یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م00 15/‏1 ص.‏ 9-‏14
  • ‏”‏جاگتے رہو“‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • ‏”‏جاگتے رہو“‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2000ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • ایک انتباہی مثال
  • خدا کے نبیوں کو نظرانداز کرنا
  • جاگنے کی ضرورت کو واضح کرنا
  • شہادت کے چھ مدلل پہلو
  • آئندہ کیا ہونے والا ہے؟‏
  • خاتمے کے منتظر رہیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے—2015ء
  • یہوواہ تاخیر نہیں کریگا
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2000ء
  • بدکار کتنی دیر تک رہینگے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2000ء
  • اپنے نجات‌بخش خدا میں مسرور
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2000ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2000ء
م00 15/‏1 ص.‏ 9-‏14

‏”‏جاگتے رہو“‏

‏”‏پس جاگتے رہو کیونکہ تم نہیں جانتے کہ تمہارا خداوند کس دن آئیگا۔“‏—‏متی ۲۴:‏۴۲‏۔‏

۱.‏ عرصۂ‌دراز سے یہوواہ کی خدمت کرنے والے اشخاص کئی سالوں پر محیط اپنی عقیدتمندانہ خدمت کی بابت کیسا محسوس کرتے ہیں؟ ایک مثال دیں۔‏

کافی عرصہ سے یہوواہ کی خدمت کرنے والے بہتیرے اشخاص نے اپنی جوانی میں سچائی سیکھی تھی۔ ان مشتاق بائبل طالبعلموں نے اُس سوداگر کی طرح جو ایک قیمتی موتی ملنے پر اسے خریدنے کے لئے اپنا سب کچھ بیچ ڈالتا ہے، اپنی خودی کا انکار کرکے یہوواہ کے لئے اپنی زندگیاں مخصوص کر دیں۔ (‏متی ۱۳:‏۴۵، ۴۶؛‏ مرقس ۸:‏۳۴‏)‏ زمین کے سلسلے میں خدا کے مقاصد کی تکمیل دیکھنے کے لئے اپنی توقع سے زیادہ انتظار کرنے کی بابت وہ کیسا محسوس کرتے ہیں؟ انہیں کوئی پچھتاوا نہیں ہے!‏ وہ بھائی اے.‏ ایچ.‏ میک‌ملن سے متفق ہیں جس نے خدا کے لئے عقیدتمندانہ خدمت میں تقریباً ۶۰ سال گزارنے کے بعد کہا:‏ ”‏مَیں اپنے ایمان پر قائم رہنے میں اب پہلے سے کہیں زیادہ پُرعزم ہوں۔ اس نے میرے لئے زندگی کو زیادہ معنی‌خیز بنا دیا ہے۔ یہ ابھی بھی کسی خوف کے بغیر مستقبل کا سامنا کرنے کے لئے میری مدد کر رہا ہے۔“‏

۲.‏ (‏ا)‏یسوع نے اپنے شاگردوں کو کونسی بروقت مشورت دی؟ (‏ب)‏ اس مضمون میں ہم کن سوالات پر بات‌چیت کریں گے؟‏

۲ آپکی بابت کیا ہے؟ اپنی عمر سے قطع‌نظر یسوع کے الفاظ پر غور کریں:‏ ”‏پس جاگتے رہو کیونکہ تم نہیں جانتے کہ تمہارا خداوند کس دن آئیگا۔“‏ (‏متی ۲۴:‏۴۲‏)‏ اس سادہ سے جملے میں بڑی گہری سچائی پائی جاتی ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ اس شریر نظام کو سزا دینے کیلئے خداوند کس دن آئیگا اور ہمارے لئے یہ جاننا ضروری بھی نہیں ہے۔ لیکن ہمیں اس طریقے سے اپنی زندگیاں بسر کرنے کی ضرورت ہے کہ جب وہ آئے تو ہمیں کسی قسم کا پچھتاوا نہ ہو۔ لہٰذا، ہم بائبل میں کونسی ایسی مثالیں پاتے ہیں جو جاگتے رہنے کے سلسلے میں ہماری مدد کرئیگی؟ یسوع نے اس ضرورت کو کیسے سمجھایا؟ نیز، آجکل ہمارے پاس اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ ہم اس بیدین دُنیا کے آخری ایّام میں رہ رہے ہیں؟‏

