےسی اینسمینگر سے ہوئی۔ اُنکے پاس دو کاریں تھیں اور وہ اپنے ساتھ کام کرنے کیلئے ایک چوتھی پائنیر بہن کی تلاش میں تھیں۔ کنونشن کے بعد ہم اکٹھی واپس آئیں اگرچہ اس سے پہلے ہماری کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی۔
موسمِگرما کے دوران ہم نے پینسلوانیہ کی پوری ریاست میں کام کِیا۔ اس کے بعد، جب موسمِسرما آیا تو ہم نے شمالی کیرولینا، ورجینیا اور میریلینڈ کی جنوبی ریاستوں میں تفویض کی درخواست کی۔ موسمِبہار میں ہم واپس شمال میں چلے گئے۔ اُس وقت پائنیر یہی کرتے تھے۔ سن ۱۹۳۴ میں، جان بوتھ اور روڈلف ایبول نے جو کہ یہی کِیا کرتے تھے، رالف موئر اور اُسکے چھوٹے بھائی ویلرڈ کو اپنے ساتھ ہیزرڈ، کینٹکی لے گئے۔
مَیں کئی بار رالف سے مل چکی تھی اور مئی ۳۰ تا جون ۳، ۱۹۳۵ میں واشنگٹن ڈی سی میں منعقد ہونے والے بڑے کنونشن کے دوران ہماری اچھی واقفیت ہو گئی۔ جب ”بڑی بِھیڑ“ کے موضوع پر تقریر پیش کی گئی تو مَیں اور رالف اکٹھے بالکنی میں بیٹھے ہوئے تھے۔ (مکاشفہ ۷:۹-۱۴) اُس وقت تک ہمارا یہ ایمان تھا کہ بڑی بِھیڑ کے لوگ آسمانی جماعت کے ۱،۴۴،۰۰۰ اراکین سے کم وفادار تھے۔ (مکاشفہ ۱۴:۱-۳) پس مَیں اُن میں سے ایک نہیں ہونا چاہتی تھی!
جب بھائی رتھرفورڈ نے واضح کِیا کہ بڑی بِھیڑ ہرمجدون سے بچنے والے وفاداروں کی زمینی جماعت ہے تو بہت سے لوگ حیران رہ گئے۔ اس کے بعد اُنہوں نے بڑی بِھیڑ کے تمام لوگوں کو کھڑا ہونے کی دعوت دی۔ خیر مَیں کھڑی نہ ہوئی مگر رالف کھڑا ہؤا۔ بعدازاں، یہ تمام چیزیں مجھ پر بالکل واضح ہو گئیں اور ۱۹۳۵ وہ آخری سال تھا جب مَیں نے مسیح کی موت کی یادگار پر علامتی روٹی اور مے میں سے حصہ لیا تھا۔ تاہم، میری والدہ نومبر ۱۹۵۷ میں اپنی وفات تک علامتوں میں سے حصہ لیتی رہی۔
ایک مستقل ساتھی
رالف اور میری ایک دوسرے سے خطوکتابت چلتی رہی۔ مَیں لیک پلےسڈ، نیو یارک میں اور وہ پینسلوانیہ میں خدمت کر رہا تھا۔ سن ۱۹۳۶ میں اُس نے ایک چھوٹا ٹریلر تعمیر کِیا جسے وہ اپنی کار سے کھینچ سکتا تھا۔ وہ اکتوبر ۱۶-۱۸ کو منعقد ہونے والے کنونشن کیلئے اِسے پوٹسٹاؤن، پینسلوانیہ سے، نیووارک، نیو جرسی لے آیا۔ ایک شام پروگرام کے بعد ہم پائنیرز نے رالف کے نئے ٹریلر کو دیکھنے کا پروگرام بنایا۔ مَیں اور وہ ٹریلر کے اندر بنے ہوئے چھوٹے سینک کے پاس کھڑے تھے کہ اُس نے مجھ سے پوچھا، ”کیا تمہیں یہ ٹریلر پسند ہے؟“
جب مَیں نے اثبات میں سر ہلایا، تو اُس نے پوچھا، ”کیا تم اس میں رہنا چاہتی ہو؟“
مَیں نے جواب دیا، ”ہاں“ اُس نے ہلکے سے میرا بوسہ لیا جسے مَیں کبھی نہیں بھولوں گی۔ چند دنوں بعد ہم نے شادی کی اجازت حاصل کر لی۔ کنونشن کے اگلے دن، ۱۹ اکتوبر کو ہم بروکلن گئے اور واچ ٹاور سوسائٹی کے چھاپہ خانوں کا دورہ کِیا۔ اسکے بعد ہم نے علاقے کیلئے درخواست کی۔ اُس وقت گرانٹ سوٹر علاقہ کے انچارج تھے لہٰذا اُنہوں نے پوچھا کہ کسے اسکی ضرورت ہے۔ رالف نے کہا، ”اگر ہماری شادی ہو جاتی ہے تو ہم وہاں کام کرینگے۔“