ایک انتباہی مثال

۳.‏ آجکل بہتیرے لوگ نوح کے زمانہ کے لوگوں کی مانند کیسے ہیں؟‏

۳ کئی لحاظ سے، آجکل لوگ طوفانِ‌نوح سے پہلے کے مردوں اور عورتوں کی مانند ہیں۔ اُس وقت زمین ظلم سے پُر تھی اور انسان کے دل کے خیالات اور تصورات ”‏سدا بُرے ہی“‏ تھے۔ (‏پیدایش ۶:‏۵‏)‏ بہتیرے روزمرّہ زندگی کے معاملات میں کھو چکے تھے۔ تاہم، ایک بہت بڑا طوفان لانے سے پہلے یہوواہ نے لوگوں کو توبہ کرنے کا موقع دیا۔ اس نے نوح کو مُنادی کرنے کا حکم دیا اور نوح نے—‏”‏راستبازی کی مُنادی کرنے والے“‏ کے طور پر شاید ۴۰ یا ۵۰ یا اس سے زیادہ سالوں تک کام کرتے ہوئے—‏حکم کی تعمیل کی۔ (‏۲-‏پطرس ۲:‏۵‏)‏ تاہم، لوگوں نے نوح کے انتباہی پیغام کو نظرانداز کر دیا۔ وہ جاگ نہیں رہے تھے۔ انجام‌کار، صرف نوح اور اس کا خاندان ہی یہوواہ کی عدالتی سزا سے بچ پایا۔—‏متی ۲۴:‏۳۷-‏۳۹‏۔‏

۴.‏ کس مفہوم میں نوح کی خدمتگزاری کو کامیاب کہا جا سکتا ہے اور یہی بات آپ کی خدمتگزاری کی بابت کیسے کہی جا سکتی ہے؟‏

۴ کیا نوح کی مُنادی کامیاب تھی؟ تھوڑے لوگوں کے جوابی‌عمل دکھانے کی بنا پر فیصلہ نہ کریں۔ جوابی‌عمل سے قطع‌نظر نوح کی مُنادی نے واقعی اپنا مقصد پورا کِیا تھا۔ کیوں؟ اِسلئے کہ اس نے لوگوں کو انتخاب کرنے کا پورا موقع دیا کہ آیا وہ یہوواہ کی خدمت کریں گے یا نہیں۔ آپ کے مُنادی کے علاقے کی بابت کیا ہے؟ اگرچہ بہت ہی کم مثبت جوابی‌عمل دکھایا جاتا ہے توبھی، آپ کو بڑی کامیابی حاصل ہے۔ کیوں؟ اِسلئے کہ مُنادی کرنے سے آپ خدا کی طرف سے آگاہی کا اعلان کر رہے ہیں اور یوں آپ اس حکم کو پورا کر رہے ہیں جو یسوع نے اپنے پیروکاروں کو دیا تھا۔—‏متی ۲۴:‏۱۴؛‏ ۲۸:‏۱۹، ۲۰‏۔‏

خدا کے نبیوں کو نظرانداز کرنا

۵.‏ (‏ا)‏حبقوق کے دنوں میں یہوداہ میں کونسی حالتیں پائی جاتی تھیں اور لوگوں نے اس کے نبوّتی کلام کی بابت کیسا ردِعمل دکھایا؟ (‏ب)‏ یہوواہ کے نبیوں کیساتھ یہوداہ کے لوگوں نے کس طرح دشمنی دکھائی؟‏

۵ طوفان کے صدیوں بعد، یہوداہ کی سلطنت کو بہت ہی سنگین صورتحال کا سامنا ہوا۔ بُت‌پرستی، ناانصافی، ظلم اور قتل‌وغارت عام بات تھی۔ یہوواہ نے حبقوق نبی کو برپا کِیا تاکہ لوگوں کو آگاہ کرے کہ اگر اُنہوں نے توبہ نہ کی تو وہ کسدیوں یا بابلیوں کے ہاتھوں مصیبت میں پڑیں گے۔ (‏حبقوق ۱:‏۵-‏۷)‏ لیکن لوگوں نے سننے سے انکار کر دیا۔ شاید انہوں نے کچھ ایسا جواب دیا ہو، ’‏کوئی سو سال سے زیادہ عرصہ پہلے یسعیاہ نبی نے بھی ایسی ہی آگاہی دی تھی لیکن ابھی تک کچھ نہیں ہؤا!‏‘‏ (‏یسعیاہ ۳۹:‏۶، ۷‏)‏ یہوداہ کے متعدد بااثر لوگوں نے پیغام کے سلسلے میں نہ صرف لاپرواہی سے کام لیا بلکہ پیامبروں کے دُشمن بھی ہو گئے۔ ایک مرتبہ تو انہوں نے یرمیاہ نبی کو موت کے گھاٹ اُتارنے کی کوشش بھی کی اور اگر اخیقام نے مداخلت نہ کی ہوتی تو شاید وہ کامیاب بھی ہو جاتے۔ ایک اَور نبوّتی پیغام سے برانگیختہ ہو کر بادشاہ یہویقیم نے اُوریاہ نبی کو ہلاک کروا ڈالا تھا۔—‏یرمیاہ ۲۶:‏۲۱-‏۲۴‏۔‏

۶.‏ یہوواہ نے حبقوق کو کیسے تقویت بخشی؟‏

۶ حبقوق کا پیغام بھی دلیرانہ تھا اور یہ یرمیاہ کے پیغام کی طرح نامقبول تھا جس نے خدا کے الہام سے یہوداہ کی ۷۰سالہ ویرانی کی پیشینگوئی کی تھی۔ (‏یرمیاہ ۲۵:‏۸-‏۱۱‏)‏ لہٰذا، ہم حبقوق کی پریشانی کو سمجھ سکتے ہیں جب اُس نے فریاد کی:‏ ”‏اَے [‏یہوواہ!‏]‏ مَیں کب تک نالہ کروں گا اور تُو نہ سنیگا؟ مَیں تیرے حضور کب تک چلاؤں گا ظلم!‏ ظلم!‏ اور تُو نہ بچائے گا؟“‏ (‏حبقوق ۱:‏۲)‏ یہوواہ نے حبقوق کو ان ایمان‌افزا الفاظ کے ساتھ شفقت سے جواب دیا:‏ ”‏یہ رویا ایک مقررہ وقت کے لئے ہے۔ یہ جلد وقوع میں آئے گی اور خطا نہ کرے گی۔ اگرچہ اِس میں دیر ہو تو بھی اِس کا منتظر رہ کیونکہ یہ یقیناً وقوع میں آئے گی۔ تاخیر نہ کرے گی۔“‏ (‏حبقوق ۲:‏۳)‏ پس ناانصافی اور ظلم کا خاتمہ کرنے کے لئے یہوواہ کا ایک ”‏مقررہ وقت“‏ تھا۔ ظاہری تاخیر کے باوجود حبقوق کو بے‌حوصلہ اور سُست پڑنے کی ضرورت نہیں تھی۔ اس کے برعکس، اسے فوری ضرورت کے احساس کے ساتھ ہر روز اسکا ”‏منتظر“‏ رہنا تھا۔ یہوواہ کا دن تاخیر نہیں کرے گا!‏

۷.‏ پہلی صدی س.‏ع.‏ میں یروشلیم ایک اَور تباہی کا نشانہ کیوں بنا تھا؟‏

۷ حبقوق سے یہوواہ کے ہمکلام ہونے کے تقریباً ۲۰ سال بعد، یہوداہ کا دارالحکومتی شہر، یروشلیم تباہ کر دیا گیا۔ بعدازاں، اس کی دوبارہ تعمیر ہوئی اور حبقوق کو پریشان کرنے والی بہت سی باتوں کو درست کِیا گیا۔ تاہم، پہلی صدی س.‏ع.‏ میں، اپنے باشندوں کی بے‌وفائی کی وجہ سے یہ شہر ایک مرتبہ پھر تباہی کا نشانہ بنا۔ یہوواہ نے رحم کرتے ہوئے راستدل اشخاص کے بچنے کا بندوبست فرمایا۔ اس مرتبہ اس نے نبوّتی پیغام کیلئے سب سے بڑے نبی یسوع مسیح کو استعمال کِیا۔ یسوع نے ۳۳ س.‏ع.‏ میں اپنے پیروکاروں کو بتایا:‏ ”‏جب تم یرؔوشلیم کو فوجوں سے گِھرا ہؤا دیکھو تو جان لینا کہ اُسکا اُجڑ جانا نزدیک ہے۔ اُس وقت جو یہوؔدیہ میں ہوں پہاڑوں پر بھاگ جائیں۔“‏—‏لوقا ۲۱:‏۲۰، ۲۱‏۔‏