بھائی سوٹر نے جواب دیا، ”اگر تم ۵ بجے پہنچ جاؤ تو ہم اسکا بندوبست کر سکتے ہیں۔“ پس اُس شام بروکلن ہائٹس میں ایک بھائی کے گھر پر ہماری شادی ہو گئی۔ ہم نے ایک مقامی ریسٹورانٹ میں چند دوستوں کیساتھ کھانا کھایا اور پھر پبلک سواری میں بیٹھ کر نیووارک، نیو جرسی میں رالف کے ٹریلر تک پہنچ گئے۔
اس کے کچھ ہی عرصہ بعد ہم دونوں اپنی پہلی پائنیر تفویض ہیدسویلا، ورجینیا کی طرف روانہ ہو گئے۔ ہم نے نارتھامبرلینڈ کے علاقے میں کام کِیا اور پھر پینسلوانیہ میں فالٹن اور فرینکلن کے علاقے میں چلے گئے۔ سن ۱۹۳۹ میں رالف کو زون کا کام کرنے کی دعوت دی گئی جس میں ہم یکےبعددیگرے کئی کلیسیاؤں کا دورہ کرتے تھے۔ ہم نے ٹینیسی ریاست کی کلیسیاؤں میں خدمت کی۔ اگلے ہی سال ہمارے بیٹے ایلن کی پیدائش ہوئی اور یوں ۱۹۴۱ میں زون کا کام چھوڑنا پڑا۔ اس کے بعد ہمیں سپیشل پائنیرز کے طور پر میرئن، ورجینیا بھیج دیا گیا۔ اُن دنوں، اِسکا مطلب ہر مہینے خدمتگزاری میں ۲۰۰ گھنٹے صرف کرنا تھا۔
ردّوبدل کرنا
سن ۱۹۴۳ میں، مَیں نے محسوس کِیا کہ مجھے سپیشل پائنیر خدمت کو چھوڑ دینا چاہئے۔ چھوٹے سے ٹریلر میں رہنے، چھوٹے بچے کی دیکھبھال کرنے، کھانا تیار کرنے، سب کے کپڑے دھونے کیساتھ مَیں خدمتگزاری میں ہر مہینے تقریباً ۶۰ گھنٹے صرف کر سکتی تھی۔ مگر رالف نے سپیشل پائنیر خدمت جاری رکھی۔
سن ۱۹۴۵ میں ہم واپس الائنس اوہائیو چلے آئے، ٹریلر کو فروخت کر دیا جو نو سال تک ہمارا گھر رہا تھا اور میرے والدین کیساتھ فارمہاؤس میں منتقل ہو گئے۔ وہاں بیرونی ڈیوڑھی میں ہماری بیٹی ربقہ پیدا ہوئی۔ رالف نے قصبے میں جُزوقتی ملازمت شروع کر دی اور ریگولر پائنیر خدمت جاری رکھی۔ مَیں فارم پر کام کرتی تھی اور اُسکی مدد کرتی رہی تاکہ وہ پائنیر خدمت جاری رکھ سکے۔ میرے خاندان نے اگرچہ ہمیں مُفت زمین اور گھر دینے کی پیشکش کی تاہم رالف نے انکار کر دیا۔ وہ آزاد رہنا چاہتا تھا تاکہ ہم یکسوئی کیساتھ بادشاہتی مفادات کے حصول میں لگے رہیں۔
سن ۱۹۵۰ میں ہم پوٹسٹاؤن، پینسلوانیہ چلے گئے اور ۲۵ ڈالر ماہوار پر ایک مکان کرائے پر لے لیا۔ اگلے ۳۰ برس میں کرایہ بڑھ کر صرف ۷۵ ڈالر ہو گیا۔ ہم نے محسوس کِیا کہ اپنی زندگیوں کو سادہ رکھنے میں یہوواہ ہماری مدد کر رہا تھا۔ (متی ۶:۳۱-۳۳) رالف ہفتے میں تین دن حجام کا کام کرتا تھا۔ ہر ہفتے ہم اپنے دونوں بچوں کے ساتھ بائبل مطالعہ کرتے، مسیحی اجلاسوں پر حاضر ہوتے اور خاندان کے طور پر بادشاہی کی خوشخبری کی مُنادی کرتے تھے۔ رالف مقامی کلیسیا میں صدارتی نگہبان کی خدمت انجام دیتے تھے۔ اپنی زندگی کو سادہ رکھنے سے ہم یہوواہ کی خدمت میں بہت کچھ کرنے کے قابل ہوئے تھے۔
میرے عزیز ساتھی کی وفات