۸.‏ (‏ا)‏یسوع کی موت کے بعد وقت گزرنے کیساتھ ساتھ بعض مسیحیوں کیساتھ کیا واقع ہؤا؟ (‏ب)‏ یروشلیم کی بابت یسوع کے نبوّتی الفاظ کیسے پورے ہوئے تھے؟‏

۸ وقت گزرنے کیساتھ ساتھ، یروشلیم میں رہنے والے بعض مسیحیوں نے شاید سوچا ہو کہ یسوع کی پیشینگوئی نہ جانے کب پوری ہوگی۔ تاہم، بعض لوگوں کی طرف سے پیش کی جانے والی یقینی قربانیوں پر غور کریں۔ شاید انہوں نے جاگتے رہنے کے اپنے عزمِ‌مُصمم کی خاطر منافع‌بخش کاروبار چھوڑ دئے تھے۔ کیا وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ، وہ ماندہ ہو گئے تھے؟ کیا انہوں نے اس استدلال کے ساتھ یہ نتیجہ اخذ کِیا کہ یسوع کی پیشینگوئی کا اطلاق اُن کی بجائے مستقبل کی کسی دوسری نسل پر ہوتا ہے لہٰذا وہ اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں؟ جب رومی فوج نے ۶۶ س.‏ع.‏ میں یروشلیم کا محاصرہ کِیا تو یسوع کی پیشینگوئی پوری ہونا شروع ہوئی۔ اُس وقت جاگنے والوں نے نشان کو پہچان لیا، شہر سے بھاگ گئے اور یروشلیم کی تباہی کا تجربہ کرنے سے بچ گئے۔‏

جاگنے کی ضرورت کو واضح کرنا

۹، ۱۰.‏ (‏ا)‏اپنی شادی سے واپس آنے والے مالک کی راہ دیکھنے والے نوکروں کی تمثیل کا خلاصہ آپ کس طرح بیان کریں گے؟ (‏ب)‏ نوکروں کیلئے مالک کا انتظار کرنا کیوں مشکل رہا ہوگا؟ (‏پ)‏ نوکروں کیلئے صبر کرنا کیوں فائدہ‌مند تھا؟‏

۹ جاگنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے، یسوع نے اپنے شاگردوں کا ان نوکروں سے موازنہ کِیا جو اپنی شادی سے واپس آنے والے مالک کی راہ دیکھ رہے ہیں۔ وہ جانتے تھے کہ وہ ایک مخصوص رات کو واپس آئے گا—‏لیکن کس گھڑی؟ رات کے پہلے پہر میں؟ دوسرے پہر میں؟ تیسرے پہر میں؟ وہ نہیں جانتے تھے۔ یسوع نے کہا:‏ ”‏اگر وہ [‏مالک]‏ رات کے دوسرے پہر میں یا تیسرے پہر میں آ کر اُنکو [‏جاگتا]‏ پائے تو وہ نوکر مبارک ہیں۔“‏ (‏لوقا ۱۲:‏۳۵-‏۳۸‏)‏ ان نوکروں کے انتظار کا ذرا تصور کریں۔ ہر آواز، ہلکی سی پرچھائیں بھی یقیناً انکی توقع کو بڑھا دیتی ہے:‏ ’‏کیا یہ ہمارا مالک تو نہیں؟‘‏

۱۰ اُس وقت کیا ہو اگر مالک رات کے دوسرے پہر میں آتا ہے جو رات ۰۰:‏۹ بجے سے لیکر آدھی رات تک ہوتا تھا؟ کیا اس کے تمام نوکر بشمول صبح سے سخت محنت سے کام کرنے والے بھی اس کا استقبال کرنے کیلئے بالکل تیار ہونگے یا بعض سو جائینگے؟ کیا ہو اگر مالک رات کے تیسرے پہر—‏آدھی رات سے لیکر صبح تین بجے کے وقت—‏میں آتا ہے؟ کیا اس کے تمام نوکر اُس وقت تیار ہونگے یا بعض اس کی ظاہری تاخیر سے بے‌حوصلہ یا برہم ہو جائیں گے؟‏a مالک کے آنے تک جاگنے والے نوکر ہی مبارک قرار دئے جائیں گے۔ ان پر امثال ۱۳:‏۱۲ کے الفاظ کا یقینی اطلاق ہوگا:‏ ”‏اُمید کے بَر آنے میں تاخیر دل کو بیمار کرتی ہے پر آرزو کا پورا ہونا زندگی کا درخت ہے۔“‏

۱۱.‏ دُعا جاگتے رہنے کیلئے کیسے ہماری مدد کر سکتی ہے؟‏

۱۱ ظاہری تاخیر کے وقت کے دوران، یسوع کے شاگردوں کے بیدار رہنے میں کیا چیز مدد دے گی؟ گتسمنی باغ میں اپنی گرفتاری سے ذرا پہلے، یسوع نے اپنے تین رسولوں کو بتایا:‏ ”‏جاگو اور دُعا کرو تاکہ آزمایش میں نہ پڑو۔“‏ (‏متی ۲۶:‏۴۱‏)‏ سالوں بعد، پطرس نے جو اس موقع پر موجود تھا، اپنے ساتھی مسیحیوں کو ایسی ہی مشورت دی۔ اس نے لکھا:‏ ”‏سب چیزوں کا خاتمہ جلد ہونے والا ہے۔ پس ہوشیار رہو اور دُعا کرنے کے لئے تیار۔“‏ (‏۱-‏پطرس ۴:‏۷‏)‏ واضح طور پر، پُرجوش دُعا کو ہمارے مسیحی معمول کا حصہ ہونا چاہئے۔ واقعی، جاگنے کے سلسلے میں ہمیں مدد کے لئے یہوواہ سے التجا کرتے رہنے کی ضرورت ہے۔—‏رومیوں ۱۲:‏۱۲؛‏ ۱-‏تھسلنیکیوں ۵:‏۱۷‏۔‏

۱۲.‏ قیاس‌آرائی کرنے اور جاگتے رہنے میں کیا فرق ہے؟‏

۱۲ غور فرمائیں کہ پطرس نے یہ بھی کہا:‏ ”‏سب چیزوں کا خاتمہ جلد ہونے والا ہے۔“‏ کس قدر جلد؟ کوئی بھی انسان کسی بھی طریقے سے حتمی دن اور گھڑی کی نشاندہی نہیں کر سکتا۔ (‏متی ۲۴:‏۳۶‏)‏ تاہم، قیاس‌آرائیاں کرنے میں جسکی بائبل حمایت نہیں کرتی اور خاتمے کے منتظر رہنے میں جسکی بائبل حوصلہ‌افزائی کرتی ہے بہت فرق ہے۔ (‏مقابلہ کریں ۲-‏تیمتھیس ۴:‏۳، ۴؛‏ ططس ۳:‏۹‏۔)‏ خاتمے کے انتظار کا ایک طریقہ کیا ہے؟ خاتمے کی نزدیکی کے ثبوت پر دھیان دینا دراصل اس ضمن میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں، آئیے شہادت کے چھ پہلوؤں پر غور کریں کہ ہم اس بیدین دُنیا کے اخیر زمانہ میں رہ رہے ہیں۔‏

شہادت کے چھ مدلل پہلو

۱۳.‏ آپکو ۲-‏تیمتھیس ۳ باب میں درج پیشینگوئی کیسے قائل کرتی ہے کہ ہم ”‏اخیر زمانہ“‏ میں رہ رہے ہیں؟‏

۱۳ اوّل،‏ ہم ‏”‏اخیر زمانہ“‏ کی بابت پولس رسول کی پیشینگوئی کی واضح تکمیل دیکھتے ہیں۔‏ پولس نے لکھا:‏ ”‏اخیر زمانہ میں بُرے دن آئینگے۔ کیونکہ آدمی خودغرض۔ زردوست۔ شیخی‌باز۔ مغرور۔ بدگو۔ ماں باپ کے نافرمان۔ ناشکر۔ ناپاک۔ طبعی محبت سے خالی۔ سنگدل۔ تہمت لگانے والے۔ بے‌ضبط۔ تندمزاج۔ نیکی کے دُشمن۔ دغاباز۔ ڈھیٹھ۔ گھمنڈ کرنے والے۔ خدا کی نسبت عیش‌وعشرت کو زیادہ دوست رکھنے والے ہونگے۔ وہ دینداری کی وضع تو رکھیں گے مگر اُس کے اثر کو قبول نہ کرینگے ایسوں سے بھی کنارہ کرنا۔ اور بُرے اور دھوکا باز آدمی فریب دیتے اور فریب کھاتے ہوئے بگڑتے چلے جائیں گے۔“‏ (‏۲-‏تیمتھیس ۳:‏۱-‏۵،‏ ۱۳‏)‏ کیا ہم اپنے زمانے میں اس پیشینگوئی کو پورا ہوتے ہوئے نہیں دیکھتے؟ حقائق کو دیدہ‌دانستہ طور پر نظرانداز کرنے والے ہی اس کا انکار کر سکتے ہیں!‏b