مئی ۱۷، ۱۹۸۱ کے دن ہم کنگڈم ہال میں بیٹھے ایک پبلک تقریر سُن رہے تھے۔ رالف کو عجیب سی کمزوری محسوس ہوئی، وہ ہال کے پیچھے چلے گئے اور ایک حاضرباش کے ہاتھ مجھے ایک رُقعہ بھیجا کہ مَیں گھر جا رہا ہوں۔ رالف کے سلسلے میں یہ ایک غیرمعمولی بات تھی لہٰذا مَیں نے کسی سے درخواست کی کہ ہمیں فوراً گھر پہنچا دیں۔ سخت فالج کے حملے کی وجہ سے ایک گھنٹے کے اندر اندر رالف کی وفات ہو گئی۔ اُسی صبح واچٹاور کے اختتام پر کلیسیا کے سامنے یہ اعلان کر دیا گیا کہ بھائی رالف وفات پا گئے ہیں۔
اُس مہینے رالف پہلے ہی خدمتگزاری میں ۵۰ گھنٹے صرف کر چکے تھے۔ اُس کی کُلوقتی خدمت ۴۶ سال سے زیادہ عرصہ پر محیط تھی۔ اُس نے ایک سو سے زیادہ لوگوں کو بائبل مطالعے کروائے جو بالآخر یہوواہ کے بپتسمہیافتہ گواہ بن گئے۔ سالوں کے دوران ہم نے جو بھی قربانیاں کیں اُسکے بدلے میں حاصل ہونے والی روحانی برکات کہیں زیادہ تھیں۔
اپنے استحقاقات کیلئے شکرگزار
گذشتہ ۱۸ سال سے تنہائی کے باوجود اجلاسوں پر حاضر ہونا، اپنی طاقت کے مطابق دوسروں کو مُنادی کرنا اور خدا کے کلام کا مطالعہ کرنا میرا شعار ہے۔ اب مَیں عمررسیدہ شہریوں کے ریٹائرمنٹ اپارٹمنٹ میں رہتی ہوں۔ میرے پاس تھوڑا سا فرنیچر ہے اور مَیں نے ٹیلیویژن نہ رکھنے کا انتخاب کِیا ہے۔ اس کے باوجود مَیں ایک بھرپور اور روحانی طور پر دولتمند زندگی گزار رہی ہوں۔ میرے والدین اور دو بھائی اپنی موت تک وفادار رہے اور میری دو بہنیں وفاداری کیساتھ سچائی کی راہ پر چل رہی ہیں۔
مَیں خوش ہوں کہ میرا بیٹا ایلن، مسیحی بزرگ کے طور پر خدمت کر رہا ہے۔ کئی سال سے وہ کنگڈم ہال اور اسمبلی ہال میں صوتی نظام نصب کرتا رہا ہے اور موسمِگرما کی کنونشنوں پر صوتی نظام پر کام بھی کرتا رہا ہے۔ اُسکی بیوی خدا کی ایک وفادار خادمہ ہے اور اُنکے دو بیٹے بزرگوں کے طور پر خدمت انجام دیتے ہیں۔ میری بیٹی ربقہ کیرس نے کُلوقتی خدمت میں ۳۵ سال سے زیادہ عرصہ صرف کِیا ہے جس میں سے چار سال اُس نے بروکلن میں یہوواہ کے گواہوں کے عالمی ہیڈکوارٹرز میں خدمت انجام دی ہے۔ اُس نے اور اُس کے شوہر نے گذشتہ ۲۵ سال ریاستہائے متحدہ کے مختلف حصوں میں سفری نگہبان کی خدمت انجام دی ہے۔
یسوع نے فرمایا تھا کہ بادشاہی ایک پوشیدہ خزانے کی مانند ہے جسے تلاش کِیا جا سکتا ہے۔ (متی ۱۳:۴۴) مَیں مشکور ہوں کہ میرے خاندان کو یہ خزانہ اتنے سال پہلے ہی مل گیا تھا۔ خدا کی خدمت کے ۸۰ سے زائد سالوں پر نظر ڈالنا کتنا بڑا شرف ہے—جسکے ساتھ کوئی پچھتاوا نہیں ہے! اگر مجھے دوبارہ زندگی مل جائے تو مَیں اسے پھر سے ایسے ہی گزارنا چاہونگی، بِلاشُبہ، ’خدا کی شفقت زندگی سے بہتر ہے‘—زبور ۶۳:۳۔
[فٹنوٹ]
a سٹڈیز اِن دی سکرپچرز کے عنوان سے سیزیز کی ساتویں جِلد دی فِنشڈ مسٹری تھی جسکی پہلی چھ جِلدیں چارلس ٹیز رسل نے تحریر کی تھیں۔ دی فِنشڈ مسٹری کی اشاعت رسل کی وفات کے بعد ہوئی تھی۔
[صفحہ ۲۳ پر تصویر]
ہم نے الائنس، اوہائیو میں ۱۹۱۷ میں بھائی رتھرفورڈ کی تقریر سُنی
[صفحہ ۲۳ پر تصویر]
رالف کے بنائے ہوئے ٹریلر کے سامنے
[صفحہ ۲۴ پر تصویر]
آج اپنے دو بچوں کیساتھ