۱۴.‏ شیطان کے متعلق مکاشفہ ۱۲:‏۹ کے الفاظ آجکل کیسے تکمیل‌پذیر ہیں اور جلد ہی اس کے ساتھ کیا واقع ہوگا؟‏

۱۴ دوم،‏ ہم مکاشفہ ۱۲:‏۹ کی تکمیل میں،‏ شیطان اور شیاطین کے آسمان سے نکالے جانے کے اثرات دیکھتے ہیں۔‏ ہم پڑھتے ہیں:‏ ”‏وہ بڑا اژدہا یعنی وہی پُرانا سانپ جو ابلیس اور شیطان کہلاتا ہے اور سارے جہان کو گمراہ کر دیتا ہے زمین پر گِرا دیا گیا اور اُس کے فرشتے بھی اُس کے ساتھ گِرا دئے گئے۔“‏ یہ زمین کے لئے بڑے افسوس پر منتج ہؤا ہے۔ یقیناً، نوعِ‌انسان کے لئے، بالخصوص.‏ ۱۹۱۴ سے لیکر، بڑی افسوسناک حالت رہی ہے۔ تاہم مکاشفہ کی پیشینگوئی مزید بیان کرتی ہے کہ جب سے شیطان زمین پر گِرا دیا گیا ہے وہ جانتا ہے کہ اس کا ”‏تھوڑا ہی سا وقت باقی ہے۔“‏ (‏مکاشفہ ۱۲:‏۱۲‏)‏ اس وقت کے دوران، شیطان مسیح کے ممسوح پیروکاروں کے ساتھ جنگ کرتا ہے۔ (‏مکاشفہ ۱۲:‏۱۷‏)‏ ہم نے یقیناً اپنے زمانے میں اس کے حملے کے اثرات دیکھیں ہیں۔‏c تاہم، جلد ہی شیطان اتھاہ گڑھے میں بند کر دیا جائے گا تاکہ وہ ”‏قوموں کو پھر گمراہ نہ کرے۔“‏—‏مکاشفہ ۲۰:‏۱-‏۳‏۔‏

۱۵.‏ مکاشفہ ۱۷:‏۹-‏۱۱ کس طرح شہادت مہیا کرتی ہیں کہ ہم آخری وقت میں رہ رہے ہیں؟‏

۱۵ سوم،‏ ہم مکاشفہ ۱۷:‏۹-‏۱۱ میں درج پیشینگوئی میں متذکرہ آٹھویں اور آخری ‏”‏بادشاہ“‏ کے دور میں رہ رہے ہیں۔‏ یہاں یوحنا رسول سات عالمی طاقتوں—‏مصر، اسور، بابل، مادی‌فارس، یونان، روم اور دوہری عالمی طاقت اینگلوامریکن—‏کی نمائندگی کرنے والے سات بادشاہوں کا ذکر کرتا ہے۔ وہ ”‏آٹھواں [‏بادشاہ]‏“‏ بھی دیکھتا ہے جو ”‏ساتوں میں سے پیدا ہؤا۔“‏ آٹھواں بادشاہ—‏یوحنا کو رویا میں نظر آنے والا آخری بادشاہ—‏اس وقت اقوامِ‌متحدہ کی نمائندگی کرتا ہے۔ یوحنا بیان کرتا ہے کہ آٹھواں بادشاہ ”‏ہلاکت میں“‏ پڑتا ہے جس کے بعد اَور زمینی بادشاہوں کا ذکر نہیں ملتا۔‏d

۱۶.‏ نبوکدنضر کے خواب کی مورت کی تکمیل میں حقائق کس طرح ظاہر کرتے ہیں کہ ہم آخری ایّام میں رہ رہے ہیں؟‏

۱۶ چہارم،‏ ہم اس دَور میں رہ رہے ہیں جس کی نمائندگی نبوکدنضر کے خواب کی مورت کے پاؤں سے کی گئی ہے۔‏ دانی‌ایل نبی انسانی شکل کی ایک بہت بڑی مورت کے پُراسرار خواب کی تعبیر بیان کرتا ہے۔(‏دانی‌ایل ۲:‏۳۶-‏۴۳‏)‏ مورت میں چار دھاتی حصے مختلف عالمی طاقتوں کی نمائندگی کرتے ہیں جن کا سلسلہ سر (‏بابلی سلطنت)‏ سے شروع ہو کر پاؤں اور انگلیوں (‏موجودہ حکومتوں)‏ تک چلتا ہے۔ مورت میں ظاہرکردہ تمام عالمی طاقتیں منظرِعام پر آئی ہیں۔ اب ہم اس دَور میں رہ رہے ہیں جس کی نمائندگی خواب والی مورت کے پاؤں سے کی گئی ہے۔ دیگر طاقتوں کی آمد کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔‏e

۱۷.‏ ہماری بادشاہتی مُنادی کی کارگزاری کس طرح مزید شہادت فراہم کرتی ہے کہ ہم آخری وقت میں رہ رہے ہیں؟‏

۱۷ پنجم،‏ ہم یسوع کی پیشینگوئی کے عین مطابق اس نظام کے خاتمے سے پہلے عالمگیر پیمانے پر منادی کا کام ہوتا دیکھتے ہیں۔‏ یسوع نے بیان کِیا:‏ ”‏بادشاہی کی اس خوشخبری کی مُنادی تمام دُنیا میں ہو گی تاکہ سب قوموں کے لئے گواہی ہو۔ تب خاتمہ ہوگا۔“‏ (‏متی ۲۴:‏۱۴‏)‏ آجکل، یہ پیشینگوئی بینظیر پیمانے پر پوری ہو رہی ہے۔ سچ ہے کہ ایسے علاقے موجود ہیں جہاں ابھی تک پیغام نہیں پہنچا ہے اور ہو سکتا ہے کہ یہوواہ کے وقتِ‌مقررہ پر عظیم کارگزاری کے لئے وسیع دروازہ کھل جائے۔ (‏۱-‏کرنتھیوں ۱۶:‏۹‏)‏ تاہم، بائبل ہرگز یہ نہیں بتاتی کہ یہوواہ اس وقت تک انتظار کریگا جبتک زمین پر ذاتی طور پر ہر ایک شخص تک گواہی نہیں پہنچ جاتی۔ اس کے برعکس، خوشخبری کی مُنادی یہوواہ کی مرضی کے مطابق ہو جانی چاہئے۔ اس کے بعد خاتمہ آئے گا۔—‏مقابلہ کریں متی ۱۰:‏۲۳‏۔‏

۱۸.‏ بدیہی طور پر، جب بڑی مصیبت شروع ہوتی ہے تو بعض ممسوح اشخاص کی بابت کیا بات سچ ثابت ہوگی اور اس کا تعیّن کیسے کِیا جا سکتا ہے؟‏

۱۸ ششم،‏ مسیح کے حقیقی ممسوح شاگردوں کی تعداد کم ہو رہی ہے اگرچہ بعض بدیہی طور پر بڑی مصیبت کے شروع ہونے کے وقت زمین پر موجود ہونگے۔‏ بقیہ کے بیشتر اشخاص اس وقت کافی عمررسیدہ ہیں اور سالہاسال سے حقیقی ممسوح اشخاص کی تعداد میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ تاہم، بڑی مصیبت کا حوالہ دیتے ہوئے یسوع نے بیان کِیا:‏ ”‏اگر وہ دن گھٹائے نہ جاتے تو کوئی بشر نہ بچتا۔ مگر برگزیدوں کی خاطر وہ دن گھٹائے جائینگے۔“‏ (‏متی ۲۴:‏۲۱، ۲۲‏)‏ پس، بدیہی طور پر، بڑی مصیبت کے شروع ہونے کے وقت ممسوح ”‏برگزیدوں“‏ میں سے بعض زمین پر ہی ہونگے۔‏f

آئندہ کیا ہونے والا ہے؟‏

۱۹، ۲۰.‏ ہمارے لئے اس وقت ہوشیاروبیدار رہنا پہلے کی نسبت اتنی زیادہ اہمیت کا حامل کیوں ہے؟‏

۱۹ مستقبل ہمارے لئے کیا تھامے ہوئے ہے؟ شاندار وقت ابھی آنے والا ہے۔ پولس نے آگاہ کِیا کہ ”‏[‏یہوواہ]‏ کا دِن اِس طرح آنے والا ہے جس طرح رات کو چور آتا ہے۔“‏ دُنیاوی اعتبار سے دانشور دکھائی دینے والے اشخاص کا حوالہ دیتے ہوئے وہ بیان کرتا ہے:‏ ”‏جس وقت لوگ کہتے ہونگے کہ سلامتی اور امن ہے اُس وقت اُن پر .‏ .‏ .‏ ناگہاں ہلاکت آئیگی۔“‏ لہٰذا پولس اپنے قارئین کو تاکید کرتا ہے:‏ ”‏پس اَوروں کی طرح سو نہ رہیں بلکہ جاگتے اور ہوشیار رہیں۔“‏ (‏۱-‏تھسلنیکیوں ۵:‏۲، ۳،‏ ۶‏)‏ واقعی، امن اور سلامتی لانے کیلئے انسانی اداروں پر بھروسہ رکھنے والے حقیقت سے نظریں چرا رہے ہیں۔ ایسے اشخاص گہری نیند میں ہیں!‏

۲۰ اس نظام‌اُلعمل کا خاتمہ اچانک آئے گا۔ لہٰذا، یہوواہ کے دن کے منتظر رہیں۔ خدا نے حبقوق سے خود بیان کِیا:‏ ”‏یہ تاخیر نہ کرے [‏گا]‏“‏!‏ واقعی، اِس سے پہلے ہمارے لئے جاگنا اتنا زیادہ ضروری نہیں تھا۔‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a مالک نے اپنے نوکروں کے ساتھ کوئی وقت مقرر نہیں کِیا تھا۔ لہٰذا، اسے اپنے آنے جانے کی تفصیل بتانے کی ضرورت نہیں تھی، نہ ہی وہ اپنے نوکروں کو اپنی ظاہری تاخیر کی وجہ بتانے کا پابند تھا۔‏

b اس پیشینگوئی کی بابت مفصل معلومات حاصل کرنے کیلئے واچ‌ٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف نیو یارک انکارپوریٹڈ کی شائع‌کردہ کتاب علم جو ہمیشہ کی زندگی کا باعث ہے کا ۱۱ باب دیکھیں۔‏

c مزید معلومات کیلئے، واچ‌ٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف نیو یارک انکارپوریٹڈ کی شائع‌کردہ کتاب ریولیشن اِٹس گرینڈ کلائمیکس ایٹ ہینڈ!‏ کے صفحہ ۱۸۰-‏۱۸۶ کو دیکھیں۔‏

d ریولیشن اٹس گرینڈ کلائمیکس ایٹ ہینڈ!‏ کے صفحہ ۲۵۱-‏۲۵۴ کو دیکھیں۔‏

e واچ‌ٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف نیو یارک انکارپوریٹڈ کی شائع‌کردہ کتاب پے اٹینشن ٹو ڈینیئلز پروفیسی!‏ کے ۴ باب کو دیکھیں۔‏

f بھیڑوں اور بکریوں کی تمثیل میں، ابنِ‌آدم بڑی مصیبت کے دوران اپنے جلال میں آتا اور تختِ‌عدالت پر بیٹھتا ہے۔ وہ اس بنیاد پر لوگوں کی عدالت کرتا ہے کہ آیا وہ مسیح کے ممسوح بھائیوں کی حمایت کرتے ہیں یا نہیں۔ اگر عدالت کے واقع ہونے کے وقت مسیح کے ممسوح بھائی زمینی منظر سے کافی پہلے رخصت ہو گئے ہوں تو عدالت کا یہ معیار بے‌معنی ہوگا۔—‏متی ۲۵:‏۳۱-‏۴۶‏۔‏

کیا آپکو یاد ہے؟‏

‏• کونسی صیحفائی مثالیں جاگتے رہنے کیلئے ہماری مدد کر سکتی ہیں؟‏

‏• یسوع نے جاگنے کی ضرورت کو کیسے واضح کِیا؟‏

‏• شہادت کے کونسے چھ پہلو یہ ثابت کرتے ہیں کہ ہم آخری ایّام میں رہ رہے ہیں؟‏

‏[‏صفحہ ۹ پر تصویر]‏

اے۔ ایچ۔ میک‌ملن نے تقریباً چھ عشروں تک یہوواہ کی وفاداری سے خدمت کی

‏[‏صفحہ ۱۰ پر تصویر]‏

یسوع نے اپنے شاگردوں کا موازنہ جاگنے والے نوکروں سے کِیا

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں